اتر پردیش
طلبہ اور شہریوں کو کرائی گئی ماک ڈرل, رات میں کیاگیا بلیک آو ٹ
(پی این این)
دیوبند:پہلگام واقعہ کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے پیش نظر سہارنپور میں طلبہ و طالبات اور شہریوں کو جنگی حالات میں تحفظ سے متعلق آگاہی فراہم کرنے کے لیے سہارنپور میں ماک ڈرل (مشق) کا انعقاد کیا گیا۔ اس مہم کا مقصد عوام کو بوقتِ ضرورت فوری ردِعمل اور بچاو کی تربیت فراہم کرنا ہے۔
تفصیل کے مطابق، ماک ڈرل کا آغاز شہر کے گرو نانک کنیا انٹر کالج اور سیم انٹر کالج میں ہوا۔ جہاں تقریباً 20-20- منٹ کی مشقیں کرائی گئیں۔ ان مشقوں میں امدادی اہلکاروں نے شہریوں اور طلبہ کو دکھایا کہ اگر کسی علاقے میں فضائی بمباری ہو تو کس طرح خود کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جائے۔ اس دوران زخمیوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانے کا عملی مظاہرہ بھی کیا گیا۔ بعد ازاں شام کے وقت یہ مشقیں میونسپل کارپوریشن سہارنپور کے احاطے اور سرساوہ کے ڈی سی جین انٹر کالج میں بھی منعقد کی گئیں۔ ان مشقوں کی نگرانی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ رجنیش مشرا نے کی۔ اس مشق میں سول ڈیفنس وارڈن کے علاوہ این سی سی کیڈٹس، اسکاو ¿ٹس، گائیڈز اور نہرو یووا کیندر کے رضاکاروں نے بھرپور حصہ لیا-
اس موقع پر مقررین نے عوام سے اپیل کی کہ افواہوں پر دھیان نہ دیں اور ہر حال میں ہوشیار و باخبر رہیں۔ سہارنپور میں شام 4 بجے جیسے ہی سائرن بجا، زور دار دھماکوں کی آوازیں گونجنے لگیں اور فرضی فضائی حملے کا منظر پیش کیا گیا۔ شہریوں نے دھماکوں اور فضائی حملے سے بچنے کے لیے زمین پر لیٹ کر پناہ لی۔ مشق کے دوران فضائی حملے کی صورت میں خود کو محفوظ رکھنے، بم دھماکوں کے دوران محفوظ مقامات تک پہنچنے، آگ لگنے کی صورت میں آگ بجھانے اور خطرہ کم ہونے پر زخمیوں کو اسٹریچر پر ڈال کر ایمبولینس کے ذریعے اسپتال پہنچانے جیسے عملی اقدامات کا مظاہرہ کیا گیا۔
سول ڈیفنس کے وارڈنز اور رضاکاروں نے بلند عمارتوں کی بالائی منزلوں سے لوگوں کو محفوظ طریقے سے نیچے اتارنے، زخمیوں کو سہارا دے کر اور اسٹریچر کے ذریعے ایمبولینس تک پہنچانے، اور فائربریگیڈ کی گاڑی کے ذریعے آگ پر قابو پانے جیسے مناظر میں اپنی مہارت کا شاندار مظاہرہ کیا۔ اگلے مرحلہ کے تحت رات 8 بجے حقیقت نگر میں ڈی ایم منیش بنسل کی موجودگی میں بلیک او ¿ٹ کا انعقاد کیاگیا،جس میں لوگوں نے بھرپور تعاون کیااور سبھی نے اپنی اپنی لائیٹی بندکردی، اتنا ہی نہیں بلکہ گاڑیاں بھی سائیڈ کھڑی کردی گئی اور لائٹیں و انڈیگیٹر وغیرہ بند کردیئے،گھروںکے پردے گرادیئے گئے، بلیک میں او ¿ٹ میں شہریوںنے بھرپور تعاون کیا۔
حقیقت نگر چوراہے سے لے کر آئی ایم اے بلڈنگ تک مکمل بلیک آو ¿ٹ (اندھیرا) کیا گیا، تاکہ جنگی حالات کا عملی تجربہ دیا جا سکے۔ یہ مشقیں ضلع انتظامیہ، شہری دفاع اور دیگر امدادی محکموں کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہیں، جن کا مقصد عام شہریوں کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے مو ¿ثر طور پر نمٹنے کے لیے تیار کرنا ہے۔
اتر پردیش
