بہار
بہار اسمبلی الیکشن 2025: کم ووٹوں سے جیتی گئی3درجن سیٹوں پر ہوں گی سب کی نظریں
ڈاکٹر سید اصدر علی
پٹنہ: 2020 کے بہار اسمبلی انتخابات میں 3 درجن سے زیادہ سیٹیں ایسی تھیں جن پر جیت اور ہار کا فیصلہ بہت کم فرق سے ہوا تھا۔ اس بار بھی ان تمام درجنوں نشستوں پر سخت مقابلے کے ساتھ ساتھ فیصلے میں بڑی تبدیلی کا امکان ہے۔
بہار میں تقریباً 35 سے 37 سیٹیں ہیں، یہ ایسی سیٹیں ہیں، جن پر جیت اور ہار کا فیصلہ تقریباً ڈھائی سے تین ہزار یا اس سے بھی کم ووٹوں کے فرق سے کیا جاتا تھا، جن میں سے 19 سیٹیں این ڈی اے نے جیتی تھیں، جب کہ 17 سیٹوں پر گرینڈ الائنس کامیاب ہوا تھا اور ایک سیٹ پر، آزاد امیدوار سمیت سنگھ چکئی سے کامیاب ہوئے تھے، جو بعد میں جموئی کی سیٹ سے این ڈی اے میں شامل ہوئے ہیں۔ یعنی کم فرق سے جیتی گئی کل 37 سیٹوں میں سے 20 سیٹیں اب این ڈی اے کے پاس ہیں۔
37 سیٹوں پر جیت یا ہار بہت اہم ہے، جو کسی بھی حکومت کی تشکیل میں بہت اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس لیے اس بار تمام سیاسی پارٹیوں کی ان سیٹوں پر خاص نظر رہے گی، کیونکہ بہار میں بننے والی اگلی حکومت کی قسمت بھی ان کے فیصلوں پر منحصر ہو سکتی ہے۔
کم فرق سے جیتی گئی 37 سیٹوں میں سب سے کم ووٹوں کا فرق نوادہ کی ہلسا اسمبلی سیٹ پر رہا، جس میں جے ڈی یو کے کرشنا مراری شرن نے آر جے ڈی کے شکتی سنگھ یادو کو صرف 12 ووٹوں سے شکست دی، جس کے بعد آر جے ڈی نے انتخابی نتائج میں دھاندلی کا الزام لگایا۔
سمری بختیار پور میں وکاسیل انسان پارٹی (وی آئی پی) کے سربراہ مکیش ساہنی کو آر جے ڈی کے یوسف صلاح الدین نے صرف 1759 ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔ اسی طرح سگولی میں آر جے ڈی کے ششی بھوشن سنگھ نے وکاسیل انسان پارٹی کے رام چندر ساہنی کو 3447 ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔ اب مکیش ساہنی کے وی آئی پی عظیم اتحاد کا حصہ ہیں اور این ڈی اے کے خلاف مقابلہ کرنے جا رہے ہیں۔
مہاگٹھ بندھن کی دیگر سیٹیں جو ووٹوں کے کم فرق سے جیتی ہیں وہ یہ ہیں: کشن گنج- اظہار الحق- کانگریس-138، ڈیہری آن سون- فتح بہادر کشواہا- آر جے ڈی-464، بکری- سوریہ کانت پاسوان- سی پی آئی-777، بھاگلپور- اجیت شرما- کانگریس- 1113، منڈی-1113 یادو-1197، راجاپاکر- پرتیما داس- کانگریس 1746، سیوان- اودھ بہاری چودھری- آر جے ڈی-1973، مہاراج گنج- وجے شنکر دوبے- کانگریس-1976، اورنگ آباد- آنند شنکر سنگھ- کانگریس-2243، سکتہ- وریندر پرساد، سی پی آئی 2020 مکیش یادو- آر جے ڈی- 2704، الاؤلی سے آر جے ڈی کے رام ورکش سدا نے 2773 ووٹوں سے کامیابی حاصل کی، کھگڑیا سے کانگریس کے چھترپتی سنگھ یادو نے 3000 ووٹوں سے کامیابی حاصل کی جبکہ دربھنگہ دیہی سے آر جے ڈی کے للت یادو نے 2141 ووٹوں سے کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے اس وقت کے جے ڈی یو امیدوار فراز فاطمی کو 712 ووٹوں سے شکست دی تھی۔ اب فراز فاطمی اور ان کے والد اشرف علی فاطمی دونوں جے ڈی یو چھوڑ کر آر جے ڈی میں شامل ہو گئے ہیں۔ اس لیے اس بار فراز فاطمی کو دربھنگہ کی کسی اور سیٹ سے امیدوار بنایا جا سکتا ہے۔
