اتر پردیش

اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی درجہ بندی میں اے ایم یو کے محققین دنیا کے سرفہرست 2 فیصد سائنس دانوں میں شامل

Published

on

(پی این این)
علی گڑھ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) نے ایک بار پھر علمی و تحقیقی میدان میں اپنی برتری کو ثابت کرتے ہوئے عالمی سطح پر ایک اور سنگِ میل عبور کیا ہے۔ اسٹینفورڈ یونیورسٹی، ایلزیویئر اور اسکوپس کے اشتراک سے جاری دنیا کے سرفہرست 2 فیصد سائنس دانوں کی سالانہ فہرست میں اے ایم یو کے 46 محققین کو شامل کیا گیا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یہ درجہ بندی 22 سائنسی شعبہ جات اور 174 ذیلی شعبوں میں تحقیق کے معیار اور اثرات کا تجزیہ کرتی ہے۔یہ درجہ بندی تحقیقی مقالوں کی تعداد نہیں بلکہ ان کے علمی اثر، معیار اور سماجی افادیت پر زور دیتی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ امپیکٹ کیٹیگری میں اے ایم یو کے 46 محققین کو اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے، جو ادارے میں تحقیق و اختراع کے مسلسل فروغ کی عکاسی کرتا ہے۔
اس فہرست میں شعبہ مائیکرو بایولوجی، نباتیات اور کیمسٹری کے اساتذہ پیش پیش ہیں، جبکہ دیگر نمایاں شعبہ جات میں اپلائیڈ کیمسٹری، بایوٹکنالوجی، فزکس، زولوجی، انڈسٹریل کیمسٹری، بایوکیمسٹری، ریاضی، نینو ٹکنالوجی، پلانٹ پروٹیکشن اور پوسٹ ہارویسٹ انجینئرنگ و ٹکنالوجی شامل ہیں۔
اس دستیابی پر وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے محققین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ”عالمی سطح پر یہ اعتراف ہمارے اساتذہ کی علمی صلاحیت، تحقیقی دیانتداری، اور مسلسل محنت کا مظہر ہے۔ اے ایم یو کے اسکالرز سر سید احمد خاں کے اُس وژن کو عملی جامہ پہنا رہے ہیں، جو ایمان اور جدید سائنسی تحقیق کے امتزاج پر مبنی ہے۔ ان کی کامیابیاں یونیورسٹی کے لیے بین الاقوامی سطح پر فخر کا باعث ہیں اور علم کو انسانیت کی بھلائی کے لیے استعمال کرنے کے ہمارے عزم کی توثیق کرتی ہیں“۔ یہ امتیاز تحقیقی دنیا میں اے ایم یو کی بڑھتی ہوئی عالمی شناخت کو مزید مضبوط کرتا ہے، اور اسے ایک اعلیٰ تعلیمی و تحقیقی ادارے کے طور پر ممتاز مقام عطا کرتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network