اے ایم یو کے پرو وائس چانسلر نے جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج میں جدید طبی سہولیات کا کیاافتتاح
(پی این این)
علی گڑھ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر پروفیسر ایم محسن خان نے جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج میں جدید ترین پلازما اسٹرلائزر، رین بسیرے اور چیف میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (سی ایم ایس) کے دفتر میں نو تزئین شدہ میٹنگ روم کا افتتاح کیا۔
افتتاحی تقریب میں اے ایم یو کے رجسٹرار پروفیسر عاصم ظفر، ڈین فیکلٹی آف میڈیسن پروفیسر محمد خالد، پرنسپل و چیف میڈیکل سپرنٹنڈنٹ جے این ایم سی پروفیسر انجم پرویز، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ پروفیسر نیر آصف، ایڈیشنل میڈیکل سپرنٹنڈنٹ پروفیسر ضیاء صدیقی، ٹیچر اِنچارج، سی ایس ایس ڈی پروفیسر فاطمہ، ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر حیدر مہدی، اے این ایس پروفیسر نسرین نور، فنانس آفیسر نورالسلام اور سینئر نرسنگ افسران حما روحی اورشبانہ پروین موجود تھے۔
اس اقدام کے تحت اسپتال میں جدید پلازما اسٹرلائزر (آر ایل 100) کو فعال کیا گیا، جو انفیکشن کنٹرول کے اقدامات کو مضبوط بنانے اور مریضوں کی حفاظت کو بہتر بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ یہ نظام ہائیڈروجن پر آکسائیڈ کے بخارات کو کم درجہ حرارت کے پلازما میں تبدیل کر کے حرارت سے حساس طبی آلات کو جراثیم سے پاک کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں مضر کیمیائی باقیات کے بغیر جراثیم کا خاتمہ ممکن ہوتا ہے۔ یہ ٹکنالوجی نہ صرف تیز اور محفوظ ہے بلکہ نازک جراحی آلات، اینڈوسکوپس، فائبر آپٹک آلات اور روبوٹک ٹولز کے لیے خاص طور پر موزوں ہے، نیز یہ طبی عملے کے تحفظ کے ساتھ آلات کی عمر میں بھی اضافہ کرتی ہے۔
نئے رین بسیرے میں مریضوں کے تیمارداروں کے لیے رہائشی سہولت فراہم کی گئی ہے، جہاں تقریباً 100 سے 150 افراد کے قیام کے لیے بستر دستیاب ہوں گے۔ سی ایم ایس دفتر میں تزئین شدہ میٹنگ روم انتظامی میٹنگوں کے لیے ایک جدید اور موزوں مقام کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔
اتر پردیش
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں یوم توانائی تحفظ پر بیداری پروگرام کا انعقاد
(پی این این )
علی گڑھ:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں توانائی کے تحفظ کے دن پر پائیدار توانائی کے طریقوں سے متعلق بیداری بڑھانے اور کیمپس میں ماحولیاتی ذمہ داری کو فروغ دینے کے مقصد سے مختلف سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا۔ یونیورسٹی کے شعبہ بجلی نے وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون کی رہنمائی میں توانائی کے تحفظ سے متعلق آگہی ہفتہ کا آغاز کیا۔ حلف برداری کی تقریب، آگہی ریلی اور ایک سیمینار کا اہتمام کیا گیا، جن کا مقصد توانائی کے مؤثر استعمال کو فروغ دینا، توانائی کے زیاں کو کم کرنا اور ایک سرسبز ملک کے قیام میں تعاون کرنا تھا۔
