Connect with us

دلی این سی آر

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان شروع ہونے والی کشیدگی کا دور بالآخر ختم

Published

on

نئی دہلی: پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان شروع ہونے والی کشیدگی کا دور بالآخر ختم ہوگیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پہل پر دونوں ممالک نے فوجی تنازع سے پیچھے ہٹنے پر اتفاق کیا۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہوئے یہ جانکاری دی۔ ٹرمپ کے اس عہدے کے فوراً بعد پاکستان اور بھارت نے بھی فوجی محاذ آرائی روکنے کا باضابطہ اعلان کیا۔ ہندوستان کی وزارت خارجہ نے ہفتہ کی شام ایک مختصر پریس کانفرنس میں اس کا اعلان کیا۔

سکریٹری خارجہ وکرم مصری نے کہا کہ دونوں ممالک نے ہفتے کی شام 5 بجے سے پانی، زمین اور آسمان میں جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے ڈی جی ایم اوز 12 مئی کو دوبارہ بات چیت کریں گے۔اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ اعلان کرتے ہوئے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی ہو گئی ہے، بڑا کھلبلی مچایا۔

ہفتہ کی شام ہندوستانی وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی قائم ہوگئی ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان وکرم مصری نے کہا کہ شام پانچ بجے سے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی نافذ ہو گئی ہے۔ وکرم مصری نے کہا کہ پاکستان کے ڈی جی ایم او نے ہفتہ کی سہ پہر فون پر بات کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے اپنی شرائط پر جنگ بندی کی ہے اور دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز 12 مئی کو دوبارہ بات کریں گے۔

اس کے ساتھ ہی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر کہا کہ ہندوستان اور پاکستان نے آج فائرنگ اور فوجی کارروائی روکنے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے اپنی تمام شکلوں اور مظاہر میں دہشت گردی کے خلاف مسلسل ایک مضبوط اور غیر متزلزل موقف اپنایا ہے اور ایسا کرتا رہے گا۔

وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر کہا کہ ہندوستان اور پاکستان نے آج فائرنگ اور فوجی کارروائی روکنے پر اتفاق کیا ہے

وزیر خارجہ جے شنکر نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ہندوستان اور پاکستان نے آج فائرنگ اور فوجی کارروائی روکنے پر اتفاق کیا ہے

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت اور پاکستان نے گزشتہ تین دنوں سے جاری تنازع پر فوری مکمل جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔ یہ معاہدہ امریکہ کی ثالثی سے طے پایا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ ’امریکہ کی ثالثی میں رات بھر کی طویل بات چیت کے بعد مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ بھارت اور پاکستان نے مکمل اور فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’امریکہ کی ثالثی میں رات بھر کی طویل بات چیت کے بعد مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ بھارت اور پاکستان نے مکمل اور فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔ ٹرمپ نے دانشمندی کا مظاہرہ کرنے پر دونوں ممالک کا شکریہ ادا کیا ہے۔

