Connect with us

بہار

ووٹر لسٹ کے مسودے میں سنگین بے ضابطگیاں: راجیش رام

Published

on

صوبائی کانگریس صدر نے بیگوسرائے کے سماجی کارکن نیرج کمار کودلائی کانگریس کی رکنیت
(پی این این)
پٹنہ:آج بہار پردیش کانگریس کے صدر دفتر “صداقت آشرم” میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے قومی سکریٹری پرنَو جھا نے بہار کانگریس صدر راجیش رام کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔پریس کانفرنس میں پرنَو جھا نے کہا کہ بہار میں جاری ووٹر فہرست کی تجدید (پونری) کے دوران مردہ افراد کے ناموں کی بھی توثیق کر دی گئی ہے، اور جن لوگوں نے مطلوبہ کاغذات جمع نہیں کرائے، ان کے فارم بھی از خود جمع کر دیے گئے۔ یہ سب اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پہلے الیکشن کمیشن بی جے پی کے زیرِ اثر تھا اور اب مکمل طور پر ہائی جیک ہو چکا ہے۔ بی جے پی نے الیکشن کمیشن کو بہار میں “اوور ٹائم” کرنے کے لیے بھیجا، لیکن اس دوران جو سنگین گڑبڑیاں سامنے آئی ہیں، وہ اس سازش کی قلعی کھولتی ہیں۔ تقریباً ہر ضلع میں ووٹرز کے نام کاٹے گئے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جلد بازی میں یہ کام کیا گیا۔ کانگریس پارٹی اس جعلی ووٹر فہرست سازی کی شدید مذمت کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ انتخابی عمل کو شروع کرنے سے قبل تمام بے ضابطگیوں کو فوری طور پر درست کیا جائے۔
اپنے خطاب میں بہار پردیش کانگریس صدر راجیش رام نے کہا کہ الیکشن کمیشن بہار میں بی جے پی کی کٹھ پتلی بن کر کام کر رہا ہے۔ مخصوص لوگوں کے نام فہرست سے کاٹے جا رہے ہیں اور ان کے ووٹر نمبرز تبدیل کیے جا رہے ہیں۔ کئی مردہ افراد کو زندہ ظاہر کر دیا گیا ہے اور زندہ ووٹروں کے نام لسٹ سے نکال دیے گئے ہیں۔ ان سنگین بے ضابطگیوں کی وجہ سے الیکشن کمیشن کی نیت پر سوالیہ نشان لگتا ہے۔ الیکشن کمیشن نے جس کم وقت میں ووٹر لسٹ کی تجدید کی ہے، وہ خود شبہ پیدا کرتا ہے۔
اسی موقع پر بیگوسرائے کے سماجی کارکن نیرج کمار نے کانگریس پارٹی کی پالیسیوں اور نظریات سے متاثر ہو کر اپنے سینکڑوں حامیوں کے ساتھ کانگریس میں شمولیت اختیار کی۔ ان کا خیر مقدم راجیش رام اور پرنَو جھا نے مشترکہ طور پر کیا۔انہوںنے کہا کہ نیرج کمار جیسے سرگرم سماجی کارکن کا کانگریس میں شامل ہونا اس بات کی علامت ہے کہ آج بھی ملک کی یکجہتی، سماجی انصاف اور ہمہ جہتی ترقی کے لیے کانگریس پارٹی سب سے موزوں پلیٹ فارم ہے۔ ان کے تجربے اور عوامی روابط سے پارٹی کو زبردست فائدہ ہوگا۔ نیرج کمار نے ہمارے رہنما راہل گاندھی کی جدوجہد اور سماجی انصاف کی تحریک کو دیکھ کر کانگریس کی پالیسیوں کو قبول کیا ہے۔رکنیت حاصل کرنے کے بعد نیرج کمار نے کہا کہ ملک کے روشن مستقبل کے لیے کانگریس ہی واحد متبادل ہے۔ تمام طبقات اور برادریوں کو ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت صرف کانگریس پارٹی میں ہے۔ اس موقع پر بہار کانگریس کے انچارج کرشنا الاورو، اے آئی سی سی کے سکریٹری پرنَو جھا، قانون ساز کونسل میں کانگریس کے لیڈر ڈاکٹر مدن موہن جھا، نیشنل میڈیا پینلسٹ پریم چندر مشرا، میڈیا چیئرمین راجیش راٹھوڑ، آنند مادھو، سوشل میڈیا چیئرمین سوربھ سنہا سمیت دیگر کانگریس کارکن موجود تھے۔

