Connect with us

بہار

انڈیا اتحاد کا بہار بند اور چکا جام رہا مکمل کامیاب

Published

on

(پی این این)
چھپرہ :بہار میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے قبل الیکشن کمیشن کے ذریعے ووٹروں کے نظرثانی مہم کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے انڈیا اتحاد کے ضلع کے لیڈروں اور کارکنوں نے جلوس کی شکل میں شہر میں دکانیں بند کرائیں اور گاڑیوں کی آمدورفت کو روک دیا۔بند کی کال پوری طرح کامیاب رہی۔ضلع آر جے ڈی کے ترجمان ہرے لال یادو نے بتایا کہ شہر کے نگرپالیکا چوک پر مڑھوڑہ کے ایم ایل اے اور سابق وزیر جتیندر کمار رائے،سارن وکاش منچ کے کنوینر شیلیندر پرتاپ سنگھ،صدر سنیل رائے،رادھے کرشن پرساد وغیرہ کی قیادت میں سینکڑوں آر جے ڈی لیڈر اور کارکنوں نے ایک جلوس نکالا۔جلوس الیکشن کمیشن کے خلاف،مودی سرکار کے خلاف،ووٹروں کی نظرثانی کے حکم کو واپس لینے کے نعرے لگاتے ہوئے تھانہ چوک،صاحب گنج،مونا چوک،کچہری اسٹیشن،یوگینیاں کوٹھی سے ہوتے ہوئے واپس نگرپالیکا چوک پہنچا اور جلسے میں تبدیل ہوگیا۔
جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے ایم ایل اے جتیندر رائے نے کہا کہ مرکز کی این ڈی اے حکومت کے حکم پر الیکشن کمیشن کے ووٹر نظرثانی پروگرام کے تحت بہار کے کروڑوں لوگوں کو ووٹنگ کے حق سے محروم کرنے کی گہری سازش رچی گئی ہے۔جو اپنی روزی روٹی کمانے کے لیے دوسری ریاستوں میں چلے گئے ہیں اور محروم دلت طبقے کی بڑی تعداد اس سے متاثر ہوگی۔مختصر وقت میں متعدد قسم کے دستاویزات کا مطالبہ اور ووٹر لسٹ سے نام حذف کرنے کی آر جے ڈی ہر قیمت پر مخالفت کرے گی۔شیلیندر پرتاپ نے کہا کہ سارن کے عوام الیکشن کمیشن اور مودی حکومت کے اس تغلقی فرمان کو آخری سانس تک قبول نہیں کریں گے۔اس کے ساتھ ہی تھانہ چوک پر دکانیں بند کرنے اور گاڑیوں کی آمدورفت کو روکنے میں سنئر لیڈر عبدالقیوم انصاری،شری بھگوان رائے،جلانی مبین،مکیش کمار یادو عرف سونو،راجو یادو وغیرہ شامل تھے۔
ترجمان مسٹر یادو نے کہا کہ الیکشن کمیشن مرکزی حکومت کے حکم پر ایسے وقت میں ووٹر ریویژن پروگرام کر رہا ہے جب بہار کے زیادہ تر اضلاع سیلاب جیسی خوفناک صورتحال میں ہیں جہاں اتنے کم وقت میں بی ایل او ہر دروازے تک نہیں پہنچ سکتے۔انہوں نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن اور مرکزی حکومت کی نیت صاف تھی تو وہ آدھار کارڈ،ووٹر کارڈ،راشن کارڈ،منریگا جاب کارڈ کی بنیاد پر ووٹر لسٹ کی بنیاد پر نظر ثانی کرتی۔آر جے ڈی لیڈروں نے الیکشن کمیشن کے کام کرنے کے انداز پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا ووٹر لسٹ جس پر 2024 میں لوک سبھا انتخابات ہوئے تھے فرضی ہے. کیا بہار میں 2003 کے بعد جتنے بھی انتخابات ہوئے وہ بھی فرضی ووٹر لسٹ کی بنیاد پر ہوئے۔آر جے ڈی کسی بھی قیمت پر بہار کے عوام کے جمہوری حقوق کو پامال نہیں ہونے دے گی۔
اس موقع پر امر رائے،سدھانشو رنجن پانڈے،پرتیما کشواہا،چندرووتی یادو،رتیش سنگھ،چندیشور رائے،شیام جی پرساد،بیرندر ساہ،گڈو یادو،ارمیلا یادو،رام کمار رائے،جناردن رائے،انیل کمار رائے،گوتم یادو،ڈاکٹر رام چندر،راما رام،گڈو یادو،دیو کمار مہتو،کنہیا چودھری وغیرہ موجود تھے۔

