دلی این سی آر
مسافروں کی سہولیات اور حفاظت سرکار کی اولین ترجیح:ریکھا
(پی این این)
نئی دہلی :محکمہ ٹرانسپورٹ اور انٹر اسٹیٹ بس ٹرمینل (ISBT) سے متعلق مختلف ترقیاتی تجاویز کا جائزہ اجلاس آج دہلی سکریٹریٹ میں وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کی صدارت میں میٹنگ منعقد ہوا۔وزیر اعلیٰ نے اجلاس کے دوران کہا کہ دارالحکومت میں پبلک ٹرانسپورٹ کو مزید قابل رسائی، اور محفوظ بنایا جائے، آئی ایس بی ٹی کمپلیکس کی جدید کاری، مسافروں کی سہولت کو بڑھانے کے لیے مربوط اسمارٹ کارڈ سسٹم کے نفاذ جیسی تجاویز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔متعلقہ اسکیموں کی پیشرفت کا جائزہ لیتے ہوئے چیف منسٹر نے عہدیداروں کو واضح ہدایات دیں کہ مسافروں کی سہولیات اور حفاظت کو اولین ترجیح دی جائے، تمام کاموں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے اور اسکیم پر عمل آوری میں شفافیت اور جوابدہی کو ترجیح دی جائے۔کابینی وزیر پنکج سنگھ، محکمہ ٹرانسپورٹ اور دہلی ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن (ڈی ٹی آئی ڈی سی) کے سینئر افسران میٹنگ میں موجود تھے۔دوسری جانب دہلی حکومت اگلے ہفتے 34 نئے آیوشمان آروگیہ مندروں کا افتتاح کرنے جا رہی ہے۔ اس کے بعد ایسے مراکز کی کل تعداد بڑھ کر 67 ہو جائے گی۔ حکام نے بتایا کہ فی الحال دہلی میں 33 آیوشمان آروگیہ مندر کام کر رہے ہیں۔ ان کا مقصد جامع، قابل رسائی اور سستی بنیادی طبی سہولیات فراہم کرنا ہے۔دہلی کے وزیر صحت پنکج سنگھ نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ اسکیم کا دوسرا مرحلہ اس ہفتے مزید 34 آیوشمان آروگیہ مندروں کے اضافے کے ساتھ شروع ہوگا۔ ہم اس ہفتے مزید 34 آیوشمان آروگیہ مندروں کا افتتاح کریں گے۔ اسکیم کے تیسرے مرحلے میں کل تعداد بڑھ کر 80 ہو جائے گی۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ پہل صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو مضبوط بنانے اور دہلی والوں کے لیے بہتر خدمات کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کے پختہ عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ اس اقدام کو صحت کی دیکھ بھال کے خلا کو ختم کرنے کی سمت میں ایک اصلاحی قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ انہیں پچھلی حکومتوں نے نظر انداز کیا تھا۔ سنگھ نے کہا کہ یہ صرف عمارتیں نہیں ہیں۔ یہ بنیادی دیکھ بھال اور روک تھام کے مراکز ہیں۔نئے آیوشمان آروگیہ مندروں کا افتتاح کیا جائے گا جس میں وسطی دہلی میں پانچ نئے مراکز، مشرقی دہلی میں چار اور شمال مشرق، شمال مغرب، جنوب مشرقی اور مغربی دہلی میں کئی دیگر مراکز شامل ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر مراکز موجودہ محلہ کلینک، ڈسپنسریوں اور پولی کلینک کو اپ گریڈ کر کے قائم کیے جا رہے ہیں۔
دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا اور ان کی کابینہ نے گزشتہ ماہ شہر بھر میں 33 آیوشمان آروگیہ مندروں اور 17 جن اوشدھی کیندروں کا افتتاح کیا۔ حکومت نے دارالحکومت بھر میں ایسے 1,100 سے زیادہ کلینک قائم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ آیوشمان آروگیہ مندر مرکزی حکومت کی آیوشمان بھارت پہل کا ایک حصہ ہیں۔دہلی میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد، ریاستی حکومت نے راجدھانی میں آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (AB-PMJAY) کو لاگو کرنے کے لیے اس ماہ کے شروع میں مرکز کے ساتھ ایک مفاہمت نامے پر دستخط کیے تھے۔ یہ پارٹی کا اہم انتخابی وعدہ تھا۔ اس کے علاوہ 400 نئے صحت اور فلاح و بہبود کے مراکز اور آیوشمان آروگیہ مندروں کے قیام کے ذریعے بنیادی صحت کی خدمات کو مضبوط کرنے کے لیے 320 کروڑ روپے کی تجویز دی گئی ہے۔
