Connect with us

دلی این سی آر

ریکھا گپتا نےشالیمار باغ اور پتم پورہ میں اٹل کینٹین کا کیاافتتاح

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی: دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے آج شالیمار باغ اور پتم پورہ میں دو نئے اٹل کینٹین کا افتتاح کیا۔ اس نے ذاتی طور پر کھانا کھایا اور مقامی باشندوں کے ساتھ بات چیت کی۔ پیتم پورہ میں افتتاح کے بعد بھیڑ سے خطاب کرتے ہوئے سی ایم گپتا نے کہا کہ یہ پہل صحیح سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔ اٹل کینٹین میں صرف5 میں گرم اور غذائیت سے بھرپور کھانا فراہم کیا جا رہا ہے۔ جو کہ قابل احترام اٹل بہاری واجپائی کے انتیودیا فلسفے سے متاثر ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ اسکیم دہلی میں تعمیراتی کارکنوں اور ضرورت مندوں کو عزت اور مدد فراہم کرے گی۔ اس تقریب میں چاندنی چوک کے ایم پی پروین کھنڈیلوال اور میونسپل کونسلر انیتا جین سمیت مقامی معززین کی بڑی تعداد موجود تھی۔
پتم پورہ میں اٹل کینٹین کے افتتاح کے موقع پر وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے اعلان کیا کہ کمپلیکس کو مکمل عوامی خدمت مرکز کے طور پر تیار کیا جائے گا۔ یہ آیوشمان آروگیہ مندر، بیت الخلا کی سہولیات اور پینے کے صاف پانی کے لیے ایک آر او پلانٹ بھی فراہم کرے گا۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مقامی باشندوں سے بات کرنے کے بعد انہوں نے محسوس کیا کہ یہ اقدام غریب اور محنت کش طبقے کے لیے انتہائی فائدہ مند ثابت ہو رہا ہے۔ اٹل کینٹین اسکیم کے تحت دہلی بھر میں کل 100 کینٹینیں کھولی جا رہی ہیں، جن میں سے 45 پہلے مرحلے میں کام کر چکی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ اسکیم شہری غریبوں، یومیہ اجرت والے مزدوروں اور رکشہ چلانے والوں کو سستی، صاف اور غذائیت سے بھرپور خوراک فراہم کرنے کے مقصد سے شروع کی گئی تھی۔ شالیمار باغ میں اٹل کینٹین کے افتتاح کے دوران وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے ذاتی طور پر کھانا پیش کیا اور ایک بزرگ خاتون کو اپنے ہاتھوں سے کھلایا۔ اس جذباتی لمحے کو شیئر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی پلیٹ میں کھانا پیش کرنے کے بدلے میں انہیں جو پیار اور آشیرباد ملی وہ ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گی۔
وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے 101 ویں یوم پیدائش پر، وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے اٹل کینٹین کا آغاز کیا، غریبوں، مزدوروں اور کم آمدنی والے خاندانوں کو صرف 5 روپے میں غذائیت سے بھرپور، گھریلو طرز کا کھانا فراہم کرنے کی ایک نئی پہل۔ 5 روپے والی یہ پلیٹ 600 گرام صحت بخش اور غذائیت سے بھرپور خوراک فراہم کرے گی۔ جس میں دال، چاول، چار روٹیاں، ایک سبزی اور اچار شامل ہیں۔کینٹینوں کا افتتاح کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے کہا، ’’اٹل کینٹین دہلی کی روح بن جائے گی، ایسی جگہ جہاں کسی کو بھوکا نہیں سونا پڑے گا‘‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے خدمت، گڈ گورننس اور غریبوں کی فلاح و بہبود کے وژن سے متاثر یہ اقدام اس بات کو یقینی بنائے گا کہ دہلی ایک ایسی راجدھانی بن جائے جہاں عزت کے ساتھ کھانا پیش کیا جائے اور کسی کو بھوکا نہ سونا پڑے۔پہلے مرحلے میں نریلا، بوانہ، آدرش نگر، شالیمار باغ، وزیر پور، تیمار پور، شکور بستی، منگول پوری، راجوری گارڈن، ماڑی پور، اور شکور پور میں 45 اٹل کینٹین کھولی گئی ہیں۔ باقی 55 اٹل کینٹین آنے والے دنوں میں کھلیں گی۔ دوپہر کا کھانا صبح 11:00 بجے سے شام 4:00 بجے تک اور رات کا کھانا شام 6:30 سے 9:30 بجے کے درمیان دیا جائے گا۔دہلی حکومت نے کھانے کی تقسیم کے لیے دستی کوپن کی جگہ ڈیجیٹل ٹوکن سسٹم متعارف کرایا ہے۔ دہلی اربن شیلٹر امپروومنٹ بورڈ (DUSIB) کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے سی سی ٹی وی کیمرے حقیقی وقت میں تمام مراکز کی نگرانی کریں گے۔

