دلی این سی آر
ڈگریوں سے عہدہ تو مل سکتا ہے لیکن وہ انسان بنادے یہ ضروری نہیں : پروفیسر خواجہ اکرام
(پی این این)
نئی دہلی:دہلی کے اردو اسکولوں کے طلبہ و طالبات کی یہ خوش نصیبی ہے کہ ان کے اندر اردو فن و ثقافت کا ذوق و شوق بیدار کرنے اور اس مسابقتی دور میں خود اعتمادی و حوصلہ بڑھانے کے لیے اردو اکادمی، دہلی ہر سال تعلیمی و ثقافتی مقابلے منعقد کرتی ہے، جن میں سیکڑوں طلبہ و طالبات شریک ہوتے ہیں۔ ان مقابلوں میں اول، دوم اور سوم پوزیشن حاصل کرنے والوں کو انعامات دیے جاتے ہیں، جب کہ بچوں کی حوصلہ افزائی کے لیے تشجیعی انعامات بھی پیش کیے جاتے ہیں۔ ان کے علاوہ سب سے زیادہ شرکت کرنے والے اسکول کو ”Best Participating School” (بہترین شرکت کرنے والا اسکول) اور سب سے زیادہ انعامات حاصل کرنے والے اسکول کو ”Best Performing School” (بہترین کارکردگی کا حامل اسکول) کی ٹرافی اور نقد انعامات سے نوازا جاتا ہے۔ان مقابلوں میں تقریر، فی البدیہہ تقریر، بیت بازی، اردو ڈراما، غزل سرائی، کوئز، مضمون نویسی، خطوط نویسی، خوشخطی، امیج پینٹنگ، گروپ سانگ (پرائمری زمرہ) اور بلند خوانی (پرائمری زمرہ) شامل ہیں۔ یہ تعلیمی مقابلے دہلی کے پرائمری سے لے کر سینئر سیکنڈری سطح کے اردو اسکولوں کے درمیان منعقد کیے جاتے ہیں اور 8 ستمبر 2025 تک جاری رہیں گے۔
مقابلے اب دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکے ہیں۔ آج سینئر سیکنڈری زمرے کے تحت دو تقریری مقابلے منعقد ہوئے۔ صبح کے سیشن میں ہونے والے مقابلے کا عنوان تھا: ’’آج کے ہندوستان میں سردار ولبھ بھائی پٹیل کی قیادت سے کیا سیکھا جا سکتا ہے‘‘۔ اس مقابلے میں 19 اسکولوں کے 34 طلبہ و طالبات نے حصہ لیا، جن میں سے 11 طلبہ و طالبات کو انعام کے لیے منتخب کیا گیا۔ اس موقع پر معروف صحافی شعیب رضا فاطمی اور ڈاکٹر ارشاد نیازی نے جج کے فرائض انجام دیے۔ دوسرا فی البدیہہ تقریری مقابلہ دوپہر ڈھائی بجے منعقد ہوا۔
دوپہر کے بعد فی البدیہہ تقریری مقابلہ شروع ہوا۔ اس مقابلے میں جج صاحبان پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین اور شعیب رضا فاطمی کے مشورے سے طلبہ کو مقابلے سے محض دس منٹ قبل عنوان ’’تعلیم کا مقصد: ڈگری یا کردارسازی‘‘ دیا گیا ۔ اس مقابلے میں 8 اسکولوں سے کل 16 بچوں نے شرکت کی اور کل 6 بچے انعامات کے حقدار ہوئے۔ پروفیسر خواجہ محمد اکرام نے کہا کہ تمام بچوں نے اس فی البدیہہ مقابلے میں اپنے موضوع پر نہایت عمدہ اور برمحل گفتگو کی۔ یہ آج کے بچوں کی خصوصیت ہے کہ ان کے اندر خود اعتمادی کثرت سے پائی جاتی ہے، جو دس سال پہلے کے بچوں میں کم دکھائی دیتی تھی۔ موضوع پر بات کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ علم کا معیار لباس نہیں، بلکہ کردار اور زبان ہے۔ اگر آپ نے دلوں کو جیت لیا تو گویا زمانہ جیت لیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈگری سے عہدہ تو حاصل کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ وہ انسانیت بھی پیدا کر دے۔
