اتر پردیش
عبداللہ اعظم کو جھٹکا،2پاسپورٹ معاملےمیں 7سال کی سزا
(پی این این)
رام پور:سابق ایم ایل اے عبداللہ اعظم دو پین کارڈ کیس میں سات سال کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ان کو پاسپورٹ کے دو معاملات میں سات سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ ان پر 50 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔ سماعت کے دوران عبداللہ اعظم ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے۔سٹی ایم ایل اے آکاش سکسینہ نے 2019 میں سول لائن پولیس تھانے میں ایس پی لیڈر اعظم خان کے بیٹے عبداللہ اعظم کے خلاف دو پاسپورٹ کا مقدمہ درج کرایاتھا۔
انہوں نے الزام لگایاتھا کہ عبداللہ اعظم کے پاس دو پاسپورٹ ہیں۔ انہوں نے ان میں سے ایک پاسپورٹ غیر ملکی سفر کے لیے استعمال کیا تھا۔یہ معاملہ ایم پی ایم ایل اے مجسٹریٹ کورٹ میں زیر التوا تھا۔ عبداللہ اعظم نے اس معاملے میں دائر کیس کو منسوخ کرنے کے لیے سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا تھا لیکن وہاں سے انہیں راحت نہیں ملی۔ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد اس کیس کی سماعت دوبارہ شروع ہوئی۔جمعہ کو رام پور کورٹ نے اپنا فیصلہ سنایا۔ سماعت کے لیے سابق ایم ایل اے عبداللہ اعظم کو وی سی کے ذریعے عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے عبداللہ اعظم کو مجرم قرار دیتے ہوئے 7 سال قید اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ ایم ایل اے آکاش سکسینہ نے 2019 میں سول لائن تھانے میں ایک ایف آئی آر درج کرائی تھی۔
ایف آئی آر میں ایم ایل اے نے کہا کہ عبداللہ اعظم نے جھوٹے اور من گھڑت دستاویزات اور تفصیلات کی بنیاد پر پاسپورٹ حاصل کیا تھااور وہ اسے استعمال کر رہے تھے۔ پاسپورٹ نمبر Z4307442 کی تاریخ 10 جنوری 2018 ہے۔عبداللہ اعظم خان کی تاریخ پیدائش ان کے تعلیمی سرٹیفکیٹس (ہائی اسکول، بی ٹیک اور ایم ٹیک) میں یکم جنوری 1993 درج ہے۔ پاسپورٹ نمبر Z4307442 ان کی تاریخ پیدائش 30 ستمبر 1990 ظاہر ہورہی ہے۔ پاسپورٹ کو مالی فائدے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔کاروباری اور پیشہ ورانہ بیرون ملک سفر، مختلف اداروں کے شناختی کارڈ کے طور پر اور مختلف عہدوں کے لیے درخواست دینے کے لیے اس کو استعمال کیا گیاہے۔نیز تعلیمی سرٹیفکیٹس کو مالی فائدے کے لیے بھی استعمال کیا گیا ہے جس میں تعلیمی اداروں سے ایکریڈیشن اور شناختی کارڈ بھی شامل ہے۔
عبداللہ اعظم کے تعلیمی سرٹیفکیٹس اور پاسپورٹ میں تاریخ پیدائش اور جائے پیدائش متضاد ہیں۔اس کے باوجود عبداللہ جان بوجھ کر تمام دستاویزات کو ضرورت کے مطابق ناجائز فائدہ اٹھانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔کیس میں الزام لگایا گیا تھا کہ عبداللہ اعظم نے پاسپورٹ نمبر Z 4307442 حاصل کیا تھا جس میں جھوٹی تفصیلات موجود تھیں جس کا غلط استعمال تعزیرات ہند کی دفعہ 420، 467، 468، 471 اور پاسپورٹ ایکٹ کی دفعہ 12(1) AK کے تحت قابل سزا ہے۔
اتر پردیش
پروفیسر رخشندہ فاضلی اے ایم یو کے شعبہ مغربی ایشیائی و شمال افریقی مطالعات کی چیئرپرسن مقرر
(پی این این)
علی گڑھ:پروفیسر رخشندہ فاروق فاضلی کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی(اے ایم یو) کے شعبہ مغربی ایشیائی و شمال افریقی مطالعات کا نیا چیئرپرسن مقرر کیا گیا ہے۔ ان کی مدت کار 28 جنوری 2026 سے آئندہ تین سال ہوگی۔
