بہار
حجاب کی توہین پرامارت شرعیہ سمیت دیگر ملی تنظیموں کی جانب سےسخت اعتراض ، نتیش کمار سے معافی کا مطالبہ
(پی این این)
پٹنہ: وزیراعلیٰ نتیش کے ذریعہ بھری محفل میں ایک مسلم آیوش ڈاکٹر کو بے حجاب کئے جانے پر بہار کی موقر دینی و ملی جماعتوں نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ نے پیر کوسی ایم سکریٹریٹ میں نو تقرر آیوش ڈاکٹر وں کے درمیان تقرری نامہ تقسیم کرنے کے دوران ایک مسلم خاتون ڈا کٹر کے چہرے سے حجاب کھینچ دیا تھا۔ اس وقت نائب وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری، وزیر صحت منگل پانڈے، وزیر وجے کمار چودھری، کئی اعلیٰ افسران اور نو تقرر آیوش ڈاکٹر س موجود تھے۔
اس واقعہ کی ویڈیو فوٹیج جو عوامی سطح پر زیر گردش ہے،جس نے بہار کے امن پسند شہریوں کے دلوں میں بے چینی، اضطراب اور عدم تحفظ کا احساس پیدا کر دیا ہے۔دینی و ملی جماعتوں نے جاری ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ مذکورہ خاتون کی پختہ شناخت کے بعد ہی تقرری نامہ حاصل کرنے کے لئے انہیں وزیر اعلیٰ کے سامنےلایا گیا ہوگا۔ اس لئے یہ معاملہ کہیں سے بھی شناخت یا سیکوریٹی کا نہیں ہے۔ یہ معاملہ جہاں توہین حجاب کا ہے، وہیں ایک خاتون کے وقار اور عفت کابھی ہے۔ یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ مسلم خواتین کے لئے حجاب محض ایک لباس نہیں، بلکہ ان کی مذہبی شناخت، ذاتی وقار اور باطنی حسن کا اظہار ہے۔ کسی سرکاری تقریب اور عوامی پلیٹ فارم پر اس میں مداخلت خواہ کسی بھی فرد اور شخصیت کی طرف سے ہو، مسلمانوں کو کسی بھی حال میں پسند نہیں ہے۔ اس لئے وزیر اعلیٰ کو نہ صرف مذکورہ خاتون سے، بلکہ بہار کی تمام آدھی آبادی سےمعافی مانگنی چاہئے کیوں کہ اس طرح کی حرکت سے تمام عورتوں کا وقار مجروح ہواہے۔ یہ معاملہ کسی اختلاف یا محاذ آرائی کا نہیں ہے، بلکہ انسانی وقار، خواتین کا احترام اور مذہبی آزادی کا ہے۔ ایسے واقعات کا اثر صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اجتماعی شعور اور تحفظ کے احساس کو متاثر کرتا ہے۔
دینی و ملی جماعتوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ کی اس نازیبا حرکت سے ان عناصر کو شہ مل سکتی ہے جو خاتون کے وقار کو مجروح کرنے کے درپے رہتے ہیں۔ دینی و ملی جماعتوں نے کہا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس قسم کے واقعات لاء اینڈ آرڈر کے لئے مسئلہ بن سکتے ہیں،دینی و ملی جماعتوں نے کہا کہ کسی بھی مہذب سماج میں اس قسم کا رویہ باعث تشویش ہے۔ بیان جاری کرنے والی تنظیموں میں امارت شرعیہ، بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ،جماعت اسلامی ہند،بہار،جمعیت العلماء ہند، بہار (الف)، جمعت علماء ہند، بہار (میم) ادارہ شرعیہ (ڈاکٹر فریدامان اللہ )آل انڈیا مومن کانفرنس بہار، اورمجلس علماء خطباء امامیہ(اہل تشیع) شامل ہیں۔
بہار
چھپرہ کے ڈپٹی الیکشن آفیسر جاوید اقبال ایوارڈ سے سرفراز
(پی این این)
