Connect with us

بہار

امارت شرعیہ کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں قضاۃ :امیر شریعت

Published

on

(پی این این)
پھلواری شریف:مرکزی دفتر امارت شرعیہ کے المعہد العالی کے کانفرنس ہال میں مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی مد ظلہ العالی امیر شریعت بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈومغربی بنگال کی صدارت میں امارت شرعیہ بہار اڈیشہ، جھارکھنڈ ومغربی بنگال کے جملہ قضاۃ کرام کی ایک خصوصی نشست منعقد ہوئی، امیر شریعت نے اس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ امارت شرعیہ کوئی ادارہ یاتنظیم نہیں، بلکہ یہ ایک اسلامی فکر ہے، ہم سب کو فکر امارت سے ہم آہنگ ہونا چاہیے، اس کے لئے فکر امارت سے متعلق کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہیے، آپ نے یہ بھی فرمایا کہ عہدہ سے عزت یاذلت نہیں ملتی بلکہ عزت اور وقار کا مدار کام اور لوگوں کے لئے نفع بخش ہونے پر ہے، ہر کوئی آپ کی عزت کرے یہ کوئی ضروری نہیں، اللہ کے نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی لوگوں نے بُرا بھلا کہا، لیکن اس کی وجہ سے آپؐ کی عزت وعظمت اور تقدس پر ذرہ برابر کوئی فرق نہیں پڑا، اس لئے ہم سب کو بھی اپنے کاموں میں مخلص ہونا چاہئے اور لوگوں کے لیے نفع بخش بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔ امیر شریعت نے قضاء کی اہمیت وضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ قضاء کے ذریعہ عدل وانصاف قائم ہوتا ہے اور عدل وانصاف ہی کے ذریعہ امن وامان قائم ہوتا ہے، امیر شریعت دامت برکاتہم نے تمام قضاۃ کے کاموں کو سراہتے ہوئے فرمایا کہ یقینا آپ لوگ مبارک باد کے مستحق ہیں، آپ لوگ امارت شرعیہ کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
حضرت مولانا محمدشمشاد رحمانی قاسمی نائب امیر شریعت بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ ومغربی بنگال نے فرمایا کہ یقینا آپ تمام لوگ علم وفضل ہے، آپ لوگوں سے بہت سارا کام لیا جاتا، ہر شعبہ کی نظر آپ ہی لوگوں پر ٹکی ہوتی ہے اور ہر شخص آپ سے امید لگائے بیٹھا ہوا ہے اور آپ سے امید بھی ہونی چاہئے اس لئے آپ اس کے لائق بھی ہیں جو لوگ جتنا کام کرکے گزر جاتے ہیں وہی لوگ اصل قابل تعریف ہیں اور وہی ان کے لئے سرمایہ ہے، امارت شرعیہ کا نظام قضاء مزید مضبوط اور مستحکم ہو رہا ہے، جس میں حضرات قضاۃ کا جہد مسلسل اور سعی پیہم کا عنصر غالب ہے۔
حضرت مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی ناظم امارت شرعیہ وصدر مفتی امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ ومغربی بنگال نے قضاۃ کرام کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ سب اپنے معمولات میں کتابوں کے مطالعہ کو ضرور شامل رکھیں، خاص طور پر عائلی مسائل سے متعلق کتابوں کا مطالعہ ضرور کرتے رہیں، مزید انہوں نے کہا کہ آپ سب کی محنتوں اور کوششوں سے الحمد للہ امارت شرعیہ کامیابی وکامرانی کی راہ پر گامزن ہے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو ادارہ کے لیے نفع بخش بنائے اور آپ سب کو صحت وسلامتی کے ساتھ رکھے۔
