دلی این سی آر
اردو اکادمی کے زیر اہتمام ڈراما فیسٹول کے تیسرے روز منٹو کی کہانی ’’جیب کترا‘‘ کی متاثر کن پیشکش
(پی این این)
نئی دہلی:سعادت حسن منٹو کا شمار اردو افسانے کے اُن چند نادر تخلیق کاروں میں ہوتا ہے جنھوں نے زندگی کی تلخ حقیقتوں اور معاشرتی برائیوں کو بے باکی اور جرأت کے ساتھ قلم بند کیا۔انھوں نے اپنے قلم کے زور سے سماج کے دوہرے چہروں کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا۔ ان کا فن زندگی کی کڑوی حقیقتوں، انسانی کمزوریوں اور معاشرتی تضادات کا آئینہ دار ہے۔ ان کی زبان سادہ مگر حقیقت پسندانہ ہے، جس میں طنز و مزاح کے پہلو بھی نمایاں ہیں۔ منٹو کے فن کی یہی خوبیاں انھیںاردو فکشن کا ایک منفرد اور لازوال افسانہ نگار بناتی ہیں۔
اردو اکادمی ،دہلی کے زیرِ اہتمام جاری ’’اردو ڈراما فیسٹول‘‘ کے تیسرے دن منٹو کی یہی فنی و فکری خوبیاں ناظرین کے دل و دماغ پر اثرانداز رہیں۔ آج شام شری رام سینٹر میں اداکار تھیٹر سوسائٹی کے زیرِ اہتمام منٹو کے معروف افسانے ’’جیب کترا‘‘ کو اسٹیج پر پیش کیا گیا، جس کی ہدایت کاری معروف تھیٹر فنکار جناب ہمت سنگھ نیگی نے کی۔ڈرامے کی پیشکش سے قبل ناظمِ محفل جناب مالک اشتر نے منٹو کے فکر و فن اور تھیٹر کے حوالے سے مختصر گفتگو کی، جس کے بعد کہانی کی پیشکش نے ناظرین کو گہرے تاثرات میں ڈبو دیا۔
یہ کہانی ایک جیب کترے ’’کاشی‘‘ کی زندگی کے گرد گھومتی ہے جو حالات کے جبر کے تحت چوری پر مجبور ہے۔ ایک دن بازار میں وہ ’’بملا‘‘ نامی عورت کا بٹوہ چرالیتا ہے، مگر اس میں موجود ایک خط کی افسردہ تحریر اسے پشیمان کردیتی ہے۔ اسے بملا کی زندگی میں غم اور مایوسی کے ایسے آثار نظر آتے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ خودکشی کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ انکشاف کاشی کے دل میں ندامت اور انسانیت دونوں کو بیدار کردیتا ہے۔ وہ بملا سے اپنے جرم کی معافی مانگتا ہے اور اس کی زندگی میں دم توڑتی امید کو پھر سے جلا بخشنے کی کوشش کرتا ہے۔بدلے میں بملا وعدہ کرتی ہے کہ وہ کاشی کو ایک بہتر انسان بننے میں مدد کرے گی، مگر برسوں کی چوری نے کاشی کو ’’کلیپٹو مینیا‘‘ جیسی نفسیاتی بیماری میں مبتلا کردیا تھا، جہاں سے واپسی ممکن نہ تھی۔ کہانی کا کلائمکس اس وقت آتا ہے جب بملا اپنی مجبوریوں کے باعث کاشی سے دوبارہ چوری کرنے کو کہتی ہے، لیکن اس بار کاشی انکار کردیتا ہے کیونکہ وہ ایمانداری اور دیانت داری کے ساتھ زندگی گزارنے کا پختہ عزم کرچکا ہوتا ہے۔ کہانی کا اختتام علامتی اور فکرانگیز انداز میں ہوتا ہے، جو ناظرین کے ذہنوں پر یہ سوال چھوڑ جاتا ہے کہ کیا کاشی اپنی نئی راہ پر قائم رہ پائے گا یا حالات اسے دوبارہ جرم کے اندھیروں میں دھکیل دیں گے۔
یہ ڈراما کل اٹھارہ کرداروں پر مشتمل تھا، جن میں دو مرکزی، دو معاون اور چودہ ضمنی کردار شامل تھے۔ کہانی سات بنیادی اور تین ضمنی مناظر پر مشتمل تھی۔ فنکاروں نے اپنی بے مثال اداکاری اور جذباتی گہرائی کے ساتھ منٹو کی سادہ زبان کو اس طرح مجسم کیا کہ ناظرین کے لیے افسانوی کردار اور تھیٹر اداکار میں فرق کرنا مشکل ہوگیا۔ معاون و ضمنی فنکاروں نے بھی اپنے دلچسپ مکالموں، گہرے تاثرات اور مزاحیہ حرکات کے ذریعے کہانی کے جذباتی توازن کو آخر تک برقرار رکھا۔مختصر یہ کہ یہ ڈراما نہ صرف فنِ اداکاری کے اعتبار سے کامیاب رہا بلکہ اپنے جامع و مؤثر اسکرپٹ، اثرانگیز مکالموں اور فنی پیشکش کے باعث ناظرین کے دلوں پر گہرا اثر چھوڑ گیا۔