پرو وائس چانسلر پروفیسر ایم محسن خان نے تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جبکہ سابق وائس چانسلر پروفیسر محمد گلریز نے تقریب کی صدارت کی۔ انہوں نے اس اقدام کی بھرپور تائید کی اور کیمپس کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے جاری کوششوں پر روشنی ڈالی، جن میں شمسی توانائی کی سہولیات میں توسیع اور برقی فیڈرز کا استحکام شامل ہے۔
اپنے خطاب میں مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ توانائی کا تحفظ محض ایک تکنیکی تقاضا نہیں بلکہ ایک مشترکہ سماجی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے طلبہ کو ترغیب دی کہ وہ روزمرہ کی زندگی میں مؤثر طرزِ عمل اپنائیں تاکہ توانائی کے استعمال میں کمی لائی جا سکے۔
ڈی وی وی این ایل، علی گڑھ کے چیف انجینئر مسٹر پنکج اگروال نے اس موقع پر جدید برقی نظاموں میں توانائی کی افادیت کے کردار پر اپنے قیمتی خیالات پیش کیے، جس سے شرکاء کو توانائی کے ذمہ دارانہ استعمال کی اہمیت کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملی۔یہ سرگرمیاں ممبر انچارج الیکٹریسٹی پروفیسر سلمان حمید اور ایسوسی ایٹ ممبر انچارج ڈاکٹر شیرازکرمانی کی رہنمائی اور نگرانی میں منعقد کی گئیں، جن کی مربوط کاوشوں سے پروگرام کی کامیاب تکمیل ممکن ہوئی۔
حلف برداری کی تقریب کے دوران طلبہ، اساتذہ اور عملے نے اجتماعی طور پر توانائی کے مؤثراستعمال کے طریقوں کو اپنانے، زیاں کو کم کرنے اور ایک سرسبز کیمپس کی تعمیر میں تعاون کا عہد کیا۔ اس کے بعد پولی ٹیکنک بوائز سے ڈک پوائنٹ تک ایک بیداری ریلی نکالی گئی، جس میں طلبہ، اساتذہ، انرجی مانیٹرز اور عملے کے اراکین نے شرکت کی اور پائیدار توانائی کے استعمال کے حق میں نعروں اور پلے کارڈز کے ذریعے لوگوں کو بیدار کیا۔ پروگرام میں اے ایم یو کے انرجی مانیٹرز کی خدمات کو بھی سراہا گیا، جو کلاس رومز، لیبارٹریز، ہاسٹلز اور دفاتر میں بجلی کے ذمہ دارانہ استعمال کی حوصلہ افزائی کے لیے مسلسل نگرانی کرتے ہیں۔
دریں اثنا، اے ایم یو گرلز اسکول میں بھی قومی توانائی کے تحفظ کا دن پرنسپل محترمہ آمنہ ملک اور وائس پرنسپل محترمہ الکا اگروال کی رہنمائی میں جوش و خروش اور پائیدار ترقی کے مضبوط عزم کے ساتھ منایا گیا۔ شرکاء نے توانائی کے تحفظ کے حلف نامہ پر دستخط کیے اور توانائی بچانے اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا۔ جماعت دہم (ایف) کی طالبہ مس صفت مرزا نے اپنی تقریر میں گھر اور اسکول میں توانائی بچانے کے عملی طریقوں پر روشنی ڈالی۔طالبات اور اساتذہ نے اجتماعی طور سے توانائی کے تحفظ کا حلف پڑھا، جس سے پائیدار طرزِ زندگی اور ماحولیاتی تحفظ کے تئیں مشترکہ ذمہ داری کا احساس اجاگر ہوا۔ پروگرام کو مسٹر رانا حبیب خان اور مس سندس نورالعین نے مربوط کیا
اتر پردیش
عبداللہ اعظم کو جھٹکا،2پاسپورٹ معاملےمیں 7سال کی سزا
(پی این این)
رام پور:سابق ایم ایل اے عبداللہ اعظم دو پین کارڈ کیس میں سات سال کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ان کو پاسپورٹ کے دو معاملات میں سات سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ ان پر 50 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔ سماعت کے دوران عبداللہ اعظم ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے۔سٹی ایم ایل اے آکاش سکسینہ نے 2019 میں سول لائن پولیس تھانے میں ایس پی لیڈر اعظم خان کے بیٹے عبداللہ اعظم کے خلاف دو پاسپورٹ کا مقدمہ درج کرایاتھا۔
