Connect with us

بہار

AISA کابہار میں ڈومیسائل پالیسی نافذ کرنے کامطالبہ

Published

on

(پی این این)
چھپرہ :۔AISA کے لیڈروں نے کہا ہے کہ بہار میں ڈومیسائل پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے دوسری ریاستوں کے طلباء بہار کی نوکریوں میں شامل ہو کر بہار کے طلباء کو محروم کر دیتے ہیں۔جس کی وجہ سے بہار کے طلباء نوکریوں سے محروم ہوتے نظر آرہے ہیں۔بہار میں اساتذہ کی بھرتی میں ڈومیسائل نہ ہونے کی وجہ سے لاکھوں طلباء دوسری ریاستوں سے آکر بہار میں کام کر رہے ہیں۔جب کہ بہار کے طلباء جب دوسری ریاستوں میں جاتے ہیں تو وہاں کی ڈومیسائل پالیسی کی وجہ سے محروم رہ جاتے ہیں۔مثال کے طور پر جھارکھنڈ،اتر پردیش،گجرات،تلنگانہ،مغربی بنگال جیسی ریاستوں میں ڈومیسائل پالیسی لاگو ہے۔جس کی وجہ سے مقامی طلبہ کو زیادہ سے زیادہ مواقع ملتے ہیں۔اس لیے طلبہ تنظیم AISA احتجاجی مارچ کے ذریعے مطالبہ کرتی ہے کہ بہار میں 90 فیصد ڈومیسائل پالیسی نافذ کی جائے۔
اس کے ساتھ ہی بہار میں الیکشن کمیشن کی طرف سے ووٹر لسٹ کی دوبارہ نظر ثانی کرائی جا رہی ہے۔الیکشن کے عین قبل ایسا کرنا ناگزیر معلوم ہوتا ہے۔الیکشن کمیشن نے اس سنگین مسئلے پر پہلے غور کیوں نہیں کیا۔الیکشن کے وقت ووٹرز کا معائنہ کیوں۔سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا اتنی بڑی آبادی والے ملک میں انتخابات کے قبل صرف تین ماہ کے اندر تمام ووٹرز کی شناخت کو یقینی بنانا ممکن ہو سکے گا۔وہ بھی مکمل شفافیت کے ساتھ اور اگر تمام ووٹرز کو ووٹر لسٹ میں شامل نہیں کیا گیا تو ملک کے عوام اپنے سب سے بڑے جمہوری حق یعنی ووٹ ڈالنے سے محروم ہو جائیں گے۔اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ ووٹرز کو محروم کرنے کی سازش ہے۔اس کے خلاف 7 جولائی کو چھپرہ میں ایک احتجاجی مارچ نکالا جائے گا۔جس میں ہم چھپرہ کے تمام انصاف پسند،جمہوریت پر یقین رکھنے والے ساتھیوں سے اپیل کریں گے کہ وہ ان پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے آگے آئیں اور بہار کو ترقی یافتہ بنانے کا عہد کریں۔اس احتجاجی مارچ کی قیادت وکاس پاسوان،ہمانشو،ابھے رانی،پریانشو ضلع صدر کنال کوشک اور آئیسا کے ضلع سکریٹری دیپانکر مشرا کریں گے۔

بہار

پی ایم آواس اسکیم کے مستحقین کا جاب کارڈ بنانے کو لیکر کیمپ کا انعقاد

Published

on

(پی این این)
حاجی پور‌:بہار کےحاجی پورضلع کے راجا پاکر بلاک علاقہ واقع جنوبی پنچایت میں پردھان منتری آواس یوجنا کے مستحقین کے لیے جاب کارڈ کیمپ کا انعقاد راجاپاکر جنوبی پنچایت کے پنچایت بھون احاطے میں پردھان منتری آواس یوجنا کے منتخب مستحقین کے لیے منریگا کے تحت جاب کارڈ بنانے کی غرض سے ایک خصوصی کیمپ کا انعقاد کیا گیا۔ کیمپ میں درجنوں خواتین سمیت بڑی تعداد میں لوگ موجود رہے اور جاب کارڈ بنوانے کے لیے خاصی بھیڑ دیکھی گئی۔
اس سلسلے میں معلومات دیتے ہوئے آواس سہایک دھرمیندر کمار نے بتایا کہ جن افراد کا نام پردھان منتری آواس یوجنا کی منتخب فہرست میں شامل ہے، ان کے لیے منریگا کے تحت جاب کارڈ بنوانا لازمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر جاب کارڈ نہیں بنایا گیا تو مکان کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد مزدوری کی رقم سے مستحقین محروم رہ جائیں گے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس کیمپ کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ تمام اہل افراد کو سرکاری اسکیموں کا پورا فائدہ مل سکے۔ کیمپ کے دوران آواس سہایک دھرمیندر کمار، منریگا کے کمپیوٹر آپریٹر روی کمار، ڈی ایف ڈی نتیش کمار، پی آر ایس سنیل کمار، مکھیا پرمیلا دیوی، نائب مکھیا کماری سنجو رانی اور نتھونی پرساد سنگھ سمیت دیگر افراد نے لوگوں کو بیدار کیا اور انہیں کیمپ میں لا کر جاب کارڈ بنانے میں تعاون کیا۔
نتھونی پرساد سنگھ نے بتایا کہ آج کے کیمپ کے بعد بھی اگر کوئی مستحق رہ جاتا ہے تو منریگا اہلکار اور آواس سہایک گھر گھر جا کر ان کا جاب کارڈ تیار کریں گے، تاکہ کوئی بھی شخص سرکاری مزدوری کی رقم سے محروم نہ ہو۔ جاب کارڈ بنانے کے لیے ضروری دستاویزات میں آدھار کارڈ، بینک پاس بک اور ایک عدد پاسپورٹ سائز تصویر شامل ہے، جو رجسٹریشن کے وقت جمع کی جائے گی۔ واضح رہے کہ راجاپاکر جنوبی پنچایت میں پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت کل 1608 مستحقین شامل ہیں، جن میں تمام طبقات کے افراد شامل ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے کوشش کی جا رہی ہے کہ سبھی مستحقین کو بروقت جاب کارڈ فراہم کیا جائے تاکہ انہیں اسکیم کا مکمل فائدہ مل سکے۔