ڈرامے کے اختتام پر اکادمی کے لنک آفیسرڈاکٹر رمیش ایس لعل، محمد ہارون اور عزیر حسن قدوسی نے ہدایت کار جناب ہمت سنگھ نیگی کو مومینٹو اور گلدستہ پیش کر کے ان کی شاندار پیشکش کو سراہا۔ اس موقع پر ڈراما کے شائقین کے علاوہ طلبا کی ایک کثیر تعداد بھی موجود تھی۔
دلی این سی آر
مفتی محمد مکرم احمدکاچندہ نہ دینے پر مسجد اور مکانوں کو نذر آتش کرنے والوں پر کارروائی کا مطالبہ
(پی این این)
نئی دہلی :شاہی امام مسجد فتح پوری دہلی مفکر ملت مولانا ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد نے جمعہ کی نماز سے قبل خطاب میں شب معراج کی فضیلت بیان کرتے ہوئے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم امام الانبیاء ہیں اسی لیے مسجد اقصی میں انہوں نے شب معراج میں انبیاء کرام علیہم السلام کی امامت فرمائی اور اللہ کے حضور قرب خاص میں جلوہ ًربا نی سے اسی شب میں مشرف ہوئے یہ امت کے لیے فخر کی بات ہے، یہ فضیلت کسی اور نبی و رسول کو حاصل نہیں ہے ،جو شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت اور سنتوں پر عمل کرے گا یقینا وہ عظیم کامیابی سے ہمکنار ہوگا۔
مفتی مکرم نے شر پسند عناصر کے ذریعے تری پورہ کے اونا کوٹی ضلع میں مسلمانوں کی املاک مکانوں اور دکانوں نیز مسجد میں آگ زنی کی واردات پر شدید غم کا اظہار کرتے ہوئے سخت کاروائی کا مطالبہ کیا ۔ بھگوا عناصر کا ایک گروہ ایک مسلم شخص علی کی دکان پر مندر کے لیے چندہ لینے پہنچا دکاندار نے ان لوگوں سے کہا کہ وہ پہلے ہی کچھ رقم دے چکے ہیں اور چند دنوں میں مزید رقم دیں گے اس گروہ نے ایک نہ سنی اور فوری طور پر چندہ کا مطالبہ کیا پھر انہوں نے اس سے مار پیٹ شروع کر دی اور دیکھتے دیکھتے ان لوگوں نے کئی دکانوں، مکانوں اور مسجد میں آگ لگا دی پولیس اہلکار موقع پر تھے لیکن انہوں نے اقلیتی فرقہ پر حملہ کرنے والوں پر کوئی ایکشن نہیں لیا بعد میں 10 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ مفتی مکرم نے تری پورہ انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ واردات میں ملوث سبھی شر پسند عناصر کو گرفتار کیا جائے اور متاثرین کو معاوضہ دیا جائے اور اقلیتی فرقہ کے افراد کی حفاظت کی جائے انہوں نے کہا کہ چندہ تو ایک بہانہ تھا یہ بڑی سازش ہے اس پر ایکشن ہونا چاہیے۔
مفتی مکرم نے اسلامی جمہوریہ ایران میں تشدد اور بدامنی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یو این او سے مطالبہ کیا کہ ایران سے بیرونی مداخلت کو بند کرایا جائے ایران میں احتجاجی مظاہرے مہنگائی کے خلاف شروع ہوئے تھے بعد میں انہوں نے شدید تشدد کا رخ اختیار کر لیا، پرتشدد مظاہرے کئی شہروں میں پھیل گئے اور اس میں بہت سے لوگوں کی ہلاکت بھی ہو گئی مظاہرین نے کئی مسجدوں کو بھی آگ لگا دی اور مذہبی کتابوں قرآن کریم کی بے حرمتی بھی کی اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مظاہرین غیر مذہب کے ہیں جو بدامنی پھیلانا چاہتے ہیں، یو این او سے ہماری اپیل ہے کہ بین الاقوامی قوانین پر عمل کرتے ہوئے ایران میں بیرونی مداخلت کو روکا جائے ہر ملک کی آزادی اور خود مختاری کو تحفظ ملنا چاہیے۔
دلی این سی آر
ورلڈ عربک ڈے کے موقع پر دہلی یونیورسٹی میں شاندار پروگرام کاانعقاد
(پی این این)
