Connect with us

دلی این سی آر

لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ کی صدارت میں کورونا کولیکر میٹنگ منعقد

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی :راجدھانی دہلی سمیت ملک کے مختلف حصوں میں کووڈ سے متاثرہ مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ قومی دارالحکومت میں کووڈ-19 کے فعال کیسوں کی تعداد 100 سے تجاوز کر گئی ہے۔ تاہم دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کی طرف سے ایک راحتی بیان آیا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ صورتحال قابو میں ہے اور وائرس کا موازنہ موسمی فلو سے کیا۔ایک تقریب کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ریکھا گپتا نے کہا، “اس وقت، کوویڈ کوئی ایمرجنسی یا تشویش کا معاملہ نہیں ہے۔” اسے وائرل انفیکشن بتاتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نزلہ اور کھانسی کی طرح کوویڈ 19 بھی ایک موسمی وائرس کی طرح ہے۔
سی ایم ریکھا نے لوگوں سے گھبرانے یا پریشان نہ ہونے کو کہا، ہمارے اسپتال الرٹ ہیں اور حالات قابو میں ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، دارالحکومت دہلی میں اب تک کووِڈ کے 104 ایکٹیو کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ گزشتہ ہفتے دہلی حکومت نے کووڈ-19 پر ایک ایڈوائزری جاری کی تھی۔ اس میں اسپتالوں کو بستر، آکسیجن، ادویات اور ویکسین کی دستیابی کے لیے تیار رہنے کو کہا گیا تھا۔ان بڑھتے ہوئے کیسز کے باوجود کہا جا رہا ہے کہ زیادہ خطرہ نہیں ہے کیونکہ ماہرین کے مطابق نئے مریضوں میں پایا جانے والا ویرینٹ مہلک نہیں ہے۔ ماہرین نے بتایا کہ مریضوں میں جے این ون ویریئنٹ پایا جا رہا ہے۔ اس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ متاثرہ پائے جانے والے زیادہ تر مریضوں کا علاج گھر پر ہی آئسولیشن کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔
دہلی میں کوویڈ 19 کے 104 فعال معاملات کی اطلاع کے ساتھ، لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ اور دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے راج نواس میں ایک میٹنگ بلائی تاکہ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے منصوبہ بندی کی جاسکے۔مرکزی حکومت کے کوویڈ 19 ڈیش بورڈ کے مطابق، دہلی نئے کورونا وائرس کے معاملات میں ملک میں تیسرے نمبر پر ہے۔ دریں اثنا، دہلی حکومت کے چیف سکریٹری نے اسپتالوں اور کوویڈ 19 کے نمونے جمع کرنے کے مراکز کو ہدایت دی کہ وہ تمام معاملات میں جینوم ترتیب پر عمل کیا جائے۔
ایل این جے پی ہسپتال میں جینوم کی ترتیب شروع کی گئی ہے تاکہ کورونا وائرس کے انفیکشن کی تشخیص کی جا سکے اور یہ پتہ چلایا جاسکے کہ مریض وائرس کی کونسی قسم سے متاثر ہے۔ اس کے لیے کووڈ-19 کے نمونے جمع کرنے کے مراکز سے کہا گیا ہے کہ وہ مریضوں سے جمع کیے گئے نمونے ایل این جے پی اسپتال بھیجیں۔نیز، ایمس نے موجودہ صورتحال کے پیش نظر اپنے کوویڈ 19 مثبت مریضوں کے نمونے ایل این جے پی کو بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
تمام اسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے اسپتال میں بستروں، آکسیجن کی فراہمی، ضروری ادویات، ویکسین اور سنگین مریضوں کے علاج کے لیے درکار آلات کی دستیابی کو یقینی بنانے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔دہلی میں 99 نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں، جبکہ مہاراشٹر میں 153 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور کیرالہ 335 کیسوں کے ساتھ سرفہرست ہے۔ محکمہ صحت کے حکام کے مطابق دہلی میں کورونا وائرس کی صورتحال قابو میں ہے۔ 19 مئی کے بعد دہلی میں 24 مریض صحت یاب ہوئے ہیں اور انہیں اسپتال سے چھٹی دے دی گئی ہے۔دہلی حکومت نے ایک حکمنامہ بھی جاری کیا ہے جس میں متعلقہ حکام کو COVID اور انفلوئنزا کے تصدیق شدہ کیسوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کو کہا ہے۔ اس کے علاوہ تمام طبی شعبوں سے کہا گیا ہے کہ وہ روزانہ یہ معلومات میڈیکل ریکارڈ ڈپارٹمنٹ کو فراہم کریں۔

