Connect with us

بہار

ظالمانہ وقف ایکٹ کے خلاف گاندھی میدان میںرقم ہوگی تاریخ :مفتی سعیدالرحمٰن قاسمی

Published

on

(پی این این)
پٹنہ :شہرپٹنہ ہمیشہ سماجی واصلاحی تحریک وانقلابات کا مرکز رہاہے یہاں سے جوبھی آواز بلند ہوئی ہے وہ دورتک پہونچی ہے آج جبکہ مرکزی حکومت سیاسی قیادت کی خاطر وقف ایکٹ 25 کے ذریعہ ہماری شریعت میں مداخلت کی کوشش کررہی ہے ساتھ ہی ہم سے ہماری مذہبی آزاد ی کو چھیناجارہاہے اور ہمارے آئینی حقوق کو پامال کیاجارہاہے ،اس لئے اس نا انصافی اورآئین ودستور ھند کی خلاف ورزی کے خلاف عظیم آبادکی سرزمین سے آواز بلند ہوگی اور ان شاء اللہ اس کاوزن حکومت ھند کوبھی محسوس ہوگا،ان خیالات کا اظہار امارت شرعیہ کے امارت شرعیہ بہار،اڈیشہ ،جھارکھنڈو مغربی بنگال کے قائم مقام ناظم مولانا مفتی محمد سعیدالرحمٰن قاسمی نے اپنے اخباری بیان میں کیا۔
انہوں نے کہاکہ آج پٹنہ کے گاندھی میدان میں منعقد ہونے والی عظیم الشان وقف بچاؤ دستوربچاؤ کانفرنس سے ملی قائدین یہ پیغام دیں گے کہ اگر حکومت نے اس کالے قانون کو واپس نہیںلیاتو ملک کی عوام آئینی اورجمہوری طریقےپرتحریک اور اجتماع کرتی رہے گی جب تک کہ یہ غیر منصفانہ قانون واپس نہ ہوجائے،آج کے اجلاس کے شرکاء سے درخواست ہے کہ نظم واتحاد کامظاہرہ کریں،قیام وطعام کاجہاں نظام بنایا گیاہے یاگاڑیوں کی پارکنگ کے لئے جو جگہیں متعین کی گئی ہیں وہاں گاڑیا ں لگائیں،رضاکار آپ کی رہنمائی کے لئے ہرجگہ موجود ہیں ان کی ہدایت پر عمل کریں،اجلاس گاہ میں بھی نظم وتربیت اوراسلامی تہذیب وثقافت کے ساتھ بیٹھیں ،اور قائد ین ملت کے خطابات کو توجہ اور دل جمعی سے سماعت فرمائیں،ہمیں احساس ہے کہ آپ دوردراز کی مسافت طے کرکے یہاں تشریف لائے ہیں راستے کی صعوبتیں برادشت کی ہے اسلئے ادھر ادھر سیروسیاحت میں وقت کوہرگزضائع نہ کریں۔آپ کےجم کر اور ڈٹ کر بیٹھنے سے ملک کو اھم پیغام جائے گا کہ پٹنہ کا ،وقف اجلاس مثالی رہا،ہم سب کے امیر شریعت مولانااحمد ولی فیصل رحمانی امیرشریعت بہار،اڈیشہ ،جھارکھنڈ ومغربی بنگال اور ملک کے ممتاز علماء،وزعماء وقف کے موضوع پر بنیادی نکات کی وضاحت کریں گے،اورا سکی خطرناکی سے بھی امت کو واقف کرائیں گے اور مستقبل کے لئے مضبوط لائحہ عمل پیش کریں گے ،جس کی رہنمائی میں ہم سب کو اقدامات کرنےہیں۔اس لئے پوری دلجمعی کے ساتھ اجلاس گاہ میں بیٹھےرہیں۔
قائم مقام ناظم صاحب نے شہر پٹنہ کے اصحاب علم ودانشوروں سے بھی گزارش کی ہے کہ ماضی کی قدیم روایات کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے مہمانوں کاخیر مقدم کریں۔ان کے اکرام وضیافت کے لئے جو ممکن کوششیں ہوسکتی ہیں کریں چونکہ شہر کی مختلف مساجد میں بیرون پٹنہ کے اصحاب کے لئے قیام وطعام کانظم کیاگیاہے ،اس لئے مقامی ذمہ دار حضرات اپنی نگرانی میںمہمانوں کو ٹھہرائیں اور ہرممکن سہولت پہونچانے کی سعی کریں اوریقین مانئے کہ آپ کے اس کارخیر کابدلہ اللہ تعالیٰ اس سے بہتر عطا فرمائیں گے ۔تمام حضرات اس عظیم الشان کانفرنس کی کامیابی کے لئے دعابھی فرمائیں۔

