Connect with us

دلی این سی آر

بی جے پی نے صرف پرائیویٹ اسکولوں میں پڑھنے والے بچوں کے والدین کو خون کے آنسو رلا دئے :منیش سسودیا

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی:دہلی میں پرائیویٹ اسکولوں کی من مانی پر خاموش بیٹھی بی جے پی حکومت پر عام آدمی پارٹی کے سینئر لیڈر اور سابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا اور قائدِ حزبِ اختلاف آتشی نے زبردست حملہ کیا ہے۔ منیش سسودیا نے کہا کہ محض تین مہینے میں ہی بی جے پی نے پرائیویٹ اسکولوں میں پڑھنے والے بچوں کے والدین کو خون کے آنسو رلا دیے ہیں۔ اروند کیجریوال کی قیادت میں “آپ” حکومت نے جس پرائیویٹ تعلیم مافیا پر قابو پایا تھا، آج وہی بی جے پی حکومت کے دوران بھوکے بھیڑیے کی طرح والدین پر حملہ آور ہیں۔ بی جے پی حکومت بچوں کی تعلیم اور فیس جیسے سنگین معاملات پر والدین کو اندھیرے میں رکھ کر قانون لا رہی ہے۔ بی جے پی کے راج میں دہلی کے پرائیویٹ اسکول تعلیم کے مندر نہیں بلکہ مافیا کے اڈے بنتے جا رہے ہیں۔
منیش سسودیا نے ایکس ٹوئٹرپر لکھا کہ بی جے پی کی دہلی حکومت تعلیم اور فیس جیسے حساس مسئلے پر والدین کو اندھیرے میں رکھ کر قانون لا رہی ہے۔ صرف تین مہینے میں بی جے پی نے پرائیویٹ اسکولوں میں پڑھنے والے لاکھوں بچوں کے والدین کو خون کے آنسو رلوا دیے ہیں۔ ہم نے جس پرائیویٹ تعلیم مافیا پر دس سال تک لگام لگائے رکھی، بی جے پی نے آتے ہی اسے کھلی چھوٹ دے دی۔ آج وہی مافیا والدین پر بھوکے بھیڑیے کی طرح ٹوٹ پڑے ہیں۔ جب عوام میں ہنگامہ مچا، تو بی جے پی حکومت نے دکھاوے کے لیے ایک قانون لے آئی۔ مگر اس بل میں بھی اصل طاقت تعلیم مافیا کے ہی ہاتھوں میں ہے اور حکومت اپنی ذمہ داری سے پیچھے ہٹ رہی ہے۔منیش سسودیا نے مزید کہا کہ دہلی میں معصوم بچوں کو اسکول کی چھٹی کے بعد بھی اندر روک کر رکھا جا رہا ہے۔ صرف اس لیے کہ ان کے والدین اسکول وین کی لوٹ مار کے خلاف کھڑے ہیں اور خود انہیں اسکول چھوڑنے آتے ہیں۔ بی جے پی حکومت میں دہلی کے پرائیویٹ اسکول تعلیم کے مندر نہیں بلکہ مافیا کے اڈے بن چکے ہیں۔ بچوں کو ڈرا کر، والدین کو دھمکا کر بی جے پی کس قسم کی تبدیلی لانا چاہتی ہے؟ کیا اس بی جے پی حکومت میں شرم، لحاظ یا انسانیت نام کی کوئی چیز باقی ہے؟
منیش سسودیا نے ایک اور پوسٹ میں کہا کہ بی جے پی نے دہلی کے اسپتالوں کا تین مہینے میں ہی بیڑا غرق کر دیا ہے۔ دہلی کی وزیر اعلیٰ اور وزیر صبح سے شام تک اروند کیجریوال کو گالیاں دینے میں مصروف ہیں۔ دہلی کے افسران کو لگا رکھا ہے کہ کیجریوال حکومت کے وقت کی فائلوں میں کہیں کوئی کاما یا فل اسٹاپ کی بھی غلطی مل جائے تو ای ڈی اور سی بی آئی کو پیچھے لگا دیں۔ بی جے پی لیڈروں نے صرف تین مہینے میں دہلی والوں کو رلا دیا ہے۔ اسپتال تباہ، سرکاری اسکول تباہ، پرائیویٹ اسکول دہشت پھیلا رہے ہیں، بجلی مہنگی کر دی گئی ہے اور پاور کٹ الگ سے ہو رہے ہیں۔ بی جے پی والوں، اپنے لیڈروں کو سمجھاؤ، عوام نے انہیں کام کرنے کے لیے چنا ہے، نہ کہ صبح سے شام تک کیجریوال کو گالیاں دینے کے لیے۔
ادھر عام آدمی پارٹی کی سینئر لیڈر اور اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف آتشی نے ایکس پر کہا کہ پرائیویٹ اسکولوں کے والدین نے بی جے پی کے فیس آرڈیننس کی مخالفت کی ہے۔ سب جاننا چاہتے ہیں کہ اس قانون میں ایسا کیا ہے جو بی جے پی اسے چھپا رہی ہے؟ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا جی، کیا یہ قانون پرائیویٹ اسکولوں کو بچانے کے لیے بنایا جا رہا ہے؟ والدین بار بار آواز اٹھا رہے ہیں، مگر بی جے پی حکومت کسی بھی پرائیویٹ اسکول کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہی ہے۔ یہ واضح ہے کہ بی جے پی کی دہلی حکومت پرائیویٹ اسکولوں کو بچانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک پرائیویٹ اسکول پیسے کی ہوڑ میں بچوں کو کمروں میں بند کر رہا ہے۔ دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا اور وزیر تعلیم آشیش سود کہاں ہیں؟ کیا آپ اس اسکول پر کوئی کارروائی کریں گے؟