چھپرہ :اتوار کا دن سارن ضلع کے لیے کامیابیوں،اعزازات اور فخر سے بھرا ہوا تھا۔سارن ضلع نے الیکشن کمیشن آف انڈیا کی رہنمائی میں منعقدہ ریاستی سطح کے بہترین انتخابی طرز عمل ایوارڈ-2025 میں اپنی مضبوط اور موثر شرکت کا اندراج کرکے ریاستی سطح پر ایک خاص پہچان حاصل کی۔16ویں قومی ووٹرز ڈے کے موقع پر پٹنہ میں ایریگیشن بلڈنگ کمپلیکس کے کنونشن ہال میں منعقدہ شاندار تقریب میں ضلع کے تین انتظامی افسران اور ایک ٹیچر کو ان کے شاندار اور قابل ستائش کام کے لیے اعزاز سے نوازا گیا۔
تقریب میں بہار کے چیف سکریٹری پرتیئے امرت نے سارن کے اس وقت کے ڈپٹی ڈیولپمنٹ کمشنر یتیندر کمار پال کو بہترین ریٹرننگ آفیسر کے ایوارڈ سے نوازا۔ڈپٹی الیکشن آفیسر جاوید اقبال کو ان کے موثر انتظام اور موثر کوآرڈینیشن پر بہترین ڈپٹی الیکشن آفیسر کے اعزاز سے نوازا۔اس کے علاوہ مانجھی اسمبلی حلقہ کے ریٹرننگ آفیسر اور صدر ڈی سی ایل آر آلوک راج کو بھی انتخابی عمل کے کامیاب انعقاد کے لیے بہترین اے ای آر او کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ساتھ ہی تریاں بلاک کے ٹیچر اجے کمار ساہ کو بی ایل او کے طور پر شاندار کام کے لیے بہترین بوتھ لیول آفیسر کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔
یہ ایوارڈ ضلع میں ہونے والے انتخابات کے دوران منصفانہ،پرامن اور شفاف انتخابی عمل کو یقینی بنانے پر دیا گیا۔انتخابی کاموں میں آئی ٹی پر مبنی ایجادات،مضبوط سیکورٹی انتظام،منظم انتظامی نظام اور وسیع ووٹر بیداری مہم کے کامیاب نفاذ نے سارن ضلع کو ریاست میں ایک مثالی ضلع کے طور پر قائم کیا ہے۔ایوارڈ حاصل کرنے کے بعد ڈپٹی الیکشن آفیسر جناب اقبال نے کہا کہ یہ کامیابی کسی ایک فرد کی نہیں بلکہ ٹیم سارن کی اجتماعی محنت،لگن اور بہترین کوآرڈینیشن کا نتیجہ ہے۔
بہار
جامعہ رحمانی میں 40 روزہ انگلش لرننگ ورکشاپ کا کامیاب انعقاد
(پی این این)
مونگیر :جامعہ رحمانی میں طلبہ و اساتذہ کی انگریزی زبان پر گرفت مضبوط کرنے کے مقصد سے 40 روزہ خصوصی انگلش لرننگ ورکشاپ کا کامیاب انعقاد عمل میں آیا۔ اس تعلیمی و تربیتی ورکشاپ کا انعقاد امیرِ شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی، سجادہ نشین خانقاہ رحمانی مونگیر کی سرپرستی و رہنمائی میں کیا گیا، جن کی بصیرت افروز قیادت نے مدارس میں دینی تقاضوں کے مطابق زبان سیکھنے کی ایک مضبوط مثال قائم کی۔
اس ورکشاپ کے لیے جنوبی ہند کے شہر حیدرآباد سے معروف انگلش ماسٹر ٹرینر مولانا محمد عاقب صفی کو مدعو کیا گیا، جنہوں نے جدید، عملی طرز کے مؤثر تربیتی اسلوب کے ذریعے طلبہ کو انگریزی بول چال، اسٹیج کانفیڈنس، تقریری مہارت، مؤثر اظہارِ خیال اور پبلک اسپیکنگ کی عملی تربیت فراہم کی۔ چالیس دنوں پر محیط اس پروگرام میں طلبہ کی نمایاں پیش رفت دیکھنے کو ملی۔ورکشاپ کے اختتام پر طلبہ کی عملی کارکردگی کو جانچنے اور ان کی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے ’’رحمانی ٹاکس‘‘ کے عنوان سے ایک خصوصی پروگرام منعقد کیا گیا، جس میں طلبہ نے انگریزی زبان میں تقاریر،قرآنی آیات کی تفسیر،اسلامی واقعات کی پیش کش، محاورات کے استعمال اور اظہارِ خیال کے مقابلوں میں بھرپور شرکت کی اور اپنے اعتماد و مہارت کا شاندار مظاہرہ کیا۔
