Connect with us

بہار

بارش کی شدید کمی اور خشک سالی کولیکردربھنگہ ضلع کے مختلف علاقوں میں ادا کی گئی نمازِ استسقاء

Published

on

(پی این این)
دربھنگہ:بارش کی شدید کمی اور خشک سالی جیسے حالات کے پیش نظر اتوار 13 کو دربھنگہ ضلع کے مختلف علاقوں میں نمازِ استسقاء ادا کی گئی، جس میں عوام نے عاجزی اور انکساری کے ساتھ بارگاہِ خداوندی میں بارانِ رحمت کی دعائیں کیں۔پہلے سے طئے شدہ پروگرام کے مطابق
بھرواڑہ عیدگاہ میں سینکڑوں فرزندانِ توحید نے مدرسہ اسلامیہ شکرپور کے مفتی مولانا ابو بکر صدیقی کی قیادت میں نمازِ استسقاء ادا کی۔ اس موقع پر انہوں نے روحانی خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ بارش کے لیے دعا کرنا سنتِ نبوی ﷺ ہے اور نمازِ استسقاء کھلے میدان میں سورج نکلنے کے بعد بغیر اذان و اقامت کے دو رکعت نماز ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس نماز کا وقت صبح صادق کے بعد سورج نکلنے کے پندرہ تا بیس منٹ بعد ہوتا ہے اور یہ دن کے ایک چوتھائی حصے تک ادا کی جا سکتی ہے۔اس موقع پر مولانا قاری شبیر احمد، مولانا سعید احمد، مولانا سہیل احمد، اور مولانا ضیاء الرحمن برق نے ماحولیات کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے درختوں کی بے دریغ کٹائی اور آلودگی کو خشک سالی کا سبب قرار دیا۔ مقررین نے گناہوں سے توبہ، دعاؤں کے اہتمام اور شجرکاری کی تلقین کی۔شرکاء میں نائب پرمکھ ساجد مظفر ببلو،مکھیا سنگھ کے سرپرست احمد علی تمنا، مولانا انوار احمد رشادی، ڈاکٹر عامر حسن شکرپوری،ڈاکٹر منتظر پیارے، نازش خان، بارک خان، تاج احمد، شمیم خان سمیت بڑی تعداد میں اہلِ ایمان شامل تھے۔
اسی دن بریل کے عیدگاہ میں بھی نمازِ استسقاء کا روح پرور منظر دیکھنے کو ملا، جہاں مولانا محمد مظہر علی رضوی کی امامت میں نماز ادا کی گئی۔ نماز کے دوران حاضرین نے اپنے گناہوں سے توبہ، استغفار، خشوع و خضوع کے ساتھ بارش کی دعا کی تاکہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے بارانِ رحمت نازل فرمائے۔اس موقع پر نہ صرف بریل بلکہ اطراف کے دیہات جیسے ملک پور، رتن پور کٹیا، برہمپور کٹیا سے بھی لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔خصوصی شرکاء میں خلیفہ حضور شیر نیپال و خلیفہ جانشین سراجِ ملت قاری الحاج محمد شکیل احمد رضوی سراجی، مولانا ارمان قمر، حافظ امام الدین، حافظ نعمت اللہ، حافظ عارف، حافظ ساجد ،سماجی کارکن سرفراز انصاری اور مولانا ارشد شامل رہے۔
آخر میں تمام علماء کرام اور عوام نے بارش، امن، اور فتنوں سے نجات کے لیے رقت انگیز دعائیں مانگیں اور ماحولیات کے تحفظ کا عہد بھی کیا۔دیر شام تک موسم خوشگوار بنا اور ہلکی بارش بھی ہوئی۔اللہ تعالیٰ ان دعاؤں اور نمازوں کو قبول فرمائے اور ہم سب پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔ آمین

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

بہار

بہار مدرسہ بورڈ کی تیاریاں مکمل،وسطانیہ امتحان 11 جنوری سے

Published

on

(پی این این)
سیتامڑھی :بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ، پٹنہ کے زیرِ اہتمام ہونے والے وُسطانیہ (آٹھویں) سال 2026 کے امتحان کا اعلان جاری کر دیا گیا ہے۔ امتحان 11 سے 15 جنوری 2026 تک مسلسل دو نشستوں میں منعقد ہوگا۔ پہلی نشست صبح 10 بجے سے 12 بجے تک جبکہ دوسری نشست دوپہر 2 بجے سے 4 بجے تک ہوگی۔ ضلع بھر کے مقررہ امتحان مراکز پر امتحان پُرامن اور منظم انداز میں لینے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق سیتامڑھی ضلع کے مختلف تسلیم شدہ مدارس سے بڑی تعداد میں طلبہ و طالبات اس امتحان میں شریک ہوں گے۔ بورڈ کی جانب سے امتحان کو شفاف، نقل سے پاک اور وقت کی پابندی کے ساتھ منعقد کرانے کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ سوالیہ پرچوں کی رازداری، جوابی کاپیوں کی محفوظ نقل و حمل اور امتحانی مراکز پر سخت نگرانی کے واضح ہدایت جاری کیے گئے ہیں۔ امتحان کے دوران ہر مرکز پر مرکزِ نگران اور دیگر عملے کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے۔ ساتھ ہی امتحانی مراکز پر نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے ضروری رہنما اصول نافذ کیے گئے ہیں۔ طلبہ سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ وقت سے پہلے مرکزِ امتحان پر پہنچیں، ایڈمٹ کارڈ ساتھ رکھیں اور بورڈ کے تمام قواعد و ضوابط کی مکمل پابندی کریں۔
بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ، پٹنہ کے سیکرٹری عبدالسلام انصاری، مدرسہ حمیدیہ دارالْبنات حسینہ مہسول، سیتامڑھی کے پرنسپل مولانا ضیاءُالرحمن قاسمی اور مدرسہ رحمانیہ مہسول کے سابق صدر محمد ارمان علی نے کہا کہ وُسطانیہ امتحان مدرسہ تعلیم کی بنیادی اور اہم کڑی ہے، جس کے ذریعے طلبہ کی علمی صلاحیتوں اور تعلیمی معیار کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ امتحان کے سلسلے میں طلبہ میں جوش و خروش پایا جاتا ہے اور وہ بھرپور تیاری کے ساتھ امتحان میں شرکت کے لیے پُرعزم ہیں۔

Continue Reading

بہار

بہار میں کیمپ لگا کر بنائے جارہے ہیں مفت آیوشمان کارڈ

Published

on

(پی این این)
چھپرہ:رکن پارلیمنٹ راجیو پرتاپ روڈی کے توسط سے آیوشمان کارڈ رجسٹریشن کیمپ کا انعقاد کیا گیا۔20 نکاتی پروگرام کے چیئرمین دھرمیندر سنگھ چوہان کی نمائندگی میں دیوریا گاؤں میں ونود سنگھ کی رہائش پر منعقدہ کیمپ میں 204 مستفیدین کے مفت آیوشمان کارڈ بنائے گئے۔
اس موقع پر چوہان نے کہا کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ڈریم پراجیکٹ آیوشمان بھارت تک ہر کسی تک رسائی کے لیے کام کر رہے ہیں۔جب سے وزیر اعظم نے غریبوں کے علاج کے لیے آیوشمان کارڈ کا آغاز کیا ہے سارن لوک سبھا حلقہ میں ایم پی کے کارکن گاؤں گاؤں جا رہے ہیں۔ایک دن پہلے اپنی اشتہار گاڑی سے لوگوں کو مطلع کیا جاتا ہے اور پھر لوگوں کا رجسٹریشن کرنے کے لیے اگلے دن سروس گاڑی کے ساتھ مکمل نظام کو بھیجا جاتا ہے۔آن دی اسپاٹ لوگوں کا فری رجسٹریشن کیا جاتا ہے۔15 دن کے بعد ایم پی کنٹرول روم ان تمام لوگوں کو مطلع کرتا ہے جن کے کارڈ بن چکے ہوتے ہیں۔انہیں کارڈ تقسیم کئے جاتے ہیں۔
چوہان نے کہا کہ آیوشمان کارڈ غریبوں کے لیے ایک وردان ثابت ہو رہا ہے۔یہ اسکیم غریبوں کو پیسے کی کمی کی وجہ سے اپنی جان گنوانے سے بچاتی ہے۔کیمپ کو کامیاب بنانے میں بی جے وائی ایم کے سابق ضلع صدر گاما سنگھ،ڈاکٹر تارکیشور تیواری،سابق منڈل صدر سنجے تیواری وارثی،راج کمار تیواری،جنرل سکریٹری پریا کانت کشواہا،نائب صدر راکیش سنگھ نے تعاون کیا۔موقع پر راہل کمار،اوم پرکاش،وکاس،سوربھ،برجیش اور ایم پی کنٹرول روم کے معاون وغیرہ موجود تھے۔