جج صاحبان کے فیصلے کے مطابق پہلے مقابلے میں اول انعام کے لیے التمش ولد مجید( سروودیا بال ودیالیہ بلاک ۲۷، ترلوک پوری ) کو مستحق قرار دیا گیا۔دوسرے انعام کے لیے ارسلان اعظم ولد سید قیصر خالد( گورنمنٹ بوائز سینئر سیکنڈری اسکول، نمبر 2 تخمیر پور)،یمنیٰ گلریز بنت محمد گلریز( رابعہ گرلز پبلک اسکول، گلی قاسم جان) اور زاہد محمد پراچہ ولد محمد نوید پراچہ( کریسنٹ اسکول، دریا گنج) مستحق قرار دیے گئے جب کہ تیسرے انعام کے لیے ریحان ملک ولد محمد عارف(( سروودیا بال ودیالیہ بلاک 27، ترلوک پوری )، ترنم پروین بنت امتیاز احمد( نیو ہورائزن پبلک اسکول، نظام الدین( اور ماریہ رئیس بنت رئیس الدین( اینگلو عربک سینئر سیکنڈری اسکول، اجمیری گیٹ) مستحق قرار دیے گئے۔ ان کے علاوہ حوصلہ افزائی انعام کے لیے ادیبہ احمد بنت وکیل احمد( سروودیا کنیا ودیالیہ، جوگابائی)، عاطف اقبال ولد محمد اقبال( کریسنٹ اسکول، دریا گنج) اور زویا بنت محمد حنیف( راجکیہ سروودیا کنیا ودیالیہ نمبر 2، جامع مسجد) مستحق قرار دیے گئے۔
ججیز کے فیصلے کے مطابق اول انعام کے لیے یمنیٰ گلریز بنت محمد گلریز( رابعہ گرلز پبلک اسکول، گلی قاسم جان)، دوسرے انعام کے لیے صبغت اللہ مشتاق ولد مشتاق احمد بھٹ( جامعہ سینئر سیکنڈری اسکول، جامعہ ملیہ اسلامیہ) اور تیسرے انعام کے لییمیمونہ خان بنت معین خان( سید عابد حسین سینئر سیکنڈری اسکول، جامعہ ملیہ اسلامیہ) اور حوصلہ افزائی انعام کے لییارسلان اعظم ولد قیصر خالد( گورنمنٹ بوائز سینئر سیکنڈری اسکول، نمبر 2 تخمیر پور) ، ابو احکام ولد ابو امام( سید عابد حسین سینئر سیکنڈری اسکول، جامعہ ملیہ اسلامیہ) اور عاطف اقبال ولد محمد اقبال( کریسنٹ اسکول، دریا گنج) کو مستحق قرار دیا گیا۔
دلی این سی آر
عالم اسلام کو صہیونی جارحیت کے خلاف بلند کرنی چاہیےآواز:ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد
(پی این این)
نئی دہلی :شاہی امام مسجد فتح پوری دہلی مولانا ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد نے جمعہ کی نماز سے قبل خطاب میں مسلمانوں کو تاکید کی کہ ماہ مبارک میں تلاش کر کے مستحق ضرورت مندوں کی امداد کریں نیز رمضان المبارک میں حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی میں پیش پیش رہیں۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ پرست عناصر کو امن و سکون کا ماحول اچھا نہیں لگتا کسی بھی قیمت پر حالات خراب کرنا چاہتے ہیں اور جھگڑے پر اکسانے کی کوشش کرتے ہیں بدایوں کے حالیہ سانحہ نے دلوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ایک فرقہ پرست نوجوان تین مسلم افراد کو بلاوجہ گالیاں دے رہا ہے اور تھپڑ مارتا ہے تین مسلمان سیدھے سادھے انداز میں راستہ سے گزر رہے تھے جو اس بدبخت سے بڑی عمر کے تھے تینوں نے بے پناہ صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے کوئی جوابی حملہ نہیں کیا اس سانحہ پر کئی سیاسی پارٹیوں نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے ہمارا مطالبہ ہے کہ اتر پردیش میں اقلیتی فرقہ کو تحفظ دیا جائے اور اس نوجوان پر شدید ایکشن لیا جائے۔