بہار

جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر میں عظیم الشان اجلاس ختم بخاری شریف کا انعقاد

Published

on

(پی این این)
مونگیر :جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر میں ہر سال کی طرح اس سال بھی ختمِ بخاری شریف کی عظیم الشان اور بابرکت تقریب خانقاہ رحمانی کی پرشکوہ مسجد میں منعقد ہوئی، جس کی صدارت جامعہ رحمانی مونگیر کے سرپرست امیرِ شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی ، سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر نے کی۔ اس موقع پر امیرِ شریعت نے جامعہ رحمانی سے اس سال فارغ ہونے والے طلبہ کو بخاری شریف کی آخری حدیث کا درس دے کر حدیث کے پڑھنے پڑھانے کی اجازت دی اور نہایت بصیرت افروز، فکر انگیز اور نصیحت آموز خطاب میں علم کے ساتھ عمل، اخلاص، تقویٰ اور خدمتِ دین کی تلقین کی۔ حضرت نے آیتِ کریمہ اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ کی تشریح کرتے ہوئے زندگی کے ہر لمحے ہر کام میں رضاء الٰہی کے طلب و استحضار پر زور دیا اور نصیحت کی کہ اصل کامیابی اس وقت ملتی ہے جب انسان اپنی پوری زندگی کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے تابع کر دے۔
آپ سے قبل جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کے شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد اظہر مظاہری نے بخاری شریف کی ایک حدیث پڑھائی ،اور اپنی سند سے حدیثِ رسول ﷺ کی روایت، قرأت اور تدریس کی اجازت دی ساتھ ہی اکابرِ امت کی تشریحات کی روشنی میں حدیث شریف پر مکمل عمل پیرا ہونے کی خصوصی تاکید کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ رحمانی کے ناظمِ تعلیمات مولانا جمیل احمد مظاہری نے فرمایا کہ قرآنِ کریم کے بعد حدیثِ رسول ﷺ ہی شریعتِ اسلامیہ کی عملی اور مستند تعبیر ہے، جبکہ مفتی محمد جنید قاسمی نے اسلام و شریعت میں حدیثِ شریف کی حجیت پر جامع اور مدلل خطاب کرتے ہوئے منکرینِ حدیث کے شبہات کا علمی و تحقیقی جائزہ پیش کیا۔ اسی طرح ناظمِ تعلیمات برائے امور طلبہ مولانا محمد خالد رحمانی نے حدیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں اصلاحِ معاشرہ کے موضوع پر نہایت فکر انگیز گفتگو کی اور سماج میں پھیلی ہوئی اخلاقی و معاشرتی برائیوں کے سدِباب پر زور دیا اور ساتھ ہی مکمل پروگرام کی شاندار نظامت کی ۔
اجلاس کا آغاز جامعہ کے استاد مولانا قاری وسیم اختر قاسمی کی پرسوز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ بعد ازاں مولانا محمد دلشاد رحمانی، حافظ محمد انصار سلمہ (متعلمانِ جامعہ رحمانی مونگیر) اور معروف نعت خواں مولانا منظر قاسمی رحمانی نے بارگاہِ رسالت ﷺ میں نعتیہ کلام پیش کر کے محفل کو روحانیت سے معطر کر دیا۔ انجمن نادیۃ الادب کے صدر و استاذ حدیث جامعہ رحمانی مونگیر مولانا محمد نعیم رحمانی نے انجمن کے مختلف پروگراموں میں پوزیشن حاصل کرنے والے تمام طلبہ کو حضرت امیر شریعت کے دست مبارک سے انعام عطا کروایا ۔اختتامی مرحلے میں مولانا محمد برکت اللہ رحمانی کھگڑیا نے الوداعی ترانہ پیش کیا، جس سے مجلس پر رقت طاری ہو گئی اور حاضرین کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔اخیر میں حضرت امیر شریعت کی دعاء سے پروگرام کا اختتام ہوا۔
جامعہ رحمانی میں 9 فروری سنہ 1966 ء میں دورہ حدیث شریف کا افتتاح ہوا تھا تب سے تسلسل کے ساتھ یہاں حدیث شریف کے پڑھنے پڑھانے کا کام جاری ہے۔یہ روحانی و علمی تقریب ہر اعتبار سے نہایت کامیاب رہی، جس میں جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کے ذمہ داران، اساتذۂ کرام، کارکنان، طلبہ کے علاوہ بہار کے مختلف اضلاع اور ملک کے الگ الگ گوشوں سے جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کے متعلقین، متوسلین اور معتقدین کی بڑی تعداد نے شرکت کر کے خوب استفادہ کیا۔