دلی این سی آر

پریم چنداور کبیرکاادبی سرمایہ ہندوستانی تہذیب کابیش قیمت ورثہ: پروفیسر مظہر آصف

Published

on

جامعہ پریم چند آرکائیوزاینڈلٹریری سنٹر،جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پروفیسر صغیر افراہیم کاپریم چندیادگاری خطبہ
(پی این این)
نئی دہلی :پریم چند اور کبیرکاادبی سرمایہ ہندوستانی ادب کابیش قیمت ورثہ ہے۔یہ دونوں مایہ نازادیب ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کے علمبردار ہیں۔ان کے ادب سے میری گہری دلچسپی اور خاص شغف ہے۔ان خیالات کااظہارجامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر مظہر آصف نے جامعہ پریم چند آرکائیوزاینڈ لٹریری سنٹر کے زیراہتمام منعقدہ نویں پریم چند یادگاری خطبے کے موقع پراپنے صدارتی خطبے میں کیا۔انھوں نے فرمایاکہ جامعہ کے اس ادبی مرکز جامعہ پریم چند آرکائیوزاینڈ لٹریری سنٹر کومزید فعال ہونے کی ضرورت ہے۔ یہاں تواتر کے ساتھ ادبی پروگرام کاانعقاد ہوناچاہیے۔پروفیسر مظہر آصف نے پریم چندکی ادبی خدمات پر بھرپور روشنی ڈالی اور موجود ہ عہد میں اس کی اہمیت پر اساتذہ طلبہ اور ریسرچ اسکالر ز کی توجہ مبذول کرائی۔
پریم چندیادگاری خطبہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے استاد سابق صدر شعبۂ اردو،ماہر پریم چندپروفیسر صغیرافراہیم نے پیش کیا۔اپنے خطبے میں پروفیسر صغیر افراہیم نے پریم چند کے فن کی امتیازی خصوصیات کو بیان کیا۔انھوں نے پریم چند کے فکشن کے موضوعات،اسلوب اورتکنیک پر روشنی ڈالی۔پروفیسر صغیر افراہیم نے پریم چند کے بیشتر ناولوں اور متعدد افسانوں کاتجزیہ پیش کرتے ہوئے فرمایاکہ پریم چند نے ہمارے فکشن کو نئے موضوعات،نئے اسالیب اور نئی فکری سمت عطا کی ہے۔ان کے ناولوں اور افسانوں کے متون پر نئے فن پارے تخلیق کیے گئے ہیں۔پریم چند نے اپنے بیانیہ کو پر اثر بنایااور دلکش مکالموں کے ذریعہ کرداروں کی ذہنی کشمکش کو پیش کیا۔انھوں نے یہ بھی فرمایاکہ پریم چند کی تمام افسانوی اور غیر افسانوی تحریریں اس کی گواہ ہیں کہ وہ تہذیب وتمدن کے ساتھ ساتھ جدید علوم وفنون خصوصاًفکشن کی ہیئت، ساخت اور فنی نکات متعارف کرانے کے خواہاں تھے۔
اس موقع پر مہمان خصوصی پروفیسر اقتدار محمدخاں ڈین فیکلٹی آف ہیومنیٹیزاینڈلنگویجزجامعہ ملیہ اسلامیہ نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے پریم چند کے گہر ے رشتے کاذکر کیاکہ جامعہ کی خدمات کو پریم چند نے بے حد محبت سے سراہاتھااور اس ادار ے کو ہندوستان کاعظیم سیکولر ادارہ قرار دیاتھا۔انھوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ پریم چند کا افسانہ ’’کفن‘‘ پہلی بار رسالہ جامعہ میں شائع ہوا تھا۔