دلی این سی آر
جامعہ میں اینٹی مائیکروبائیل ریسسٹینس کے موضوع پر قومی کانفرنس کا انعقاد
(پی این این)
نئی دہلی :سینٹر فار انٹر ڈسپلنری ریسرچ ان بیسک سائنس (سی آئی آر بی ایس سی)فیکلٹی آف لائف سائنس،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ’فرنٹیئرس ان اینٹی مائیکروبائیل ریسسٹینس (اے ایم آر)رسرچ،پالیسی اینڈ پریکٹس‘ کے موضوع پر دوروزہ قومی کانفرنس منعقد کیا۔ اس پروگرام کا انعقاد جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ایک سو پانچویں یوم تاسیس تقریبات کے حصے کے طورپر ہوا تھا۔
اینٹی مائیکروبائیل ریسسٹینس یا اے ایم آر اکیسویں صدی کے سب سے خطرناک عالمی صحت چیلنجز میں سے ایک ہے۔مزاحم روگ دائی میں خطرناک حد تک اضافے نے دہائیوں کی طبی پیش رفت کو ناکافی بتانے کا اشارہ ہے اور عوامی صحت،زراعت اور ماحولیایت کے لیے یکساں طورپر بڑا خطرہ ہے۔یہ کانفرنس دانشورانہ مذاکرات اور اشتراکی لین دین کے لیے ایک پلیٹ فارم کا م کررہی ہے جس میں محققین، معالجین،سائنس داں، علمی ہستیاں،پالیسی ساز اور متعلقین ایک ساتھ اے ایم آر رسرچ، معائنہ،عمل اور اہم پالیسی تیاری کے لیے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہورہے ہیں۔کانفرنس کا افتتاحی پروگرام چھ نومبر دوہزار پچیس کو منعقد ہوا۔کانفرنس کا آغاز قرآن پاک کی تلاوت سے ہوا جس کے بعد جامعہ کا ترانہ پیش کیا گیا۔بعد ازاں معزز اور باوقار مہمانان کی خدمت میں بطور تہنیت مومینٹو اور شال پیش کی گئی۔پروفیسر مظہر آصف (شیخ الجامعہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ) اور پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی،(مسجل،جامعہ ملیہ اسلامیہ) پروگرام میں شریک ہوئے، مہمان خصوصی(پروفیسر آر۔سی کوہاد،وائس چانسلر،سوامی وویکانند یونیورسٹی، ککراجھار، آسام) مہمان اعزازی (پروفیسر ایس۔کے سریواستو،وائس چانسلر،بابو بنارسی داس یونیورسٹی، لکھنؤ، اتر پردیش) اور کلیدی خطبہ کے مقرر (پروفیسر راجیو سود،وائس چانسلر بابا فرید یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسس،فرید کوٹ، پنجاب) شریک ہوئے۔پروفیسر زاہد اشرف (ڈین،فیکلٹی آف لائف سائنسس) پروفیسر رنجن پٹیل،(چیئر مین و ڈائریکٹر سی آئی آر بی ایس سی) پروفیسر تنوجا (ڈین،اکیڈمک افیئرز،جامعہ ملیہ اسلامیہ و کانفرنس کنوینر)پروفیسر شمع پروین (منتظم سیکریٹری)فیکلٹی اراکین اوررسرچ اسکالروں اور شرکا افتتاحی اجلاس میں موجود تھے۔ ایسے اہم پروگرام کے انعقاد کے لیے مندوبین نے منتظمہ کمیٹی کی تعریف کی۔
افتتاحی اجلاس میں پروفیسر شمع پروین نے کانفرنس کے اغراض و مقاصد بتائے۔پروفیسر رنجن پٹیل نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا اور سی آئی آر بی ایس سی میں جاری بین علومی تحقیق کی اہمیت کو اجاگر کیا۔پروفیسر زاہد اشرف نے اے ایم آر اور تحقیق پر مبنی فیکلٹی آف لائف سائنس کی دیگر حصولیابیوں سے سامعین و حاضرین کو آگاہ کرایا۔ پروفیسر تنوجا نے تعلیمی افضلیت اور برادری پر مبنی تعلیم کے فروغ میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے کردار پر زور دیا۔پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی نے سامعین سے خطاب کیا اور بامعنی تعلیمی پلیٹ فارم تیار کرنے کے لیے منتظمہ کمیٹی کی کوششوں کو سراہا۔نیز انہو ں نے اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ کانفرنس سے در آمد اہم باتیں اور تحقیقی ماحصل عوامی بیداری اور تعلیمی حصولیابی میں معاون و مددگار ثابت ہوں کانفرنس کے دوران زیر بحث آئی بصیر ت افروز باتوں کو زیادہ لوگوں تک پہنچانے اور انہیں عام کرنے کی اہمیت بتائی۔پروفیسر مظہر آصف،شیخ الجامعہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے صدارتی گفتگو کرتے ہوئے اے ایم آر سے نمٹنے کے لیے موثر تحقیق اور اختراعیت کو فروغ دینے کے سلسلے میں تعلیمی اداروں کی اہمیت اجاگر کی۔ انہو ں نے اے ایم آر سے نمٹنے کے لیے کمیونیٹی بیداری اور اشتراکی سائنسی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔نیز انہو ں نے انفیکشن کے خطرے کو کم کرنے اور اے ایم آر کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے صحت مند طرز زندگی کے بطور تدارکی تدبیر اختیار کرنے کی بات کہی۔پروفیسر کوہاد نے اشتراکی تحقیق، عوامی بیداری،معقول اینٹی بایوٹک استعمال اور فعال پالیسی میکانزم کے ضرورت و اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے دنیا بھر میں اینٹی مائیکروبائل ریسسٹینس کے بڑھتے خطرے کو اجاگرکیا۔ پورے ملک میں علمی معلومات کی موثر ترویج کے لیے قومی تعلیمی پالیسی دوہزار بیس کے نفاذ پر توجہ مرکوز رکھی۔
پروگرام میں پروفیسر ایس۔کے۔سریواستو کا بھی استقبال کیا گیا جنہوں نے اے ایم آر کو پھیلنے سے روکنے کے لیے تدارکی تدابیر اور بین ادارہ جاتی تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیا۔پروفیسر راجیو سود نے اے ایم آر کے طبی مضمرات، مریضوں کی نگہ داشت کے چیلنجز اور قومی و ادارہ جاتی سطحوں پر اینٹی مائیکروبائل ایسٹورڈشپ پروگرام کو مضبو ط کرنے سے متعلق کلیدی خطبہ دیا۔ اس موقع پر پروفیسر مظہر آصف نے آئی آئی ٹی روپرکے ممتاز سائنس داں اور مشہور ماہر مامونیات پروفیسر جاوید اگریوالا کاشال پوشی کرکے ان کا خیر مقدم اور استقبال کیا۔
دلی این سی آر
امن کے بغیر ہمیں تحفظ فراہم نہیں ہوسکتا،ایچ ایم میگوئل انجیل اقوام متحدہ کے اعلی نمائندےکا جامعہ ملیہ اسلامیہ میں خطاب
(پی این این)
نئی دہلی:جامعہ ملیہ اسلامیہ نے عالی وقارمیگوئیل انجیل موراٹینوس انڈر سیکرٹیری جنرل اقوام متحدہ الائس فار سویلائزیشن (یواین اے او سی)کے اعلی نمائندے اور اسلامو فوبیا سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کے خاص سفیر کی بھارت کے ان کے آفیشیل دورے پر کل میزبانی کی۔ یہ دورہ مختلف تہذیبوں و ثقافتوں اور معاشروں کے درمیان تعاون،باہمی افہام و تفہیم اور مذاکرات کے فروغ کے مقصد سے اہمیت رکھتا ہے۔