بہار

چھپرہ ائیر پورٹ سے جلد شروع ہوگی فلائٹس

Published

on

(پی این این)
چھپرہ :رکن پارلیمنٹ اور سابق مرکزی وزیر راجیو پرتاپ روڈی کی مسلسل کوششوں کی وجہ سے چھپرہ میں ہوائی اڈے کی ترقی میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ جلد ہی پرانے برطانوی دور کے ہوائی اڈے سے چھوٹے طیارے چل سکیں گے۔ ائیرپورٹس اتھارٹی آف انڈیا نے چھپرہ سمیت بہار کے پانچ مقامات پر پری فزیبلٹی اسٹڈی کے عمل کو آگے بڑھایا ہے۔ مزید برآں UDAN اسکیم کے تحت فضائی تربیت اور ایرو اسپورٹس کو فروغ دینے والا اہم ادارہ ایرو کلب آف انڈیا چھپرہ میں اپنا کام شروع کرے گا۔ پائلٹ ٹریننگ اور ایرو اسپورٹس کے لیے ملک کے اس اہم ریگولیٹری ادارے کا ایک وفد 7 اپریل کو ہوائی اڈے کا معائنہ کرے گا۔ غور طلب ہے کہ ایم پی روڈی نے پہلے ہی سونپور کے لیے گرین فیلڈ انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے منظوری حاصل کر لی ہے۔ جس کی سائٹ کلیئرنس منظور ہو چکی ہے۔
ایم پی روڈی کے ساتھ بات چیت کے بعد بہار کے چیف سکریٹری پرتیئے امرت نے ان تمام مجوزہ ہوائی اڈوں خاص طور پر چھپرہ کو RCS-UDAN اسکیم کے تحت شامل کرنے کی باضابطہ درخواست کی ہے۔ منصوبوں کے لیے ضروری تکنیکی معلومات اور ابتدائی دستاویزات پہلے ہی فراہم کر دی گئی ہیں۔ ریاستی حکومت ان کے کامیاب نفاذ کے لیے مکمل تعاون فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ اے اے آئی کے چیئرمین وپن کمار نے ایم پی روڈی کو بتایا کہ کلب کی ٹیم جلد ہی چھپرہ اور دیگر مقامات کا معائنہ کرے گی۔ خاص طور پر چھپرہ کے معائنہ کی تاریخ ایم پی کے دفتر کو پہلے سے بتائی جائے گی تاکہ ضلع انتظامیہ کے ساتھ مناسب تال میل کو آسان بنایا جاسکے۔
قابل ذکر ہے کہ ایم پی مسٹر روڈی نے اپنے خط میں چھپرہ کو ترجیح دیتے ہوئے جلد از جلد فزیبلٹی اسٹڈی، فیس کے ڈھانچے کی وضاحت اور کام کو تیز کرنے کے لیے باقاعدہ پیش رفت کی تازہ کاری کا مطالبہ کیا تھا۔ ایم پی روڈی نے کہا کہ چھپرہ ہوائی اڈے سے پروازوں کا آغاز علاقائی رابطوں کو نمایاں فروغ دے گا۔ جس سے سرمایہ کاری، تجارت اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور سارن ترقی کو فروغ ملے گا۔

