دلی این سی آر
وکلاء کا ساکیت کورٹ میں پولیس کے خلاف احتجاج
(پی این این)
نئی دہلی :احتجاج میں شامل ساکیت کورٹ کے سکریٹری انیل بسویا نے پولیس کو خبردار کیا ہے۔ یہ بھی کہا کہ اگر انہوں نے ہمارا مطالبہ پورا کیا تو ہم ہڑتال ختم کر دیں گے۔موصولہ اطلاعات کے مطابق اعلیٰ حکام نے سکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے عدالت کے احاطے کے باہر بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات کر دیے ہیں۔
احتجاج میں شامل ساکیت کورٹ کے سکریٹری انیل بسویا نے کہا کہ ہم ہڑتال نہیں چاہتے، لیکن ہم ایسا اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ ہمارے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پولیس نے وکلا کے خلاف جھوٹی ایف آئی آر درج کی ہے اور ہم اس کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ ایک وکیل کے گھر کے قریب کچھ لوگ غیر قانونی سرگرمیاں کر رہے تھے اور جب وہ اس کی شکایت کرنے قریبی پولیس سٹیشن گئے تو سب انسپکٹر نے شکایت درج کرنے سے انکار کر دیا اور وکیل پر حملہ کر دیا۔ جب وہ عدالت میں افسر سے ملا تو اس نے دوبارہ حملہ کرنے کی کوشش کی لیکن ہم نے اسے بچا لیا۔
انیل بسویا نے کہا کہ اس کے بعد پولیس نے جھوٹی ایف آئی آر درج کی۔ پولیس کبھی وکلاء کی شکایات پر تفتیش نہیں کرتی۔ اگر انہوں نے ہمارے مطالبات پورے کیے تو ہم ہڑتال ختم کر دیں گے۔ ساتھ ہی پولیس کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ ہم پولیس والوں کو عدالت کے احاطے میں داخل نہیں ہونے دیں گے اور نہ ہی یہاں کام کرنے دیں گے۔
ساکیت عدالت میں وکلاء کی جانب سے دہلی پولیس کے ایک عارضی سب انسپکٹر (پی ایس آئی) اور ایک دوسرے معاملے میں جگدیش نامی شخص کی پٹائی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ایس آئی کو اسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں سے انہیں جمعہ کی شام تک چھٹی نہیں ملی۔ ساکیت پولس تھانہ نے دونوں معاملوں میں ایف آئی آر درج کی ہے۔ ساکیت بار ایسوسی ایشن نے وکلاء کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی مذمت کی۔پولیس حکام کے مطابق جنوبی ضلع پولیس کنٹرول روم کو جمعرات کو اطلاع ملی کہ ساکیت کورٹ نمبر 508 کے باہر PSI دیپک کو وکیل امت جگی اور اس کے دوست کپل تنور نے مارا پیٹا۔
پی ایس آئی دیپک سن لائٹ کالونی پولیس اسٹیشن کی سرائے کالیخان چوکی پر تعینات ہیں۔ وہ سماعت کے لیے ساکیت کورٹ 508 میں آیا تھا۔ یہاں دونوں وکیل 20-25 وکلاء کے ساتھ وہاں پہنچے۔ ان لوگوں نے سی سی ٹی وی کیمرہ گھمایا اور اس کی پٹائی کی۔ اے سی پی لاجپت نگر، اے ٹی او ساکیت اور ساکیت کورٹ چوکی انچارج موقع پر پہنچ گئے۔ ساکیت پولس تھانہ نے پی ایس آئی کی شکایت پر مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہے۔
دوسرے معاملے میں وکلاء نے جگدیش نامی شخص کی پٹائی کی۔ جگدیش اپنے بیٹے کی سماعت کے دوران عدالت میں آئے تھے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دونوں واقعات کی تفتیش کی جا رہی ہے۔