دورے پر آئے وفد میں ایچ ایم میگوئل انجیل،نہال سعد، ڈائریکٹر یو این اے او سی، انا پولی اوچنکو، پروگرام آفیسر،انسٹی ٹیوشن اور ممبر اسٹیٹ ریلیشن ایڈوازئر،محمد شبیر کے، انڈر سیکریٹری، (یو این ای ایس) وزارت برائے امور خارجہ،سریش چنرابھٹ،جوائنٹ سیکریٹری(یو این ایس ایس۔ دو) کے پی اے،اور دیوانشی سکسینہ،ٓفیسر ٹرینی،وزارت امور خارجہ حکومت ہند شامل ہیں۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کی جانب سے شیخ الجامعہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ، مسجل،جامعہ ملیہ اسلامیہ، ڈین (اکیڈمک افیئرز) ڈین (انٹر نیشنل ریلیشنز) ڈین (رسرچ اینڈ انوویشن)،کنٹرولر امتحانات، چیف پراکٹر، یونیورسٹی لائبریرین، افسر اعلی تعلقات عامہ(سی پی آر او) جامعہ کی تمام فیکلٹیز کے ڈینز اور یونیورسٹی کے اعلی عہدیداران نے میٹنگ میں شرکت کی۔
پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی،مسجل جامعہ ملیہ اسلامیہ کے خیر مقدمی تقریر سے پروگرام کا آغاز ہوا۔انہوں نے معزز مہمانان اور مندوبین کا والہانہ استقبال کیا اور شمولیتی تعلیم، تہذیبی تنوع اور تعلیمی افضلیت کے تئیں پابند عہد سرکردہ ادارے کے طورپر جامعہ کی وراثت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اپنی گفتگو میں یونائیڈنیشن الائنس فار سویلائزیشن کے زیر اہتمام فروغ پانے والی قدروں بین الاقوامی اشتراکات اور بین تہذیبی مذاکرات کے فروغ میں یونیورسٹی کی متواتر دلچسپی پر زوردیا۔
پروفیسر رضوی نے مغربی ایشیا میں موجودہ تنازعات اور عرب اسرائیل تنازعہ کی ابتدا اور خطے کی پیچیدہ تاریخ کے معاہدوں اور بڑھتے ہوئے تنازعہ میں بڑی طاقتوں کے مضمرات پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے امن کی تعمیر اور تنازعات کے حل کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے نیلسن منڈیلا سینٹر فار پیس اینڈ کنفلیکٹ ریزولوشن جہاں وہ پروفیسر بھی ہیں، گزشتہ دو دہائیوں سے تعلیم اور تحقیق کے لیے پوری طرح پرعزم ہے جس کا مقصد قیام امن ہے۔
ایچ ای اقوام متحدہ کے انڈر سکریٹری جنرل اور یونائٹیڈ نیشن الائنس فار سویلائزیشن (UNAOC) کے اعلی نمائندے مسٹر میگوئل اینجل مورٹینوس نے اپنے خطاب میں بین ثقافتی مکالمے، جامع معاشروں، اور علمی اداروں اور باہمی امن کو فروغ دینے میں شراکت داری کی اہمیت پر زور دیا۔ ذمہ دار عالمی شہریوں کی تشکیل میں یونیورسٹیوں کے کردار پر زور دیتے ہوئے، انہوں نے ثقافتوں کے درمیان پل بنانے میں نوجوانوں کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کی حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے تین اہم عالمی خدشات کو اجاگر کیا جن کے لیے اجتماعی کاروائی کی ضرورت ہے، یعنی امن، پائے دار ترقی کے اہداف (SDGs)، خاص طور پر موسمیاتی تبدیلی اور کرہ ارض کی حفاظت کی ضرورت؛ اور مصنوعی ذہانت کے پیدا کردہ چیلینجز اس کے علاوہ انہوں نے اخلاقی فریم ورک، کثیر جہتی تعاون، اور ذمہ دار تکنیکی ترقی کی اہمیت پربھی زور دیا۔