بہار

بہار مدرسہ بورڈ کی تیاریاں مکمل،وسطانیہ امتحان 11 جنوری سے

Published

on

(پی این این)
سیتامڑھی :بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ، پٹنہ کے زیرِ اہتمام ہونے والے وُسطانیہ (آٹھویں) سال 2026 کے امتحان کا اعلان جاری کر دیا گیا ہے۔ امتحان 11 سے 15 جنوری 2026 تک مسلسل دو نشستوں میں منعقد ہوگا۔ پہلی نشست صبح 10 بجے سے 12 بجے تک جبکہ دوسری نشست دوپہر 2 بجے سے 4 بجے تک ہوگی۔ ضلع بھر کے مقررہ امتحان مراکز پر امتحان پُرامن اور منظم انداز میں لینے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق سیتامڑھی ضلع کے مختلف تسلیم شدہ مدارس سے بڑی تعداد میں طلبہ و طالبات اس امتحان میں شریک ہوں گے۔ بورڈ کی جانب سے امتحان کو شفاف، نقل سے پاک اور وقت کی پابندی کے ساتھ منعقد کرانے کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ سوالیہ پرچوں کی رازداری، جوابی کاپیوں کی محفوظ نقل و حمل اور امتحانی مراکز پر سخت نگرانی کے واضح ہدایت جاری کیے گئے ہیں۔ امتحان کے دوران ہر مرکز پر مرکزِ نگران اور دیگر عملے کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے۔ ساتھ ہی امتحانی مراکز پر نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے ضروری رہنما اصول نافذ کیے گئے ہیں۔ طلبہ سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ وقت سے پہلے مرکزِ امتحان پر پہنچیں، ایڈمٹ کارڈ ساتھ رکھیں اور بورڈ کے تمام قواعد و ضوابط کی مکمل پابندی کریں۔
بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ، پٹنہ کے سیکرٹری عبدالسلام انصاری، مدرسہ حمیدیہ دارالْبنات حسینہ مہسول، سیتامڑھی کے پرنسپل مولانا ضیاءُالرحمن قاسمی اور مدرسہ رحمانیہ مہسول کے سابق صدر محمد ارمان علی نے کہا کہ وُسطانیہ امتحان مدرسہ تعلیم کی بنیادی اور اہم کڑی ہے، جس کے ذریعے طلبہ کی علمی صلاحیتوں اور تعلیمی معیار کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ امتحان کے سلسلے میں طلبہ میں جوش و خروش پایا جاتا ہے اور وہ بھرپور تیاری کے ساتھ امتحان میں شرکت کے لیے پُرعزم ہیں۔