Continue Reading

بہار

وندے ماترم کی لازمیت مذہبی اور شخصی آزادی کے خلاف :امیر شریعت

Published

on

(پی این این)
پھلواری شریف:امیر شریعت بہار، اڈیشہ ،جھارکھنڈ ومغربی بنگال مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی نےکہاکہ نظم وندے ماترم کی اصل روح دیوی ،درگاہ کی حمد وثناء پر مبنی ہے ، اس کو لازمی قرار دینا مذھبی اور شخصی آزدی کے قطعی خلاف ہے۔انہوں نےمزید فرما یاکہ ملک آئین ودستور سے چلے گا کیونکہ دستور کے معماروں نے ملک کے دستور کو سیکولر ڈھانچہ میں تشکیل دیا ہے ، جس میں تمام مذاہب وادیان کو مذہبی آزادی حاصل ہے ، یہاں کے تمام باشندے اپنے مذہب وعقیدے پر آزادانہ طریقہ پر عمل کرتے ہیں جو ان کے بنیادی حقوق کا حصہ ہے اور وندے ماترم گیت میں دیوی دیوتا ؤں کو ماں تصور کرنے کا نظریہ پیش کیا گیا ہے ، ماضی میں بھی یہ قضیہ کھڑا ہواتھا ملک کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے واضح کردیا تھا کہ یہ ترانہ اپنے مخصوص تہذیب میں روایت سے وابستہ ہے ، اس کو ملکی وحدت قرار دینے سے مشکلات پیداہوں گی ، تحریک آزادی کے قائد اور ملک کےپہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزادؒ نے کہا کہ اس طرح کے ترانوں سے قومی یکجہتی میں شگاف پیدا ہوسکتا ہے ، بالآخر یہ مسلمانوں کے ایمان وعقیدے کے منافی ہے جس کو ہم کسی طرح تسلیم نہیں کریں گے ، کیوں کہ مذہبی آزادی ہمارا بنیادی حق ہے ۔
ناظم امارت شرعیہ مولانا مفتی محمد سعیدا لرحمن قاسمی نےکہاکہ ملکی عدالتوں نے اس ترانے کو سیکولر اقدار کے منافی قرارد یا ہے، اس کے باجود مرکزی حکومت کا وندے ماترم گانے پر اصرارکرنا دستور وآئین اورعدالتی فیصلوں کے قطعی خلاف ہے، اس سے ملک میں یکجہتی قائم نہیں رہ سکتی ہے ، لہٰذا ملکی وحدت وسالمیت کے پیش نظر حکومت اپنے نوٹیفیکیشن کو واپس لے تاکہ ملک میں جمہوری اقدار قائم رہیں ، انہوں نے مزید فرمایاکہ اس ملک کو بنانے وسنوارنےاورانگریزوں کے تسلط سے آزاد کرانے میں مسلمانوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں ، ہزاروں کی تعدا د میں مسلمان شہید ہوئے ، قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کیں ، ان کی سرفروشانہ کوششوں کے نتیجہ میں ملک آزاد ہوا،اور یہ ملک گنگا جمنی تہذیب کا گہوارہ قرار پایا اور تمام مذاہب وادیان کا خیال رکھتے ہوئے دستور بنایا گیا،لہذا ان پر کوئی ایسے نامناسب کلمات وگیت کو قومی ترانہ کا نام دے کر پڑھنے پر مجبور کرنا کسی طرح بھی قبول نہیں ہے ۔ اس لیے ہمار امرکزی حکومت سے مطالبہ ہے کہ فورا ًاس نوٹیفیکیشن کو واپس لے تاکہ ملک میں امن وامان قائم رہے اور محبت وبھائی چارگی کی فضا ہموار ہو۔