تدریس و تحقیق کے میدان میں 24 برس سے زائد کا تجربہ رکھنے والی پروفیسر فاضلی نے اے ایم یو سے جغرافیہ میں ایم اے اور ایم فل اور مغربی ایشیائی مطالعات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے۔ انھیں انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار جیو انفارمیشن سائنس اینڈ ارتھ آبزرویشن، اینسخیدے، نیدرلینڈز کی نیدرلینڈز فیلوشپ مل چکی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے دہرہ دون کے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ریموٹ سینسنگ (آئی آئی آر ایس) میں ریموٹ سینسنگ اور جی آئی ایس کی اعلیٰ تربیت کے لیے این این آر ایم ایس فیلوشپ بھی حاصل کی ہے۔
ان کی تحقیقی دلچسپیوں میں ہجرت، ڈائسپورا، وسائل کی ترقی، اور سماجی علوم کی تحقیق میں ریموٹ سینسنگ اور جی آئی ایس کا اطلاق جیسے موضوعات شامل ہیں۔ انہوں نے انڈین کونسل آف سوشل سائنس ریسرچ (آئی سی ایس ایس آر) کی زیر سرپرستی بڑے تحقیقی پروگراموں اور ہندوستان–جی سی سی ہجرت اور سماجی و اقتصادی ترقی سے متعلق پروجیکٹوں کی قیادت کی ہے، اور کیمبرج، آکسفورڈ اور جارج ٹاؤن جیسی ممتاز جامعات میں اپنے تحقیقی مقالے پیش کیے ہیں۔ پروفیسر فاضلی نے علمی مقاصد کے لیے برطانیہ، فرانس، نیدرلینڈز، جرمنی اور امریکہ کا بھی دورہ کیا ہے۔
انہوں نے قومی اور بین الاقوامی جرائد میں ساٹھ سے زائد تحقیقی مقالات شائع کیے ہیں۔ وہ متعدد پیشہ ورانہ اور علمی اداروں کی رکن ہیں، جن میں انڈین ایسوسی ایشن آف سینٹرل اینڈ ویسٹ ایشین اسٹڈیز، انڈین سوسائٹی آف ریموٹ سینسنگ (آئی ایس آر ایس)، انٹرنیشنل جیوگرافیکل یونین (آئی جی یو)، انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف ہائیڈرولوجیکل سائنسز (آئی اے ایچ ایس) اور نیشنل ایسوسی ایشن آف جیوگرافرز انڈیا (این اے جی آئی) شامل ہیں۔
اتر پردیش
خواجہ یونیورسٹی میں اودھی زبان کو نصاب میں شامل کرنے کا اعلا ن
(پی این این )
لکھنؤ:خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی میں اودھی ریسرچ چیئر کی پہلا اجلاس نہایت کامیابی کے ساتھ انعقاد ہوا۔ اس اجلاس کا بنیادی مقصد اودھی زبان، اس کے ادب اور لوک ثقافت کے تحفظ، فروغ اور تعلیمی ارتقا کو ایک منظم اور مؤثر سمت دینا تھا۔میٹنگ کی صدارت یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر اجے تنیجا نے کی۔
اس موقع پر انھوں نے اودھی زبان کی تاریخی، ثقافتی اور سماجی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اودھی ہماری تہذیبی وراثت کی ایک طاقتور اور زندہ علامت ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ یونیورسٹی جلد ہی اودھی زبان کو ایک مستقل اور باقاعدہ مضمون کے طور پر نصاب میں شامل کرے گی، تاکہ طلبہ و طالبات کو اپنی لوک زبان میں تعلیم اور تحقیق کے بہتر مواقع حاصل ہو سکیں۔وائس چانسلر نے مزید کہا کہ اودھی زبان کے ذریعے لوک ثقافت، ادب اور سماج کے درمیان گہرے اور مضبوط رشتے کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ اسی مقصد کے تحت یونیورسٹی اودھی سے متعلق تحقیقی منصوبوں، سمیناروں، ورکشاپس اور دیگر علمی و ادبی سرگرمیوں کو خصوصی ترجیح دے گی۔