مفتی مکرم نے مدھیہ پردیش کے ضلع جبل پور کے قصبہ سیہورا میں لاؤڈ اسپیکر تنازعہ پر تشدد کے واقعہ کی غیر جانبدارانہ انکوائری کرائے جانے کے مطالبے کے ساتھ ساتھ ایک طرفہ مسلم فرقہ کے افراد کی گرفتاریوں کی مذمت کی۔ واقعہ کے عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جن مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا ہے وہ جھگڑے میں ملوث نہیں تھے تراویح پڑھ کر مسجد سے نکل رہے تھے اس واقعہ سے کچھ دنوں پہلے ایک ہندو تنظیم نے سیہورا پولیس اسٹیشن پر احتجاج کیا تھا ۔ گویا تنازعہ منصوبہ بند تھا اس کی انکوائری کرائی جائے اور جو فرقہ پرست لیڈرشر انگیزی میں ملوث ہیں انہیں گرفتار کیا جائے۔
مفتی مکرم نے مسجد اقصی میں تراویح میں کثیر تعداد میں فلسطینیوں کی شرکت پر ایمانی جذبے کی تعریف کی اور صہیونی جارحیت کی شدید مذمت کی۔ میڈیا رپورٹ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اسرائیلی حکومت نے بیت المقدس شہر کے گردونواح میں چیک پوسٹ بنا کر مسجد اقصی کے دروازوں پر اپنی فوجی نفری میں غیر معمولی اضافہ کر رکھا ہے اور ماہ مبارک میں فلسطینیوں کو عبادت کے حق سے محروم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے عالم اسلام کو اس کے خلاف متحدہ آواز اٹھانی چاہیے۔
دلی این سی آر
اردو اکادمی دہلی کے زیرِ اہتمام جلسۂ تقسیمِ انعامات پروگرام منعقد
(پی این این)
نئی دہلی: اردو اکادمی، دہلی کے زیرِ اہتمام سال 2025ء کے تعلیمی و ثقافتی مقابلوں میں کامیاب طلبہ کے اعزاز میں ایوانِ غالب، ماتا سندری لین، نئی دہلی میں جلسۂ تقسیمِ انعامات منعقد ہوا۔ تقریب میں دہلی کے مختلف اسکولوں کے طلبہ و طالبات، اساتذہ اور والدین نے شرکت کی۔یہ تعلیمی مقابلے20اگست تا8ستمبر2025ء اردو اسکولوں کے طلبا و طالبات کے درمیان منعقد کیے گئے تھے، جن میں تحریری امتحانات ، مضمون نویسی،تقریری، کوئز، غزل سرائی، اردو ڈراما، بیت بازی، گروپ سانگ ، بلند خوانی اور امنگ پینٹنگ جیسے متنوع مقابلے شامل تھے، جن تقریباً 1663 طلبا وطالبات نیان مقابلوں میں حصہ لیا تھا، جن میں سے 265 طلبہ مختلف زمروں میں کامیاب قرار پائے گئے تھے۔
اس موقع پر محکمۂ فن، ثقافت و السنہ، حکومت دہلی کے ایڈیشنل سکریٹری اور اردو اکادمی کے سکریٹری لیکھ راج نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اردو نہ صرف ایک دلنشیں زبان ہے بلکہ باوقار تہذیب کی نمائندہ بھی ہے۔ انہوں نے تعلیمی و ثقافتی مقابلوں میں طلبہ کی بڑی تعداد میں شرکت کو نئی نسل میں اردو کے بڑھتے شوق کا ثبوت قرار دیا۔ انہوں نے انعام یافتہ طلبہ و طالبات کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ مستقبل میں بھی محنت اور لگن کے ساتھ تعلیمی و ادبی میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کریں گے۔ انھوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ آئندہ مقابلوں کے زمروں میں اضافہ کیا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ طلبہ کو اظہار کا موقع مل سکے۔
