Connect with us

دیش

ہندوستان نے افغانستان کیلئےبھیجی16 ٹن سے زائد ادویات کی کھیپ

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی :ہندوستان نے ملیریا، ڈینگی اور لشمانیا جیسے ویکٹر سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے نمٹنے میں مدد کے لیے افغانستان کو 16 ٹن سے زیادہ ادویات فراہم کی ہیں۔طالبان کے ترجمان شرافت زمان نے کہا کہ ادویات اور تشخیصی کٹس افغانستان کے قومی ملیریا اور دیگر ویکٹر سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے بچاؤ کے پروگرام کو سپورٹ کریں گی۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی طرف سے بھیجی جانے والی سپلائی افغانستان کی ملیریا، ڈینگی اور لشمانیا جیسی بیماریوں سے نمٹنے کی صلاحیت کو بڑھانے میں مدد کرے گی ۔ادویات اور تشخیصی کٹس افغانستان کے قومی ملیریا اور دیگر ویکٹر سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے بچاؤ کے پروگرام کی براہ راست مدد کریں گی۔ سپلائی کا مقصد ملیریا، ڈینگی اور لشمانیاس جیسی بیماریوں سے نمٹنے کے لیے ملک کی صلاحیت کو بڑھانا ہے، جو کہ افغانستان کے کئی خطوں میں صحت عامہ کے سنگین چیلنجز کو لاحق ہیں۔زمان نے کہا کہ افغانستان کی وزارت صحت عامہ نے ہندوستانی حکومت کی بروقت اور قابل قدر امداد کے لیے تعریف کی۔
وزارت نے نوٹ کیا کہ یہ دوائیں اور تشخیصی کٹس صحت عامہ کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور بیماریوں کے مؤثر کنٹرول کو یقینی بنانے کی جانب ایک اہم قدم کی نمائندگی کرتی ہیں، خاص طور پر کمزور اور زیادہ خطرے والی کمیونٹیز میں۔ یہ تازہ ترین عطیہ افغانستان کے لیے ہندوستان کی دیرینہ شراکت داری اور ترقیاتی تعاون کی نشاندہی کرتا ہے۔ ضروری طبی سامان میں حصہ ڈال کر، ہندوستان، صحت اور صحت کے فروغ میں ایک مضبوط شراکت دار کے طور پر اپنے کردار کی توثیق کرتا ہے۔
کابل کو ہندوستان کی طبی امداد اکتوبر میں افغانستان کے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی کے نئی دہلی کے حالیہ دورے کے بعد آئی ہے۔ 10 اکتوبر کو، انہوں نے وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے ملاقات کی کیونکہ دونوں نے افغانستان کی ترقی، دو طرفہ تجارت، علاقائی سالمیت اور آزادی، عوام سے عوام کے تعلقات اور صلاحیت سازی کے علاوہ کئی دیگر امور پر ہندوستان کی حمایت پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیر خارجہ جے شنکر نے نوٹ کیا کہ متقی کا دورہ ہندوستان دو طرفہ تعلقات کو آگے بڑھانے میں ایک “اہم قدم” کی نشاندہی کرتا ہے۔ انہوں نے پانچ ایمبولینسیں افغانستان کے حوالے کرنے کا بھی اعلان کیا۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

دیش

کاکروچ جنتا پارٹی نے بی جے پی کو پچھاڑا،5 دنوں میں ڈیڑھ کروڑ سے زائد فالوورس

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی۔’کاکروچ جنتا پارٹی‘نام کا ایک انسٹا گرام کا اکائونٹ جو 16 مئی سے وائرل ہے۔ اس کے محض 5 دنوں میں ڈیڑھ کروڑ سے زائد فالوورس ہوگئے ہیں۔ اس معاملے میں وہ بی جے پی سے بھی آگے ہوگیا ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی کو لیکر نوجوانوں میں ایک جوش ہے۔ اور غم وغصہ بھی ہے۔ غورطلب ہے کہ پچھلے دنوں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ سے تعبیر کیا تھا۔ جس کا ملک پر بہت گہرا اثرا ہوا۔
اسی دوران اب یہ ٹرینڈ بن گیا ہے۔ کہ محض پانچ دنوں میں ڈیڑھ کروڑ سے زائد فالوورس ہوگئے ہیں اور یہ تعداد بڑھتی ہی جارہی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ ہندوستان کے زین جی طبقے کے ری ایکشن کا نتیجہ ہے۔ جو ایک دن انقلاب کا باعث بن سکتا ہے۔