دلی این سی آر
نفرت انگیزی پرسپریم کورٹ کا سما عت سے انکار مایوس کن:ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد
(پی این این)
نئی دہلی :شاہی امام مسجد فتح پوری دہلی مولانا ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد نے جمعہ کی نماز سے قبل خطاب میں مسلمانوں سے اپیل کی کہ ماہ رمضان المبارک میں روزوں اور تراویح کی پورے مہینے میں پابندی کریں نیز روزہ کے دوران کسی بھی قسم کے غیر شرعی اور غیر اخلاقی عمل سے اجتناب کریں رمضان میں ماتحت لوگوں کے ساتھ حسن سلوک اور ہمدردی کا حکم ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس مقدس مہینے میں عبادت کے لیے انتظامیہ کی طرف سے مکمل انتظامات کیے جائیں گے اس کی امید کی جاتی ہے لیکن اگر کہیں کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما ہو تو علاقے کے عوام کا تعاون حاصل کیا جائے اور صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے پولیس میں شکایت درج کرائی جائے علاقے کے لوگوں کے تعاون سے ہی مسائل حل ہو سکتے ہیں ۔ مفتی مکرم نے کہا کہ آسام کے وزیراعلی نے نفرت انگیزی اور اقلیتی فرقہ کے ساتھ بدسلوکی کرنے میں حد سے تجاوز کر رکھا ہے جس کی خبر یں برابر میڈیا میں آرہی ہیں اس کے باوجود سپریم کورٹ کا اشتعال انگیزی کے خلاف مقدمے کی سماعت سے انکار کرنا مایوس کن ہے سپریم کورٹ کے اس رویے سے شر پسند عناصر کے حوصلے بلند ہوں گے ،سپریم کورٹ کا دروازہ تو سب کے لیے ہر وقت کھلا رہنا چاہیے اور یہی آئین کی دفعہ 32 کا مقصد ہے جو آئین کی روح ہے۔
مفتی مکرم نے کہا کہ ضلع بریلی کے محمد گنج علاقہ میں ذاتی مکان میں نماز پڑھنے سے روکنے کے معاملے میں الہ آباد ہائی کورٹ نے ضلع مجسٹریٹ اور پولیس کپتان کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس جاری کر کے انصاف کا بول بالا کیا ہے، اپنی ذاتی جگہ میں مذہبی پر وگرام اور عبادت کرنے میں کہیں کوئی پابندی نہیں ہونی چاہیے۔ 77 سال ہو گئے ہیں آزادی کے بعد سے یہی ماحول تھا تو اب اقلیتی فرقہ کو ذاتی جگہ میں عبادت سے روکنا کیا معنی رکھتا ہے۔ دوسرے مذہب والوں پر کہیں کوئی پابندی نہیں ہے تو مسلمانوں پر بھی نہیں ہونی چاہیے خاص کر رمضان المبارک میں اس کا خاص خیال رکھا جانا چاہیے۔
دلی این سی آر
گروگرام میں پھر بلڈوزر کارروائی،3غیر قانونی کالونیاں منہدم
(پی این این )
گروگرام :گروگرام میں آج پھر بلڈوزر کارروائی ہوئی۔ غیر قانونی کالونیاں اور فارم ہاؤس مسمار کر دیے گئے۔ گروگرام ٹاؤن اینڈ کنٹری پلاننگ ڈیپارٹمنٹ نے 3غیر قانونی کالونیوں کے خلاف بلڈوزرکارروائی کی۔ یہ کالونیاں 10.5 ایکڑ اراضی پر بنائی جا رہی تھیں۔ پولیس کی موجودگی میں مظاہروں کے دوران زیر تعمیر مکانات گرا دیے گئے۔
