Connect with us

دلی این سی آر

غزل سرائی میں منفرد ترنم اختیار کرنے کی کریں کوشش: عرفان اعظمی

Published

on

اردو اکادمی ، دہلی کے تعلیمی و ثقافتی مقابلے8 ستمبر تک جاری
(پی این این)
نئی دہلی:دہلی کے اردو اسکولوں کے طلبہ و طالبات کی یہ خوش نصیبی ہے کہ ان کے اندر اردو فن و ثقافت کا ذوق و شوق پیدا کرنے اور اس مسابقتی دور میں خود اعتمادی اور حوصلہ بڑھانے کے لیے اردو اکادمی، دہلی ہر سال تعلیمی و ثقافتی مقابلے منعقد کرتی ہے، جن میں سیکڑوں طلبہ و طالبات شریک ہوتے ہیں۔ ان مقابلوں میں اول، دوم اور سوم پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کو انعامات دیے جاتے ہیں، جبکہ بچوں کی حوصلہ افزائی کے لیے کنسولیشن انعامات بھی پیش کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ سب سے زیادہ شرکت کرنے والے اسکول کو ”Best Participating School” (بہترین شرکت کرنے والا اسکول) اور سب سے زیادہ انعامات حاصل کرنے والے اسکول کو ”Best Performing School” (بہترین کارکردگی کا حامل اسکول) کی ٹرافی اور نقد انعامات سے نوازا جاتا ہے۔
ان مقابلوں میں تقریر، فی البدیہہ تقریر، بیت بازی، اردو ڈراما، غزل سرائی، کوئز، مضمون نویسی، خطوط نویسی، خوشخطی، امنگ پینٹنگ، گروپ سانگ (پرائمری زمرہ) اور بلند خوانی (پرائمری زمرہ) شامل ہیں۔ یہ تمام مقابلے دہلی کے پرائمری سے سینئر سیکنڈری سطح کے اردو اسکولوں کے طلبہ و طالبات کے درمیان منعقد کیے جاتے ہیں اور 8 ستمبر 2025 تک جاری رہیں گے۔
مقابلوں کے چوتھے دن غزل سرائی مقابلہ برائے مڈل (چھٹی جماعت تا آٹھویں جماعت) کے طلبا و طالبات کے منعقد کیا گیا جس میں آج چوتھے دن مڈل زمرے کے لیے غزل سرائی کا مقابلہ منعقد ہوا، جس میں 26 اسکولوں سے مجموعی طور پر 45 طلبا و طالبات نے حصہ لیا، جن میں سے 9 طلبا و طالبات انعامات کے لیے منتخب ہوئے۔ اس مقابلے میں آل انڈیا ریڈیو کے براڈکاسٹر اور مشہور شاعر عرفان اعظمی اور معروف شاعرہ ڈاکٹر سلمیٰ شاہین نے بطور جج شرکت کی۔
مقابلے کے اختتام پر طلبہ و اساتذہ کی فرمائش پر ڈاکٹر سلمیٰ شاہین نے اپنی ایک عمدہ غزل ترنم کے ساتھ پیش کی، جسے طلبہ و اساتذہ نے خوب تالیوں اور واہ واہ سے سراہا۔ اس کے بعد عرفان اعظمی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اساتذہ کو چاہیے کہ بچوں کی تیاری کراتے وقت انھیں صرف میر، غالب اور مومن تک محدود نہ رکھیں بلکہ دیگر شعرا کے معیاری کلام کی مشق بھی کرائیں۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ اکثر طلبہ مشہور ترنم میں ہی غزلیں پیش کرتے ہیں، لیکن مقابلوں میں نیا اور منفرد ترنم اختیار کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ غزل سرائی میں تلفظ کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے، کیوںکہ غلط تلفظ غزل کے حسن کو خراب کر دیتا ہے۔ اساتذہ کو مخاطب کرتے ہوئے انھوں نے مزید کہا کہ ابھی ایک سال کا وقت ہے، آپ بچوں کی بہترین تیاری کرائیں تاکہ وہ انعامات حاصل کریں اور ان کا حوصلہ بلند رہے۔
جج صاحبان کے فیصلے کے مطابق پہلے انعام کے لیے احساس قیصر بنت قیصر جمال رضوی( راجا رام موہن رائے سروودیا کنیا ودیالیہ، حوض رانی) کو مستحق قرار دیا گیا۔ دوسرے انعام کے لیے عائشہ علی بنت عبدالعلی( رابعہ گرلز پبلک اسکول، گلی قاسم جان) اورمحمد ابوذر ولد محمد رضوان( اینگلو عربک سینئر سیکنڈری اسکول، اجمیری گیٹ) کومستحق قرار دیا گیا جب کہتیسرے انعام کے لیے آمنہ احمد بنت شکیل احمد( کریسنٹ اسکول، موجپور) کو مستحق قرار دیا گیا۔ ان کے علاوہ حوصلہ افزائی انعام کے لیے عفیفہ پرویز بنت فہیم پرویز(سید عابد حسین سینئر سیکنڈری اسکول، جامعہ ملیہ اسلامیہ) وانیہ خان بنت شارق خان( زینت محل سروودیا کنیا ودیالیہ، جعفرآباد)، انیسہ عارف بنت محمد عارف گنائی( جامعہ مڈل اسکول، جامعہ ملیہ اسلامیہ)، عافیہ بنت محمد عمران( سروودیا کنیا ودیالیہ، جوگابائی) اوراُمّ فاطمہ بنت محمد اکمل( رابعہ گرلز پبلک اسکول، گلی قاسم جان) مستحق قرار دیے گئے۔

