Connect with us

بہار

امارت شرعیہ نے بہار میں ووٹر رجسٹریشن کی وسیع تربیتی مہم (ٹریننگ) کاکیا آغاز

Published

on

(پی این این)
پھلواری شریف: امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال نے ریاست بھر میں ووٹر رجسٹریشن مہم کو مؤثر اور منظم بنانے کے لیے ایک ہمہ جہت تربیتی پروگرام کا آغاز کیا ہے۔ اس مہم کے تحت بہار کے تمام 534 بلاکوں میں سے ہر بلاک سے پانچ تا دس افراد کو منتخب جارہا ہے جو موبائل اور لیپ ٹاپ کے استعمال میں تکنیکی مہارت رکھتے ہیں۔ ان افراد کو ووٹر اینومیریشن فارم آن لائن بھرنے کی تربیت دی جا رہی ہے؛ تاکہ وہ اپنے علاقوں میں عوام کی رہنمائی کر سکیں۔
تربیتی سلسلے کی پہلی کڑی کے طور پر آج ایک آن لائن زوم میٹنگ منعقد کی گئی جس میں بہار کے مختلف اضلاع کے متعدد بلاک سے تقریباً دو سو افراد نے شرکت کی۔ میٹنگ کی صدارت خود امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض قائم مقام ناظم مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی نے انجام دئیے۔ پروگرام کا آغاز معاون ناظم مولانا حسین احمد قاسمی مدنی کی پُراثر تلاوتِ قرآن کریم سے ہوا۔
قائم مقام ناظم نے ابتدائی کلمات میں شرکاء کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ امارت شرعیہ نے جب جس وقت قوم کو ضرورت پڑی، ہر مہم میں مسلمانوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پیش قدمی کی۔ وقف ایکٹ کے خلاف 29 جون کو گاندھی میدان بھرو تحریک، 9/ جولائی کو بہار بند کی کامیاب حمایت، اور اب ووٹر رجسٹریشن مہم کا آغاز اس کی واضح مثال ہے۔ اور ان شاء اللہ آئندہ بھی قوم کو جب، جس وقت، جیسی ضرورت پیش آئے گی، امارت شرعیہ کے تمام کارکنان ملت کی خدمت کے لیے کمربستہ نظر آئیں گے۔
اپنے صدارتی خطاب میں امیر شریعت نے ووٹر لسٹ میں نام شامل کرانے کوجمہوریت میں رہنے والے ہر مسلمان کی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے شرکاء کو تاکید کی کہ اس مہم کو سنجیدگی سے لیں اور ہر ممکن کوشش کریں کہ ہر بالغ شہری کا نام ووٹر لسٹ میں شامل ہو۔ نیز یہ بھی فرمایا کہ جمہوری جد وجہد کرکٹ کے کھیل کی طرح نہیں بلکہ فٹ بال گیم کی طرح ہے جہاں ہر کھلاڑی کو ہر وقت مشغول اور چاق و چوبند رہنا ہوتا ہے۔
آپ نے واضح کیا کہ بعض اضلاع سے یہ اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ بی ایل او حضرات کو ضلعی انتظامیہ کی طرف سے فارم بغیر ضروری دستاویزات کے بھرنے پر زور دیا جا رہا ہے، جو کہ شفافیت کے اصول کے خلاف ہے۔امیر شریعت نے اس پس منظر میں زور دیا کہ تمام مطلوبہ ڈاکومنٹس کے ساتھ فارم بھرا جائے اور ووٹر فارم آن لائن بھرنے کو ترجیح دی جائے؛ تاکہ ہر اندراج کا مکمل ریکارڈ رہے اور کسی بھی طرح کی جعل سازی یا خرد برد کو روکا جا سکے۔
اس کے بعد امارت شرعیہ کی ریسرچ ٹیم کے فعال رکن مفتی قیام الدین قاسمی نے شرکاء کو تقریباً آدھے گھنٹے کی مفصل تربیت دی، جس میں ووٹر رجسٹریشن فارم بھرنے کا طریقہ، تکنیکی نکات، دستاویزات کی اہمیت، فارم بھرنے والوں کی چھ کیٹیگریز اور ہر کیٹیگری کے لیے ضروری دستاویزات اور بی ایل او کے کردار سے متعلق رہنمائی شامل تھی۔
میٹنگ کے دوران اور بعد میں شرکاء کی طرف سے کیے گئے سوالات کے جوابات امیر شریعت، مفتی قیام الدین قاسمی اور حافظ احتشام رحمانی نے دیے۔ یہ سیشن نہایت معلوماتی اور مؤثر رہا۔ آخر میں امیر شریعت کی دل سوز دعا پر اس بابرکت نشست کا اختتام ہوا۔

