Connect with us

اتر پردیش

دہشت گردوں کا کوئی مذہب یا ذات نہیں: ڈائریکٹر جامعہ طبیہ دیوبند

Published

on

(پی این این)
دیوبند: جامعہ طبیہ دیوبند میں جموں و کشمیر کے پہلگام (Pahalgam) میں دہشت گرد حملے (Terror Attack) میں مرنے والے لوگوں کو موم بتیاں جلاکر خراج عقیدت پیش کیاگیا اور زخمیوں کی صحت کے لئے دعاءکی گئی۔ جامعہ طبیہ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر انور سعید نے تعزیتی پروگرام میں دہشت گردی کا شکار ہونے والے سیاحوں کے لیے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور کہا کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب یا ذات نہیں ہوتی۔ پہلگام میں دہشت گردوں کے ہاتھوں سیاحوں کا قتل نہایت بزدلانہ اور قابلِ مذمت عمل ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سے اپیل ہے کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سخت ترین اقدامات کرے ۔ ڈاکٹر انور سعید نے ان بہادروں کو بھی سلام پیش کیا جنہوں نے اپنی جان کی بازی لگا کر دیگر سیاحوں کی جان بچائی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت کو چاہیے کہ وہ جموں و کشمیر میں اعلیٰ ترین سطح پر سکیورٹی اقدامات کو مزید سخت کرے کیونکہ وہاں کے زیادہ تر لوگوں کی معیشت سیاحت پر منحصر ہے۔

امن و امان ہی سے اعتماد اور قومی یکجہتی کو فروغ ملتا ہے۔ اس دوران جامعہ طبیہ دیوبند کے طاہر ہال میں تمام اسٹاف اور طلباءو طالبات نے موم بتیاں جلا کر جاں بحق ہونے والوں کو جذباتی خراجِ عقیدت پیش کیا۔ کالج کے سیکریٹری ڈاکٹر اختر سعید نے شہداءکے لیے گہری ہمدردی کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی۔ اس موقع پر پرنسپل ڈاکٹر انیس احمد، نائب پرنسپل ڈاکٹر محمد فصیح، ڈاکٹر نکہت سجاد، ڈاکٹر احتشام الحق صدیقی، ڈاکٹر محمد اعظم عثمانی، ڈاکٹر جاوید عالم، ڈاکٹر مزمل، جمشید انور، عامر سعیدی، پیر جی جاوید، ارون کمار، منوج کمار، سچن کمار، سنجے جندل اور دیگر طلباءو طالبات موجودرہے۔

