Connect with us

بہار

سارک ممالک کے صحافیوں اور ادیبوں کا نالندہ میں چوتھابین الاقوامی مادری زبان کانفرنس کا شاندار انعقاد

Published

on

(پی این این)
نالندہ:سارک جرنلسٹ فورم انڈیا چیپٹر بہار، نالندہ اوپن یونیورسٹی، امرپالی کلا ساہتیہ سمیلن اور ہیومن رائٹس ٹوڈے کے اشتراک سے 04 اور 05 جنوری کو بہار کا چوتھا دو روزہ بین الاقوامی مادری زبان کانفرنس نالندہ میں پوری آب و تاب کے ساتھ منعقد ہوا۔ اس بین الاقوامی کانفرنس میں بھارت، نیپال، بنگلہ دیش، سری لنکا، تھائی لینڈ اور ماریشس سے آئے صحافیوں، ادیبوں اور ثقافتی سفیروں نے شرکت کرکے علم و دانش کی تاریخی سرزمین نالندہ کو روشن کیا۔
کانفرنس کا افتتاح سابق گورنر سکم گنگا پرساد نے کیا۔ اپنے افتتاحی خطاب میں انہوں نے کہا کہ علم کی اس تاریخی دھرتی نالندہ نے ایک بار پھر اپنی عظمت کو ثابت کیا ہے، اور اس میں سارک ممالک کے صحافیوں اور ادیبوں کا کردار قابلِ ستائش ہے۔ انہوں نے بہار کی سرزمین پر تشریف لانے اور نئی توانائی کے فروغ پر تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ کانفرنس کی صدارت بہار ہندی ساہتیہ سمیلن کے صدر ڈاکٹر انیل سلبھ نے کی، جنہوں نے مادری زبانوں اور قومی زبان کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ ماریشس سے آئی سابق نائب وزیر اعظم کی اہلیہ، بین الاقوامی ثقافتی سفیر اور معروف ادیبہ ڈاکٹر سریتا بدھو نے بہار کو اپنا دوسرا گھر قرار دیتے ہوئے کہا کہ نالندہ کی علمی روایت پوری دنیا میں مشہور ہے اور یہی کشش انہیں بار بار بہار کھینچ لاتی ہے۔ انہوں نے کانفرنس کے کنوینر ڈاکٹر ششی بھوشن کمار کی کوششوں کی ستائش کی۔
اس موقع پر پدم شری ڈاکٹر جے کے سنگھ، پدم شری بمل جین، تھائی لینڈ کے ڈاکٹر پی سی چندرا، نیپال سے سارک جرنلسٹ فورم کے بین الاقوامی صدر راجو لاما، بنگلہ دیش سے بین الاقوامی جنرل سیکریٹری محمد عبد الرحمن، اور ڈاکٹر برج نندن کمار سنہا سمیت کئی معزز شخصیات نے اپنے خیالات پیش کیے۔ افتتاحی اجلاس کے بعد انسانی حقوق اور صحافت پر مبنی اجتماعی گیت پیش کیا گیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر سریتا بدھو، پدم شری ڈاکٹر جے کے سنگھ، ڈاکٹر برج نندن کمار سنہا اور ڈاکٹر سشمتا پانڈے کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ 2025 سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ 21 شخصیات کو نالندہ انٹرنیشنل اچیورز ایوارڈ 2025 اور 51 شخصیات کو بہار گورو ایوارڈ 2025 سے سرفراز کیا گیا۔
کانفرنس کے دوران دو اہم کتابوں کا اجراء کیا گیا، جن میں “بہار کا گورو: نالندہ اور مادری زبان” (مرتبہ: ڈاکٹر ششی بھوشن کمار اور پروفیسر رویندر ناتھ شریواستو) اور بھوجپوری مصور وندنا شریواستو کی کتاب “بھوجپوری کلا کے بہانے” شامل ہیں۔ اسی موقع پر بین الاقوامی سطح پر بھارت اور بہار کی ثقافت و زبان کے فروغ کے لیے “ویشالی بین الاقوامی ودیاپیٹھ” کے قیام کا اعلان کیا گیا، جس کی تجویز پر تمام ملکی و غیر ملکی مہمانوں نے دستخط کرکے اپنی فکری تائید دی۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

بہار

نتیش کمار نے بہارقانون ساز کونسل کی رکنیت سے دیااستعفیٰ

Published

on

(پی این این )
پٹنہ :بلآخر بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار راجیہ سبھا رکن کے طور پر منتخب ہونے کے بعد قانون ساز کونسل کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ جے ڈی یو لیڈر وجے کمار چودھری نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار پہلے ہی راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہو چکے ہیں، اس لیے استعفیٰ ضروری تھا۔ نتیش کمار کی جانب سے جے ڈی یو ایم ایل سی سنجے گاندھی نے بہار قانون ساز کونسل کے چیئر مین کو استعفیٰ سونپ دیا ہے۔
واضح ہوکہ نتیش کمار 2006 سے مسلسل قانون ساز کونسل کے رکن تھے، وہ رواں ماہ 16 مارچ کو راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہو گئے تھے۔ جے ڈی یو کے سربراہ ان لیڈران میں شامل ہیں جو چاروں ایوانوں کے رکن بنے ہیں۔ نتیش کمار نے راجیہ سبھا انتخاب لڑنے کے دوران کہا تھا کہ ان کی خواہش تھی کہ وہ راجیہ سبھا رکن کے طور پر منتخب ہوں، اس لیے انہوں نے یہ فیصلہ لیا ہے۔
واضح رہے کہ نتیش کمار 1985 میں ہرنوت اسمبلی سیٹ سے جیت حاصل کر اسمبلی پہنچے تھے۔ اس کے بعد 1989 میں وہ نویں لوک سبھا کے لیے منتخب ہوئے اور 2006 سے مسلسل قانون ساز کونسل کے رکن تھے۔ اب پہلی بار راجیہ سبھا کے رکن کے طور پر وہ اپنی نئی پاری کی شروعات کرنے جا رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق آئندہ ماہ 10 اپریل کو وہ راجیہ سبھا کی رکنیت حاصل کریں گے۔