. مغربی ایشیا میں موجودہ جنگ اور جب بھی تنازعات اور جنگ ہوتی ہے اس سلسلے میں انسانیت کی حالت زار کا ذکر کرتے ہوئے، ایچ۔ایم مسٹر میگوئل اینجل موراٹینوس نے زور دے کر کہا کہ ’امن کو ترجیح دینی چاہیے، ہمیں امن کے بغیر کبھی بھی سیکیورٹی نہیں ملے گی۔ گزشتہ چار دہائیوں میں حکومتوں اور ریاستی عناصر نے سیکیورٹی کو اولین ترجیح دی ہے اور ناکام رہے ہیں۔ جب بھی ہم سیکیورٹی خطرے میں ڈالتے ہیں تو ہم ناکام رہتے ہیں۔ زیادہ سیکیورٹی زیادہ عدم تحفظ فراہم کرے گی۔ ہم امن کے ذریعے ہی سیکیورٹی حاصل کریں گے۔”جنگوں کی مذمت، جو انسانیت کو نہیں بچا سکتی ایچ۔ایم مسٹر مورنٹیوس نے متنبہ کیا کہ بدقسمتی سے ہم انسانیت کو درپیش اہم مسائل، غربت، بھوک، تعلیم اور پائیدار صحت کے حل پر توجہ دینے کے بجائے جنگوں پر کھربوں روپے خرچ کرتے ہیں۔ مسٹر موراتینوس نے دنیا کو امن کا ایک مضبوط پیغام دیتے ہوئے کہا، ”بہت سی ثقافتیں، کئی ممالک اور تہذیبیں ہو سکتی ہیں، لیکن ہم سب ایک انسانیت بنتے ہیں“۔
دلی این سی آر
دہلی میں غیر مجاز کالونیوں کو ’جیسا ہے جہاں ہے‘ کی بنیاد پر کیا جائے گاریگولر : کھٹر
(پی این این)
نئی دہلی: ہاؤسنگ اور شہری امور کے مرکزی وزیر منوہر لال نے نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ آج کا دن دہلی کے باشندوں کی زندگی میں ایک تاریخی لمحہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہند نے 2019 میں PM-UDAY اسکیم کو دہلی کے رہائشیوں کو ملکیت کے حقوق دینے کے لیے نافذ کیا تھا اور کہا تھا کہ کالونیوں کو “جیسے ہے جہاں ہے” کی بنیاد پر ریگولرائز کرنے کے موجودہ فیصلے کے ساتھ، رہائشیوں کو اپنی جائیدادوں کے رجسٹریشن کے لیے آگے آنے کی ترغیب دی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ نہ صرف قانونی ملکیت فراہم کرے گا بلکہ شہریوں کو ایم سی ڈی کے اصولوں کے مطابق اپنے گھروں کی تعمیر یا بحالی کا کام کرنے کے قابل بنائے گا۔مرکزی وزیر منوہر لال نے یہ بھی کہا کہ یہ تبدیلی کے اقدامات وزیر اعظم نریندر مودی کی رہنمائی اور تحریک کے تحت اٹھائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی قیادت میں دہلی منصوبہ بند اور جامع شہری ترقی کے ایک نئے دور کا مشاہدہ کر رہا ہے، جس کا مقصد مستقبل کے لیے تیار شہر کی تعمیر کے دوران وراثتی مسائل کو حل کرنا ہے۔
دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے اپنے خطاب میں کہا کہ وزیر اعظم ان خاندانوں کی دیرینہ تشویش کو سمجھتے ہیں جو اپنے گھروں میں رہنے کے باوجود قانونی حقوق سے محروم ہیں۔ یہی حساس اور بصیرت والا نقطہ نظر تھا جس نے PM-UDAY اسکیم کی راہ ہموار کی اور آج 1731 غیر مجاز کالونیوں میں سے 1511 کو ریگولرائز کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہلی میں غیر مجاز کالونیوں کو باقاعدہ بنانا آج دہلی کے 45 لاکھ لوگوں کی زندگیوں میں راحت، وقار اور حقوق کا ایک نیا باب ہے۔
دلی این سی آر
صفائی کارکنوں کے مسائل حل کرنےکیلئےسرکارپرعزم: ریکھا گپتا
(پی این این)