آر جے ڈی کے سدھاکر سنگھ رام گڑھ اسمبلی سیٹ سے بی ایس پی کی امبیکا سنگھ کو صرف 189 ووٹوں کے فرق سے ہرانے میں کامیاب رہے۔ سدھاکر سنگھ بعد میں بکسر سے لوک سبھا کے لیے منتخب ہوئے اور رام گڑھ سیٹ ضمنی انتخاب میں بی جے پی کے پاس گئی۔ سدھاکر سنگھ آر جے ڈی کے سابق ریاستی صدر جگدانند سنگھ کے بیٹے ہیں۔ رام گڑھ کی طرح کدھنی اسمبلی سیٹ بھی ضمنی انتخاب میں آر جے ڈی کے ہاتھ سے نکل گئی۔ 2020 میں، آر جے ڈی کے انل ساہنی کدھنی سیٹ سے 712 ووٹوں سے کامیاب ہوئے تھے، لیکن قانونی عمل میں ان کی رکنیت ختم کر دی گئی اور یہ سیٹ بھی ضمنی انتخاب میں بی جے پی کے کھاتے میں گئی۔
اب ان سیٹوں پر ایک نظر ڈالتے ہیں جہاں این ڈی اے بہت کم مارجن سے جیتنے میں کامیاب ہوئی تھی۔ 5 اسمبلی سیٹیں ایسی تھیں جہاں این ڈی اے کے امیدوار 1000 سے کم ووٹوں سے جیتنے میں کامیاب رہے۔ ان میں سے، چراغ پاسوان کی ایل جے پی کے راج کمار سنگھ نے بیگوسرائے ضلع کی متھیانی اسمبلی سیٹ سے جے ڈی یو کے نریندر کمار سنگھ کو 333 ووٹوں سے شکست دی۔ بدلی ہوئی سیاسی تصویر میں راج کمار سنگھ اب جے ڈی یو میں ہیں، جب کہ نریندر کمار سنگھ جے ڈی یو چھوڑ کر آر جے ڈی میں شامل ہو گئے ہیں۔ اس کے علاوہ شیخ پورہ ضلع کی باربیگھا سیٹ سے جے ڈی یو کے سدرشن کمار صرف 113 ووٹوں سے کامیاب ہوئے، جب کہ جے ڈی یو کے سنیل کمار گوپال گنج کے بھورے سے 462 ووٹوں سے کامیاب ہوئے اور بچھواڑہ سے سریش مہتا-بی جے پی-484 اور جے ڈی یو کے سنجیو کمار 9 اسمبلی سیٹ پربا سے 5 ووٹوں سے جیتنے میں کامیاب رہے۔
این ڈی اے نے جو اسمبلی سیٹیں 1000 سے 3000 ووٹوں سے جیتی ہیں وہ اس طرح ہیں – بی جے پی کے پرنو کمار داس نے مونگیر سیٹ سے صرف 1244 ووٹوں سے الیکشن جیتا جبکہ بی جے پی کی گایتری دیوی نے سیتامڑھی کی پریہار سیٹ سے 1569 ووٹوں سے کامیابی حاصل کی۔ اسی طرح ساکرا سے اشوک چودھری جے ڈی یو- 1537 اور جھجا سے جے ڈی یو کے دامودر راوت 1679 ووٹوں سے کامیاب ہوئے۔ رانی گنج سے جے ڈی یو کے اچمیت سدا کو 2304 ووٹوں سے، بہادر پور سے جے ڈی یو کے مدن ساہنی کو 2629 ووٹوں سے اور گیا کے ٹکاری سے جیتن رام مانجھی کی پارٹی ایچ اے ایم کے انیل کمار کو 2630 ووٹوں سے کامیابی ملی۔ پرانپور سے بی جے پی کی نشا سنگھ نے 2972 ووٹوں سے، حاجی پور سے بی جے پی کے اودھیش سنگھ نے 2990 ووٹوں سے، بی جے پی کے آرا کے امریندر پرتاپ سنگھ نے 3002 ووٹوں سے اور بی جے پی کے مشری لال یادو نے دربھنگا ضلع کی علی نگر اسمبلی سیٹ سے 3101 ووٹوں سے کامیابی حاصل کی۔
دونوں اتحاد اس اسمبلی الیکشن میں کم مارجن سے جیتی گئی ان تمام سیٹوں پر گہری نظر رکھیں گے۔ این ڈی اے اور مہاگٹھ بندھن دونوں ہی زیادہ سے زیادہ سیٹیں جیتنے کی کوشش کریں گے تاکہ بہار میں اگلی حکومت بنانے کا راستہ آسان ہو۔
بہار
جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر میں عظیم الشان اجلاس ختم بخاری شریف کا انعقاد
(پی این این)