Continue Reading

دیش

ایبولا کا خطرہ،ہند۔افریقہ فورم کا اعلیٰ سطحی اجلاس منسوخ

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی۔افریقہ میں ایبولا کے خطرے کو دیکھتے ہوئے آج وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ حالات پر غورکرنے کے بعد یہ طے کیا گیا ہے۔ کہ ہند۔افریقہ فورم اعلیٰ سطحی اجلاس فی الحال ملتوی کردیا جائے۔ اس اجلاس کو بعد میں منعقد کیا جائے گا۔ وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں ایک میٹنگ کے بعد نئی تاریخ طے کی جائے گی۔
غورطلب ہے کہ ہندافریقہ یونین کمیشن کے تعاون سے 28-31 مئی 2026 کو نئی دہلی میں چوتھے افریقہ فورم اعلیٰ سطحی اجلاس(آئی اے ایف ایس-4 ) کی میزبانی کرنی تھی جس میں افریقہ کے کئی لیڈرآنے والے تھے۔ اس اجلاس کا مقصد ہند افریقہ ساجھیداری کو مضبوط کرنا اور مختلف سیکٹر میں آپسی تعاون کو بڑھانے کے لئے ایک روڈ میپ تیار کرنا ہے۔ یہ اجلاس دس سال کے بعد منعقد ہونے والا تھا۔

Continue Reading

دیش

بنگال کے تمام مدارس میں وندے ماترم گانا لازمی،سی اے اے بھی ہوگا نافذ العمل،سوبھیندو سرکار کا بھگوا فرمان جاری

Published

on

(پی این این)
کولکاتہ۔ٹی ایم سی کے زوال کے بعد بنگال میں بھگوا سیاست کا بول بالا ہے۔ سوبھیندو سرکار نے محض 24 گھنٹے کے اندر کئی بڑے فیصلے کئے ہیں۔ اب بنگال کے تمام مدرسوں میں وندے ماترم گانا لازمی قرار دیا گیا ہے تو سی اے اے کے بھی نافذ کئے جانے کی باتیں کی جارہی ہیں۔
غورطلب ہے کہ مغربی بنگال کی سویندو حکومت نے ذمہ داری سنبھالتے ہی بڑے اعلانات کے ساتھ متنازع فیصلے بھی جاری کرنے شروع کر دیے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں ریاست کی بی جے پی حکومت نے 2 انتہائی متنازع فیصلے لیے ہیں، جس پر آنے والے دنوں میں ہنگامہ کے قوی امکانات ہیں۔ پہلا فیصلہ تو یہ ہے کہ اسکولوں کے بعد اب ریاست کے سبھی مدارس میں میں بھی دعائیہ جلسہ کے وقت ’وندے ماترم‘ لازم قرار دیا گیا ہے۔ حکومت کے ذریعہ جاری نوٹیفکیشن کے مطابق حکومت سے امداد حاصل کرنے والے سرکاری و غیر سرکاری سبھی مدارس میں اب ’وندے ماترم‘ لازمی طور پر پڑھنا ہوگا۔دوسرا متنازع فیصلہ سرکاری ملازمین سے جڑا ہوا ہے، جس پر ہنگامہ ہونا یقینی ہے۔
دراصل حکومت نے حکم جاری کیا ہے کہ سرکاری ملازمین بغیر اجازت میڈیا میں بول نہیں سکتے۔ سرکاری ملازمین اخبارات یا ٹی وی چینلوں کو انٹرویو بھی نہیں دے سکتے، حتیٰ کہ بغیر اجازت لکھنے پر بھی روک لگا دی گئی ہے۔
یہ حکم براہ راست سرکاری ملازمین کے بولنے اور لکھنے کی آزادی کو محدود کرتا ہے۔جاری حکم کے مطابق ملازمین مرکزی یا ریاستی حکومت کی پالیسیوں کی مذمت نہیں کر سکتے۔ ان ملازمین میں سرکاری اسکولوں و کالجوں کے اساتذہ اور دیگر ملازمین بھی شامل ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت کا یہ حکم ملازمین کے لیے آواز دبانے والے قانون جیسا ہے۔ اس فیصلہ سے سنسرشپ بڑھنے کا خوف ہے اور یہ احتجاج کی آواز دبانے کی کوشش بھی ہے۔قابل ذکر ہے کہ مغربی بنگال میں پہلی بار بی جے پی کی حکومت بنی ہے۔ وزیر اعلیٰ عہدہ کا حلف لینے کے بعد سے ہی سویندو ادھیکاری ایکشن میں دکھائی دے رہے ہیں۔ گزشتہ کچھ دنوں میں انھوں نے کئی بڑے اور سخت فیصلے لیے ہیں۔ ان فیصلوں میں افسران کا تبادلہ، نظامِ قانون سے متعلق اہم اقدام، ٹی ایم سی لیڈران پر لگی مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات کی جانچ، انّاپورنا یوجنا کو منظوری وغیرہ شامل ہیں۔
سویندو حکومت نے او بی سی ریزرویشن کو بھی 17 فیصد سے گھٹا کر 7 فیصد کر دیا ہے۔ اب ریاست میں صرف 66 ذاتیں اور طبقات ہی او بی سی ریزرویشن کے دائرے میں رہیں گے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network