اس جلسے کے مہمانان اعزازی پروفیسر کوثر مظہر ی صدر شعبۂ اردواور پروفیسر نیرج کمار صدرشعبۂ ہندی جامعہ ملیہ اسلامیہ نے بھی خطاب کیا۔ان دونوں مہمانان نے پریم چند کے فن کی خوبیوں اور ان کی ادبی خدمات کامفصل ذکر کیا۔پروفیسر کوثر مظہری نے اس خواہش کااظہار کیاکہ جامعہ کے اس مرکز میں پریم چند کے تعلق سے مختلف زبانوں کی تمام کتابوں کو جمع کیاجاناچاہیے تاکہ پریم چند کے محققین اور شیدائی یہاں رجوع کر سکیں۔
اس موقع پر جامعہ پریم چندآرکائیوز اینڈلٹریری سنٹر کے ڈائرکٹرپروفیسر شہزاد انجم نے فرمایاکہ پریم چند کاجامعہ سے گہرارشتہ رہاہے۔ جامعہ کے بزرگوں نے اس ادار ے کانام پریم چند کے نام پر رکھا۔پریم چند کی تخلیقات رسالہ’’ جامعہ‘‘ میں چھپیں اور ان کے کئی ناول مکتبہ جامعہ سے شائع ہوئے۔پریم چند نے 8مارچ 1936عیسوی کو جامعہ میں’’ہندوستانی سبھا‘‘کاقیام کیا۔اس موقعے پر انہوںنے ہندی او ر اردو کے ادیبوں کو جمع کیااور ان سے یہ فرمایاکہ ہندی اور اردو کے ادیبوں کو ایک ساتھ جمع ہوناچاہیے۔ایک دوسرے کی تخلیقات اور تحریروں کو پڑھنااو ر سنناچاہیے۔اس سے آپسی رنجشیں اور کدورتیں دور ہوں گی اور ملک میںخوشگوار محبت کی فضاقائم ہوگی۔پروفیسر شہزاد انجم نے مزید فرمایاکہ اس سینٹر کی خدمات بیش بہاہیں۔اسے مزید فعال کیاجائے گااور اسے ادیبوں کاایک بڑامرکز بنایاجائے گا،جہاں تمام زبانوں کے ادیبوں،اساتذہ،ریسرچ اسکالرز اور طلبہ اور طالبات کو اظہار خیال کاموقع ملے گااور پریم چند کے خوابوں کی تعبیر کی جائے گی۔جلسے کاآغاز جامعہ کی روایت کے مطابق تلاوت کلام پاک سے ہواجسے ڈاکٹرمحمد شاہ نواز فیاض نے پیش کیا۔منشی پریم چند اورخطیب پروفیسر صغیر افراہیم کاتعارف محترمہ شردھاشنکر صاحبہ نے پیش کیاجبکہ جلسے کے آخر میں محترمہ اسگندھارائے نے وائس چانسلر پروفیسر مظہر آصف،جامعہ کے رجسٹرار پروفیسر محمد مہتاب عالم،ڈین پروفیسر اقتدار محمد خاں،مہمانان اعزازی پروفیسر کوثر مظہری،پروفیسر نیرج کمار،جامعہ کے تمام اراکین،لائبریرین، اساتذہ،ریسرچ اسکالرز،طلبہ و طالبات اور سینٹر کے تمام ملازمین کاشکریہ اداکیا،جن کے بھر پور تعاون سے یہ جلسہ کامیاب ہوا۔اس جلسے میں خصوصی طور پر پروفیسر مشتاق احمد گنائی،ڈاکٹرمحی الدین زور (کشمیر)،پروفیسر شہپر رسول،ڈاکٹر سہیل احمد فاروقی،پروفیسر سرور الہدی،پروفیسر ممتاز احمد،ڈاکٹرمشتاق احمد تجاوری،ڈپٹی لائبریرین سفیان احمد،ڈاکٹرخالد مبشر،ڈاکٹر محمد عامر،ڈاکٹر مشیر احمد،ڈاکٹر سید تنویر حسین،ڈاکٹرمحمدمقیم،ڈاکٹر جاوید حسن،ڈاکٹر راہین شمع،ڈاکٹرمحمدآدم،ڈاکٹر ثاقب عمران،ڈاکٹر شاداب تبسم،ڈاکٹر نوشاد منظر،ڈاکٹر مخمور صدری،ڈاکٹر ثاقب فریدی،ڈاکٹر راحت افزا،ڈاکٹر خان محمد رضوان اور بڑی تعداد میںہندی،اردواور دیگر زبانوں کے ریسرچ اسکالرزاور طلبہ وطالبات نے شرکت کی۔