مفتی محمد انظار عالم قاسمی صدر قاضی شریعت امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ ومغربی بنگال نے سب سے پہلے کار قضاء میں جو خامیاں اور کمیاں رہ جاتی ہیں ان پر تفصیل سے گفتگو کی اور تمام قضاۃ کرام کو ہدایت کی کہ کار قضاء ایک نہایت حساس اور اہم فریضہ ہے، جس میں کوتاہی پر عندالناس جواب دہ ہونے کے ساتھ ساتھ عند اللہ جواب دہ ہونا پڑے گا، لہٰذا ہم سب کو چاہئے کہ کتاب وسنت اور اپنے اکابر کے ضابطے کے مطابق کارقضاء انجام دیں، مرکزی دارالقضاء سے جو ہدایت دی جائے اس پر ضرور عمل کی کوشش کریں، نیز یہ فرمایا کہ ہم سب کی شخصیت اور ہم سب کی عزت ادارہ کی وجہ سے ہے، اس لئے اپنے ذاتی مفاد پر ادارہ کے مفاد کو ترجیح دیں اور اپنے کسی مفاد کی وجہ سے ادارہ کو نقصان پہونچانے سے پرہیز کریں، قاضی کی اس بات پر نائب امیر شریعت اور ناظم نے پرزور تائید کی۔
مولانا ابوالکلام شمسی معاون ناظم امارت شرعیہ نے کہا کہ امارت کے اسکول کی تعمیر وترقی میں قضاۃ کرام بہت اہم کردار نبھاتے ہیں، مزید قضاۃ کرام اگر اس طرف توجہ دیں تو یہ کام اور مضبوط ہوگا، ان شاء اللہ، مولانا ارشد علی رحمانی قاضی شریعت مہدولی، دبھنگہ نے تنظیم کو بنانے کے تعلق سے کہا کہ ہم سب کو جتنی محنت کرنی پڑے کرکے تنظیم امارت شرعیہ کو مستحکم بنانا چاہئے۔ایجنڈوں پر بحث میں قضاۃ کرام نے پورا پورا حصہ لیا اور امیر شریعت سے کھل کر تبادلۂ خیال کیا اور کار قضاء سے متعلق پیش آمدہ پریشانیوں کو بیان کیا۔
مفتی محمد سہیل اختر قاسمی، مولانا محمد مجیب الرحمن قاسمی دربھنگوی، مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی مولانا مفتی محمدسہراب ندوی، مفتی محمد انور قاسمی، مولانا سعود عالم قاسمی، مولانا ارشد قاسمی پورنیہ، مولانا ارشد قاسمی گوگری، مولانا ارشد قاسمی کشن گنج اور مولانا رضی احمد ندوی نے زیر بحث ایجنڈوں پرکئی تجاویز پیش کئے،ان کے علاوہ مولانا مجیب الرحمن قاسمی بھاگلپوری، مولانا امتیاز احمد قاسمی، قاضی ضمیر الدین قاسمی، قاضی صبغۃ اللہ قاسمی، مولانا راشد انور قاسمی، مولانا شمس الحق قاسمی نے نظام قضاء کو وسیع تر کرنے اور مسائل ومعاملات کو حل کرنے کے لئے مختلف تدابیر بیان کیے۔
اجلاس کی نظامت مفتی وصی احمد قاسمی نائب قاضی شریعت نے کی، مولانا عبداللہ انس مرکزی دارالقضاء کی تلاوت اور مولانا ابوداؤد قاسمی دارالقضاء رانچی کی نعت شریف سے مجلس کا آغاز ہوا، اس اجلاس میں ڈاکٹر سید یاسر حبیب سکریٹری مولانا سجاد میموریل ہاسپیٹل، ڈاکٹر سید نثار احمد ، ایس ایم شرف ، اے ڈی ایم عبد الوہاب ، عرفان الحسن انچارج بیت المال، حاجی احسان الحق نے شرکت کی۔اس نشست میں کئی اہم تجاویز پاس ہو ئیں، اخیر میں امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہ کی دعا اور کلمات تشکر کے ساتھ مجلس اختتام پذیر ہوئی۔