ڈی ٹی پی ای امیت مادھولیا کی قیادت میں انہدامی دستہ پہلے تاج نگر گاؤں پہنچا۔ تقریباً چار ایکڑ اراضی پر غیر قانونی طور پر کالونی بنائی جا رہی تھی۔ 11 مکانات کے لیے ایک ڈی پی سی اور باؤنڈری وال بنائی گئی تھی۔ پلاٹوں کی فروخت کے لیے سڑک بھی بنائی گئی تھی۔ ایک بلڈوزر نے اس کالونی کو ملبے میں ڈال دیا۔ اس کے بعد ڈیمالیشن اسکواڈ ایک اور کالونی میں چلا گیا، جو اسی گاؤں میں تقریباً چار ایکڑ اراضی پر ترقی کر رہی تھی۔ اس کالونی میں زیر تعمیر آٹھ مکانات کو مسمار کر دیا گیا۔ مزید برآں، 20 مکانات کی تعمیر کے لیے ڈی پی سی رکھی گئی تھی، جسے بھی اکھاڑ پھینکا گیا۔ڈیمالیشن سکواڈ سلطان پور گاؤں پہنچ گیا۔ یہ کالونی تقریباً ڈھائی ایکڑ پر تیار کی جا رہی تھی۔ کالونی میں زیر تعمیر تین مکانات ملبے کا ڈھیر بن گئے۔ ڈی ٹی پی ای امیت مادھولیا نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ان غیر قانونی طور پر ترقی پذیر کالونیوں میں پلاٹ نہ خریدیں۔ یہ کالونیاں کسی بھی وقت گرائی جا سکتی ہیں۔ ان کالونیوں میں خرید و فروخت پر پابندی لگانے کے لیے تحصیلدار کو خط لکھا گیا ہے۔
گروگرام ہی میں، محکمہ جنگلات نے پیر کے روز رائسینا پہاڑیوں پر اراولی ماحولیات کے تحفظ کے لیے اپنی تاریخ کی سب سے بڑی اور موثر کارروائی کی۔ محکمہ کی ٹیم نے تقریباً 28 ایکڑ قیمتی اراضی پر غیر قانونی طور پر بنائے گئے فارم ہاؤسز کو مسمار کر دیا۔ ڈسٹرکٹ فارسٹ آفیسر راج کمار یادو نے بتایا کہ جس زمین پر یہ تعمیر ہو رہی ہے وہ پنجاب لینڈ پریزرویشن ایکٹ کے سیکشن 4 اور 5 کے تحت محفوظ ہے۔ قانونی طور پر، اس علاقے میں کسی بھی قسم کی تعمیر، درختوں کی کٹائی، یا باؤنڈری وال کی تعمیر سختی سے ممنوع ہے۔ اس کے باوجود لینڈ مافیا پہاڑیوں کو کاٹ کر غیر قانونی طور پر فارم ہاؤسز بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔ دریں اثنا، پیر کو کارپوریشن کی اسٹریٹ وینڈنگ مینجمنٹ ٹیم نے شہر کے بڑے تجارتی اور مصروف علاقوں میں ایک بڑا کریک ڈاؤن کیا، غیر قانونی تعمیرات کو مسمار کیا۔ ٹیم نے مرکزی چوراہے سے غیر قانونی طور پر کھڑی گاڑیوں کو بھی ہٹا دیا۔ سیکٹر 17 اور سکھرالی میں فٹ پاتھوں پر رکھے کھوکھے اور دکانداروں کی طرف سے چھوڑے گئے سامان کو ہٹا دیا گیا۔ اس کارروائی کا بنیادی مقصد سڑکوں پر ٹریفک کی روانی کو یقینی بنانا اور پیدل چلنے والوں کے لیے فٹ پاتھ خالی کرنا تھا۔مہم کے دوران عہدیداروں نے سڑکوں پر دکانداروں اور دکانداروں کو سخت وارننگ جاری کی۔
ٹیم نے واضح کیا کہ اگر ہٹانے کے بعد دوبارہ سڑک یا فٹ پاتھ پر تجاوزات پائی گئی تو نہ صرف سامان ضبط کیا جائے گا بلکہ بھاری جرمانے بھی عائد کیے جائیں گے۔ عہدیداروں نے دکانداروں سے اپیل کی کہ وہ اپنا کاروبار اپنی حدود میں کریں۔ میونسپل کمشنر پردیپ دہیا نے مہم پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ شہر کی خوبصورتی اور نظم و نسق میں کسی قسم کی مداخلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ عوامی مقامات پر ناجائز تجاوزات ٹریفک میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ ہم نے حکام کو باقاعدہ نگرانی کرنے کی ہدایت دی ہے۔ عوام الناس سے بھی اپیل ہے کہ وہ شہر کو صاف ستھرا اور منظم رکھنے میں تعاون کریں اور سڑکوں پر تجاوزات نہ کریں۔
دلی این سی آر
جامعہ ملیہ میں’عہد حاضر میں تدریس و آموزش کے تقاضے‘کے موضوع پرقومی سمینار کا انعقاد
(پی این این)
نئی دہلی :اکادمی برائے فروغ استعداد اردو میڈیم اساتذہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ’عہد حاضر میں تدریس و آموزش کے تقاضے‘ کے موضوع پر کامیابی کے ساتھ یک روزہ قومی سمینار منعقد کیا۔سمینار کا افتتاح میر انیس ہال، دیار میر تقی میر ،جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ہوا۔پروگرام میں ملک بھر سے شامل ممتاز علمی ہستیوں، محققین ماہرین اور طلبہ کا استقبال کیا گیا جنہوں نے اردو میڈیم کے خصوصی حوالے سے تدریس و آموزش کے عمل میں معاصر چیلنجیز اور ابھرتے رجحانات پر اظہار خیا ل کیا۔