Continue Reading

بہار

ذکر اللہ سے قلب میں پیدا ہوتی ہے نورانیت : امیر شریعت

Published

on

(پی این این)
پھلواری شریف:دارالعلوم الاسلامیہ امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ کے دورۂ حدیث کے طلباء کے درمیان آخری درس دیتے ہوئے مفکر ملت، امیر شریعت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی نےکہا کہ حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے آغاز کتاب میں اخلاص نیت کی حدیث درج فرمائی اور سب سے اخیر میں ذکر اللہ سے متعلق حدیث کو بیان فرما کر اس طرف اشارہ کر دیا کہ جو کام اخلاص و للہیت اور رضاء الہی کے جذبے سے انجام دیا جاتا ہے وہ تھوڑا ہونے کے باوجود میزان عدل میں وزنی ہو جاتا ہے، اس لیے سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم کا کثرت سے ورد کرتے رہنا چاہیے، اس سے ایمان و یقین میں تازگی اور فکر و عمل میں نورانیت و روحانیت پیدا ہوتی ہے۔
امیر شریعت نے آخری حدیث کا درس دیتے ہوئے کہا کہ قیامت کے دن اعمال و اقوال بھی وزن کیے جائیں گے اور اس کی بنیاد پر فیصلے ہوں گے، حضرت نے فرمایا کہ ذکر اللہ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم بہت ہی آسان کلمے ہیں جو زبان پر آسانی سے چڑھتے ہیں، ہم سب کو اس کا برابر اہتمام کرتے رہنا چاہیے، حضرت نے اس موقع پر اجازت حدیث کی سند دیتے ہوئے فرمایا کہ میں نے مولانا مفتی یحیی ندوی سے حدیث کا درس لیا، انہوں نے مولانا عبداللطیف سے، پھر انہوں نےمولانا شاہ فضل رحمنٰ گنج مراد آبادی سے اور انہوں نے شاہ عبدالعزیز سے اور انہوں نے حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی سے اجازت حدیث حاصل کیا، میں بھی اس سال دورۂ حدیث سےفارغ ہونے والے طلبہ کو اس سلسلہ سے اجازت حدیث دیتا ہوں۔
دارالعلوم الاسلامیہ کے سکریٹری قاضی وصی احمد قاسمی نائب قاضی شریعت مرکزی دارالقضاء‌امارت شرعیہ نے دارالعلوم کی تعلیمی سرگرمیوں کا تفصیل سے تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے آپ کی یہ دینی درسگاہ تعلیمی و تربیتی میدان میں نہایت ہی ممتاز ہے، شوال میں بڑی تعداد میں طلبہ داخلہ کے لیے آتے ہیں لیکن قلت اسباب کے باعث معذرت کرنی پڑتی ہے اگر آپ حضرات کا خصوصی تعاون جاری رہے تو ہم اسے مزید آگے بڑھا سکیں گے اس لیے کہ دارالعلوم الاسلامیہ اکابرین امارت شرعیہ کے خوابوں کی حسین تعبیر ہے۔ امارت شرعیہ کے نائب ناظم مولانا مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی نے کہا کہ دارالعلوم الاسلامیہ ایک ایسا مثالی ادارہ ہے جہاں تعلیم کے ساتھ معیاری تربیت بھی دی جاتی ہے اس لیے یہ ملک کے ممتاز اداروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ مولانا مفتی محمد احتکام الحق قاسمی قائم مقام ناظم امارت شرعیہ نے کہا کہ اس ادارہ نے قلیل مدت میں نمایاں ترقی حاصل کی یہاں کے بزرگوں کے اخلاص و للہیت کا ثمرہ ہے۔ درس حدیث سے قبل دارالعلوم کے ہونہار طلباء نے اردو، عربی، انگریزی، فارسی اور ہندی زبانوں میں پرمغز اور دلکش تقریریں کیں، جس سے سامعین پر بڑا گہرا اثر ہوا اور لوگوں نے ان بچوں کے لیے دل سے دعائیں کی۔دارالعلوم الاسلامیہ کے مہتمم مولانا مفتی یحیی غنی قاسمی نے مہمانان کرام کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا۔