Continue Reading

بہار

گورنر کے نام زمین رجسٹری کرنا گویا زمین کی ملکیت حکومت کو منتقل کرنا ہے:امارت شرعیہ

Published

on

(پی این این)
پھلواری شریف:ناظم امارت شرعیہ مولانا مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی نے ایک پریس بیان میں کہاہے کہ بعض علاقوں سے یہ اطلاع مل رہی ہے کہ مسلمان مسجد ، مدرسہ ، قبرستان او ر عید گاہ وغیرہ کی زمین گورنر صاحب کے نام رجسٹری کرنے کی پہل کر رہے ہیں اور ان کی سوچ یہ ہے کہ اس سے زمین محفوظ رہے گی اور مدارس ومساجد کابھی تحفظ ہوگا،یہ اقدام درست نہیں ہے۔
انہوں نے کہاکہ گورنر کے نام جو زمین رجسٹری ہوتی ہے اس کی ملکیت حکومت کو منتقل ہو جاتی ہے اور اس جائداد کے سلسلہ میں سارا اختیار حکومت کا ہوتا ہے، موجودہ صورت حال میں ایسا اقدام نہ تو مذہبی نقطۂ نظر سے درست ہے اور نہ اس طریقہ سے ذاتی زمینوں یا اوقاف کی زمین کا تحفظ ہو سکتا ہے ، بلکہ آنے والے دنوں میں بے شمار خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، اس لئے ایسے اقدام سے گریز کیا جائے ، مدارس ومساجد ، عید گاہ وقبرستان ملی سرمائے ہیں ان کا صحیح نظم ونسق اور تحفظ خود مسلمانوں کی ذمہ داری ہے ،اس لئے ضرورت ہے کہ ایسی زمینوں کے کاغذات کو قانونی اعتبار سے مستحکم رکھا جائے ،انتظامیہ کمیٹی کی شکل میں ٹرسٹ بنا کر ان کے نظام کو شریعت کی روشنی میں چلایا جائے ، امارت شرعیہ سمیت دیگر ملی تنظیمیں مسلسل ایسے امور کے بارے میں رہنمائی کر رہی ہیں ، ان کی رہنمائی سے فائدہ اٹھایا جائے اور صلاح ومشورہ کے بعد ہی کوئی قدم اٹھایاجائے ۔
ناظم صاحب نے مزید کہا کہ مخدوم گرامی امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی اس سلسلہ میں بے حد فکر مند ہیں اور اوقاف کے رجسٹریشن،غیر رجسٹرڈ زمینوں کے تحفظ کے طریقۂ کار اور جو زمینیں کسی طور پر رجسٹرڈ نہیں ہیں یا اس کے کاغذات موجود نہیں ہیں ،ان سے متعلق قانونی و شرعی نقطۂ نظر سے غور و فکر کر رہے ہیں اور جلد ہی ان امور سے متعلق مناسب رہنمائی فراہم کرائی جائے گی ۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network