نئی دہلی : دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے کہا کہ دہلی حکومت صفائی کارکنوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ٹھوس اور عملی اقدامات کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ایک سرکاری بیان کے مطابق، وزیر اعلیٰ نے صفائی کارکنوں کے نمائندوں سے ملاقات کی اور متعلقہ محکمے کو ہدایت کی کہ وہ نمائندوں کی طرف سے اٹھائے گئے تمام مسائل کا جائزہ لیں اور فوری کارروائی کو یقینی بنائیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کمیونٹی کو زمینی سطح پر درپیش چیلنجوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، نمائندوں نے صفائی کے کارکنوں کی بھرتی اور ریگولرائزیشن کے ساتھ ساتھ کام کی جگہ کی حفاظت، تنخواہ سے متعلق مسائل، اور سروس کی دیگر شرائط کا مطالبہ کیا۔
اسی مناسبت سے، انہوں نے وزیر اعلیٰ کو صحت کی بہتر سہولیات، مستقل ملازمت اور اپنے کام کی نوعیت کے مطابق کام کرنے کے زیادہ باعزت ماحول کا مطالبہ کرتے ہوئے تجاویز بھی دیں۔ دریں اثنا، وزیر اعلیٰ نے X پر کہا، “دہلی کو صاف، صحت مند، اور منظم رکھنے میں ہمارے صفائی کے کارکنوں کا بے لوث تعاون انتہائی قابل ستائش ہے۔ یہ خدمت کے لیے ایک مسلسل وابستگی ہے جو دہلی والوں کی زندگی کو ہر روز آسان بناتی ہے۔”گپتا نے کہا کہ ان کے خدشات کو سنجیدگی سے لیا گیا اور انہیں یقین دلایا گیا کہ حکومت ان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے اور تمام مسائل کو حل کرنے کے لیے انتھک محنت کر رہی ہے۔
انہو ں نے مزید کہا، “ہماری کوشش اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ صفائی ستھرائی کے ہر کارکن کو عزت، تحفظ اور کام کے بہتر حالات ملیں، کیونکہ یہ ان کی محنت اور لگن ہی ہے جو دہلی کو آگے بڑھاتی ہے۔ایک سرکاری بیان کے مطابق، وزیر اعلیٰ نے صفائی کارکنوں کے نمائندوں سے ملاقات کی اور متعلقہ محکمے کو ہدایت کی کہ وہ نمائندوں کی طرف سے اٹھائے گئے تمام مسائل کا جائزہ لیں اور فوری کارروائی کو یقینی بنائیں۔کمیونٹی کو درپیش زمینی سطح کے چیلنجوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، نمائندوں نے صفائی کے کارکنوں کی بھرتی اور ریگولرائزیشن کے ساتھ ساتھ کام کی جگہ کی حفاظت، اجرت سے متعلق مسائل، اور سروس کی دیگر شرائط کا مطالبہ کیا۔
بیان کے مطابق، انہوں نے وزیر اعلیٰ کو صحت کی بہتر سہولیات، مستقل ملازمت اور ان کے کام کی نوعیت کے مطابق کام کرنے کا زیادہ باعزت ماحول کی تجاویز بھی دیں۔گپتا نے کہا کہ ان کے خدشات کو سنجیدگی سے لیا گیا ہے اور انہیں یقین دلایا گیا ہے کہ حکومت ان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے اور تمام مسائل کو حل کرنے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔انہوں نے کہا، “ہماری کوشش یہ ہے کہ صفائی ستھرائی کے ہر کارکن کو عزت، تحفظ اور کام کے بہتر حالات ملیں، کیونکہ یہ ان کی محنت اور لگن سے دہلی کی ترقی ہوتی ہے۔”
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار4 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
بہار10 months agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ1 year agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ1 year agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