دلی این سی آر

عالم اسلام کو صہیونی جارحیت کے خلاف بلند کرنی چاہیےآواز:ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی :شاہی امام مسجد فتح پوری دہلی مولانا ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد نے جمعہ کی نماز سے قبل خطاب میں مسلمانوں کو تاکید کی کہ ماہ مبارک میں تلاش کر کے مستحق ضرورت مندوں کی امداد کریں نیز رمضان المبارک میں حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی میں پیش پیش رہیں۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ پرست عناصر کو امن و سکون کا ماحول اچھا نہیں لگتا کسی بھی قیمت پر حالات خراب کرنا چاہتے ہیں اور جھگڑے پر اکسانے کی کوشش کرتے ہیں بدایوں کے حالیہ سانحہ نے دلوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ایک فرقہ پرست نوجوان تین مسلم افراد کو بلاوجہ گالیاں دے رہا ہے اور تھپڑ مارتا ہے تین مسلمان سیدھے سادھے انداز میں راستہ سے گزر رہے تھے جو اس بدبخت سے بڑی عمر کے تھے تینوں نے بے پناہ صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے کوئی جوابی حملہ نہیں کیا اس سانحہ پر کئی سیاسی پارٹیوں نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے ہمارا مطالبہ ہے کہ اتر پردیش میں اقلیتی فرقہ کو تحفظ دیا جائے اور اس نوجوان پر شدید ایکشن لیا جائے۔
مفتی مکرم نے مدھیہ پردیش کے ضلع جبل پور کے قصبہ سیہورا میں لاؤڈ اسپیکر تنازعہ پر تشدد کے واقعہ کی غیر جانبدارانہ انکوائری کرائے جانے کے مطالبے کے ساتھ ساتھ ایک طرفہ مسلم فرقہ کے افراد کی گرفتاریوں کی مذمت کی۔ واقعہ کے عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جن مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا ہے وہ جھگڑے میں ملوث نہیں تھے تراویح پڑھ کر مسجد سے نکل رہے تھے اس واقعہ سے کچھ دنوں پہلے ایک ہندو تنظیم نے سیہورا پولیس اسٹیشن پر احتجاج کیا تھا ۔ گویا تنازعہ منصوبہ بند تھا اس کی انکوائری کرائی جائے اور جو فرقہ پرست لیڈرشر انگیزی میں ملوث ہیں انہیں گرفتار کیا جائے۔
مفتی مکرم نے مسجد اقصی میں تراویح میں کثیر تعداد میں فلسطینیوں کی شرکت پر ایمانی جذبے کی تعریف کی اور صہیونی جارحیت کی شدید مذمت کی۔ میڈیا رپورٹ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اسرائیلی حکومت نے بیت المقدس شہر کے گردونواح میں چیک پوسٹ بنا کر مسجد اقصی کے دروازوں پر اپنی فوجی نفری میں غیر معمولی اضافہ کر رکھا ہے اور ماہ مبارک میں فلسطینیوں کو عبادت کے حق سے محروم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے عالم اسلام کو اس کے خلاف متحدہ آواز اٹھانی چاہیے۔