دلی این سی آر
اتراکھنڈ حکومت کا مدرسہ بورڈ ختم کرنے کا فیصلہ غیر آئینی :مفتی محمد مکرم احمد
(پی این این)
نئی دہلی :شاہی امام مسجد فتح پوری دہلی مولانا ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد جمعہ کی نماز سے قبل خطاب میں مسلمانوں کو تاکید کی کہ خواتین کے حقوق ضرور ادا کریں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع میں خواتین کے حقوق ادا کرنے کی سخت تاکید فرمائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت ایک سیکولر جمہوری ملک ہے جو آئین کی روشنی میں ترقی کی طرف گامزن ہے اگر یہ سیکولر جمہوری آئین نہ ہوتا تو شاید بھارت میں جو ترقی آج نظر آرہی ہے وہ نہ آتی ائین نے تعلیم کا حق سب کو دیا ہے اور ہر فرقہ کو یہ بھی حق دیا ہے کہ وہ اپنے مذہب کے مطابق عمل کرے اور اپنے بچوں کے لیے مذہبی تعلیم کا بندوبست کرے اسی لیے ہر ریاست میں مدرسوں کا قیام عمل میں آیا ہے ۔ کچھ ریاستوں میں مدرسوں کو تعصب کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے یہ باعث افسوس ہے۔ حال ہی میں اتراکھنڈ کے وزیراعلی نے اعلان کیا ہے کہ مدرسہ بورڈ ختم کر دیا جائے گا اور تمام مدارس کو یکساں تعلیمی نظام سے متعارف کرانے کے تحت جولائی 2026 سے اتراکھنڈ تعلیمی بورڈ کے نصاب کو اپنانے کی ہدایت دی گئی ہے ہری دوار میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دھامی نے اس فیصلے کو تعلیم کی جدید کاری کی جانب ایک تاریخی قدم قرار دیا اور کہا جو ادارے اس پر عمل نہیں کریں گے انہیں بند کر دیا جائے گا۔
مفتی مکرم نے کہا کہ اتراکھنڈ حکومت کا یہ فیصلہ سراسر غیر آئینی ہے اتراکھنڈ تعلیمی بورڈ کا نصاب الگ ہے اور مدارس کا نصاب بالکل مختلف ہے یہ اقلیتی فرقہ کے بنیادی حقوق میں سراسر مداخلت ہے جو ناقابل برداشت ہے۔ مفتی مکرم نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ انتظامی شفافیت کے ساتھ مدرسہ کی تعلیم کو جاری رکھا جائے یہ ہمارا بنیادی حق ہے اگر مدرسہ بورڈ ختم کیا جاتا ہے تو بھی حالات کے مطابق حسن تدبیر اور صلاح و مشورہ سے علمی خدمات کو انجام دیا جائے۔
مفتی مکرم نے مشرق وسطی میں جنگ بندی میں توسیع کا خیر مقدم کیا انہوں نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ امریکہ کی طرف سے سمندری ناکہ بندی کے نام سے کچھ ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں جو سراسر غیر قانونی ہیں ۔ امریکہ اور اسرائیل کو بین الاقوامی قوانین کا پابند بنانا بہت ضروری ہے ورنہ عالمی بدامنی کا خطرہ ہر وقت بنا رہے گا اس میں سب کا نقصان ہے۔
دلی این سی آر
ریکھا گپتا کا بے ضابطگیوں کے خلاف سخت ایکشن، 162 افسران وملازمین کاکیا تبادلہ
(پی این این)