Continue Reading

بہار

امیرِ شریعت کے ہاتھوں متعدد اہم کتابوں کا شاندار رسمِ اجرا

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال کے مرکزی دفتر میں منعقدہ اجلاسِ مجلسِ شوریٰ کے موقع پر ایک یادگار اور علمی اہمیت کی حامل نشست میں امیرِ شریعت مفکرِ ملت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کے دستِ مبارک سے متعدد قیمتی اور علمی کتابوں کا باوقار رسمِ اجرا انجام پایا۔
اس موقع پر معروف عالمِ دین، صاحبِ قلم اور معہد عائشہ الصدیقہ خاتوپور بیگوسرائے کے بانی وناظم مولانا مفتی عین الحق امینی قاسمی کی دو اہم تصانیف کی رونمائی عمل میں آئی۔ پہلی کتاب “افکارِ ولی” ہے، جو امیرِ شریعت سابع مولانا محمد ولی رحمانی رحمہ اللہ تعالیٰ کے افکاروالفاظ، سیرت و کردار، منہج و اولیات اور دینی و سماجی خدمات پر مبنی تحقیقی اور فکری مضامین کا ایک نہایت گراں قدر اور بصیرت افروز مجموعہ ہے۔ کتاب امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی نائب امیر شریعت مولانا محمد شمشاد رحمانی ،مفتی محمد خالد حسین نیموی اور پرفیسر ڈاکٹر شکیل احمد قاسمی کے کلمات عالیہ سے مزین ہے جس میں مؤلف کی کاوش اور امیر شریعت سابع سے غیر معمولی عقیدت ومحبت کو سراہا گیا ہے۔ یہ کتاب دینی قیادت، فکری رہنمائی اور ملت کے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔اس کتاب میں رحمانی کے روشن افکار اور ادھورے خواب کو بھی تفصیل سے بیان کیا گیا۔
اسی طرح دوسری کتاب “تذکرۂ مشفقِ ملت” ہے، جو سابق رکنِ شوریٰ امارتِ شرعیہ اور بیگو سرائے کی عظیم دینی وملی شخصیت مولانا محمدشفیق عالم قاسمی کی حیات، علمی خدمات، ملی جدوجہد اور دینی و سماجی کارناموں پر مشتمل ایک جامع اور مؤثر تذکرہ ہے۔ یہ کتاب اہلِ علم اور نئی نسل کے لیے ایک قیمتی تاریخی و اخلاقی سرمایہ ہے۔ اس کتاب کی تصنیف کے ذریعےمصنف نے مشفق ملت پر آنے والے دنوں میں کام کرنے والوں کے لئے مضبوط متن تیار کردیا ہے جس سے استفادہ کیا جاتا رہے گا ۔ اس تقریب میں ایک اور اہم تصنیف “حی علی الفلاح” کا بھی رسمِ اجرا ہوا، جو مفتی محفوظ الرحمن قاسمی (صدر مفتی و مہتمم جامعہ عربیہ سراج العلوم) کے علمی و اصلاحی افادات کو مرتب کر کے شائع کی گئی ہے۔ اس کتاب کی ترتیب و تدوین قاری محمد حیدر نے انجام دی ہے۔ یہ تصنیف دینی تربیت، فکری رہنمائی اور روحانی اصلاح کے حوالے سے نہایت مفید اور مؤثر کاوش ہے۔
امیرِ شریعت دامت برکاتہم نے اس موقع پر مصنفین، مرتبین اور معاونین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ علمی و فکری سرمایہ امت کی امانت ہے، اور ایسی تصانیف آئندہ نسلوں کے لیے رہنمائی، بصیرت اور اصلاح کا ذریعہ بنتی ہیں۔ انہوں نے اہلِ علم کو تحقیق، تصنیف اور دینی خدمات کے میدان میں مزید سرگرم رہنے کی تلقین فرمائی۔اجلاس میں شریک مجلسِ شوریٰ کے معزز اراکین، علما، دانشوران اور مہمانانِ خصوصی نے ان کتابوں کو ملت کے لیے ایک اہم علمی سرمایہ قرار دیا اور امارتِ شرعیہ کی علمی و فکری خدمات کو سراہتے ہوئے مصنفین کو مبار بادی بھی پیش کی ۔اس اہم پروگرامز میں ان قیمتی علمی دستاویزوں کی رونمائی نہ صرف ایک خوش آئند پیش رفت ثابت ہوئی بلکہ ملتِ اسلامیہ کے فکری و دینی تسلسل کو مضبوط کرنے کی ایک اہم کڑی بھی سامنے آئی۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network