مونگیر :جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر میں ہر سال کی طرح اس سال بھی ختمِ بخاری شریف کی عظیم الشان اور بابرکت تقریب خانقاہ رحمانی کی پرشکوہ مسجد میں منعقد ہوئی، جس کی صدارت جامعہ رحمانی مونگیر کے سرپرست امیرِ شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی ، سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر نے کی۔ اس موقع پر امیرِ شریعت نے جامعہ رحمانی سے اس سال فارغ ہونے والے طلبہ کو بخاری شریف کی آخری حدیث کا درس دے کر حدیث کے پڑھنے پڑھانے کی اجازت دی اور نہایت بصیرت افروز، فکر انگیز اور نصیحت آموز خطاب میں علم کے ساتھ عمل، اخلاص، تقویٰ اور خدمتِ دین کی تلقین کی۔ حضرت نے آیتِ کریمہ اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ کی تشریح کرتے ہوئے زندگی کے ہر لمحے ہر کام میں رضاء الٰہی کے طلب و استحضار پر زور دیا اور نصیحت کی کہ اصل کامیابی اس وقت ملتی ہے جب انسان اپنی پوری زندگی کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے تابع کر دے۔
آپ سے قبل جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کے شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد اظہر مظاہری نے بخاری شریف کی ایک حدیث پڑھائی ،اور اپنی سند سے حدیثِ رسول ﷺ کی روایت، قرأت اور تدریس کی اجازت دی ساتھ ہی اکابرِ امت کی تشریحات کی روشنی میں حدیث شریف پر مکمل عمل پیرا ہونے کی خصوصی تاکید کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ رحمانی کے ناظمِ تعلیمات مولانا جمیل احمد مظاہری نے فرمایا کہ قرآنِ کریم کے بعد حدیثِ رسول ﷺ ہی شریعتِ اسلامیہ کی عملی اور مستند تعبیر ہے، جبکہ مفتی محمد جنید قاسمی نے اسلام و شریعت میں حدیثِ شریف کی حجیت پر جامع اور مدلل خطاب کرتے ہوئے منکرینِ حدیث کے شبہات کا علمی و تحقیقی جائزہ پیش کیا۔ اسی طرح ناظمِ تعلیمات برائے امور طلبہ مولانا محمد خالد رحمانی نے حدیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں اصلاحِ معاشرہ کے موضوع پر نہایت فکر انگیز گفتگو کی اور سماج میں پھیلی ہوئی اخلاقی و معاشرتی برائیوں کے سدِباب پر زور دیا اور ساتھ ہی مکمل پروگرام کی شاندار نظامت کی ۔
اجلاس کا آغاز جامعہ کے استاد مولانا قاری وسیم اختر قاسمی کی پرسوز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ بعد ازاں مولانا محمد دلشاد رحمانی، حافظ محمد انصار سلمہ (متعلمانِ جامعہ رحمانی مونگیر) اور معروف نعت خواں مولانا منظر قاسمی رحمانی نے بارگاہِ رسالت ﷺ میں نعتیہ کلام پیش کر کے محفل کو روحانیت سے معطر کر دیا۔ انجمن نادیۃ الادب کے صدر و استاذ حدیث جامعہ رحمانی مونگیر مولانا محمد نعیم رحمانی نے انجمن کے مختلف پروگراموں میں پوزیشن حاصل کرنے والے تمام طلبہ کو حضرت امیر شریعت کے دست مبارک سے انعام عطا کروایا ۔اختتامی مرحلے میں مولانا محمد برکت اللہ رحمانی کھگڑیا نے الوداعی ترانہ پیش کیا، جس سے مجلس پر رقت طاری ہو گئی اور حاضرین کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔اخیر میں حضرت امیر شریعت کی دعاء سے پروگرام کا اختتام ہوا۔