Continue Reading

بہار

مولانا عبداللہ سالم قاسمی کی گرفتاری تشویشناک :امیر شریعت

Published

on

(پی این این)
پٹنہ : مولانا احمد ولی فیصل رحمانی امیر شریعت بہار،اڈیشہ ،جھارکھنڈ و مغربی بنگال نے اپنےایک بیان میں مولانا عبداللہ سالم قاسمی کی گرفتاری کی نوعیت پر شدید تشویش کا اظہار کیا اوراس تناظر میں آئینِ ہند کی بالادستی، شہری آزادیوں کے تحفظ اور ریاستی طاقت کے ذمہ دارانہ استعمال پر زور دیتے ہوئےکہا کہ انڈین جمہوریت کی اصل روح اس کے آئین میں مضمر ہے، اور یہی آئین ریاست اور شہری کے درمیان ایک عادلانہ معاہدہ کی حیثیت رکھتا ہے لہذا اس کا خیال رکھنا ہر ایک کیلئے ضروری ہے۔
امیر شریعت نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ مولانا عبداللہ سالم قاسمی کی گرفتاری کے طریقہ کار نے ایسے بنیادی سوالات کو جنم دیا ہے جو پورے نظامِ انصاف اور ریاستی طرزِ عمل سے متعلق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات اس اصول کی ہے کہ کیا ریاستی طاقت کا استعمال آئین کے دائرے میں ہو رہا ہے یا نہیں۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ آئینِ ہند کا آرٹیکل 19(1)(a) ہر شہری کو اظہارِ رائے کی آزادی دیتا ہے، اور اس آزادی پر پابندیاں صرف اسی صورت میں عائد کی جاسکتی ہیں جب وہ آرٹیکل 19(2) کے تحت معقول، محدود اور آئینی معیار پر پوری اترتی ہوں۔ امیر شریعت نے اس امر کی طرف بھی توجہ دلائی کہ سپریم کورٹ نے متعدد فیصلوں میں یہ واضح کیا ہے کہ محض کسی بات کا ناگوار ہونا اسے جرم نہیں بنا دیتا، جب تک وہ براہِ راست امن عامہ کو متاثر نہ کرے۔
امیرشریعت نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ آرٹیکل 21 ہر شہری کی شخصی آزادی کی ضمانت دیتا ہے، اور اس کے تحت کسی بھی شخص کو صرف اسی صورت میں اس آزادی سے محروم کیا جا سکتا ہے جب ایک منصفانہ، معقول اور شفاف طریقۂ کار اختیار کیا جائے۔ اسی طرح آرٹیکل 22 گرفتاری کے وقت بنیادی تحفظات فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے ڈی کے باسو بنام ریاست مغربی بنگال (1997) میں گرفتاری کے واضح اصول متعین کیے گئے ہیں، جن کی پابندی ہر حال میں لازم ہے۔
امیر شریعت نے اپنے بیان میں ذرائع ابلاغ میں آنے والی ان اطلاعات کا حوالہ دیا جن کے مطابق مولانا عبد اللہ سالم کو پیشی کے وقت کمزور اور تشویشناک حالت میں دیکھا گیا اور ایک ویڈیو معذرت بھی سامنے آئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ امور بذاتِ خود کسی جبر کو ثابت نہیں کرتے، مگر یہ ایسے سوالات کو ضرور جنم دیتے ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
اسی تناظر میں امیر شریعت نے نہایت دوٹوک انداز میں متعدد سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا گرفتاری مکمل قانونی تقاضوں کے مطابق انجام دی گئی؟ کیا متعلقہ شخص کو گرفتاری کی وجوہات سے آگاہ کیا گیا اور اس کے اہلِ خانہ کو اطلاع دی گئی؟ کیا لازمی طبی معائنہ کرایا گیا؟ اگر وہ پیشی کے وقت کے کمزور حالت میں نظر آئے تو اس کی کیا وجہ ہے؟ اور جو معذرت سامنے آئی، وہ کن حالات میں دی گئی—کیا وہ مکمل رضامندی کے ساتھ تھی یا ایسے ماحول میں دی گئی جہاں آزادیِ ارادہ متاثر ہو سکتی تھی؟
انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ ایک ریاست کی پولیس کی جانب سے دوسری ریاست میں کارروائی کے لیے کون سا قانونی طریقہ اختیار کیا گیا، اور کیا اس میں مقامی پولیس کو شامل کیا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک وفاقی نظام ہے، اور اس نظام کی روح باہمی احترام اور قانونی ہم آہنگی میں ہے، نہ کہ یک طرفہ طاقت کے استعمال میں۔
امیر شریعت نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ یہ سوالات کسی الزام کے طور پر نہیں بلکہ آئینی جوابدہی کے تقاضے کے طور پر اٹھائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک مضبوط جمہوریت وہی ہوتی ہے جہاں ریاستی طاقت شفاف ہو، قانون کے تابع ہو، اور عوام کے سامنے جوابدہ ہو۔
اپنے بیان کے اختتام پر امیر شریعت نے کہاکہ اگر آئین کے اصولوں کو نظر انداز کیا جائے تو اس کا اثر صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے معاشرے میں بے چینی اور عدمِ اعتماد کو جنم دیتا ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کی مکمل تفصیلات، طریقۂ کار اور قانونی بنیاد کو عوام کے سامنے پیش کریں تاکہ قانون کی حکمرانی پر اعتماد برقرار رہے اور مولانا پر کسی بھی طرح کا جبر ، اور ذہنی و جسمانی اذیت کا معاملہ ہر گز نہ کیا جائے اور قانون کی بالادستی برقرار رکھنے کیلئے مولانا کے ساتھ انصاف کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ جمہوریت کی اصل طاقت اس میں نہیں کہ سوال نہ اٹھائے جائیں، بلکہ اس میں ہے کہ سوال اٹھائے جائیں—اور ان کے جواب دیانت داری اور شفافیت کے ساتھ دیے جائیں۔