جلسہ تقسیم انعامات میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ میںنقد انعامات، اسناد اور مومنٹو تقسیم کیے گئے۔ اس سال بہترین شرکت کا ایوارڈ ڈاکٹر ذاکر حسین میموریل اسکول، جعفرآباد کو دیا گیا، جبکہ بہترین کارکردگی کا ایوارڈ سید عابد حسین جامعہ اسکول نے حاصل کیا۔ دونوں اسکولوں کو 21، 21 ہزار روپے نقد انعام، مومنٹو اور سرٹیفکیٹ سے نوازا گیا۔ اس طرح اسناد، مومنٹو اور شیلڈز کے ساتھ نقد انعامات کی مجموعی رقم تقریباً ساڑھے پانچ لاکھ روپے تقسیم کی گئی۔پروگرام کی نظامت ریشما فاروقی نے کی۔ اختتام پر کامیاب طلبہ کو مبارکباد پیش کی گئی اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ اکادمی آئندہ بھی علمی و ادبی سرگرمیوں کے ذریعے نئی نسل کی صلاحیتوں کو فروغ دیتی رہے گی۔
دلی این سی آر
راجدھانی دہلی میں فروری میں ہی گرمی نے دی دستک
(پی این این)
نئی دہلی :دارالحکومت دہلی میں فروری میں ہی گرمی نے لوگوں کو پسینہ بہانا شروع کر دیا ہے۔ دہلی میں پارہ ایک بار پھر 30 ڈگری سیلسیس سے اوپر پہنچ گیا ہے۔ دن بھر تیز دھوپ کے باعث لوگوں نے گرمی محسوس کی۔ دہلی کے صفدرجنگ آبزرویٹری میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت معمول سے 5 ڈگری زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق دہلی میں آج زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 29 سے 31 ڈگری سیلسیس کے درمیان اور کم سے کم درجہ حرارت 12 سے 14 ڈگری سیلسیس کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔ دن بھر آسمان صاف رہے گا تاہم صبح کے وقت دھند چھائی رہے گی۔
محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ ہفتے کے آخر تک گرمی میں بتدریج اضافہ ہوگا۔ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 33 ڈگری سیلسیس تک پہنچ سکتا ہے۔ 25 اور 26 فروری کو دن کے وقت سطحی ہوائیں 15 سے 25 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی۔دہلی کے بیشتر علاقوں میں صبح ہلکی کہرا چھا گیا۔ جیسے جیسے دن چڑھتا گیا، کہرا چھٹ گیا اور سورج نکلا۔ صبح 11 بجے کے بعد سورج روشن ہو گیا، جس کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ صفدرجنگ میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 30.5 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا جو معمول سے پانچ ڈگری زیادہ ہے۔ کم از کم درجہ حرارت 11.8 ڈگری سیلسیس تھا، جو سال کے اس وقت کے لیے معمول ہے۔ ہوا میں نمی کا تناسب 29 سے 95 فیصد تک رہا۔
دریں اثنا، دارالحکومت دہلی کو آلودہ ہوا سے کوئی راحت نہیں مل رہی ہے۔ ہوا کی رفتار کم ہونے کی وجہ سے دہلی کے باشندوں کو بڑھتی ہوئی آلودگی کا سامنا ہے۔ مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (CPCB) کے مطابق، دہلی کی ہوا کے معیار کا انڈیکس 228 رہا۔ اس سطح پر ہوا کا معیار خراب سمجھا جاتا ہے۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
بہار9 months agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
بہار3 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
محاسبہ1 year agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
دلی این سی آر1 year agoکجریوال کاپجاری اور گرنتھی سمان اسکیم کا اعلان