نئی دہلی: دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے محکمہ تجارت و ٹیکس میں بڑے پیمانے پر انتظامی تبدیلیاں کی ہیں۔ یہ قدم بدعنوانی اور مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف ان کی سخت قطعی برداشت نہ کرنےکی پالیسی کے تحت اٹھایا گیا ہے، جس کا مقصد گورننس میں شفافیت اور جوابدہی کا مضبوط پیغام دینا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق، وزیر اعلیٰ نے اس ماہ کے اوائل میں محکمے کے اپنے حالیہ دورے کے دوران سامنے آنے والی سنگین بے اضابطگیوں کا نوٹس لیتے ہوئے محکمے کے اندر بڑے پیمانے پر تبادلوں کی ہدایت دی تھی۔اس فیصلہ کن کارروائی کے تحت تین اسسٹنٹ کمشنروں سمیت تقریباً 162 افسران اور ملازمین کا تبادلہ کر دیا گیا ہے۔ایک بڑی کارروائی میں دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے محکمہ تجارت اور ٹیکس کے 162 دیرینہ افسروں کا تبادلہ کیا۔
دہلی حکومت نے جمعہ کو کہا کہ وزیر اعلیٰ گپتا نے 8 اپریل کو محکمہ کا اچانک معائنہ کیا، جس کے دوران سنگین بے ضابطگیاں پائی گئیں، جس سے یہ کارروائی کی گئی۔ تبادلے کیے گئے افسران میں تین اسسٹنٹ کمشنرز بھی شامل ہیں۔حکومت نے بتایا کہ محکمہ سروسز نے جمعرات کو مختلف رینک کے افسران کے الگ الگ تبادلے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ سرکاری بیان میں کہا گیا ہے، وزیر اعلیٰ کی اس سخت کارروائی کے ایک حصے کے طور پر، کل 162 افسران کے تبادلے کیے گئے ہیں۔ ان میں تین اسسٹنٹ کمشنر، 58 سیکشن آفیسر گریڈ-I، 22 اسسٹنٹ سیکشن آفیسرز گریڈ-II، 74 سینئر اسسٹنٹ گریڈ-III، اور پانچ جونیئر اسسٹنٹ گریڈ-IV شامل ہیں۔”
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ افسران کافی عرصے سے ایک ہی جگہ پر تعینات تھے۔ سروسز ڈپارٹمنٹ کے حکم کے مطابق، ٹرانسفر کیے گئے ایڈہاک DANICS کیڈر کے اسسٹنٹ کمشنرز میں سنیتا، منوج کمار، اور سریندر سنگھ شامل ہیں۔بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ حکم نامہ جاری کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانا ان کی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس میں بدعنوانی یا بے ضابطگیوں کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ان میں سے بہت سے حکام طویل عرصے سے ایک ہی جگہ پر تعینات تھے۔
ان تبدیلیوں میں متعدد سیکشن آفیسرز، اسسٹنٹ سیکشن آفیسرز، سینئر اسسٹنٹس اور جونیئر اسسٹنٹس کے تبادلے بھی شامل ہیں، جس کا مقصد طویل مدتی تعیناتیوں کے سلسلے کو توڑنا اور بہتر انتظامی کارکردگی اور دیانتداری کو یقینی بنانا ہے۔وزیر اعلیٰ گپتا نے واضح کر دیا ہے کہ گورننس میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور کسی بھی قسم کی بدعنوانی یا طریقہ کار کی بے ضابطگیوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ دریں اثنا، وزیر اعلیٰ مختلف محکموں اور سرکاری دفاتر کا اچانک معائنہ اور غیر اعلانیہ دورے بھی کر رہی ہیں۔ ان کوششوں کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ عوامی خدمات کو معیار، کارکردگی اور کام کی بروقت تکمیل پر توجہ دیتے ہوئے مؤثر طریقے سے فراہم کیا جائے۔
دلی این سی آر
عام آدمی پارٹی اس بار بھی نہیں لڑ ے گی دہلی میئر کاانتخاب
(پی این این)