Continue Reading

بہار

بہار میں کیمپ لگا کر بنائے جارہے ہیں مفت آیوشمان کارڈ

Published

on

(پی این این)
چھپرہ:رکن پارلیمنٹ راجیو پرتاپ روڈی کے توسط سے آیوشمان کارڈ رجسٹریشن کیمپ کا انعقاد کیا گیا۔20 نکاتی پروگرام کے چیئرمین دھرمیندر سنگھ چوہان کی نمائندگی میں دیوریا گاؤں میں ونود سنگھ کی رہائش پر منعقدہ کیمپ میں 204 مستفیدین کے مفت آیوشمان کارڈ بنائے گئے۔
اس موقع پر چوہان نے کہا کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ڈریم پراجیکٹ آیوشمان بھارت تک ہر کسی تک رسائی کے لیے کام کر رہے ہیں۔جب سے وزیر اعظم نے غریبوں کے علاج کے لیے آیوشمان کارڈ کا آغاز کیا ہے سارن لوک سبھا حلقہ میں ایم پی کے کارکن گاؤں گاؤں جا رہے ہیں۔ایک دن پہلے اپنی اشتہار گاڑی سے لوگوں کو مطلع کیا جاتا ہے اور پھر لوگوں کا رجسٹریشن کرنے کے لیے اگلے دن سروس گاڑی کے ساتھ مکمل نظام کو بھیجا جاتا ہے۔آن دی اسپاٹ لوگوں کا فری رجسٹریشن کیا جاتا ہے۔15 دن کے بعد ایم پی کنٹرول روم ان تمام لوگوں کو مطلع کرتا ہے جن کے کارڈ بن چکے ہوتے ہیں۔انہیں کارڈ تقسیم کئے جاتے ہیں۔
چوہان نے کہا کہ آیوشمان کارڈ غریبوں کے لیے ایک وردان ثابت ہو رہا ہے۔یہ اسکیم غریبوں کو پیسے کی کمی کی وجہ سے اپنی جان گنوانے سے بچاتی ہے۔کیمپ کو کامیاب بنانے میں بی جے وائی ایم کے سابق ضلع صدر گاما سنگھ،ڈاکٹر تارکیشور تیواری،سابق منڈل صدر سنجے تیواری وارثی،راج کمار تیواری،جنرل سکریٹری پریا کانت کشواہا،نائب صدر راکیش سنگھ نے تعاون کیا۔موقع پر راہل کمار،اوم پرکاش،وکاس،سوربھ،برجیش اور ایم پی کنٹرول روم کے معاون وغیرہ موجود تھے۔

Continue Reading

بہار

گورنر کے نام زمین رجسٹری کرنا گویا زمین کی ملکیت حکومت کو منتقل کرنا ہے:امارت شرعیہ

Published

on

(پی این این)
پھلواری شریف:ناظم امارت شرعیہ مولانا مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی نے ایک پریس بیان میں کہاہے کہ بعض علاقوں سے یہ اطلاع مل رہی ہے کہ مسلمان مسجد ، مدرسہ ، قبرستان او ر عید گاہ وغیرہ کی زمین گورنر صاحب کے نام رجسٹری کرنے کی پہل کر رہے ہیں اور ان کی سوچ یہ ہے کہ اس سے زمین محفوظ رہے گی اور مدارس ومساجد کابھی تحفظ ہوگا،یہ اقدام درست نہیں ہے۔
انہوں نے کہاکہ گورنر کے نام جو زمین رجسٹری ہوتی ہے اس کی ملکیت حکومت کو منتقل ہو جاتی ہے اور اس جائداد کے سلسلہ میں سارا اختیار حکومت کا ہوتا ہے، موجودہ صورت حال میں ایسا اقدام نہ تو مذہبی نقطۂ نظر سے درست ہے اور نہ اس طریقہ سے ذاتی زمینوں یا اوقاف کی زمین کا تحفظ ہو سکتا ہے ، بلکہ آنے والے دنوں میں بے شمار خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، اس لئے ایسے اقدام سے گریز کیا جائے ، مدارس ومساجد ، عید گاہ وقبرستان ملی سرمائے ہیں ان کا صحیح نظم ونسق اور تحفظ خود مسلمانوں کی ذمہ داری ہے ،اس لئے ضرورت ہے کہ ایسی زمینوں کے کاغذات کو قانونی اعتبار سے مستحکم رکھا جائے ،انتظامیہ کمیٹی کی شکل میں ٹرسٹ بنا کر ان کے نظام کو شریعت کی روشنی میں چلایا جائے ، امارت شرعیہ سمیت دیگر ملی تنظیمیں مسلسل ایسے امور کے بارے میں رہنمائی کر رہی ہیں ، ان کی رہنمائی سے فائدہ اٹھایا جائے اور صلاح ومشورہ کے بعد ہی کوئی قدم اٹھایاجائے ۔
ناظم صاحب نے مزید کہا کہ مخدوم گرامی امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی اس سلسلہ میں بے حد فکر مند ہیں اور اوقاف کے رجسٹریشن،غیر رجسٹرڈ زمینوں کے تحفظ کے طریقۂ کار اور جو زمینیں کسی طور پر رجسٹرڈ نہیں ہیں یا اس کے کاغذات موجود نہیں ہیں ،ان سے متعلق قانونی و شرعی نقطۂ نظر سے غور و فکر کر رہے ہیں اور جلد ہی ان امور سے متعلق مناسب رہنمائی فراہم کرائی جائے گی ۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network