اتر پردیش

قربانی اور نمازِ عید کو پُر امن بنانے کے لیے ضلع انتظامیہ کے ساتھ تبادلہ خیال

Published

on

رام پور:قاضی شرع و مفتی ضلع سید فیضان رضا حسنی نوری نے وکاس بھون رام پور میں ضلع انتظامیہ کے زیرِ اہتمام امن کمیٹی کی ایک نہایت اہم نشست منعقد ہوئی۔ اس اجلاس کا مقصد شہر و ضلع میں قربانی اور نمازِ عید کے انتظامات کو پُراثر اور منظم بنانا تھا۔ نیز نمازِ عید اور روایتی قربانی کے مذہبی فریضے کو امن، ہم آہنگی، بھائی چارے اور قانون کے دائرے میں ادا کرنے کے لیے باہمی تعاون کی یقین دہانی تھا۔سبھی جانتے ہیں کہ رامپور شہر گنگاجمنی تہذیب کی ایک روشن علامت ہے، جہاں ہر مذہبی موقع پر انتظامیہ اورعلماء اہلسنت و عوامی حلقوں کے ذمہ داران کے درمیان باہمی تعاون کی مثال قائم رہی ہے۔ تقریباً ایک گھنٹے تک قربانی و نمازِ عید سے متعلق مختلف مسائل پر سنجیدہ تبادلۂ خیال جاری رہا۔نشست انتہائی کامیابی کے ساتھ برخاست ہوئی۔قاضیِ شرع و مفتی ضلع سید فیضان رضا حسنی نوری کے ہمراہ علمائے اہلِ سنت و جماعت شہر و ضلعِ رام پور کے ساتھ ساتھ تحصیل صدر، سوار، ٹانڈہ، بلاسپور، بلاک چمروا، سیدنگر اور کیمری و غیر کے دیگر ذمہ داران بھی کثیر تعداد میں شریک ہوئے۔اس موقع پر ضلعی افسرانِ اعلیٰ، یعنی ڈی ایم اور ایس پی صاحبان کو باقاعدہ ’’میمورنڈم‘‘ پیش کیا گیا۔ ضلع انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی کہ قربانی اور نمازِ عید حسبِ روایت و پرمپراگت ادا کی جائیں گی۔ البتہ اس امر کا خاص خیال رکھا جائے گا کہ کوئی نئی رسم یا روایت نہ قائم ہو، اور بالخصوص اُن جانوروں کی قربانی سے مکمل اجتناب کیا جائے جن پر قانونی پابندی عائد ہے۔
ہم نے ضلع انتظامیہ کو یہ یقین دلایا کہ قربانی صرف انہی جانوروں پر ہوگی جن کی اجازت شریعت اور قانون دونوں نے دی ہے۔ ہم نہ قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور نہ آئندہ کریں گے۔ اسی ضمن میں ہم نے درجِ ذیل میمورنڈم پیش کیا۔ضلع رام پور میں عید الاضحیٰ 28 مئی 2026 ء بروز جمعرات منائی جائے گی۔عیدالاضحیٰ اسلام کا ایک اہم تہوار اور مذہبی فریضہ ہے جسے مسلمان 10، 11 اور 12 ذی الحجہ کو شریعت کے مطابق حلال جانوروں کی قربانی کرکے ادا کرتے ہیں۔ دیہات میں قربانی کا وقت 10/ ذی الحجہ کو صبح صادق کے بعد اور شہر میں نمازِ عید کے بعد سے شروع ہوتا ہے۔ یہ تہوار صرف اللہ کی رضا کے لیے منایا جاتا ہے، کسی مذہب یا برادری کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے لیے نہیں۔ پھر بھی ہماری درخواست ہے کہ انتظامیہ شرپسند عناصر پر خاص نظر رکھے تاکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور امن میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔
لہٰذا ہم درج ذیل نکات پر ضروری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ضلع رام پور کی تمام عیدگاہوں اور مساجد میں نمازِ عید ادا کی جاتی ہے، لہٰذانماز سے قبل وہاں کی مناسب صفائی اور طہارت کو یقینی بنایا جائے۔عیدالاضحیٰ کے موقع پر ہر صاحبِ نصاب مسلمان پر تین دن قربانی واجب ہے۔اس سال وہ تین دن جمعرات، جمعہ، ہفتہ، یعنی 28 مئی سے 30 مئ تک ہیں ۔ اس مذہبی فریضے کی بلا رکاوٹ ادائیگی کے لیے مکمل تعاون فراہم کیا جائے۔جن جانوروں کی قربانی کی شریعت اور ملک کا قانون اجازت دیتا ہے، ان کی خرید و فروخت اور آمد و رفت میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔سابقہ برسوں کی طرح اس بار بھی مسلمان اپنے گھروں اور مقررہ کیمپوں میں قربانی کا اہتمام کریں گے۔ براہ کرم اس میں کوئی خلل نہ ڈالا جائے۔ضلع کے مختلف علاقوں میں لگنے والے روایتی بازاروں سے تاجر اور شہری جانور خرید کر اپنے مقامات تک لے جاتے ہیں۔ ان کے لیے حسبِ سابق تحفظ، سہولت اور پرامن ماحول کا انتظام کیا جائے۔قربانی کے بعد گندگی، فضلہ اور آلات کی صفائی کے لیے بلدیہ، نگر پنچایتوں اور بجلی کے محکمے کو ہدایت دی جائے کہ وہ صفائی، بجلی اور پانی کی فراہمی درست رکھیں۔گزشتہ برسوں کچھ علاقوں سے خبر آئی کہ چند افراد کے قابلِ اعتراض تبصرے کی وجہ سے قربانی پر اچانک پابندی لگا دی گئی تھی، حالانکہ وہاں تہوار رجسٹر میں قربانی درج ہے۔ اس معاملے میں غور و فکر کے بعد وہاں قربانی کرنے کی اجازت دی جائے۔ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم ضلعی انتظامیہ کے ساتھ ہر ممکن تعاون کریں گے اور توقع رکھتے ہیں کہ انتظامیہ بھی سابقہ برسوں کی طرح بھرپور تعاون کرے گا۔

Continue Reading

uttar pradesh

ظلم کیخلاف جاری رہے گی جدوجہد،اعلیٰ افسران کی یقین دہانی کے بعد اقراء حسن نے ختم کیا احتجاج