بہار

سمراٹ چودھری نےبہار کے 24 ویں وزیر اعلیٰ کالیا حلف

Published

on

(پی این این )
پٹنہ :سمراٹ چودھری نے بدھ کو بہار کے 24ویں وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لیا۔ وہ بہار کے پہلے بی جے پی وزیر اعلیٰ ہیں۔ گورنر سید عطا حسنین نے سمراٹ چودھری کو بہار کے وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف دلایا۔ جے ڈی یو کے دو سینئر لیڈر وجے چودھری اور بیجندر یادو کو ان کی حکومت میں نائب وزیر اعلیٰ کے طور پر شامل کیا گیا تھا۔
بہار کے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لینے کے فوراً بعد سمراٹ چودھری چیف سیکرٹریٹ میں وزیر اعلیٰ کے دفتر (سی ایم او) پہنچے اور رسمی طور پر عہدہ سنبھال لیا۔ پہنچنے پر وہاں پہلے سے موجود اہلکاروں نے ان کا استقبال کیا۔ چیف سکریٹری پرتیئے امرت کی قیادت میں پوری انتظامی ٹیم موجود تھی۔ ضروری رسمی کارروائیاں مکمل کرنے کے بعد سمراٹ چودھری نے عہدہ سنبھال لیا۔ دورے کے دوران انہوں نے کچھ اہم فائلوں پر دستخط کئے اور ریاست کے مختلف انتظامی امور پر سینئر عہدیداروں سے ملاقاتیں کیں۔
سمراٹ چودھری کی بطور وزیر اعلیٰ حلف برداری کے بعد، نتیش کمار نے انہیں ایکس پر پوسٹ کر کے مبارکباد دی۔ نتیش کمار نے اپنی پوسٹ میں کہا، سمراٹ چودھری کو آج بہار کے نئے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لینے پر دلی مبارکباد اور نیک خواہشات۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کی قیادت میں بہار تیزی سے ترقی کرنے والی ریاست میں شامل ہو جائے گی اور سب سے زیادہ ترقی کرنے والی ریاست میں شامل ہوں گے۔
نائب وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لینے کے بعد جے ڈی یو کے وجے کمار چودھری نے کہا کہ نائب وزیر اعلیٰ کے طور پر ان کا حلف نتیش کمار کے ان پر اعتماد کا نتیجہ ہے اور ریاست میں ان کی پالیسیوں اور کام کرنے کے انداز کو آگے بڑھایا جائے گا۔وجے چودھری نے کہا، میں نتیش کمار کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ان کے اعتماد کی وجہ سے مجھے یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ ہم ان کے راستے، پالیسیوں، پروگراموں اور کام کرنے کے انداز پر آگے بڑھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی ماضی میں بہار کے ترقیاتی ماڈل کا حصہ رہی ہے، اور اتحاد اس سمت میں کام کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا، اب تک نتیش کمار کے ماڈل میں بی جے پی شامل تھی۔ اب موازنہ کی ضرورت نہیں ہے۔ بہار کے ماڈل میں نتیش کمار، بی جے پی، اور دیگر اتحادی شامل ہیں۔

Continue Reading

بہار

سمراٹ چودھری کی گورنر سے ملاقات، حکومت سازی کا دعویٰ کیاپیش، حلف برداری تقریب کل

Published

on

(پی این این)
پٹنہ :بہار میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے پہلے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری ہوں گے۔تمام قیاس آرائیوں کی تصدیق کرتے ہوئے ڈپٹی سی ایم سمراٹ چودھری کو بی جے پی قانون ساز پارٹی کی میٹنگ میں دوبارہ قانون ساز پارٹی کا لیڈر منتخب کیا گیا۔ ان کا نام دوسرے ڈپٹی سی ایم وجے سنہا نے تجویز کیا تھا۔ اس کے بعد مقننہ کے سنٹرل ہال میں این ڈی اے کے اراکین اسمبلی کی مشترکہ میٹنگ میں بی جے پی لیڈر سمراٹ چودھری کے نام کو منظوری دی گئی، جنہیں لیڈر بھی منتخب کیا گیا۔ اس کے بعد سمراٹ حکومت بنانے کا دعویٰ کرنے گورنر کے پاس گئے۔ سمراٹ چودھری کی قیادت والی نئی حکومت بدھ کو صبح 11 بجے لوک بھون (راج بھون) میں حلف برداری کرے گی۔ گورنر کے سکریٹری گوپال مینا نے کل شام سمراٹ چودھری سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور حلف برداری کی تقریب کے انتظامات پر تبادلہ خیال کیا۔
اس سے پہلے جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کے صدر نتیش کمار نے تقریباً 3:15 بجے گورنر کو چیف منسٹر کے طور پر اپنا استعفیٰ سونپ دیا۔ انہوں نے اپنے دور حکومت کا آخری کابینہ اجلاس منعقد کیا۔ این ڈی اے قانون ساز پارٹی کی میٹنگ کے بعد، نیا لیڈر حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کرے گا۔ نئی بی جے پی زیرقیادت این ڈی اے حکومت کی حلف برداری کی تقریب بدھ کو صبح 11 بجے لوک بھون (راج بھون) میں ہوگی، جہاں پانچ حلقہ جماعتوں کے محدود تعداد میں وزراء حلف لیں گے۔ دہلی سے تقریب میں بی جے پی اور این ڈی اے پارٹیوں کے سینئر لیڈروں کی شرکت متوقع ہے۔