جامعہ رحمانی میں 9 فروری سنہ 1966 ء میں دورہ حدیث شریف کا افتتاح ہوا تھا تب سے تسلسل کے ساتھ یہاں حدیث شریف کے پڑھنے پڑھانے کا کام جاری ہے۔یہ روحانی و علمی تقریب ہر اعتبار سے نہایت کامیاب رہی، جس میں جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کے ذمہ داران، اساتذۂ کرام، کارکنان، طلبہ کے علاوہ بہار کے مختلف اضلاع اور ملک کے الگ الگ گوشوں سے جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کے متعلقین، متوسلین اور معتقدین کی بڑی تعداد نے شرکت کر کے خوب استفادہ کیا۔
بہار
ذکر اللہ سے قلب میں پیدا ہوتی ہے نورانیت : امیر شریعت
(پی این این)
پھلواری شریف:دارالعلوم الاسلامیہ امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ کے دورۂ حدیث کے طلباء کے درمیان آخری درس دیتے ہوئے مفکر ملت، امیر شریعت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی نےکہا کہ حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے آغاز کتاب میں اخلاص نیت کی حدیث درج فرمائی اور سب سے اخیر میں ذکر اللہ سے متعلق حدیث کو بیان فرما کر اس طرف اشارہ کر دیا کہ جو کام اخلاص و للہیت اور رضاء الہی کے جذبے سے انجام دیا جاتا ہے وہ تھوڑا ہونے کے باوجود میزان عدل میں وزنی ہو جاتا ہے، اس لیے سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم کا کثرت سے ورد کرتے رہنا چاہیے، اس سے ایمان و یقین میں تازگی اور فکر و عمل میں نورانیت و روحانیت پیدا ہوتی ہے۔
امیر شریعت نے آخری حدیث کا درس دیتے ہوئے کہا کہ قیامت کے دن اعمال و اقوال بھی وزن کیے جائیں گے اور اس کی بنیاد پر فیصلے ہوں گے، حضرت نے فرمایا کہ ذکر اللہ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم بہت ہی آسان کلمے ہیں جو زبان پر آسانی سے چڑھتے ہیں، ہم سب کو اس کا برابر اہتمام کرتے رہنا چاہیے، حضرت نے اس موقع پر اجازت حدیث کی سند دیتے ہوئے فرمایا کہ میں نے مولانا مفتی یحیی ندوی سے حدیث کا درس لیا، انہوں نے مولانا عبداللطیف سے، پھر انہوں نےمولانا شاہ فضل رحمنٰ گنج مراد آبادی سے اور انہوں نے شاہ عبدالعزیز سے اور انہوں نے حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی سے اجازت حدیث حاصل کیا، میں بھی اس سال دورۂ حدیث سےفارغ ہونے والے طلبہ کو اس سلسلہ سے اجازت حدیث دیتا ہوں۔
دارالعلوم الاسلامیہ کے سکریٹری قاضی وصی احمد قاسمی نائب قاضی شریعت مرکزی دارالقضاءامارت شرعیہ نے دارالعلوم کی تعلیمی سرگرمیوں کا تفصیل سے تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے آپ کی یہ دینی درسگاہ تعلیمی و تربیتی میدان میں نہایت ہی ممتاز ہے، شوال میں بڑی تعداد میں طلبہ داخلہ کے لیے آتے ہیں لیکن قلت اسباب کے باعث معذرت کرنی پڑتی ہے اگر آپ حضرات کا خصوصی تعاون جاری رہے تو ہم اسے مزید آگے بڑھا سکیں گے اس لیے کہ دارالعلوم الاسلامیہ اکابرین امارت شرعیہ کے خوابوں کی حسین تعبیر ہے۔ امارت شرعیہ کے نائب ناظم مولانا مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی نے کہا کہ دارالعلوم الاسلامیہ ایک ایسا مثالی ادارہ ہے جہاں تعلیم کے ساتھ معیاری تربیت بھی دی جاتی ہے اس لیے یہ ملک کے ممتاز اداروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ مولانا مفتی محمد احتکام الحق قاسمی قائم مقام ناظم امارت شرعیہ نے کہا کہ اس ادارہ نے قلیل مدت میں نمایاں ترقی حاصل کی یہاں کے بزرگوں کے اخلاص و للہیت کا ثمرہ ہے۔ درس حدیث سے قبل دارالعلوم کے ہونہار طلباء نے اردو، عربی، انگریزی، فارسی اور ہندی زبانوں میں پرمغز اور دلکش تقریریں کیں، جس سے سامعین پر بڑا گہرا اثر ہوا اور لوگوں نے ان بچوں کے لیے دل سے دعائیں کی۔دارالعلوم الاسلامیہ کے مہتمم مولانا مفتی یحیی غنی قاسمی نے مہمانان کرام کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا۔