دلی این سی آر

پرویش واہی بنے دہلی میونسپل کارپوریشن کے میئر

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی:دہلی میونسپل کارپوریشن کے میئر کے انتخاب میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی ہے۔ سینئر کونسلر پرویش واہی کو دہلی کا نیا میئر منتخب کیا گیا ہے۔ انہوں نے کانگریس امیدوار ظہیر کو بڑے فرق سے شکست دی۔ میئر کے انتخاب میں کل 165 ایم پیز، ایم ایل ایز اور کونسلروں نے ووٹ دیا۔ تمام ووٹ درست پائے گئے۔ پرویش واہی کو 156 ووٹ ملے جبکہ کانگریس امیدوار ظہیر کو صرف 9 ووٹ ملے۔ اس طرح پرویش واہی نے 147 ووٹوں کے بھاری فرق سے کامیابی حاصل کی۔ ڈپٹی میئر کے عہدے کے لیے الگ سے کوئی الیکشن نہیں ہوا تھا اور اس عہدے کے لیے بی جے پی کی مونیکا پنت بلا مقابلہ منتخب ہو گئی تھیں۔
پرویش واہی روہنی ای وارڈ سے تین بار منتخب ہونے والے کونسلر ہیں اور اس وقت میونسپل کارپوریشن میں لیڈر آف ہاؤس کی ذمہ داری بھی سنبھال رہے تھے۔ بی جے پی نے 23 اپریل کو نامزدگی کے آخری دن انہیں میئر کے امیدوار کے طور پر اعلان کیا تھا۔ اسی کے ساتھ مونیکا پنت کو نائب میئر کے لیے امیدوار بنایا گیا تھا۔نامزدگی داخل کرتے وقت پرویش واہی نے پارٹی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ دہلی کو صاف، خوبصورت اور بہتر بنانے کے لیے پوری لگن کے ساتھ کام کریں گے۔ ان کے مطابق شہری سہولیات کو بہتر بنانا اور بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنا ان کی ترجیحات میں شامل ہوگا۔

Continue Reading

دلی این سی آر

گرمی نے دہلی کی سیاحت کوکیا متاثر ، لال قلعہ اور قطب مینار پر سیاحوں کی آمد میں کمی