انہوں نے الزام لگایاتھا کہ عبداللہ اعظم کے پاس دو پاسپورٹ ہیں۔ انہوں نے ان میں سے ایک پاسپورٹ غیر ملکی سفر کے لیے استعمال کیا تھا۔یہ معاملہ ایم پی ایم ایل اے مجسٹریٹ کورٹ میں زیر التوا تھا۔ عبداللہ اعظم نے اس معاملے میں دائر کیس کو منسوخ کرنے کے لیے سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا تھا لیکن وہاں سے انہیں راحت نہیں ملی۔ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد اس کیس کی سماعت دوبارہ شروع ہوئی۔جمعہ کو رام پور کورٹ نے اپنا فیصلہ سنایا۔ سماعت کے لیے سابق ایم ایل اے عبداللہ اعظم کو وی سی کے ذریعے عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے عبداللہ اعظم کو مجرم قرار دیتے ہوئے 7 سال قید اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ ایم ایل اے آکاش سکسینہ نے 2019 میں سول لائن تھانے میں ایک ایف آئی آر درج کرائی تھی۔
ایف آئی آر میں ایم ایل اے نے کہا کہ عبداللہ اعظم نے جھوٹے اور من گھڑت دستاویزات اور تفصیلات کی بنیاد پر پاسپورٹ حاصل کیا تھااور وہ اسے استعمال کر رہے تھے۔ پاسپورٹ نمبر Z4307442 کی تاریخ 10 جنوری 2018 ہے۔عبداللہ اعظم خان کی تاریخ پیدائش ان کے تعلیمی سرٹیفکیٹس (ہائی اسکول، بی ٹیک اور ایم ٹیک) میں یکم جنوری 1993 درج ہے۔ پاسپورٹ نمبر Z4307442 ان کی تاریخ پیدائش 30 ستمبر 1990 ظاہر ہورہی ہے۔ پاسپورٹ کو مالی فائدے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔کاروباری اور پیشہ ورانہ بیرون ملک سفر، مختلف اداروں کے شناختی کارڈ کے طور پر اور مختلف عہدوں کے لیے درخواست دینے کے لیے اس کو استعمال کیا گیاہے۔نیز تعلیمی سرٹیفکیٹس کو مالی فائدے کے لیے بھی استعمال کیا گیا ہے جس میں تعلیمی اداروں سے ایکریڈیشن اور شناختی کارڈ بھی شامل ہے۔
عبداللہ اعظم کے تعلیمی سرٹیفکیٹس اور پاسپورٹ میں تاریخ پیدائش اور جائے پیدائش متضاد ہیں۔اس کے باوجود عبداللہ جان بوجھ کر تمام دستاویزات کو ضرورت کے مطابق ناجائز فائدہ اٹھانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔کیس میں الزام لگایا گیا تھا کہ عبداللہ اعظم نے پاسپورٹ نمبر Z 4307442 حاصل کیا تھا جس میں جھوٹی تفصیلات موجود تھیں جس کا غلط استعمال تعزیرات ہند کی دفعہ 420، 467، 468، 471 اور پاسپورٹ ایکٹ کی دفعہ 12(1) AK کے تحت قابل سزا ہے۔
-
دلی این سی آر11 months agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر11 months agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
دلی این سی آر11 months agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoکجریوال کاپجاری اور گرنتھی سمان اسکیم کا اعلان
-
محاسبہ1 year agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
بہار7 months agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ1 year agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