دلی این سی آر

جامعہ ملیہ کے زیر اہتمام پہلا قرۃ العین حیدر یادگاری خطبے کا انعقاد

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی:پریم چند آرکائیوز اینڈ لٹریری سینٹر، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے زیر اہتمام قرۃ العین حیدر سے منسوب پہلے یادگاری خطبے کا انعقاد کیا گیا۔ پہلا خطبہ ہونے کے ساتھ اس کو یادگار بنانے میں دو اہم پہلو نمایاں ہیں۔ ایک تو یہ کہ خود وائس چانسلر جامعہ ملیہ اسلامیہ پروفیسر مظہر آصف نے یہ خطبہ دیا، جو کہ کئی زبانوں اور علوم و فنون کے علاوہ صوفی اور بھکتی تحریکات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ اس خطبے کی دوسری اہمیت یہ تھی کہ اس کا عنوان ’’رومی اور کبیر: ایک تقابلی مطالعہ‘‘ تھا۔
دانشوروں اور اسکالرز کی کہکشاں کو خطاب کرتے ہوئے پروفیسر مظہر آصف نے کہا کہ صوفیوں اور سنتوں کی مشترک شناخت دنیابیزاری، انسانیت اور محبت ہے۔ چنانچہ رومی اور کبیر کے درمیان بظاہر بعدالمشرقین کے باوجود گہری مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔ رومی کا تعلق ایک تہذیب یافتہ، تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ ماحول سے ہے، جب کہ اس کے برعکس کبیر کا رشتہ ایک ان پڑھ، غیرمتمدن اور دیہی زندگی سے ہے۔ لیکن دونوں کا وجدان، الوہی انوار سے وابستگی، حیات و کائنات سے متعلق درویشانہ اور قلندرانہ رویہ، نفسانی خواہشات، انا، تکبر اور دنیوی آلائشوں سے بیزاری، رومی اور کبیر کو ایک ہی منبع نور سے منسلک کردیتی ہے۔
اس یادگاری خطبے کی شان و شوکت یوں بھی فزوں تر ہوجاتی ہے کہ اس کی صدارت کے فرائض رجسٹرار جامعہ ملیہ اسلامیہ اور بین الاقوامی تعلقات پر بسیط نظر رکھنے والے پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی نے انجام دیے۔ اس حوالے سے ان کی صدارت کی معنی خیزی میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے کہ رومی اور کبیر بھی دراصل دو تہذیبوں اور دو اقوام کے مابین نقطۂ اتصال ہی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انھوں نے اپنے صدارتی کلمات میں پروفیسر مظہر آصف کی عالمانہ بصیرتوں کی تحسین کرتے ہوئے کہا کہ رومی اور کبیر دونوں کے یہاں امن، محبت اور اعلیٰ روحانی اقدار سے وابستگی اپنی انتہا پر ہے۔ رومی اور کبیر دراصل انانیت اور نفسانی خواہشات کو ختم کردینے کا نام ہیں۔
اس باوقار جلسے کو خطاب کرتے ہوئے مہمان اعزازی اور ڈین فیکلٹی برائے انسانی علوم و السنہ پروفیسر اقتدار محمد خاں نے کہا کہ پروفیسر مظہر آصف کا قرآن سے گہرا شغف ان کے والد کی تربیت کا نتیجہ ہے۔ ان کی دلچسپیوں کا دائرہ جتنی زبانوں اور علوم و فنون تک پھیلا ہوا ہے، ایسی شخصیات بہت کم ہی ہوتی ہیں۔ آج کے دور میں رومی اور کبیر کی تعلیمات کا آموختہ بہت ضروری ہے۔
استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے پریم چند آکائیوز اینڈ لٹریری سینٹر کے اعزازی ڈائریکٹر پروفیسر شہزاد انجم نے کہا کہ اس سینٹر کو وائس چانسلر اور رجسٹرار کا بے پایاں التفات حاصل ہے اور انھیں کی سرپرستی کے سبب ہمیں اس سال دو یادگاری خطبات کی داغ بیل ڈالنے کا موقع ملا۔ انھوں نے مہمانان کا خیرمقدم کرتے ہوئے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ اس سینٹر کے شایانِ شان ایک آڈیٹوریم کی سخت ضرورت ہے۔
اس موقع پر پروفیسر شہزاد انجم نے وائس چانسلر کی خدمت میں قرۃ العین حیدر کا شہرۂ آفاق ناول ’’آگ کا دریا‘‘ ہدیہ کرتے ہوئے ان کی شال پوشی کی۔ ڈاکٹر سید محمد عامر نے رجسٹرار کو یہ تحفے نذر کیے۔ سینٹر سے وابستہ اسنِگدھا رائے نے ڈین فیکلٹی برائے انسانی علوم و السنہ کا تحائف سے استقبال کیا۔ قرۃ العین حیدر یادگاری خطبے کی مناسبت سے ڈاکٹر ایس ایم عامر نے قرۃ العین حیدر کا ایک مختصر اور جامع تعارف پیش کیا، جب کہ مہمان مقرر پروفیسر مظہر آصف کے مفصل تعارف سے اسنِگدھا رائے نے حاضرین کو روشناس کرایا۔
اس موقر خطبے کی نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے شعبۂ اردو سے وابستہ ایسو سی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر خالدمبشر نے کہا کہ آج کا دن پریم چند آرکائیوز کی تاریخ میں نہایت یادگار ہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سربراہِ اعلیٰ نے بہ نفس نفیس یہ باوقار اور علمی خطبہ ارشاد فرمایا۔ پروگرام کا آغاز ڈاکٹر شاہنواز فیاض کی تلاوت اور اختتام شردھا شنکر کے اظہارِ تشکر پر ہوا۔ اس موقع پر پروفیسر خالدمحمود، پروفیسر تسنیم فاطمہ، پروفیسر کوثر مظہری، پروفیسر حبیب اللہ، پروفیسر احمد محفوظ، ڈاکٹر سہیل احمد فاروقی اور ڈاکٹر شکیل اختر کے علاوہ بڑی تعداد میں جامعہ کے اساتذہ، ریسرچ اسکالرز اور طلبہ و طالبات موجود تھے۔

