Connect with us

دیش

مولانا توقیر رضا خان و دیگر تمام گرفتار شد گان کو کیاجائےرہا: مسلم پرسنل لا بورڈ

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ مولانا توقیر رضا خان کے ساتھ متعدد دیگر افراد کی گرفتاری، وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے دھمکی آمیز بیانات اور پولس کے انتقامی رویہ کی پر زور مذمت کر تا ہے اور مطالبہ کر تا ہے کہ وہ مولانا اور دیگر گرفتارشدگان کو فی الفور اور بنا کسی شرط کے رہا کرے۔ اسی طرح کانپور کے واقعہ کی بنیاد پر ریاست میں جہاں جہاں بھی مظاہرے ہو رہے ہیں ان پر پولس کی ظالمانہ کاروائی کو بھی بورڈ تشویش کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے ایک پریس بیان میں مولانا توقیر رضا خان اور دیگر پرامن مظاہرین کی گرفتاری پر شدید تشویش کا اظہار کر تے ہوئے کہا کہ کانپور کے واقعہ پر مسلمان کا مظاہرہ کر نا کوئی جرم نہیں تھا اور پولس کا اس پر غیر ذمہ دارانہ اور جارحانہ ردعمل انتہاء درجہ کی زیادتی اور طاقت کا بے جا استعمال ہے۔ آئی لو محمدؐ نعرہ کا استعمال یا بینر پر لکھ کر لگایا جانا کسی بھی صورت میں کو ئی غیر قانونی اور غیر دستوری عمل نہیں ہے۔ ہندوستان میں دیگر مذاہب کے لوگ بھی اپنی مذہبی شخصیات کے ساتھ اسی قسم کی عقیدت کا اظہار کر تے ہیں اور اس پر کبھی بھی کو ئی کاروائی پولس اور انتظامیہ کی طرف سے نہیں کی جاتی۔ تاہم کانپور میں اس بینر کو لگانے پر ایف آئی آر کیا جانا انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور متعصبانہ طرز عمل تھا۔
بورڈ کے ترجمان نے آگے کہا کہ مولانا توقیر رضاخان اور بریلی کے پر امن مظاہرین کے خلاف وزیر اعلیٰ اترپردیش کا تحکمانہ اورمتکبرانہ بیان کسی بھی ریاست کے وزیراعلیٰ کے منصب اور مقام کے منافی ہے۔ انہیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وہ دستور ہند کے تحت منتخب وزیراعلیٰ ہیں۔ وہ کسی خاص کمیونٹی نہیں بلکہ وہ ریاست کے تمام شہریوں کے وزیراعلیٰ ہیں۔ لہذا انہیں ایسی فرقہ وارانہ اور متعصبانہ زبان سے پرہیز کر نا چاہیے۔
ڈاکٹر الیاس نے آگے کہا کہ مولانا توقیر رضا خان ملت کے ایک معتبررہنما اور ذمہ دار شخص ہیں، انہوں نے پر امن احتجاج کی کال دی تھی ان کا ایسا کر نا دستور ہند اور جمہوری حقوق کے مطابق تھا۔ حکومت کے کسی اقدام پر احتجاج کر نا ہر شہری کا ایک بنیادی اور دستوری حق ہے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ مطالبہ کر تا ہے کہ مولانا توقیر رضاخان اور ریاست میں جتنے لوگ بھی اسی نوعیت کے احتجاج میں گرفتار کئے گئے ہیں انہیں فی الفور رہا کیا جائے اور ان پر عائد تمام مقدمات واپس لئے جائیں۔

دیش

کمال مولیٰ مسجد میں 700سال کے درمیان پہلی بار نہیں ہوئی نماز جمعہ کی ادائیگی،مسلمانوں میں غم کا ماحول

Published

on

(پی این این)
دھار۔ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد معروف تاریخی مسجد مولا کمال عرف بھوج شالہ میں 700 سال کے بعد پہلا جمعہ ہے جس کی ادائیگی نہیں ہوسکی۔ مسلمانوں کو انتہائی غم کا سامنا ہے۔ انھوں نے آج بازوئوں پر کالی پٹی باندھی اور دکان بند رکھی۔ جبکہ پوجا کرنے والوں نے جشن منایا۔ ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد پہلے جمعہ پر دھار میں سخت سیکورٹی نافذ کی گئی ہے۔ اور پورے شہر میں ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ مولا کمال مسجد کے اطراف کو پولیس چھائونی میں بدل دیا گیا ہے۔