شکیل الرحمان رسرچ اسکالر کی تلاوت کلام پاک سے افتتاحی اجلاس کا آغاز ہوا جس کے بعد جامعہ کا ترانہ پیش کیا گیا۔سمینار کے منتظم سیکریٹری ڈاکٹر عبد الواحد کے خیر مقدمی کلمات سے سمینار کے لیے مناسب فضا تیار ہوئی۔عزت و ستائش کی نشانی کے طورپر مندوبین کی خدمت میں مومینٹو پیش کیے گئے اس کے بعد شال پوشی کی رسم سے معزز مہمانا ن کی والہانہ موجودگی کا اعتراف کیا گیا۔ اس موقع پر معزز مہمانان نے، سال گزشتہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے یوم تاسیس کے موقع پر اکادمی کے زیر اہتمام منعقدہ موضوعی مشاعرے میں پیش کی گئی نظموں کے مجموعہ ’گلدستہ موضوعی مشاعرہ ’جامعہ کی کہانی شاعروں کی زبانی‘ کا اجرا بھی کیا۔
پروفیسر جسیم احمد، اعزازی ڈائریکٹر اے پی ڈی یو ایم ٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ و سمینار کنوینر نے حاضرین کا استقبال کرتے ہوئے سمینار کے ابتدائی مراحل میں پروفیسر مظہر آصف،شیخ الجامعہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ اور پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی، مسجل جامعہ ملیہ اسلامیہ کی جانب سے حاصل رہنمائی کے لیے ان کی خدمت میں ہدیہ تشکر پیش کیا۔ سمینار میں تعاون کے لیے انہوں نے ہولسٹک ٹرسٹ اور ا ردو اکادمی دہلی کابھی شکریہ اد اکیا۔ پروفیسر احمد نے سمینار میں مہمانان اور شرکا کاوالہانہ استقبال کیا۔انہوں نے ’کلاس روم کی قسمت کو اساتذہ سمت دیتے ہیں‘ کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات پر زوردیا کہ اسکولی تعلیم بہترین ملک کی بنیاد ہوتی ہے۔انہوں نے تدریس و آموزش کے معاصر طریقوں پر اظہار خیال کے سلسلے میں سمینار کے موضوع کی معنویت بھی اجاگر کی۔
پروفیسر سارہ بیگم، کارگزار ڈین، فیکلٹی آف ایجوکیشن، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے سامعین سے خطاب کرتے ہوئے بتایاکہ ہردور میں تدریس و آموزش کے تقاضے سماجی تناظر میں کس طرح تبدیل ہوتے ہیں۔ڈاکٹر واحد نظیر نے کلیدی خطبہ کے مہمان خطیب ڈاکٹر ندیم احمد،شعبہ اردو،جامعہ ملیہ اسلامیہ کا استقبال کیا۔ڈاکٹر ندیم احمد نے خطبہ میں موجودہ زمانے میں اساتذہ کے رول پر زور دیا اور طلبہ کی آموزش کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے ان کو میسروسائل پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے اساتذہ کی مسلسل پیشہ ورانہ ترقی کی اہمیت پر گفتگو کے ساتھ ساتھ طلبہ کو ان کی پیشہ ورانہ ملازمت کے لیے تیار کرنے کے سلسلے میں قومی تعلیمی پالیسیوں، ڈیجیٹل ٹیچنگ لرننگ ریسورسیزاینڈ ایمپ پر بھی بات کی۔
افتتاحی اجلاس کی ایک اہم بات پروفیسر ایم۔اختر صدیقی کا خطبہ تھا جنہوں نے زبان کی بنیا دپر طلبہ کے درمیان تنوع اور فرق کے مسئلے سے نمٹنے کی ضرورت کے سلسلے میں اپنے بیش قیمت تجربات و مشاہدات ساجھا کیے۔انہوں نے یہ سوال بھی پوچھا کہ اساتذہ کلاس روم میں ڈیجیٹل آلات کے استعمال میں طلبہ کی مختلف سطحوں سے کس طرح نمٹتے ہیں اور آموزش کی الگ الگ رفتار کے تناظر میں تمام طلبہ پر کس طرح توجہ دیتے ہیں۔ڈاکٹر حنا آفرین کے اظہار تشکر اور سمینار کے تکنیکی اجلاسوں کے متعلق اشارے کے ساتھ افتتاحی اجلاس اختتام پذیر ہوا۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
بہار9 months agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
بہار3 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoکجریوال کاپجاری اور گرنتھی سمان اسکیم کا اعلان
-
محاسبہ1 year agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