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی :دارالحکومت دہلی میں بڑھتی گرمی کی وجہ سے سیاحتی مقامات میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ نہ صرف ملکی بلکہ غیر ملکی سیاح بھی کم تعداد میں یہاں کا رخ کر رہے ہیں۔ لال قلعہ، قطب مینار، صفدر جنگ کا مقبرہ، اور جنتر منتر سمیت کئی یادگاروں کو سیاحوں کی تعداد میں کمی کا سامنا ہے۔ مزید برآں، چڑیا گھر میں زائرین کی تعداد میں تقریباً 60 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔ قطب مینار ملکی اور غیر ملکی سیاحوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا لیکن بڑھتی ہوئی گرمی نے یہ تعداد آدھی کر دی ہے۔ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کے مطابق جب قطب مینار پر روزانہ سات سے آٹھ ہزار زائرین آتے تھے، اب یہ تعداد کم ہو کر 3500 سے چار ہزار رہ گئی ہے۔صرف 200 کے قریب سیاح صفدر جنگ کے مقبرے کی سیر کر رہے ہیں۔ موسم گرما سے پہلے روزانہ دیکھنے والوں کی تعداد 500 سے 600 تک ہوتی تھی۔روہنی سے یادگار دیکھنے آنے والے آدرش جھا نے بتایا کہ انہوں نے بہت پہلے دوستوں کے ساتھ سیر کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن موقع صرف اتوار کو ہی ملا۔ تاہم شدید گرمی کے باعث وہ جلد گھروں کو لوٹ رہے ہیں۔
یہ مقامات عام طور پر صبح سے شام تک سیاحوں سے کھچا کھچ بھرے رہتے ہیں لیکن ان دنوں دوپہر کے وقت کم ہی لوگ نظر آئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سیاح شام کے وقت تاریخی یادگاروں کی سیر کو ترجیح دیتے ہیں۔چڑیا گھر میں سیاحوں کی تعداد میں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔ ویک اینڈ پر تقریباً 2000 زائرین آ رہے ہیں۔ موسم گرما کے آغاز سے پہلے، اختتام ہفتہ پر یہ تعداد 10,000 سے 12,000 کے درمیان تھی۔ دریں اثنا، ہفتے کے دنوں میں، یہ تعداد 1,000 سے 1,500 کے درمیان گر گئی ہے۔
غور طلب ہے کہ دہلی این سی آر میں ان دنوں گرمی اپنے عروج پر ہے۔ بھاشا کی ایک رپورٹ کے مطابق، منگل کو کچھ علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ طوفان اور بارش کے لیے یلو الرٹ جاری کیا گیا ہے، کیونکہ دارالحکومت میں موسم کی گرم ترین رات ریکارڈ کی گئی۔ محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق کئی مراکز پر کم از کم درجہ حرارت معمول سے 4.6 سے 5.4 ڈگری سیلسیس زیادہ ریکارڈ کیا گیا جو کہ گرم رات کی نشاندہی کرتا ہے۔
محکمہ موسمیات (IMD) کے مطابق گرم رات اس وقت تصور کی جاتی ہے جب زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 40 ڈگری سیلسیس یا اس سے زیادہ ہو اور کم سے کم درجہ حرارت معمول سے 4.5 سے 6.4 ڈگری سیلسیس زیادہ رہے۔ مرکز وار اعداد و شمار کے مطابق، صفدرجنگ میں کم سے کم درجہ حرارت 28.4 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جو معمول سے 4.6 ڈگری زیادہ تھا۔
پالم میں 27.4 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا جو معمول سے 2.5 ڈگری زیادہ تھا۔ لودھی روڈ پر درجہ حرارت 26.6 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جو معمول سے 3.6 ڈگری زیادہ ہے، جبکہ رج میں 26.2 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جو معمول سے 1.3 ڈگری زیادہ ہے۔ آیا نگر میں 29.1 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جو معمول سے 5.4 ڈگری زیادہ ہے۔ماہرین موسمیات کے مطابق منگل کو زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 39 سے 40 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔ طوفانی گردش کی وجہ سے گرج چمک اور بارش کی بھی پیش گوئی کی گئی ہے۔ دریں اثنا، دہلی میں ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 196 پر ریکارڈ کیا گیا، جو اعتدال پسند زمرے میں آتا ہے۔

