Connect with us

بہار

اردو ٹیچر حافظ منصور عالم کے قتل کا معاملہ ، نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج

Published

on

(پی این این)
جالے :دربھنگہ ضلع کے سنگھواڑہ بلاک کے تحت ناصرگنج پرائمری اسکول کے اردو ٹیچر حافظ منصور عالم کو گولی مار کر قتل کیے جانے کے واقعے میں پولیس نے نامعلوم مجرموں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ مقتول کی اہلیہ خیرالنساء کی تحریری درخواست پر سنگھواڑہ تھانہ میں بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) کی دفعہ 103(1) (قتل) اور 27 آرمس ایکٹ کے تحت ایف آئی آر 25/133 درج کی گئی ہے۔
درخواست کے مطابق، حافظ منصور عالم 28 مئی کی صبح تقریباً 5:30 بجے شکرپور میں واقع اپنے کرائے کے مکان سے سائیکل پر اسکول کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ اہل خانہ کے مطابق، صبح 7:40 بجے ان کی بیٹی ذکرہ خاتون کے موبائل پر ایک نامعلوم کال موصول ہوئی، جس میں اطلاع دی گئی کہ ان کے والد کو بھرواڑہ-کمتول سڑک پر ناصرگنج کے قریب گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔
جب مقتول کی اہلیہ موقع واردات پر اپنے رشتہ داروں کے ہمراہ پہنچیں تو دیکھا کہ حافظ منصور عالم سڑک کے شمالی کنارے پر پیٹ کے بل خون میں لت پت مردہ حالت میں پڑے تھے۔ ان کی پیشانی اور پیٹ سے خون بہہ رہا تھا، اور ان کا اسکرین ٹچ موبائل ان کی سائیکل کے قریب ہی پڑا ہوا تھا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی سنگھواڑہ تھانہ صدر رنجیت کمار چودھری موقع پر تکنیکی ٹیم کے ساتھ پہنچے اور تفتیش شروع کر دی۔ وہ شکرپور، بھرواڑہ اور کمتول جانے والی سڑکوں پر نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا باریکی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ عینی شاہدین اور مقامی لوگوں سے بھی پوچھ گچھ جاری ہے۔
ابتدائی فوٹیج میں دیکھا گیا ہے کہ واقعہ کے وقت پلسر بائیک پر سوار تین مشتبہ نوجوان مین روڈ پر مشکوک حالت میں گھومتے نظر آئے۔ پولیس اس پہلو پر بھی غور کر رہی ہے کہ واقعے کی اطلاع مقتول کی بیٹی کے موبائل پر کس نے دی اور کیسے دی گئی۔
ڈی ایس پی جیوتی کماری کی قیادت میں ایک خصوصی تفتیشی ٹیم تشکیل دی گئی ہے، جو لگاتار چھاپے ماری کر رہی ہے اور شواہد جمع کرنے میں مصروف ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جلد ہی ملزمین کی شناخت کرکے انہیں گرفتار کر لیا جائے گا۔