Continue Reading

بہار

جیویش کمار نے ہائی اسکول کی عمارت کا کیا افتتاح

Published

on

(پی این این )
جالے: جالے اسمبلی حلقہ میں ترقیاتی کاموں کو مزید تقویت دیتے ہوئے رکنِ اسمبلی و سابق ریاستی وزیر جیویش کمار نے 2 اہم عوامی منصوبوں کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر مقامی نمائندے، معززینِ علاقہ اور بڑی تعداد میں عوام موجود رہے۔
راڑھی جنوبی پنچایت (بہاری) میں نوتعمیر شدہ ہائی اسکول عمارت کا افتتاح عمل میں آیا، جس کی تعمیر تقریباً 213.27 لاکھ روپے کی لاگت سے مکمل ہوئی ہے۔ اس عمارت کے قیام سے علاقے کے طلبہ کو بہتر تعلیمی سہولیات میسر آئیں گی۔
اسی طرح برہمپور مشرقی پنچایت (کٹائی) میں پنچایت سرکار بھون کا افتتاح کیا گیا، جس پر تقریباً 305.31 لاکھ روپے خرچ ہوئے ہیں۔ اس عمارت کے ذریعے مقامی انتظامی نظام کو مضبوطی ملے گی اور عوام کو مختلف سرکاری خدمات ایک ہی جگہ فراہم کی جا سکیں گی۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رکنِ اسمبلی جیویش کمار نے کہا کہ حلقہ میں تعلیم، دیہی ترقی اور بہتر حکمرانی کو فروغ دینا ترجیحات میں شامل ہے، اور اس سمت میں کام جاری رہے گا۔تقریب میں شریک افراد نے ان منصوبوں کو علاقہ کی ترقی کی جانب اہم قدم قرار دیا۔

Continue Reading

بہار

بہارمدرسہ بورڈ کا بڑااعلان: تمام امدادی مدارس میں مڈ ڈے میل لازمی

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:بہار میں مدرسہ تعلیم کے نظام کو لے کر ایک بڑا اور اہم فیصلہ سامنے آیا ہے۔ بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ نے سخت ہدایت جاری کرتے ہوئے ریاست کے تمام امدادی مدارس میں مڈ ڈے میل (درمیانی کھانا) اسکیم کو لازمی طور پر نافذ کرنے کا حکم دیا ہے۔
مدرسہ بورڈ کے سکریٹری عبدالسلام انصاری نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر، مڈ ڈے میل اسکیم، بہار کو خط ارسال کرتے ہوئے فوری کارروائی یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے۔ بورڈ نے واضح کیا ہے کہ کئی امدادی مدارس اب تک اس اسکیم سے محروم ہیں، جو ایک تشویشناک امر ہے۔ جاری خط میں کہا گیا ہے کہ مڈ ڈے میل اسکیم تمام تعلیمی اداروں کے لیے لازمی ہے، ایسے میں کسی بھی مدرسے کا اس سے باہر رہنا قابل قبول نہیں ہوگا۔
ہدایت دی گئی ہے کہ تمام محروم مدارس کو فوراً اس اسکیم سے جوڑا جائے تاکہ وہاں زیر تعلیم طلبہ و طالبات کو غذائیت سے بھرپور کھانا فراہم کیا جا سکے۔ سکریٹری انصاری نے واضح طور پر کہا کہ اس اسکیم کا مقصد صرف کھانا فراہم کرنا نہیں بلکہ بچوں کی صحت بہتر بنانا اور اسکولوں میں ان کی حاضری بڑھانا بھی ہے۔ اس لیے کسی بھی سطح پر لاپروائی برداشت نہیں کی جائے گی۔ بورڈ کی جانب سے 1942 امدادی مدارس کی فہرست فراہم کر دی گئی ہے اور سبھی کو اسکیم کے دائرے میں لانے کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔
سیتامڑھی کی صورتحال پر نظر ڈالیں تو ضلع میں کئی مدارس میں پہلے سے مڈ ڈے میل چل رہا ہے، لیکن بڑی تعداد اب بھی اس سے محروم ہے۔ اس کو دیکھتے ہوئے سخت ہدایت دی گئی ہے کہ اپریل سے ہر حال میں ضلع کے تمام مدارس میں یہ اسکیم نافذ کر دی جائے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ انتظامیہ اس حکم کو زمینی سطح پر کتنی تیزی اور سنجیدگی سے نافذ کرتی ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network