Continue Reading

بہار

تعلیم وتربیت میں بچوں کی نفسیات ومزاج کا بھی رکھا جائے پاس ولحاظ : امیر شریعت

Published

on

(پی این این)
پھلواری شریف:امارت شرعیہ نے سی بی ایس ای طرزپربہار ، اڈیشہ وجھارکھنڈ ومغربی بنگال میں متعدد امارت پبلک اسکول قائم کیے جو بچے اور بچیوں کی نفسیات اورمزاج کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے اور معیاری عصری تعلیم کو فروغ دینے کا مثالی کارنامہ انجام دے رہاہے ۔اب اساتذہ کرام کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ معلم انسانیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صفا ت وکمالات کا عملی نمونہ پیش کریں ، بچوںسے محبت وشفقت کا معاملہ کریں اور ان میں اسکول سے محبت پیداکرنے کی کوشش کریں ، ان خیالات کا ا ظہار امیر شریعت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی نے امارت پبلک اسکول کے اساتذہ ومعلمات کے ایک خصوصی اجتماع میں کیا۔
امارت شرعیہ کے میٹنگ ہال میں امارت شرعیہ کی نگرانی میں چلنے والے امارت پبلک اسکولس پھلواری شریف ،نگڑی ،اربارانچی،کٹیہار، پورنیہ، کشن گنج گریڈیہہ، گڈا، آسنسول،کٹک اڈیشہ وغیرہ سے تشریف لانے والے اساتذہ ومعلمات سے خطاب کرتے ہوئے امیر شریعت نے کہاکہ حسن اخلاق اورمعیاری تعلیم وتربیت کے ذریعہ ہی اسکول ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتا ہے ، اس لیے ٹیم ورک کے ساتھ کاموں کو قوت بخشا جائے اور نظم ونسق کے ساتھ اسکول کو بہتر سے بہتر اورمعیاری بنایاجائے ، حاضری سو فیصد لازمی ہو، بچوں کی نفسیات اورمزاج کاخیال رکھتے ہوئے ان کی تربیت ہو، زبان وبیان کی اصلاح پر توجہ دیںاور وقفہ وقفہ سے تعلیمی جائزہ لیتے رہیں، بچوں سے دوران تعلیم پانچ منٹ کے لیے فیزیکل ایکسرسائز کروایاجائے تاکہ ان کے اندر نئی توانائی پیداہو، اس سلسلہ میں امیر شریعت نے اساتذہ کرام سے بھی استصواب رائے کیا جس میں بعض اساتذہ کرام نے تعلیم میںAtlasکا استعمال کرے Exportکرانے پر توجہ دلائی ۔ امیر شریعت نے ا ن آراء پر تحسینی کلمات اداکرتے ہوئے ہر بچہ کو ہرفلڈ کے لیے تیار کرنے کے لیے لائحہ عمل بنانے پر توجہ دلائی۔
ناظم امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ ، جھارکھنڈ ومغربی بنگال مولانا مفتی محمد سعیدالرحمن قاسمی نے کہا اساتذہ کرام کا مقام ومنصب بہت بلند ہے ، وہ معمارقوم ہوتے ہیں ، محسن انسانیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم معلم انسانیت تھے ، انہوں نے اپنے بلند اخلاق واقدار سے لوگوں کے دلوں کو حق انصاف کو قبول کرنے پر مجبور کردیا، آپ بھی معلم ہیں ، اس اخلاق کے پرتو ہیں، بچے آپ کے پاس امانت ہیں ، آپ اپنی صلاحیت سے انہیں بنانے ، سنوارنے کی کوشش کیجئے اوربچوں کو اپنے کردار وعمل سے متاثر کیجئے ، منکرات سے حتی المقدور پرہیز کیجئے ۔
اسکولوں کے اساتذہ کرام مولانا سہیل سجاد قاسمی ،رانچی، مولانا محمد عثمان قاسمی ،نزہت پروین،پھلواری شریف،روحی پروین ، نازش صباء،شیمونہ نوشین، ثانیہ فیروز،رضوان احمد کٹیہار،صنور حسین گریڈیہہ، عباس گریڈیہہ،عامر خان آسنسول، اظہر عالم ،افتخاراحمد پورنیہ،محمد نوشاد عالم کشن گنج، محمد جنید عالم گڈا،مولانا یوسف اشرفی وغیرہ نے تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے قیمتی مشورے دیے ، اس نشست کا آغاز مولانا یوسف اشرف کی تلاوت کلام اللہ سے ہوا، اس مجلس میں مولانا رضوان احمد ندوی ، حافظ محمد احتشام رحمانی ، مولانا محمد منہاج عالم ندوی ، مولانا ارشد رحمانی ، مولانا محمد شارق رحمانی ، مولانا قیام الدین قاسمی وغیرہ شریک رہے ۔اخیر میں یہ مجلس امیر شریعت کی دعاء پر اختتام پذیر ہوئی ۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network