Continue Reading

بہار

نتیش کمار نے بہارقانون ساز کونسل کی رکنیت سے دیااستعفیٰ

Published

on

(پی این این )
پٹنہ :بلآخر بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار راجیہ سبھا رکن کے طور پر منتخب ہونے کے بعد قانون ساز کونسل کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ جے ڈی یو لیڈر وجے کمار چودھری نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار پہلے ہی راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہو چکے ہیں، اس لیے استعفیٰ ضروری تھا۔ نتیش کمار کی جانب سے جے ڈی یو ایم ایل سی سنجے گاندھی نے بہار قانون ساز کونسل کے چیئر مین کو استعفیٰ سونپ دیا ہے۔
واضح ہوکہ نتیش کمار 2006 سے مسلسل قانون ساز کونسل کے رکن تھے، وہ رواں ماہ 16 مارچ کو راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہو گئے تھے۔ جے ڈی یو کے سربراہ ان لیڈران میں شامل ہیں جو چاروں ایوانوں کے رکن بنے ہیں۔ نتیش کمار نے راجیہ سبھا انتخاب لڑنے کے دوران کہا تھا کہ ان کی خواہش تھی کہ وہ راجیہ سبھا رکن کے طور پر منتخب ہوں، اس لیے انہوں نے یہ فیصلہ لیا ہے۔
واضح رہے کہ نتیش کمار 1985 میں ہرنوت اسمبلی سیٹ سے جیت حاصل کر اسمبلی پہنچے تھے۔ اس کے بعد 1989 میں وہ نویں لوک سبھا کے لیے منتخب ہوئے اور 2006 سے مسلسل قانون ساز کونسل کے رکن تھے۔ اب پہلی بار راجیہ سبھا کے رکن کے طور پر وہ اپنی نئی پاری کی شروعات کرنے جا رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق آئندہ ماہ 10 اپریل کو وہ راجیہ سبھا کی رکنیت حاصل کریں گے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network