دلی این سی آر

عالم اسلام کو صہیونی جارحیت کے خلاف بلند کرنی چاہیےآواز:ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی :شاہی امام مسجد فتح پوری دہلی مولانا ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد نے جمعہ کی نماز سے قبل خطاب میں مسلمانوں کو تاکید کی کہ ماہ مبارک میں تلاش کر کے مستحق ضرورت مندوں کی امداد کریں نیز رمضان المبارک میں حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی میں پیش پیش رہیں۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ پرست عناصر کو امن و سکون کا ماحول اچھا نہیں لگتا کسی بھی قیمت پر حالات خراب کرنا چاہتے ہیں اور جھگڑے پر اکسانے کی کوشش کرتے ہیں بدایوں کے حالیہ سانحہ نے دلوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ایک فرقہ پرست نوجوان تین مسلم افراد کو بلاوجہ گالیاں دے رہا ہے اور تھپڑ مارتا ہے تین مسلمان سیدھے سادھے انداز میں راستہ سے گزر رہے تھے جو اس بدبخت سے بڑی عمر کے تھے تینوں نے بے پناہ صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے کوئی جوابی حملہ نہیں کیا اس سانحہ پر کئی سیاسی پارٹیوں نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے ہمارا مطالبہ ہے کہ اتر پردیش میں اقلیتی فرقہ کو تحفظ دیا جائے اور اس نوجوان پر شدید ایکشن لیا جائے۔
مفتی مکرم نے مدھیہ پردیش کے ضلع جبل پور کے قصبہ سیہورا میں لاؤڈ اسپیکر تنازعہ پر تشدد کے واقعہ کی غیر جانبدارانہ انکوائری کرائے جانے کے مطالبے کے ساتھ ساتھ ایک طرفہ مسلم فرقہ کے افراد کی گرفتاریوں کی مذمت کی۔ واقعہ کے عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جن مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا ہے وہ جھگڑے میں ملوث نہیں تھے تراویح پڑھ کر مسجد سے نکل رہے تھے اس واقعہ سے کچھ دنوں پہلے ایک ہندو تنظیم نے سیہورا پولیس اسٹیشن پر احتجاج کیا تھا ۔ گویا تنازعہ منصوبہ بند تھا اس کی انکوائری کرائی جائے اور جو فرقہ پرست لیڈرشر انگیزی میں ملوث ہیں انہیں گرفتار کیا جائے۔
مفتی مکرم نے مسجد اقصی میں تراویح میں کثیر تعداد میں فلسطینیوں کی شرکت پر ایمانی جذبے کی تعریف کی اور صہیونی جارحیت کی شدید مذمت کی۔ میڈیا رپورٹ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اسرائیلی حکومت نے بیت المقدس شہر کے گردونواح میں چیک پوسٹ بنا کر مسجد اقصی کے دروازوں پر اپنی فوجی نفری میں غیر معمولی اضافہ کر رکھا ہے اور ماہ مبارک میں فلسطینیوں کو عبادت کے حق سے محروم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے عالم اسلام کو اس کے خلاف متحدہ آواز اٹھانی چاہیے۔