 

Continue Reading

دلی این سی آر

جامعہ ملیہ میں’کلیم الدیں احمد کی نگارشات: ایک بازدید’کے عنوان سے سمینار کا انعقاد

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی : قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے باہمی اشتراک سے ‘کلیم الدیں احمد کی نگارشات: ایک بازدید’ کے عنوان سے سی آئی ٹی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے کانفرنس ہال میں یک روزہ سمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں کلیم الدین احمد کی شخصیت و افکار پر نہایت مفید و معنی خیز خطبات و مقالات پیش کیے گئے ۔
اس سمینار کے افتتاحی اجلاس کی صدارت بزرگ ناقد و دانشور پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے کی۔ انھوں نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ کلیم الدین احمد کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے اپنے دور کی یک رخی اور ایک ہی ڈگر پر چلنے والی اردو تنقید میں تجزیہ و تفکر کی ایک نئی راہ نکالی۔ انھوں نے اردو شاعری اور تنقید پر جو کچھ لکھا وہ ہمارے ذہنوں کو روشن کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کلیم الدین احمد کے افکار و نظریات پر بعد میں جس طرح غور و فکر ہونا چاہیے تھا، وہ نہیں ہوا۔ میں کونسل اور شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کو اس سمینار کے انعقاد کے لیے خصوصی مبارکباد پیش کرتا ہوں، کہ آج کا یہ سمینار کلیم الدین احمد کے فکر و فن کی ایسی جہتیں سامنے لائے گا جو اب تک اجاگر نہیں کی گئی ہیں۔
اس سے قبل قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے استقبالیہ کلمات ادا کرتے ہوئے تمام مہمانوں کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ کلیم الدین احمد ایک قاموسی شخصیت کے حامل تھے جنھیں اردو کے ساتھ دیگر کئی علوم و فنون اور زبانوں پر دسترس حاصل تھی۔ انھوں نے روایتی تنقیدی نظریات پر دلائل اور تحقیق‌ کی روشنی میں چوٹ کی اور ان کے کچھ تیکھے جملے بہت مشہور ہوئے جن کا ان کے معاصرین نے نوٹس بھی لیا اور ان سے اختلاف بھی کیا گیا مگر اس کے باوجود سبھوں نے ان کی بلند و بالا علمی و ادبی قد و قامت کو تسلیم بھی کیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ضرورت ہے کہ نئی نسل کو ایسے عظیم ادیب و ناقد کی ہمہ جہت خدمات سے روشناس کروایا جائے۔ آج کا سمینار اسی سلسلے کی اہم پیش رفت ہے۔ مجھے توقع ہے کہ اس سمینار کے مقالات و خطبات سے کلیم الدین احمد کی تفہیم کے نئے زاویے روشن ہوں گے۔
شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر کوثر مظہری نے تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے اس سمینار کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی اور کہا کہ کلیم الدین احمد کی شخصیت و نگارشات پر دہلی میں اپنی نوعیت کا یہ منفرد سمینار ہے جس میں ان کی پوری شخصیت ، نگارشات و افکار کا بھرپور جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کلیم الدین احمد کی خدمات ایسی ہمہ گیر ہیں کہ ان کے منظم مطالعے اور جائزے کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے ۔ قومی اردو کونسل اور شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اشتراک سے منعقدہ یہ سمینار اسی سلسلے کی کاوش ہے جسے دراز ہونا چاہیے اور ان پر مزید ڈسکورس ہونا چاہیے ۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network