Published

on

(پی این این)
دیوبند:کیرانہ پارلیمانی حلقہ کی ممبر پارلیمینٹ اور سماجوادی پارٹی کی سینئر لیڈر چودھری اقراء حسن نے اپنے حمایتی اور فالوورز کی گرفتار ی کے خلاف شروع کیا گیا احتجاج اور ہڑتال گزشتہ دیر رات سرکاری افسران کے ساتھ ہونے والی گفتگو کے بعد ختم کردیا ۔
ضلع مجسٹریٹ نے اقراء حسن کو یقین دہانی کرائی کہ حراست میں لئے گئے سبھی لوگوں کو صبح 10؍ بجے رہا کردیا جائے گا۔اس یقین دہانی کے بعد پولیس اور انتظامیہ نے راحت کی سانس لی ۔اس یقین دہانی کے بعد سماجوادی پارٹی اور کانگریس لیڈران سمیت بڑی تعداد میں موجود لوگ واپس چلے گئے ۔یہ تنازعہ گزشتہ روز دوپہر کے بعد شروع ہوا تھا جو رات دیرتک چلتا رہا ۔رات کے وقت ضلع مجسٹریٹ کلدیپ سنگھ احتجاج کے مقام پر پہنچے اور انہوں نے اقراء حسن اور ان کے لوگوں سے بات کی ۔ بات چیت کے بعد رکن پارلیمینٹ اقراء حسن نے اپنے وکیلوں سے بات کی اور صلاح ومشورہ کیا بعدازاں تھانہ سے ہی جیل بھیجے گئے بے قصور لوگوں کی ضمانت کی کارروائی مکمل کرائی گئی ۔
افسران نے صبح سویرے سب لوگوں کی رہائی کی یقین دہانی کرائی ۔احتجاج کئے جانے کے مقام پر اعلیٰ افسران میں نگر مجسٹریٹ کلدیپ سنگھ ،ایس ایس بی ویوم فیدل ،معاون ایس پی منوج کمار یادو اور سی او روچی گپتا موجود رہے ۔
احتجاج ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اقراء حسن نے سبھی لیڈران اور کارکنان کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ ظلم وزیادتی کا شکار ہونے والوں کو انصاف دلانے کے لئے ان کی جدوجہد جاری رہے گی۔ اس دو ران اقراء حسن کے ساتھ سماجوادی پارٹی کے ایم ایل اے آشو ملک ،سابق ایم پی حاجی فضل الرحمن ،ایم ایل اے ناہد حسن ،سابق رکن اسمبلی ٹھاکر وریندر سنگھ ،سابق ایم ایل اے منوج چودھری ،علی خاں ،معاویہ علی ،منیش تیاگی ،مظفر علی ،ورون شرما ،پروین چودھری ،ابھیشیک ٹنکو اروڑہ ،فہد سلیم احمد ،فرہاد عالم ،سندیپ احمد ،سلیم احمد ،فیصل سلمانی ،رشبھ تیاگی ،حیدر علی ،رتن یادو ،اور برجیش شرما سمیت بڑی تعداد میں لوگ موجود رہے ۔
وہیں دوسری جانب اعلیٰ افسران کی یقین دہانی کے مطابق صبح: 10بجے تمام بے قصور لوگوں کو جیل سے رہا کردیا گیا ۔ان لوگوں کے جیل سے باہر آتے ہی پارٹی کارکنان نے ان پھولوں کے ہار پہناکر زبردست استقبال کیا ۔

Continue Reading

uttar pradesh

مراد آباد میں امروہہ کے کھلاڑیوں نے بلند کیاپرچم، عمر نے چاندی اور وانیہ نے جیتا کانسی کا تمغہ

Published

on

(پی این این)
امروہہ:مرادآباد تائیکوانڈو اسپورٹس ایسوسی ایشن نے مرادآباد کے کا نٹھ روڈ پر واقع سمر ولا اسکول میں انٹراسکول اوپن تائیکوانڈوچیمپئن شپ کا انعقاد کیا۔
امروہہ تائیکوانڈو فاؤنڈیشن کے کھلاڑیوں نے اپنی شاندار کارکردگی سے ضلع کا نام روشن کیا۔ امروہہ تائیکوانڈو فاؤنڈیشن کے ماسٹر اکبر الدین مغل کی قیادت میں کھلاڑیوں نے اپنی شاندار صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔
سب جونیئر زمرے میں سخت مقابلے کے درمیان عمر خان نے چاندی کا تمغہ جیتا۔ اس دوران وانیہ خان نے بھی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔ تائیکوانڈو کے ماسٹراکبر الدین مغل نےاس شاندار کامیابی پر کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کے کھیلوں کے مقابلوں سے کھلاڑیوں میں صحت مند مقابلے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور انہیں آگے بڑھنے کی ترغیب ملتی ہے۔کھلاڑیوں کی کامیابی پر کھیل سے محبت کرنے والوں اور اہل خانہ نے خوشی کا اظہار کیا۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network