اجلاس میں اودھی ریسرچ چیئر کے اراکین، پروفیسر سوریہ پرتاپ دکشت، پروفیسر ودیا بندھو سنگھ، ڈاکٹر رام بہادر مشرا اور ڈاکٹر سرویش استھانا نے شرکت کی۔ تمام اراکین نے اودھی زبان کے تحفظ، اس کی دستاویز سازی، ادبی تحقیق اور نئی نسل تک اس کے فروغ کے حوالے سے قیمتی تجاویز پیش کیں اور اودھی ادب کو علمی و تحقیقی سطح پر مستحکم کرنے کے لیے ٹھوس حکمتِ عملی وضع کرنے پر زور دیا۔اس موقع پر اودھی ریسرچ چیئر کے کنوینر ڈاکٹر نیرج شکلا کے ساتھ ڈاکٹر یوگیندر سنگھ، ڈاکٹر آرادھنا استھانا اور ڈاکٹر ہمانشو گنگوار بطور معاون کنوینر موجود رہے۔
کنوینر منڈل نے چیئر کی آئندہ عملی منصوبہ بندی، تحقیقی موضوعات کے انتخاب، اشاعتی سرگرمیوں اور مجوزہ تعلیمی پروگراموں پر تفصیلی غور و خوض کیا۔اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ اودھی زبان اور ثقافت سے متعلق خصوصی کورسز، سرٹیفکیٹ پروگرام، تحقیقی منصوبے اور ثقافتی تقاریب منعقد کی جائیں گی، تاکہ طلبہ کو تعلیمی کے ساتھ ساتھ عملی سطح پر بھی فائدہ پہنچایا جا سکے۔ مزید برآں اودھی ادب، لوک گیتوں، لوک ناٹک اور روایتی ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے ایک جامع ڈیجیٹل آرکائیو تیار کرنے کی تجویز پر بھی سنجیدگی سے غور کیا گیا۔
میٹنگ کے اختتام پر تمام اراکین نے متفقہ طور پر اس عزم کا اظہار کیا کہ اودھی زبان کو قومی سطح پر شناخت دلانے اور اسے علمی و ادبی منظرنامے میں نمایاں مقام عطا کرنے کے لیے یونیورسٹی کی کوششوں کو مزید مضبوط اور مؤثر بنایا جائے گا۔
اتر پردیش
وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے ایم ایس ڈبلیو 26۔2024 بیچ کے پلیسمنٹ بروشر کا کیااجراء
(پی این این)
علی گڑھ:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خان کے ہمراہ ماسٹر آف سوشل ورک (ایم ایس ڈبلیو) 2024–26 بیچ کے چوتھے سمسٹر کے طلبہ کے پلیسمنٹ بروشر کا اجرا ء کیا۔
بروشر میں فارغ ہونے والے بیچ کی تعلیمی تربیت اور فیلڈ ورک کے تجربات کو شامل کیا گیا ہے اور اس کے ذریعے پلیسمنٹ کے عمل کے باضابطہ آغاز کا اعلان کیا گیا۔ اس موقع پر پروفیسر نعیمہ خاتون نے سوشل ورک شعبہ اور طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اے ایم یو کا ایم ایس ڈبلیو پروگرام سماجی عصری چیلنجوں سے نمٹنے کی صلاحیت رکھنے والے پیشہ ور افراد تیار کر رہا ہے۔
پروفیسر محمد محسن خان نے کہا کہ تجدید شدہ نصاب، طلبہ کو پیشہ ورانہ صلاحیت اور سماجی ذمہ داری کے مؤثر امتزاج میں مدد فراہم کرتا ہے۔ڈین، فیکلٹی آف سوشل سائنس اور چیئرمین، شعبہ سوشل ورک پروفیسر اکرام حسین نے 2024–26 بیچ کے اسپیشلائزیشنز پر روشنی ڈالی، جن میں ہیومن ریسورس مینجمنٹ، انڈسٹریل ریلیشنز اور کمیونٹی ڈیولپمنٹ شامل ہیں۔
کوآرڈینیٹر، ٹریننگ اینڈ پلیسمنٹ سیل ڈاکٹر محمد طاہر نے طلبہ کے فیلڈ ورک اور قومی و بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ پلیسمنٹ سیل کی فعال وابستگی کا ذکر کیا۔رسم اجراء تقریب میں فیکلٹی اراکین ڈاکٹر محمد عارف خان، ڈاکٹر عندلیب، ڈاکٹر محمد عذیر اور ڈاکٹر سمیرہ خانم سمیت سوشل ورک شعبہ کے ٹریننگ اینڈ پلیسمنٹ سیل کے رضاکار بھی موجود تھے۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
بہار9 months agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
دلی این سی آر1 year agoکجریوال کاپجاری اور گرنتھی سمان اسکیم کا اعلان
-
محاسبہ1 year agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
بہار3 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