Continue Reading

بہار

نالندہ میں ضلع سطحی ’فروغ اردو‘ ورکشاپ، سیمینار اور مشاعرہ کا انعقاد

Published

on

(پی این این)
نالندہ :نالندہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر کے ٹاؤن ہال میں ایک عظیم الشان ضلعی سطح کی ’فروغ اردو‘ورکشاپ، سیمینار اور مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا۔پروگرام کا افتتاح نالندہ کے ضلع مجسٹریٹ کندن کمار، ایس ایم اور پرویز عالم، ڈائریکٹر، اردو ڈائریکٹوریٹ، کابینہ سیکریٹریٹ ڈیپارٹمنٹ، بہار، پٹنہ نے مشترکہ طور پر چراغ جلا کر کیا۔
پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ضلع مجسٹریٹ کندن کمار نے کہا کہ اردو زبان کو ریاست بہار میں دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے جو اس کی تاریخی، ثقافتی اور ادبی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو زبان نے ملک اور ریاست کی مشترکہ ثقافت کو تقویت دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اردو صرف ایک زبان نہیں ہے بلکہ ثقافت، بھائی چارے اور ادبی ورثے کی علامت ہے۔ انتظامیہ اس کے تحفظ، ترویج اور تبلیغ میں ہمیشہ تعاون کرے گی۔
اس موقع پر ایس ایم پرویز عالم، ڈائریکٹر، اردو ڈائریکٹوریٹ، کابینہ سیکریٹریٹ محکمہ، بہار، پٹنہ، نے اپنے خطاب میں کہا کہ بہار حکومت اردو زبان کی ترقی اور ترقی کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ریاستی حکومت اردو کی تعلیم، ادب، تحقیق اور ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے مسلسل اسکیمیں نافذ کررہی ہے، تاکہ نئی نسل اردو زبان سے جڑ سکے۔
پروگرام کے دوران منعقدہ سیمینار اور مشاعرہ میں ضلع کے ممتاز اردو ادیبوں، شاعروں اور زبان سے محبت کرنے والوں نے شرکت کی۔ مقررین نے اردو زبان کے تاریخی پس منظر، اس کی ترقی کے سفر اور عصری مناسبت پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ مشاعرے میں پیش کیے گئے اشعار نے سامعین کو محظوظ کیا۔
ورکشاپ میں اردو زبان کے فروغ، اس کی تعلیمی ترقی اور معاشرے میں اس کی افادیت پر بھی بات کی گئی۔ پروگرام میں اردو ادب کے شائقین، اساتذہ، طلباء اور معززین کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ اس موقع پر ایڈیشنل کلکٹر نالندہ، اسٹیبلشمنٹ ڈپٹی کلکٹر، سینئر ڈپٹی کلکٹر، شگفتہ پروین، ڈسٹرکٹ پلاننگ آفیسر، انچارج آفیسر، ضلع اردو سیل اور دیگر موجود تھے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network