Continue Reading

دلی این سی آر

دہلی میں گرمی نے توڑا50سال کا ریکارڈ

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی :دارالحکومت دہلی میں گرمی نے لوگوں کو پریشان کرنا شروع کر دیا ہے۔ مارچ کے اوائل میں غیر معمولی طور پر گرم موسم کی وجہ سےزیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 35.7 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جو پچھلے 50 سالوں میں مہینے کے پہلے ہفتے میں ریکارڈ کیا گیا سب سے زیادہ درجہ حرارت ہے۔ محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ اتوار کو بھی گرمی سے کوئی مہلت نہیں ملے گی۔محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) کے ایک اہلکار نے کہا کہ گزشتہ 50 سالوں کے موسمی اعداد و شمار کی بنیاد پر، شہر کے بیس ویدر اسٹیشن صفدرجنگ میں مارچ کے پہلے سات دنوں کے دوران ریکارڈ کیا گیا سب سے زیادہ درجہ حرارت 34.8 ڈگری سیلسیس تھا، جو 5 مارچ 1999 کو ریکارڈ کیا گیا تھا۔آئی ایم ڈی کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ہفتہ کو پارہ 35.7 ڈگری سیلسیس تک پہنچنے کے ساتھ ہی یہ گزشتہ 50 سالوں میں مارچ کے پہلے ہفتے کا گرم ترین دن بن گیا۔ آئی ایم ڈی کے 2011 کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ مارچ کے پہلے ہفتے کے دوران ریکارڈ کیا گیا دوسرا سب سے زیادہ درجہ حرارت 2016 میں تھا، جب 4 مارچ کو پارہ 33.6 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا تھا۔
دریں اثنا، ہفتے کے روز شہر کی ہوا کا معیار نمایاں طور پر بگڑ گیا۔ مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (CPCB) کے مطابق، 24 گھنٹے کا اوسط ہوا کے معیار کا انڈیکس (AQI) شام 4 بجے۔ 246 (غریب)، پچھلے دن اسی وقت 170 (اعتدال پسند) کے مقابلے میں۔ یہ کمی مسلسل تین دنوں کے اعتدال پسند ہوا کے معیار کے بعد آئی ہے۔ ایئر کوالٹی ارلی وارننگ سسٹم کی پیشین گوئیوں کے مطابق، اگلے دو دنوں میں ہوا کا معیارعتدال پسند زمرے میں بہتر ہونے کی امید ہے، لیکن اس میں دوبارہ کمی واقع ہو سکتی ہے۔ CPCB کی درجہ بندی کے مطابق، صفر اور 50 کے درمیان AQI کو اچھا، 51-100 اطمینان بخش، 101-200اعتدال پسند، 201-300 خراب، 301-400 انتہائی ناقص، اور 401-500 کو کبھی بھی سمجھا جاتا ہے۔ہفتہ کو شہر کے اہم موسمی مرکز صفدرجنگ میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 35.7 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، معمول سے 7.3 ڈگری زیادہ، اور کم از کم درجہ حرارت 17.4 ڈگری سیلسیس، معمول سے 3.4 ڈگری زیادہ۔
محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق ماہ کے صرف ایک ہفتے کے اندر اوسط زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 33 ڈگری سینٹی گریڈ اور اوسط کم سے کم درجہ حرارت 16.3 ڈگری سینٹی گریڈ رہا جو 2022 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ 2022 میں مارچ کا اوسط زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 33.4 ڈگری سینٹی گریڈ تھا جب کہ اوسط درجہ حرارت 16.7 ڈگری سینٹی گریڈ رہا۔ مارچ میں دہلی میں اب تک کا سب سے زیادہ درجہ حرارت 40.6 ڈگری سیلسیس ہے جو 31 مارچ 1945 کو ریکارڈ کیا گیا تھا۔