بہار

نتیش کمار نے بہارقانون ساز کونسل کی رکنیت سے دیااستعفیٰ

Published

on

(پی این این )
پٹنہ :بلآخر بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار راجیہ سبھا رکن کے طور پر منتخب ہونے کے بعد قانون ساز کونسل کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ جے ڈی یو لیڈر وجے کمار چودھری نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار پہلے ہی راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہو چکے ہیں، اس لیے استعفیٰ ضروری تھا۔ نتیش کمار کی جانب سے جے ڈی یو ایم ایل سی سنجے گاندھی نے بہار قانون ساز کونسل کے چیئر مین کو استعفیٰ سونپ دیا ہے۔
واضح ہوکہ نتیش کمار 2006 سے مسلسل قانون ساز کونسل کے رکن تھے، وہ رواں ماہ 16 مارچ کو راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہو گئے تھے۔ جے ڈی یو کے سربراہ ان لیڈران میں شامل ہیں جو چاروں ایوانوں کے رکن بنے ہیں۔ نتیش کمار نے راجیہ سبھا انتخاب لڑنے کے دوران کہا تھا کہ ان کی خواہش تھی کہ وہ راجیہ سبھا رکن کے طور پر منتخب ہوں، اس لیے انہوں نے یہ فیصلہ لیا ہے۔
واضح رہے کہ نتیش کمار 1985 میں ہرنوت اسمبلی سیٹ سے جیت حاصل کر اسمبلی پہنچے تھے۔ اس کے بعد 1989 میں وہ نویں لوک سبھا کے لیے منتخب ہوئے اور 2006 سے مسلسل قانون ساز کونسل کے رکن تھے۔ اب پہلی بار راجیہ سبھا کے رکن کے طور پر وہ اپنی نئی پاری کی شروعات کرنے جا رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق آئندہ ماہ 10 اپریل کو وہ راجیہ سبھا کی رکنیت حاصل کریں گے۔

Continue Reading

بہار

جیویش کمار نے ہائی اسکول کی عمارت کا کیا افتتاح

Published

on

(پی این این )
جالے: جالے اسمبلی حلقہ میں ترقیاتی کاموں کو مزید تقویت دیتے ہوئے رکنِ اسمبلی و سابق ریاستی وزیر جیویش کمار نے 2 اہم عوامی منصوبوں کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر مقامی نمائندے، معززینِ علاقہ اور بڑی تعداد میں عوام موجود رہے۔
راڑھی جنوبی پنچایت (بہاری) میں نوتعمیر شدہ ہائی اسکول عمارت کا افتتاح عمل میں آیا، جس کی تعمیر تقریباً 213.27 لاکھ روپے کی لاگت سے مکمل ہوئی ہے۔ اس عمارت کے قیام سے علاقے کے طلبہ کو بہتر تعلیمی سہولیات میسر آئیں گی۔
اسی طرح برہمپور مشرقی پنچایت (کٹائی) میں پنچایت سرکار بھون کا افتتاح کیا گیا، جس پر تقریباً 305.31 لاکھ روپے خرچ ہوئے ہیں۔ اس عمارت کے ذریعے مقامی انتظامی نظام کو مضبوطی ملے گی اور عوام کو مختلف سرکاری خدمات ایک ہی جگہ فراہم کی جا سکیں گی۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رکنِ اسمبلی جیویش کمار نے کہا کہ حلقہ میں تعلیم، دیہی ترقی اور بہتر حکمرانی کو فروغ دینا ترجیحات میں شامل ہے، اور اس سمت میں کام جاری رہے گا۔تقریب میں شریک افراد نے ان منصوبوں کو علاقہ کی ترقی کی جانب اہم قدم قرار دیا۔

Continue Reading

بہار

بہارمدرسہ بورڈ کا بڑااعلان: تمام امدادی مدارس میں مڈ ڈے میل لازمی

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:بہار میں مدرسہ تعلیم کے نظام کو لے کر ایک بڑا اور اہم فیصلہ سامنے آیا ہے۔ بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ نے سخت ہدایت جاری کرتے ہوئے ریاست کے تمام امدادی مدارس میں مڈ ڈے میل (درمیانی کھانا) اسکیم کو لازمی طور پر نافذ کرنے کا حکم دیا ہے۔
مدرسہ بورڈ کے سکریٹری عبدالسلام انصاری نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر، مڈ ڈے میل اسکیم، بہار کو خط ارسال کرتے ہوئے فوری کارروائی یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے۔ بورڈ نے واضح کیا ہے کہ کئی امدادی مدارس اب تک اس اسکیم سے محروم ہیں، جو ایک تشویشناک امر ہے۔ جاری خط میں کہا گیا ہے کہ مڈ ڈے میل اسکیم تمام تعلیمی اداروں کے لیے لازمی ہے، ایسے میں کسی بھی مدرسے کا اس سے باہر رہنا قابل قبول نہیں ہوگا۔
ہدایت دی گئی ہے کہ تمام محروم مدارس کو فوراً اس اسکیم سے جوڑا جائے تاکہ وہاں زیر تعلیم طلبہ و طالبات کو غذائیت سے بھرپور کھانا فراہم کیا جا سکے۔ سکریٹری انصاری نے واضح طور پر کہا کہ اس اسکیم کا مقصد صرف کھانا فراہم کرنا نہیں بلکہ بچوں کی صحت بہتر بنانا اور اسکولوں میں ان کی حاضری بڑھانا بھی ہے۔ اس لیے کسی بھی سطح پر لاپروائی برداشت نہیں کی جائے گی۔ بورڈ کی جانب سے 1942 امدادی مدارس کی فہرست فراہم کر دی گئی ہے اور سبھی کو اسکیم کے دائرے میں لانے کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔
سیتامڑھی کی صورتحال پر نظر ڈالیں تو ضلع میں کئی مدارس میں پہلے سے مڈ ڈے میل چل رہا ہے، لیکن بڑی تعداد اب بھی اس سے محروم ہے۔ اس کو دیکھتے ہوئے سخت ہدایت دی گئی ہے کہ اپریل سے ہر حال میں ضلع کے تمام مدارس میں یہ اسکیم نافذ کر دی جائے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ انتظامیہ اس حکم کو زمینی سطح پر کتنی تیزی اور سنجیدگی سے نافذ کرتی ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network