پروگرام کے صدارتی خطاب میں جامعہ رحمانی کے استاذِ حدیث مولانا مفتی ریاض احمد قاسمی نے فرمایا کہ مثالی قیادت کی مثالی سوچ، مثالی مدرس کی مثالی تدریس، مثالی طلبہ کی مثالی محنت اور مثالی انتظامیہ کے مثالی نظم و نسق کے امتزاج سے ہی وہ نظام وجود میں آتا ہے جس کی جھلک اس چار گھنٹے پر محیط پروگرام میں واضح طور پر نظر آئی۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس بنیاد پر اخلاص کے ساتھ مسلسل محنت کی جائے تاکہ یہ خواب ایک مضبوط اور پائیدار حقیقت بن سکے۔
اس کے بعد جامعہ رحمانی کے ناظمِ تعلیمات برائے امور طلبہ مولانا محمد خالد رحمانی نے اپنے تاثرات میں کہا کہ مدارسِ اسلامیہ میں زبان کی اہمیت کو جس گہرائی کے ساتھ امیرِ شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر نے محسوس کیا اور اس کا عملی حل پیش کیا، اس کی مثالیں کم ملتی ہیں۔ ’’رحمانی ٹاکس‘‘ اسی وژن کا عملی مظہر ہے۔مولانا صالحین ندوی سکریٹری، رحمانی فاؤنڈیشن مونگیر نے کہا کہ اس نوعیت کے ورکشاپس آئندہ بھی جاری رہیں گے تاکہ طلبہ کی دلچسپی برقرار رہے، یہی جامعہ کے سرپرست امیرِ شریعت دامت برکاتہم اور تمام ذمہ داران کی مشترکہ خواہش ہے۔
جامعہ رحمانی کے شعبۂ صحافت کے ایچ او ڈی فضل رحماں رحمانی نے 40 روزہ انگلش لرننگ پروگرام کے انعقاد پر امیرِ شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کی بصیرت اور سرپرستی کو خراجِ تحسین پیش کیا اور پروگرام کو کامیابی سے ہمکنار کرنے پر ماسٹر ٹرینر مولانا عاقب صفی کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے جامعہ رحمانی سے فارغ ہونے والے سالِ ہشتم عربی کے طلبہ کو دعوت دی کہ وہ آئندہ برس جامعہ رحمانی آئیں، جہاں ان کے لیے خصوصی طور پر 40 روزہ انگلش لرننگ ورکشاپ منعقد کی جائے گی۔ اس موقع پر انہوں نے انگریزی زبان کے 45 حروف پر مشتمل طویل ترین لفظ کا تذکرہ کر کے طلبہ کو علمی ذوق بھی فراہم کیا۔
’’رحمانی ٹاکس‘‘ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ کو ایوارڈز اور اسناد سے نوازا گیا۔ اس موقع پر اول پوزیشن جامعہ رحمانی کے شعبہ معہد الریادۃ کے طالب علم مولانا محمد ابرار الحق قاسمی نے حاصل کی، دوم پوزیشن دارالحکمت کے متعلم محمد عامر کے حصے میں آئی، جبکہ سوم پوزیشن ابو عبیدہ (متعلم دارالحکمت) نے حاصل کی۔ اسی طرح چوتھی پوزیشن محمد مختار رحمانی (متعلم دارالحکمت) نے حاصل کی اور پانچویں پوزیشن محمد شہنواز (متعلم دارالحکمت) کے نام رہی۔ اجلاس کی صدارت جامعہ رحمانی کے ناظم الحاج حضرت مولانا محمد عارف صاحب رحمانی اور حضرت مولانا مفتی ریاض احمد صاحب قاسمی نے فرمائی۔اجلاس کا مجموعی انتظام و انصرام مولانا صالحین ندوی اور ماسٹر ٹرینر مولانا عاقب صفی کے زیرِ اہتمام انجام پایا، جبکہ نظامت کے فرائض مولانا عاقب سفی قاسمی، مولانا صبا حیدر ندوی اور حافظ عبد الرحمان (معاون مولانا عاقب صفی) نے بحسن و خوبی انجام دیے۔یہ پروگرام محض جامعہ رحمانی میں انگریزی زبان کے فروغ تک محدود نہ رہا، بلکہ اس نے دینی تقاضوں کی تکمیل کے لیے بین الاقوامی زبانوں کے ساتھ ہم آہنگ، بامقصد اور دور رس تعلیمی وژن کی ایک مضبوط، مؤثر اور قابلِ تقلید عملی تصویر پیش کی۔