Continue Reading

دلی این سی آر

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ہیکاتھون مقابلہ ’ہیک۔جے ایم آئی‘ کا افتتاح

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی:آئی ای ای ای،جے ایم آئی اسٹوڈینٹ برانچ کے چوتھے ہیک جے ایم آئی کے افتتاح کے ساتھ ہی جدت و اختراعیت،مسئلے کے حل اور اشتراکی آموزش کے دلچسپ سفر کا آغاز ہوا۔ہیک جے ایم آئی پروگرام کا افتتاح مہمان خصوصی پرو فیسر محمد مہتاب عالم رضوی، مسجل،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے کیا۔
اپنی تقریرمیں پروفیسر رضوی نے چوتھی مرتبہ پروگرام کے انعقاد کے لیے آئی ای ای ای جامعہ ملیہ اسلامیہ کی طلبہ ٹیم اور فیکلٹی مشیر کو مبارک باد دی۔پروفیسر رضوی نے کہاکہ اس نوع کے پروگرام اور مقابلے کی دعو ت سے ہماری روز مرہ کی زندگی سے منسلک مسائل کے اختراعی حل کی فراہمی کے سلسلے میں نئے لوگوں کو ایک پلیٹ فارم مہیا ہوگا۔انہوں نے طلبہ کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ سائبر کے خطرات، توانائی اور کمیپس سیکوریٹی کے معاملات میں جامعہ کو زیادہ خودکار بنانے کے لیے اختراعی حل لے کر سامنے آئیں۔
پروفیسر احتشام الحق،برانچ کونسلر،آئی ای ای ای جامعہ ملیہ اسلامیہ اور کارگزار کنٹرولر امتحانات نے مہمان خصوصی اور فیکلٹی اراکین و طلبہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے پروفیسر مظہر آصف،شیخ الجامعہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ اورپروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی، مسجل،جامعہ ملیہ اسلامیہ کی جانب سے اس نوعیت کے پروگرام منعقد کرنے کے سلسلے میں سازگار اور مناسب علمی ماحول کی فراہمی کے لیے ان کے قائدانہ رول کی تعریف کی۔پروفیسر حق نے بتایاکہ مقابلہ ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر دونوں ہی فارم میں اوپن ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر محمد شریف،ڈین،فیکلٹی آف انجینئرنگ پروگرام کے مہمان اعزازی تھے۔اپنی گفتگو میں انہوں نے بھی اس طرح کے پروگراموں کے انعقاد کی ضرورت پر زور دیا۔پروفیسر شبانہ محفوظ،سی پی آئی او، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور پروفیسر شعبہ الیکٹریکل انجینئرنگ نے طلبہ کے لیے نیک خواہشات کے اظہار کے ساتھ چند اہم کوڈنگ اشارے بھی بتائے۔پروفیسر شکیب اے خان،پرووسٹ بوائز ہاسٹل،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے کہاکہ طلبہ کی ترقی کے لیے کلاس روم ٹیچنگ سے ماورا اطلاقی پروگراموں کی کافی اہمیت ہے۔پروفیسر صائمہ بانو،پروفیسر انچارچ آر سی اے اور صدر شعبہ نفسیات نے منتظمین کی کوششوں کی تعریف کی۔
پروگرام میں پروفیسر امینہ حسین، سی پی آئی او (امتحانات) جامعہ ملیہ اسلامیہ اور اسسٹنٹ پروفیسر،سروجنی نائیڈو سینٹر فار وومین اسٹڈیز،ڈاکٹر مشیر احمد،اعزازی کنٹرولر آف امتحانات اور ایسو سی ایٹ پروفیسر شعبہ کمپوٹر انجینئرنگ بھی شریک ہوئے۔ان کی بصیرت اور تعاون نے جدت و اختراعیت،بین علومی اشتراک اور طلبہ کے ذریعے چلنے والے تکنیکی اقدامات کوا جاگر کیا۔ہیک جے ایم آئی ایک متحرک پلیٹ فارم کے طورپر ارتقا پذیر ہے جو موثر حل تیار کرنے کے لیے تخلیقی ذہنوں کو ایک ساتھ لاتاہے اور جو کوڈنگ سے ماورا ڈیزائن تھنکنگ، ٹیم ورک اور حقیقی دنیا کے مسائل کو حل کرنے کے رویے کو فروغ دیتاہے۔مقابلے میں شرکت کے لیے درخواست دینے کی آخری تاریخ 24 فروری 2026 ہے۔

Continue Reading

دلی این سی آر

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ’اسلامی قانون کے ارتقا اور مسلم خواتین کی حالت کی تبدیلی‘ کے موضوع پر خطبے کا انعقاد