Continue Reading

دلی این سی آر

اردو اکادمی دہلی کے زیرِ اہتمام جلسۂ تقسیمِ انعامات پروگرام منعقد

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی: اردو اکادمی، دہلی کے زیرِ اہتمام سال 2025ء کے تعلیمی و ثقافتی مقابلوں میں کامیاب طلبہ کے اعزاز میں ایوانِ غالب، ماتا سندری لین، نئی دہلی میں جلسۂ تقسیمِ انعامات منعقد ہوا۔ تقریب میں دہلی کے مختلف اسکولوں کے طلبہ و طالبات، اساتذہ اور والدین نے شرکت کی۔یہ تعلیمی مقابلے20اگست تا8ستمبر2025ء اردو اسکولوں کے طلبا و طالبات کے درمیان منعقد کیے گئے تھے، جن میں تحریری امتحانات ، مضمون نویسی،تقریری، کوئز، غزل سرائی، اردو ڈراما، بیت بازی، گروپ سانگ ، بلند خوانی اور امنگ پینٹنگ جیسے متنوع مقابلے شامل تھے، جن تقریباً 1663 طلبا وطالبات نیان مقابلوں میں حصہ لیا تھا، جن میں سے 265 طلبہ مختلف زمروں میں کامیاب قرار پائے گئے تھے۔
اس موقع پر محکمۂ فن، ثقافت و السنہ، حکومت دہلی کے ایڈیشنل سکریٹری اور اردو اکادمی کے سکریٹری لیکھ راج نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اردو نہ صرف ایک دلنشیں زبان ہے بلکہ باوقار تہذیب کی نمائندہ بھی ہے۔ انہوں نے تعلیمی و ثقافتی مقابلوں میں طلبہ کی بڑی تعداد میں شرکت کو نئی نسل میں اردو کے بڑھتے شوق کا ثبوت قرار دیا۔ انہوں نے انعام یافتہ طلبہ و طالبات کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ مستقبل میں بھی محنت اور لگن کے ساتھ تعلیمی و ادبی میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کریں گے۔ انھوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ آئندہ مقابلوں کے زمروں میں اضافہ کیا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ طلبہ کو اظہار کا موقع مل سکے۔
جلسہ تقسیم انعامات میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ میںنقد انعامات، اسناد اور مومنٹو تقسیم کیے گئے۔ اس سال بہترین شرکت کا ایوارڈ ڈاکٹر ذاکر حسین میموریل اسکول، جعفرآباد کو دیا گیا، جبکہ بہترین کارکردگی کا ایوارڈ سید عابد حسین جامعہ اسکول نے حاصل کیا۔ دونوں اسکولوں کو 21، 21 ہزار روپے نقد انعام، مومنٹو اور سرٹیفکیٹ سے نوازا گیا۔ اس طرح اسناد، مومنٹو اور شیلڈز کے ساتھ نقد انعامات کی مجموعی رقم تقریباً ساڑھے پانچ لاکھ روپے تقسیم کی گئی۔پروگرام کی نظامت ریشما فاروقی نے کی۔ اختتام پر کامیاب طلبہ کو مبارکباد پیش کی گئی اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ اکادمی آئندہ بھی علمی و ادبی سرگرمیوں کے ذریعے نئی نسل کی صلاحیتوں کو فروغ دیتی رہے گی۔

Continue Reading

دلی این سی آر

راجدھانی دہلی میں فروری میں ہی گرمی نے دی دستک

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی :دارالحکومت دہلی میں فروری میں ہی گرمی نے لوگوں کو پسینہ بہانا شروع کر دیا ہے۔ دہلی میں پارہ ایک بار پھر 30 ڈگری سیلسیس سے اوپر پہنچ گیا ہے۔ دن بھر تیز دھوپ کے باعث لوگوں نے گرمی محسوس کی۔ دہلی کے صفدرجنگ آبزرویٹری میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت معمول سے 5 ڈگری زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق دہلی میں آج زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 29 سے 31 ڈگری سیلسیس کے درمیان اور کم سے کم درجہ حرارت 12 سے 14 ڈگری سیلسیس کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔ دن بھر آسمان صاف رہے گا تاہم صبح کے وقت دھند چھائی رہے گی۔
محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ ہفتے کے آخر تک گرمی میں بتدریج اضافہ ہوگا۔ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 33 ڈگری سیلسیس تک پہنچ سکتا ہے۔ 25 اور 26 فروری کو دن کے وقت سطحی ہوائیں 15 سے 25 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی۔دہلی کے بیشتر علاقوں میں صبح ہلکی کہرا چھا گیا۔ جیسے جیسے دن چڑھتا گیا، کہرا چھٹ گیا اور سورج نکلا۔ صبح 11 بجے کے بعد سورج روشن ہو گیا، جس کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ صفدرجنگ میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 30.5 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا جو معمول سے پانچ ڈگری زیادہ ہے۔ کم از کم درجہ حرارت 11.8 ڈگری سیلسیس تھا، جو سال کے اس وقت کے لیے معمول ہے۔ ہوا میں نمی کا تناسب 29 سے 95 فیصد تک رہا۔
دریں اثنا، دارالحکومت دہلی کو آلودہ ہوا سے کوئی راحت نہیں مل رہی ہے۔ ہوا کی رفتار کم ہونے کی وجہ سے دہلی کے باشندوں کو بڑھتی ہوئی آلودگی کا سامنا ہے۔ مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (CPCB) کے مطابق، دہلی کی ہوا کے معیار کا انڈیکس 228 رہا۔ اس سطح پر ہوا کا معیار خراب سمجھا جاتا ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network