نئی دہلی :عربی زبان کے عالمی دن کے موقع پر شعبۂ عربی، دہلی یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام دو روزہ مسابقاتی و ثقافتی پروگرام منعقد کیا گیا، جس کے تحت پانچ مسابقاتی پروگرام اور ایک عربی ڈرامہ پیش کیا گیا۔ اس دو روزہ پروگرام کے دوران یونیورسٹی انتظامیہ کے سینئر ذمہ داران اور مختلف یونیورسٹیوں سے آئے ہوئے عربی کے اساتذہ نے عربی زبان کی دھمک اور اس کی مہک کو محسوس کرتے ہوئے شعبہ کی تعلیمی سرگرمیوں کو خوب سراہا۔
پروگرام کے پہلے دن شعبۂ عربی دہلی یونیورسٹی، ذاکر حسین کالج، سینٹ اسٹیفن کالج، جامعہ ملیہ اسلامیہ، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات کے مابین جونیئر اور سینئر زمروں میں تقریری مقابلے، خطاطی، عربی بیت بازی اور عربی نغمات کے مسابقے منعقد کیے گئے۔ان مسابقاتی پروگراموں میں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پروفیسر رضوان الرحمن اور پروفیسر اشفاق احمد، جامعہ ملیہ اسلامیہ سے پروفیسر نسیم اختر اور پروفیسر فوزان احمد، اگنو سے پروفیسر محمد سلیم اور دہلی یونیورسٹی سے پروفیسر نعیم الحسن،ڈاکٹر مجیب اختر اور ڈاکٹر محمد اکرم نے بطور حکم (ججز) فرائض انجام دیے۔ ججز نے طلبہ کی کارکردگی، عربی زبان سے ان کی وابستگی اور ہندوستانی تہذیب کو عربی زبان کے ذریعے عالمی سطح پر پیش کرنے کے جذبے کو سراہا۔
قابلِ ذکر ہے کہ ان مسابقاتی پروگراموں میں بڑی تعداد میں شعبۂ عربی دہلی یونیورسٹی کے پارٹ ٹائم کورسیز سرٹیفکیٹ، ڈپلومہ اور ایڈوانس ڈپلومہ سے وابستہ طلبہ و طالبات نے شرکت کی اور نمایاں پوزیشن حاصل کیں۔ مختلف زمروں میں ضیاء القمر، تاجدار احمد، محمد آفاق، محمد زکریا، محبوب عالم اور جویریہ (دہلی یونیورسٹی) نے ’’مصنوعی ذہانت اور عربی زبان‘‘ اور ’’موجودہ دور میں عربی زبان: مواقع اور چیلنجز‘‘ کے عنوان سے عربی تقریر میں ، محمد مونس، محمد عاصم، محمد اسجد علی، فیض احمد اور محمد سعد (جامعہ ملیہ اسلامیہ) کی ٹیم نے بیت بازی میں ، تزکیہ ازکی، آفرین اور ارم یامین (دہلی یونیورسٹی) نے خطاطی میں جبکہ حافظ محمد شارق (ذاکر حسین کالج)، محمد مونس (جامعہ ملیہ اسلامیہ) اور نمرہ (سینٹ اسٹیفن کالج) نے عربی نغمات کے مقابلے میں بالترتیب اول، دوم اور سوم پوزیشن حاصل کی۔ تمام کامیاب طلبہ کو نقد انعامات اورمولانا محمد یوسف اصلاحی ،مولانا سیدمحمد عبادت،پروفیسر ولی اختر ندوی اور پروفیسر نثار احمدفاروقی کے نام سے موسوم تشجیعی اسناد سے نوازا گیا۔ پہلے دن کے سیشن کی نظامت پروگرام کے کنوینر ڈاکٹر اصغر محمود نے کی، جبکہ اظہارِ تشکر شعبہ کے استاد ڈاکٹر محمد اکرم نے ادا کیا۔
دوسرے دن منعقدہ تقریبِ تقسیمِ انعامات سے قبل شعبۂ عربی کے صدر پروفیسر سید حسنین اختر نے افتتاحی گفتگو میں عربی زبان کی لسانی و ثقافتی روایت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ شعبۂ عربی گزشتہ دو برسوں سے عالمی یومِ عربی کے موقع پر مسابقاتی پروگرام منعقد کر رہا ہے اور ہر سال اس کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان پروگراموں کا بنیادی مقصد طلبہ کو ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے جہاں وہ اپنی خوابیدہ صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں۔ ججز کے تبصروں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ پارٹ ٹائم کورسز کے طلبہ کی کارکردگی دیگر جامعات کے لیے ایک نمونہ بن کر سامنے آئی ہے۔