Continue Reading

دیش

بنگلہ دیشی دراندازسیدھا ہوں گے بی ایف ایف کےحوالے۔سوبھیندو ادھیکاری

Published

on

(پی این این)
کولکاتہ۔مغربی بنگال سرکار غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کو کورٹ کے بجائے سیدھا بی ایس ایف کو سونپے گی۔ یہ اعلان مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ سوبھیندو ادھیکاری کیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ نیا ضابطہ 20 مئی سے نافذ ہوگیا ہے ، اس سلسلے میں بنگال کے وزیر اعلیٰ نے مزید کہا ہے کہ غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے بارے میں پولیس کمشنر اور ریلوے پروٹیکشن فورس (آرپی ایف) کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔
نئے ضابطے کے مطابق جو لوگ غیر قانونی شہری پائے جائیں گے اور شہری ترمیمی قانون (سی اے اے) کے تحت وہ شہریت پانے کے حقدار نہیں ہوں گے۔ واضح ہو کہ سی اے اے میں پاکستان ، بنگلہ دیش، افغانستان سے آئے غیر مسلم رفیوجیوں کو شہریت ملنے کا اختیار ہے۔ 31 دسمبر 2024 سے قبل پاکستان ، افغانستان اور بنگلہ دیش سے مذہبی بنیاد پر شکار ہونے والے غیر مسلم ہندوستان آئے جن میں ہندو، سکھ ،بودھ ، جین ، پارسی اور عیسائی طبقے کو شہریت دی جائے گی۔
ان تینوںمذکورہ بالا ملکوں کو ہی شہریت ملے گی۔ سی اے اے کا تعلق ہندوستانی شہریوں سے نہیں ہے۔آئین کے تحت ہندوستانیوں کو شہریت کا اختیار ہے۔ سی اے اے کا قانون اسے چھین نہیں سکتا۔ سرکار نے وضاحت کی ہے کہ شہریت کے لئے درخواست آن لائن کرنا ہوگا۔ عرضی دہندہ کو بتانا ہوگا کہ وہ کب ہندوستان آیا۔ عرضی دہندہ پاسپورٹ یا دیگر سفری دستاویز نہ ہونے کے باوجود بھی عرضی ڈال سکے گا۔ اس کے تحت ہندوستان میں اس کے رہنے کی مدت پانچ سال سے زائد رکھی گئی ہے۔
اور جو مسلم گیارہ سال سے ہندوستان میں مقیم ہیں اسے بھی عرضی ڈالنے کی سہولت دی گئی ہے۔ بہرحال سوبھیندو ادھیکاری کے ذریعہ اس اعلان کے بعد سنسنی پھیل گئی ہے۔ سوبھیندو ادھیکاری نے کہا ہے کہ بنگال میں اب قانونی عمل شروع ہوچکا ہے۔ سی اے اے کے تحت آنے والے سات طبقات اور 31 دسمبر 2024 تک ہندوستان آئے لوگوں کو شہریت قانون کا فائدہ ملے گا ، پولیس انھیں حراست میں نہیں لے سکے گی۔ انھوں نے کہا کہ جو لوگ سی اے اے کے دائرے میں نہیں آتے وہ گھس پیٹھیئے ہیں ، ریاستی پولیس انھیں گرفتار کرکے بی ایس ایف کو سونپے گی۔ کولکاتہ میں بی ایس ایف کو زمین دینے کے معاملے میں مٹنگ میں انھوں نے اعلان کیا کہ یہ صرف آغاز ہے۔ زمین کا عمل دو ہفتوں میں پورا ہوجائے گا۔

Continue Reading

دیش

کاکروچ جنتا پارٹی نے بی جے پی کو پچھاڑا،5 دنوں میں ڈیڑھ کروڑ سے زائد فالوورس

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی۔’کاکروچ جنتا پارٹی‘نام کا ایک انسٹا گرام کا اکائونٹ جو 16 مئی سے وائرل ہے۔ اس کے محض 5 دنوں میں ڈیڑھ کروڑ سے زائد فالوورس ہوگئے ہیں۔ اس معاملے میں وہ بی جے پی سے بھی آگے ہوگیا ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی کو لیکر نوجوانوں میں ایک جوش ہے۔ اور غم وغصہ بھی ہے۔ غورطلب ہے کہ پچھلے دنوں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ سے تعبیر کیا تھا۔ جس کا ملک پر بہت گہرا اثرا ہوا۔
اسی دوران اب یہ ٹرینڈ بن گیا ہے۔ کہ محض پانچ دنوں میں ڈیڑھ کروڑ سے زائد فالوورس ہوگئے ہیں اور یہ تعداد بڑھتی ہی جارہی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ ہندوستان کے زین جی طبقے کے ری ایکشن کا نتیجہ ہے۔ جو ایک دن انقلاب کا باعث بن سکتا ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network