بہار

دربھنگہ :عید، رام نومی اور چیتی درگا پوجا کے پیش نظر انتظامیہ الرٹ

Published

on

(پی این این)
جالے: عید، رام نومی اور چیتی درگا پوجا کو پُرامن، محفوظ اور باہمی ہم آہنگی کے ساتھ مکمل کرانے کے لیے سمری تھانہ احاطہ میں امن کمیٹی کی ایک اہم میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں سیکورٹی انتظامات، انتظامی تیاریوں اور پوجا کمیٹیوں کے ساتھ تال میل کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
صدر ایس ڈی پی او ایس کے سمن نے ہدایت دی کہ حساس اور بھیڑ بھاڑ والے علاقوں کی نشاندہی کر کے وہاں خصوصی چوکس رہیں۔ انہوں نے کہا کہ تہوار کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کے لیے پولیس فورس کی مناسب تعیناتی یقینی بنائی جائے گی۔ ساتھ ہی ڈی جے چلانے والوں کو نوٹس دے کر تیز آواز والے باجے پر مکمل پابندی عائد کرنے کا حکم دیا گیا۔
تھانہ صدر اروند کمار نے کہا کہ پوجا مقامات پر تعینات مجسٹریٹ اور پولیس افسران اپنے اپنے علاقوں میں مسلسل گشت کرتے رہیں گے اور حالات پر نظر رکھیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تیز آواز والے ڈی جے پر مکمل پابندی رہے گی اور دفعہ 109 کے تحت سیکڑوں افراد پر باؤنڈ ڈاؤن کی کارروائی کی جائے گی۔
میٹنگ میں یہ بھی فیصلہ لیا گیا کہ رام نومی جلوس کے راستوں، پوجا مقامات اور عید کی نماز کے اہم مقامات پر خصوصی سیکورٹی انتظامات کیے جائیں گے۔ اہم چوک چوراہوں، جلوس کے راستوں اور بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں سی سی ٹی وی کے ساتھ ساتھ ڈرون کے ذریعے نگرانی کی جائے گی، جبکہ پولیس کنٹرول روم کو بھی فعال رکھا جائے گا تاکہ اطلاعات کی فوری نگرانی اور تال میل برقرار رکھا جا سکے۔
اجلاس میں سوشل میڈیا پر کڑی نظر رکھنے کی بھی ہدایت دی گئی اور کہا گیا کہ کسی بھی افواہ یا اشتعال انگیز پوسٹ کے ذریعے سماجی ہم آہنگی کو خراب کرنے والوں کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے گی۔ 19 مارچ کو سیمری درگا استھان سے نکلنے والی کلش شوبھا یاترا کے سلسلے میں بھی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔اس کے ساتھ ہی صحت اور بجلی محکمہ کو ہدایت دی گئی کہ تہوار کے دوران صفائی، پینے کے پانی، روشنی اور ٹریفک نظام کی بہتر انتظامی سہولتیں یقینی بنائی جائیں۔
میٹنگ میں امن کمیٹی کے ارکان مکھیا دنیش مہتو، منوج سنگھ، سرپنچ اشوک پاسوان، کلیم الدین راہی، گوپال سنہا، پردیومن شریواستو، امجد عباس، لالن پاسوان، رام بابو ساہ، قیصر خان، محمد اجالے، ستو ٹھاکر سمیت دیگر افراد موجود تھے، جبکہ ریونیو افسر منوج کمار، داروغہ دھرمیندر کمار، مہیش کمار، للت سہنی، اصغر علی، سوجیت کمار، سنیل ساہ اور مہیش دوبے بھی شریک تھے۔

Continue Reading

بہار

عقیدت و احترام کے ساتھ ادا کی گئی جمعۃ الوداع کی نماز

Published

on

(پی این این)
سیتامڑھی:ماہِ رمضان المبارک کے آخری جمعہ یعنی الوداع جمعہ کے موقع پر سیتامڑھی میں مسلمانوں نے بڑے جوش و خروش اور عقیدت کے ساتھ نماز ادا کی۔ اس موقع پر ہر عمر کے لوگوں میں خاصا جوش دیکھا گیا، خصوصاً بچوں میں الوداع جمعہ کی نماز کو لے کر خاصا جذبہ نظر آیا۔اس کے ساتھ ہی مسلم معاشرے میں عیدالفطر کی تیاریوں میں بھی تیزی آ گئی ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ عیدالفطر 20 مارچ یا 21 مارچ کو منائی جا سکتی ہے۔
الوداع جمعہ کی نماز کے موقع پر علما نے بتایا کہ اسلام میں جمعہ کا دن بہت اہمیت رکھتا ہے اور ماہِ رمضان میں اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ جمعہ کو چھوٹی عید کا درجہ حاصل ہے۔ اس سال ماہِ رمضان میں مسلمانوں کو چار جمعہ ادا کرنے کا موقع ملا، جبکہ رمضان کے آخری جمعہ کو الوداع جمعہ کہا جاتا ہے۔اس موقع پر مولانا محمد مظہر قاسمی نے بتایا کہ الوداع جمعہ دراصل رمضان المبارک 2026 کی رخصتی کی علامت ہے۔ رمضان کے آخری جمعہ کو مسلمان خوشی اور عقیدت کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔
نماز کے لیے لوگ نئے کپڑے پہن کر مساجد پہنچے۔ خاص طور پر بچوں نے رنگ برنگے نئے لباس پہن کر مختلف مساجد میں نماز ادا کی، جس سے ایک خوشگوار اور روحانی ماحول دیکھنے کو ملا۔ بزرگوں کے ساتھ بچے بھی جوق در جوق مساجد کی طرف جاتے نظر آئے۔الوداع جمعہ کے موقع پر معاشرے میں امن، بھائی چارہ اور باہمی محبت کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔
اس موقع پر مدرسہ رحمانیہ مہسول کے سابق صدر محمد ارمان علی، فیاض عالم عرف سونو بابو، محمد بشارت کریم گلاب، حاجی محمد حشمت حسین، مولانا محمد سہراب، امام خورشید عالم، عبدالودود، محمد جوہر علی تاج، ارشد سلیم، حافظ محمد نظام، محمد مرتضیٰ، محمد علیم اللہ، محمد افروز عالم، توقیر انور عرف سکند، محمد مظہر علی راجہ، حاجی عبداللہ رحمانی، محمد جنید عالم، محمد سہیل اختر، عطااللہ رحمانی سمیت سینکڑوں افراد موجود تھے۔
اس دوران مدرسہ رحمانیہ مہسول کی مسجد کے امام مولانا محمد مظہر قاسمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ مسلمان عام دنوں کے مقابلے میں ماہِ رمضان میں زیادہ عبادت کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ شریعت میں الوداع جمعہ کی کوئی الگ یا خصوصی فضیلت بیان نہیں کی گئی ہے، تاہم چونکہ یہ عیدالفطر سے پہلے آنے والا آخری جمعہ ہوتا ہے، اس لیے خود بخود اس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ عظمت، برکت، رحمت اور مغفرت کا بابرکت مہینہ رمضان اب ہم سے رخصت ہونے والا ہے اور دوبارہ آئندہ سال ہی نصیب ہوگا۔ رمضان کے آخری عشرے کو خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ اسے مغفرت کا عشرہ کہا جاتا ہے۔