تقریب کی صدارت کررہے ڈین کلچر کونسل، دہلی یونیورسٹی پروفیسر رویندر سنگھ نے اپنے صدارتی خطاب میں شعبۂ عربی کی ثقافتی و ادبی سرگرمیوں اور پروگرام میں پیش کی گئی تقریروں کے موضوعات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ موضوعات نہایت اہم اور حساس ہیں،چنانچہ مصنوعی ذہانت نے تقریباً تمام زبانوں کو متاثر کیا ہے،انھوں نےہندوستانی ثقافت و مختلف زبانوں کے کلاسیکی متون کو عربی زبان میں منتقل کیے جانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے عربی زبان کی صوتی نغمگی کو ایک نظم کے ذریعے پیش کیا۔پروگرام کی مہمانِ خصوصی پروفیسر نیرا اگنی مترا، چیئرپرسن شعبۂ بین الاقوامی تعلقات، دہلی یونیورسٹی نے شعبۂ عربی کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں جامعات کی عالمی درجہ بندی بہتر بنانے کے لیے عربی زبان اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے شعبۂ عربی دہلی یونیورسٹی اور عرب ممالک کی جامعات کے درمیان تعلیمی معاہدات پر بھی زور دیا۔ اس سے قبل شعبہ عربی دہلی یونیورسٹی کے سابق صدر پروفیسر محمد نعمان خان نے عالمی دن برائے عربی زبان کے ابتدائی دنوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ عرب ممالک کو اگر چھوڑدیا جائے تو ہندوستان میں جس انداز، سرگرمی اور دلچسپی کے ساتھ شعبۂ عربی، دہلی یونیورسٹی اس دن کو مناتا ہے، اس کی مثال دیگر جامعات کے شعبۂ عربی میں کم ہی ملتی ہے۔ انہوں نے یہاں کے طلبہ کی مؤثر کارکردگی پر انہیں مبارکباد پیش کی اور شعبۂ عربی سے اپنے دیرینہ تعلقات کا بھی اعادہ کیا۔تقریب کی نظامت ڈاکٹر مجیب اختر نے کی جبکہ اظہارِ تشکر ڈاکٹر اصغر محمود نے ادا کیا۔ پروگرام میں شعبۂ فارسی کے سینئر استاد پروفیسر علیم اشرف، ڈاکٹر ضیاء الرحمن، کشمیر سے آئے ڈاکٹر ریاض احمد، ڈاکٹر شمیم احمد، ڈاکٹر مشتاق (سینٹ اسٹیفن کالج)، ڈاکٹر آصف اقبال، ڈاکٹر ابو تراب، پریتی بھارتی، محمد اسامہ اور دیگر گیسٹ فیکلٹیز کے علاوہ بڑی تعداد میں طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔
دلی این سی آر
وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے81 نئے آیوشمان آروگیہ مندر کا کیاافتتاح
(پی این این)
نئی دہلی :دہلی میں بنیادی صحت کی دیکھ بھال کو مضبوط بنانے کے لیے دہلی حکومت نے 81 نئے آیوشمان آروگیہ مندروں کا افتتاح کیا۔ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے مغربی دہلی کے ننگل رایا میں نئے آیوشمان آروگیہ مندروں کا افتتاح کیا۔ اس دوران دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 11 سال سے اقتدار میں رہنے والی اپوزیشن اب 10-11 ماہ کی حکومت سے سوال کرتی ہے کہ اس نے دہلی میں کیا کیا ہے۔ جواب یہ ہے کہ 319 آیوشمان آروگیہ مندر کھولے گئے اور مزید کھولے جائیں گے۔سی ایم ریکھا نے کہا کہ پچھلی حکومت نے نالوں کے کنارے پورٹا کیبن بنائے اور محلہ کلینک کھولے۔ انہوں نے انہیں اپنے ہیلتھ ماڈل کے طور پر استعمال کیا، جبکہ وہ دراصل “ہلہ کلینکس” تھے۔ ان کے شروع کردہ ہسپتالوں کی تعمیراتی لاگت من مانی طور پر دگنی کر دی گئی، اور اب سی بی آئی کی تحقیقات جاری ہے۔