بہار
انڈیا ۔نیپال کوآرڈینیشن کمیٹی کی میٹنگ منعقد،سرحد پر غیر قانونی سرگرمیوں کوروکنے کا عزم
(پی این این)
ارریہ: انڈیا نیپال کوآرڈینیشن کمیٹی کی ایک میٹنگ آئی سی پی جوگبنی میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ارریہ مسٹر ونود دوہن کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ میٹنگ کا آغاز ہندوستان اور نیپال کے قومی ترانوں سے ہوا۔ ملاقات میں سرحدی علاقے سے متعلق کئی حساس اور موجودہ مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسٹیک ہولڈرز نے وزیر اعظم کے حالیہ دورے اور کسی بھی متعلقہ معلومات، نیپال کے آئندہ انتخابات کے پیش نظر جنریشن زیڈ کے بعد کی سیاسی صورتحال، نو مینز لینڈ پر تجاوزات کا مسئلہ، حالیہ واقعات کے تناظر میں نیپال کے دھنوشہ علاقے میں فرقہ وارانہ صورتحال، منشیات کی اسمگلنگ، انسانی اسمگلنگ، انٹیلی جنس اکٹھا کرنے، سرحدی مرمت اور پینٹنگ کے واقعات کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ایک خاتون SSB افسر کے ساتھ جھگڑے کے بعد فرار ہونا، اور دوہری شہریت جیسے سنگین مسائل۔
میٹنگ میں نیپال کے مورنگ اور سنسری اضلاع کے چیف ڈیولپمنٹ آفیسرز نے شرکت کی اور سرحدی علاقے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔ ضلع مجسٹریٹ ونود دوہن نے دونوں ممالک کی انتظامیہ، سیکورٹی فورسز اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے درمیان بہتر تال میل کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی علاقے میں کسی بھی غیر قانونی سرگرمی بالخصوص منشیات کی اسمگلنگ، انسانی اسمگلنگ اور دیگر غیر قانونی کارروائیوں پر سختی سے روک لگائی جائے گی۔
ضلع مجسٹریٹ نے یقین دلایا کہ ایک محفوظ، پرامن اور ہموار ہندوستان-نیپال سرحد کو برقرار رکھنے کے لئے مربوط کوششیں جاری رہیں گی۔ انہوں نے اس ملاقات کو دونوں ممالک کے درمیان سرحدی انتظام کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔ میٹنگ میں 56ویں بٹالین ایس ایس بی کے کمانڈنٹ، ایس ایس بی کے سینئر افسران، نیپال کے سنسری اور مورنگ اضلاع کے پولس افسران، انٹیلی جنس افسران، سب ڈویژنل افسران، اور سب ڈویژنل پولس آفیسر، فاربس گنج کے علاوہ دیگر متعلقہ حکام موجود تھے۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر12 months agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoکجریوال کاپجاری اور گرنتھی سمان اسکیم کا اعلان
-
محاسبہ1 year agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
بہار8 months agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ1 year agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