Continue Reading

دلی این سی آر

اردو اکادمی دہلی کے زیرِ اہتمام جلسۂ تقسیمِ انعامات پروگرام منعقد

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی: اردو اکادمی، دہلی کے زیرِ اہتمام سال 2025ء کے تعلیمی و ثقافتی مقابلوں میں کامیاب طلبہ کے اعزاز میں ایوانِ غالب، ماتا سندری لین، نئی دہلی میں جلسۂ تقسیمِ انعامات منعقد ہوا۔ تقریب میں دہلی کے مختلف اسکولوں کے طلبہ و طالبات، اساتذہ اور والدین نے شرکت کی۔یہ تعلیمی مقابلے20اگست تا8ستمبر2025ء اردو اسکولوں کے طلبا و طالبات کے درمیان منعقد کیے گئے تھے، جن میں تحریری امتحانات ، مضمون نویسی،تقریری، کوئز، غزل سرائی، اردو ڈراما، بیت بازی، گروپ سانگ ، بلند خوانی اور امنگ پینٹنگ جیسے متنوع مقابلے شامل تھے، جن تقریباً 1663 طلبا وطالبات نیان مقابلوں میں حصہ لیا تھا، جن میں سے 265 طلبہ مختلف زمروں میں کامیاب قرار پائے گئے تھے۔
اس موقع پر محکمۂ فن، ثقافت و السنہ، حکومت دہلی کے ایڈیشنل سکریٹری اور اردو اکادمی کے سکریٹری لیکھ راج نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اردو نہ صرف ایک دلنشیں زبان ہے بلکہ باوقار تہذیب کی نمائندہ بھی ہے۔ انہوں نے تعلیمی و ثقافتی مقابلوں میں طلبہ کی بڑی تعداد میں شرکت کو نئی نسل میں اردو کے بڑھتے شوق کا ثبوت قرار دیا۔ انہوں نے انعام یافتہ طلبہ و طالبات کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ مستقبل میں بھی محنت اور لگن کے ساتھ تعلیمی و ادبی میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کریں گے۔ انھوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ آئندہ مقابلوں کے زمروں میں اضافہ کیا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ طلبہ کو اظہار کا موقع مل سکے۔
جلسہ تقسیم انعامات میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ میںنقد انعامات، اسناد اور مومنٹو تقسیم کیے گئے۔ اس سال بہترین شرکت کا ایوارڈ ڈاکٹر ذاکر حسین میموریل اسکول، جعفرآباد کو دیا گیا، جبکہ بہترین کارکردگی کا ایوارڈ سید عابد حسین جامعہ اسکول نے حاصل کیا۔ دونوں اسکولوں کو 21، 21 ہزار روپے نقد انعام، مومنٹو اور سرٹیفکیٹ سے نوازا گیا۔ اس طرح اسناد، مومنٹو اور شیلڈز کے ساتھ نقد انعامات کی مجموعی رقم تقریباً ساڑھے پانچ لاکھ روپے تقسیم کی گئی۔پروگرام کی نظامت ریشما فاروقی نے کی۔ اختتام پر کامیاب طلبہ کو مبارکباد پیش کی گئی اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ اکادمی آئندہ بھی علمی و ادبی سرگرمیوں کے ذریعے نئی نسل کی صلاحیتوں کو فروغ دیتی رہے گی۔

Continue Reading

دلی این سی آر

راجدھانی دہلی میں فروری میں ہی گرمی نے دی دستک

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی :دارالحکومت دہلی میں فروری میں ہی گرمی نے لوگوں کو پسینہ بہانا شروع کر دیا ہے۔ دہلی میں پارہ ایک بار پھر 30 ڈگری سیلسیس سے اوپر پہنچ گیا ہے۔ دن بھر تیز دھوپ کے باعث لوگوں نے گرمی محسوس کی۔ دہلی کے صفدرجنگ آبزرویٹری میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت معمول سے 5 ڈگری زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق دہلی میں آج زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 29 سے 31 ڈگری سیلسیس کے درمیان اور کم سے کم درجہ حرارت 12 سے 14 ڈگری سیلسیس کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔ دن بھر آسمان صاف رہے گا تاہم صبح کے وقت دھند چھائی رہے گی۔
محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ ہفتے کے آخر تک گرمی میں بتدریج اضافہ ہوگا۔ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 33 ڈگری سیلسیس تک پہنچ سکتا ہے۔ 25 اور 26 فروری کو دن کے وقت سطحی ہوائیں 15 سے 25 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی۔دہلی کے بیشتر علاقوں میں صبح ہلکی کہرا چھا گیا۔ جیسے جیسے دن چڑھتا گیا، کہرا چھٹ گیا اور سورج نکلا۔ صبح 11 بجے کے بعد سورج روشن ہو گیا، جس کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ صفدرجنگ میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 30.5 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا جو معمول سے پانچ ڈگری زیادہ ہے۔ کم از کم درجہ حرارت 11.8 ڈگری سیلسیس تھا، جو سال کے اس وقت کے لیے معمول ہے۔ ہوا میں نمی کا تناسب 29 سے 95 فیصد تک رہا۔
دریں اثنا، دارالحکومت دہلی کو آلودہ ہوا سے کوئی راحت نہیں مل رہی ہے۔ ہوا کی رفتار کم ہونے کی وجہ سے دہلی کے باشندوں کو بڑھتی ہوئی آلودگی کا سامنا ہے۔ مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (CPCB) کے مطابق، دہلی کی ہوا کے معیار کا انڈیکس 228 رہا۔ اس سطح پر ہوا کا معیار خراب سمجھا جاتا ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network