بہار
نالندہ میں ضلع سطحی ’فروغ اردو‘ ورکشاپ، سیمینار اور مشاعرہ کا انعقاد
(پی این این)
نالندہ :نالندہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر کے ٹاؤن ہال میں ایک عظیم الشان ضلعی سطح کی ’فروغ اردو‘ورکشاپ، سیمینار اور مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا۔پروگرام کا افتتاح نالندہ کے ضلع مجسٹریٹ کندن کمار، ایس ایم اور پرویز عالم، ڈائریکٹر، اردو ڈائریکٹوریٹ، کابینہ سیکریٹریٹ ڈیپارٹمنٹ، بہار، پٹنہ نے مشترکہ طور پر چراغ جلا کر کیا۔
پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ضلع مجسٹریٹ کندن کمار نے کہا کہ اردو زبان کو ریاست بہار میں دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے جو اس کی تاریخی، ثقافتی اور ادبی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو زبان نے ملک اور ریاست کی مشترکہ ثقافت کو تقویت دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اردو صرف ایک زبان نہیں ہے بلکہ ثقافت، بھائی چارے اور ادبی ورثے کی علامت ہے۔ انتظامیہ اس کے تحفظ، ترویج اور تبلیغ میں ہمیشہ تعاون کرے گی۔
اس موقع پر ایس ایم پرویز عالم، ڈائریکٹر، اردو ڈائریکٹوریٹ، کابینہ سیکریٹریٹ محکمہ، بہار، پٹنہ، نے اپنے خطاب میں کہا کہ بہار حکومت اردو زبان کی ترقی اور ترقی کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ریاستی حکومت اردو کی تعلیم، ادب، تحقیق اور ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے مسلسل اسکیمیں نافذ کررہی ہے، تاکہ نئی نسل اردو زبان سے جڑ سکے۔
پروگرام کے دوران منعقدہ سیمینار اور مشاعرہ میں ضلع کے ممتاز اردو ادیبوں، شاعروں اور زبان سے محبت کرنے والوں نے شرکت کی۔ مقررین نے اردو زبان کے تاریخی پس منظر، اس کی ترقی کے سفر اور عصری مناسبت پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ مشاعرے میں پیش کیے گئے اشعار نے سامعین کو محظوظ کیا۔
ورکشاپ میں اردو زبان کے فروغ، اس کی تعلیمی ترقی اور معاشرے میں اس کی افادیت پر بھی بات کی گئی۔ پروگرام میں اردو ادب کے شائقین، اساتذہ، طلباء اور معززین کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ اس موقع پر ایڈیشنل کلکٹر نالندہ، اسٹیبلشمنٹ ڈپٹی کلکٹر، سینئر ڈپٹی کلکٹر، شگفتہ پروین، ڈسٹرکٹ پلاننگ آفیسر، انچارج آفیسر، ضلع اردو سیل اور دیگر موجود تھے۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoکجریوال کاپجاری اور گرنتھی سمان اسکیم کا اعلان
-
بہار8 months agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ1 year agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
بہار2 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