نئی دہلی:عام آدمی پارٹی نے آنے والے دنوں میں ہونے والے دہلی میونسپل کارپوریشن کے میئر انتخاب میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ بدھ کے روز “آپ” کے دہلی ریاستی صدر سوربھ بھاردواج نے پارٹی کے اس فیصلے کی جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ دہلی میں بہانے نہیں بلکہ تبدیلی کے لیے عام آدمی پارٹی بی جے پی کو ایک اور موقع دے گی۔ “آپ” اس بار بھی میئر کا انتخاب نہیں لڑے گی اور اپوزیشن میں رہ کر بی جے پی کے چاروں انجنوں کی ناکامی کو بے نقاب کرے گی۔ عام آدمی پارٹی نے گزشتہ سال یہ فیصلہ کیا تھا کہ بی جے پی اپنے تمام انجن لگا لے تاکہ اسے کام نہ کرنے کا کوئی بہانہ نہ مل سکے۔
سوربھ بھاردواج نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کا تجربہ بتاتا ہے کہ تمام انجن ہونے کے باوجود بھی بی جے پی دہلی میں تبدیلی لانے میں ناکام رہی ہے۔ بی جے پی کے چاروں انجن ہونے سے ایک بار پھر یہ ثابت ہو جائے گا کہ بی جے پی کو کام کرنا آتا ہی نہیں، کام صرف عام آدمی پارٹی ہی کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے تمام انجن کباڑ اور بے کار ہیں، دہلی کو صرف اروند کیجریوال ہی چلا سکتے ہیں، اسی لیے عوام انہیں یاد کر رہی ہے۔سوربھ بھاردواج نے کہا کہ عام آدمی پارٹی نے گزشتہ سال یہ طے کیا تھا کہ بی جے پی کی چار انجن والی حکومت کی ناکامیوں کو دہلی سمیت پورے ملک کے سامنے لانے کا سب سے آسان طریقہ یہی ہے کہ دہلی میں چاروں انجن بی جے پی کے ہی لوگوں کے حوالے کر دیے جائیں، تاکہ دہلی کی عوام دیکھ سکے کہ بی جے پی کے لوگ کتنے نااہل ہیں۔ مرکز کی حکومت، ایل جی، وزیر اعلیٰ، میئر اور اسٹینڈنگ کمیٹی سب کچھ بی جے پی کے پاس ہونے کے باوجود انہوں نے دہلی کو برباد کر دیا ہے۔
سوربھ بھاردواج نے کہا کہ گزشتہ ایک سال میں دہلی کے ہر شہری کو یہ بات سمجھ میں آ گئی ہے کہ چار انجن والی حکومت چلانے کے باوجود بھی بی جے پی نے دہلی کو تباہ کر دیا ہے۔ آج دہلی کے لوگ اروند کیجریوال کو یاد کر رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں اس بار بھی “آپ” نے یہ طے کیا ہے کہ ہم میئر کے انتخاب میں اپنا امیدوار نہیں اتاریں گے۔ “آپ” چاہتی ہے کہ اس بار بھی بی جے پی کا ہی میئر بنے، تاکہ جب برسات میں پانی جمع ہو تو پچھلے سال کی طرح اس سال بھی بی جے پی کے پاس بچنے کا کوئی بہانہ نہ ہو۔ سوربھ بھاردواج نے کہا کہ سڑک چاہے پی ڈبلیو ڈی کی ہو، فلڈ کنٹرول ڈپارٹمنٹ کی ہو، ایم سی ڈی کی ہو یا ڈی ڈی اے کی، گزشتہ سال کئی جگہوں پر پانی بھرا تھا اور بی جے پی کے پاس یہ کہنے کا کوئی بہانہ نہیں تھا کہ “آپ” کی وجہ سے کام نہیں ہوا۔ اس بار بھی “آپ” بی جے پی کو پوری دہلی کے سامنے بے نقاب کرنے کے لیے ان کا میئر بنوانا چاہتی ہے تاکہ یہ لوگ مکمل طور پر عوام کے سامنے آشکار ہو جائیں۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار5 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
بہار11 months agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ1 year agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ1 year agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