Continue Reading

دلی این سی آر

ایران کے سپریم لیڈر کی شہادت عالم اسلام کا عظیم سانحہ:مفتی محمد مکرم احمد

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی :شاہی امام مسجد فتح پوری دہلی مفکر ملت مولانا ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد نے جمعہ کی نماز سے قبل خطاب میں مسلمانوں سے اپیل کی کہ اخیر عشرہ میں شب بیداری کریں اور شب قدر کو طاق راتوں میں تلاش کریں اور اعتکاف بھی کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اخیر عشرہ میں خود بھی شب بیداری فرماتے تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی اس کی تاکید فرماتے تھے انہوں نے کہا کہ زکوٰۃ اور صدقات سے مستحق طلبہ کی ضرور مدد کریں جو عصری علوم حاصل کر رہے ہیں لوگ ہم سے معلوم کرتے ہیں کہ کیا ہم زکوٰۃ کی رقم اسکول و کالج میں پڑھنے والے مسلم مستحق طلبہ و طالبات کو دے سکتے ہیں۔ مفتی مکرم نے کہا کہ عصری علوم کے طلبہ کے تعلیمی مصارف بہت زیادہ ہوتے ہیں لہٰذا ان کی زکوٰۃ سے مدد کر سکتے ہیں اس میں بھی ثواب ہے۔
مفتی مکرم نے مشرق وسطی میں امن کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور اسرائیل و امریکی حملوں کی شدید مذمت کی جن کے باعث اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر کی شہادت ہوئی انہوں نے کہا سپریم لیڈر کی ہلاکت عالم اسلام کا ایک عظیم سانحہ ہے ۔ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات جاری تھے اور 2مارچ بھی مذاکرات کے لیے مقرر تھی لیکن 28 فروری کو اچانک بغیر اعلان جنگ کے بزدلانہ طور پر سپریم لیڈر پر حملہ کر دیا گیا جس میں ان کے ساتھ کچھ اعلیٰ افسران بھی ہلاک ہو گئے اور سپریم لیڈر کے اہل خانہ بھی ہلاک ہو گئے اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ اسرائیل نے حملہ کر کے اقوام متحدہ کے اصولوں اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی کی ہے اقوام متحدہ اور عالمی برادری کو اس پر ایکشن لینا چاہیے اسرائیل نے ایک ایلیمنٹری اسکول (پرائمری اسکول) پر حملہ کر دیا جس میں 160 طالبات کی ہلاکت ہو گئی اور 90کے قریب بچے زخمی ہیں اورحالات مزید خراب ہوتے جا رہے ہیں ہم عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے اپیل کرتے ہیں کہ سنجیدہ عملی اقدامات کر کے حالات کو مزید خراب ہونے سے بچایا جائے نیز مذاکرات سے مسائل کو حل کیا جائے ۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network