Continue Reading

بہار

دوسری شادی کی افواہ : دلہا اور باراتی بنائے گئے یرغمال

Published

on

(پی این این)
جالے: سنگھواڑہ تھانہ حلقہ کے کلی گاؤں کے مہادلت ٹولہ میں ایک شادی کی تقریب اس وقت سنسنی خیز موڑ اختیار کر گئی جب دلہے کی دوسری شادی کی افواہ پھیل گئی۔ شادی کے گیتوں اور خوشیوں کے ماحول کے درمیان مورَو گاؤں سے آنے والی بارات کا استقبال کیا گیا اور باراتیوں کی خاطر مدارت کے بعد جب جے مالا کی رسم ہونے والی تھی تو اچانک دلہے کی پہلے سے شادی شدہ ہونے کی خبر پھیل گئی، جس کے بعد پنڈال میں افرا تفری مچ گئی۔
اطلاع ملتے ہی لڑکی والوں اور مقامی لوگوں نے دلہا اور اس کے قریبی رشتہ داروں کو روک لیا اور باراتیوں کو یرغمال جیسی حالت میں رکھا۔ بتایا جاتا ہے کہ مورَو گاؤں کے باشندہ شیو منگل رام کے بیٹے سریندر کمار بارات لے کر کلی گاؤں پہنچے تھے۔ شادی کی رسمیں جاری تھیں کہ اسی دوران خبر آئی کہ دلہے کی پہلے راجستھان میں شادی ہو چکی ہے۔ یہ سنتے ہی لڑکی نے شادی سے صاف انکار کر دیا اور معاملہ بگڑ گیا۔
اس دوران کچھ باراتی موقع پا کر نکل گئے، لیکن دلہا، اس کے والد اور چند قریبی رشتہ داروں کو گاؤں والوں نے روک لیا۔ بعد میں دونوں فریقوں کے درمیان پنچایتی سطح پر بات چیت ہوئی اور لڑکی والوں کے اخراجات اور دیے گئے سامان کی واپسی پر غور کیا گیا۔ اگلی صبح دلہے کے والد نے شادی کے موقع پر لڑکی والوں کی طرف سے دی گئی اشیاء واپس کر دیں، جس کے بعد بارات بغیر دلہن کے ہی مورَو گاؤں لوٹ گئی۔
اس واقعہ کی خبر کلی گاؤں سے لے کر مورَو اور آس پاس کے علاقوں میں موضوعِ بحث بن گئی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ لڑکا راجستھان میں ایک کمپنی میں کام کرتا تھا جہاں اس نے ایک لڑکی سے محبت کی شادی کی تھی، مگر وہ لڑکی ایک ماہ بعد اسے چھوڑ کر چلی گئی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ واقعہ تقریباً چار سال پرانا تھا۔ شادی کی رات کسی نے یہی بات افواہ کے طور پر لڑکی والوں تک پہنچا دی، جس سے پوری تقریب میں رنگ میں بھنگ پڑ گیا۔
بعد ازاں حقیقت جاننے کے لیے کلی گاؤں کے کچھ لوگ مورَو گاؤں پہنچے اور دلہا اور اس کے والد سے تفصیلی بات چیت کی۔ صورتحال واضح ہونے کے بعد لڑکی والوں نے اسی لڑکے سے شادی کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی۔ اس کے بعد 12 مارچ کی شام دوبارہ عزت و احترام کے ساتھ لڑکے والوں کو بلایا گیا، کھانے پینے کا انتظام کیا گیا اور باقی ماندہ رسمیں مکمل کرائی گئیں۔بالآخر جمعہ کی صبح گاجے باجے کے ساتھ دلہا دلہن کی رخصتی کر دی گئی اور بارات خوشی کے ساتھ واپس روانہ ہوگئی۔ یہ انوکھا واقعہ پورے علاقے میں موضوع گفتگو بنا ہوا ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network