آروگیہ مندر کے افتتاح کے بعدخطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے کہا کہ ہمارا ہدف آج 100 آروگیہ مندر کھولنے کا تھا۔ تاہم، کچھ اب بھی کمی ہے. اس لیے، ہم نے 81 کا افتتاح کیا۔ پہلے 238 تھے، جو اب بڑھ کر 319 ہو گئے ہیں۔ یہ آروگیہ مندر چھوٹے اسپتالوں کی طرح ہیں، جہاں 80 ٹیسٹ مفت کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ ماؤں اور بچوں کو بھی تمام ضروری سہولیات میسر ہوں گی۔ اس اسمبلی حلقہ میں پہلے 5 تھے، اور آج دو مزید کھل گئے ہیں، اس طرح یہ تعداد بڑھ کر 7 ہو گئی ہے۔ ہمارا منصوبہ ہر اسمبلی حلقہ میں 10-12 آروگیہ مندر کھولنے کا ہے، تاکہ لوگ قریب ہی علاج کروا سکیں اور انہیں دور کا سفر نہ کرنا پڑے۔
اپوزیشن پر حملہ کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے کہا کہ پچھلی حکومت نے محلہ کلینک کھولنے کا مشورہ دیا تھا، انہیں اپنا ہیلتھ ماڈل قرار دیا تھا، لیکن وہ محض شور کلینک تھے۔ پورٹا کیبن کہیں نالیوں پر، کہیں کونوں پر رکھے گئے تھے۔ دہلی کی آبادی 3.5 کروڑ ہے۔ یہاں تک کہ ایمس میں بھی تقریباً 53-55 لاکھ کی او پی ڈی ہے، اس لیے صحت کی دیکھ بھال پر دباؤ کا تصور کریں۔ پچھلی حکومت نے اس کو ٹھیک سے نہیں سوچا۔ جب کووڈ آیا، تو ICU ہسپتالوں کی آڑ میں پورٹا کیبن کو سات مقامات پر عجلت میں کھڑا کر دیا گیا۔ آج ان کے خلاف سی بی آئی تحقیقات جاری ہے۔ 200 کروڑ روپے کا بجٹ بڑھا کر 400 کروڑ روپے کر دیا گیا۔ وزیر صحت آکر کہتے کہ دو منزلیں اور ڈالو ایسا نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ تمام منصوبے تعطل کا شکار ہیں۔ انہوں نے 20 ہسپتال بنانے کی بات کی۔ کوئی بھی مکمل نہیں ہوا۔ پیسہ ضائع ہوا۔وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے مزید کہا کہ وزیر اعظم مودی نے دہلی کو 1000 کروڑ روپے کی امداد فراہم کی۔ اس کا استعمال دہلی کی صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق، فی 1000 افراد پر دو بستر ہونے چاہئیں، لیکن یہاں تک کہ نجی اسپتالوں کو بھی، سرکاری اسپتالوں کو چھوڑ دیں، پھر بھی اس معیار پر پورا نہیں اترتے۔ دہلی میں 1100 آیوشمان آروگیہ مندر کھولے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ اپوزیشن پوچھتی ہے کہ کچرے کے پہاڑ کیوں نہیں ہٹائے گئے تو میں کہتا ہوں کہ 11 سال کی حکومت 11 ماہ کی حکومت پر سوال اٹھا رہی ہے۔ ہم نے ان 11 مہینوں میں 319 آیوشمان آروگیہ مندر کھولے۔ ہم نے ہسپتالوں کو مربوط کیا اور انہیں ڈیجیٹلائز کیا۔ اگر آپ کسی بھی ہسپتال میں علاج کرواتے ہیں، تو آپ ایک بٹن کو چھونے پر تمام معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ 150 ڈائیلاسز مشینیں لگائی گئیں۔ ایکسرے جیسی چھوٹی مشینیں دستیاب نہیں تھیں۔ ہم پی پی پی کے تحت بھی کام کر رہے ہیں۔ ہم نئی مشینیں بھی خرید رہے ہیں۔ کچرے کے پہاڑ بھی کم کیے جا رہے ہیں۔ آپ کے ایک ووٹ کی طاقت نے دہلی کو اتنا طاقتور کر دیا ہے کہ 20 فروری کو کابینہ کی حلف برداری کے ساتھ ہی ہم نے آیوشمان بھارت اسکیم کو لاگو کیا۔ 10 لاکھ روپے کا مفت علاج کیا گیا۔ حکومت نے 32 کروڑ روپے ادا کئے۔
-
دلی این سی آر12 months agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر12 months agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
دلی این سی آر12 months agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoکجریوال کاپجاری اور گرنتھی سمان اسکیم کا اعلان
-
محاسبہ1 year agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
بہار8 months agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ1 year agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