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی :انڈیا عرب کلچر سینٹر، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ’دورجاہلیہ سے قانونی اصلاحات تک:اسلامی قانونی اور مسلم خواتین کی تبدیل ہوتی حالت‘ کے موضوع پرسینٹر کے کانفرنس روم میں توسیعی خطبے کا اہتمام کیا۔پروگرام کی صدارت سینٹر آف ویسٹ ایشین اسٹڈیز کے ڈائریکٹر پروفیسر ہمایوں اختر نجمی نے کی اور نظامت کے فرائض ڈاکٹر محمد آفتاب نے انجام دیے۔
سینٹر کے ڈائریکٹر،ڈاکٹر محمد آفتاب نے اس نوع کے علمی پروگرام کے لیے جو طلبہ اور فیکلٹیز میں بامعنی بحث و مباحثے کی راہیں ہموار کرتا ہے اس کے انعقاد کی منظوری دینے اور تعاون و سرپرستی کے لیے شیخ الجامعہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ پروفیسر مظہر آصف اور مسجل جامعہ ملیہ اسلامیہ پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے پروگرام کی صدارت کی دعوت قبول کرنے اور طلبہ کو اپنے علمی تجربات سے مستفید کرنے کے لیے پروفیسر ہمایوں اختر نجمی کا بھی شکریہ اداکیا۔سینٹر کے ڈائریکٹر نے توسیعی خطبے کے موضوع کے ساتھ ساتھ خطیبہ ڈاکٹر علیشہ خاتون،فیکلٹی آف لا کا تعارف بھی پیش کیا اور خطاب کے لیے آمادگی پر ان کا شکریہ بھی اد اکیا۔
صدر اجلاس پروفیسر ایچ۔اے۔نجمی نے سامعین کو موضوع سے متعار ف کراتے ہوئے قبل اسلام عرب سوسائٹی کی سماجی وتہذیبی نیز سیاسی صور ت حال کا عمومی اور خواتین کی صور ت حال کا خصوصی جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے کہاکہ اسلام کی آمد کے بعد صور ت حال یکسر تبدیل ہوگئی لیکن عہد حاضر کے تناظر میں متعدد ایسی باتیں ہیں جن کا جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ معاصر سماج سے متعلقہ ضرورتوں اور تقاضوں سے عہدہ برآں ہوا جاسکے۔
پروگرام کی خطیبہ ڈاکٹر علیشہ خاتون نے اسلامی دنیا میں طویل تاریخی ارتقا، قبل اسلام(دور جاہلیہ) سے اسلامی قانون (شریعہ) اور شریعہ سے موجودہ قانونی اصلاحات تک مسلم خواتین کی صور ت حال کا جائزہ پیش کیا۔دور جاہلیہ جو عام طورپر سماجی رسوم و روایات سے عبار ت ہے اس نے خواتین کو حاشیے پر ڈال دیا تھا،ابتدائی اسلامی تعلیمات نے انقلاب آفریں تبدیلیاں پیدا کیں،خواتین کو شادی،میراث اور معاشی زندگی میں حقوق دیے گئے۔ صدیوں پر پھیلی اسلامی تاریخ میں فقہ اور سماجی و تہذیبی رسوم نے مسلم معاشرے میں خواتین کی حالت کو متاثر کیا ہے۔آج کے زمانے میں قانونی اصلاحات کو عام طور پر نوآبادیات سے رابطے میں آنے،قومیت، اور خواتین کے حقوق سے متعلق تحریکات سے اثر پذیر ی نے خواتین کے حقوق اور ان کی حالت کو مزید نئی سمت دی ہے۔
قبل اسلام سے لے کر اسلامی قانونی اصلاحات کا ارتقا مسلم خواتین کے حقوق کے وسیع ہوتے دائرے کے نقطہ اتصال کو بتاتاہے جس کے پس پشت تاریخی، تہذیبی و ثقافتی اور سیاسی وجوہات رہی ہیں۔اوائل اسلامی قانون نے خواتین کو اہم تحفظات اور حقوق عطا کیے۔صدیوں تک فقہی تشریحات اور سماجی اصولوں نے چند آزادیوں کو محدود کرکے رکھا۔قومی مقننہ اور خواتین کی تحریکات سے زیر اثر موجودہ قانونی اصلاحات نے خواتین کے مقام و مرتبے اور حالت کو مزید تبدیل کیاہے اور عصری انسانی حقوق کے نظریات کے ساتھ مذہبی و دینی اصولوں کو ہم آہنگ کیا ہے۔جاری بحث و مباحثے مسلم معاشروں میں روایت، اصلا ح اور صنفی انصاف کے باہمی متحرک رشتے کو ظاہر کرتے ہیں۔
ڈاکٹر ذوالفقار علی انصاری،اے آئی سی سی،جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اظہار تشکر پر پروگرام اختتام پذیرہوا۔انہوں نے پروفیسر ایچ۔اے نجمی،ویسٹ ایشیا کے ساتھ ساتھ پروفیسر ناصر رضا خان، آئی اے سی سی،ڈاکٹر محمد آفتاب احمد،اور ویسٹ ایشیا اور عرب کلچر سینٹر کے تمام فیکلٹی اراکین کاشکریہ ادا کیا۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network