Connect with us

دلی این سی آر

SC: فی الحال نہیں ہوگی وقف کونسل اور بورڈ میں کوئی نئی تقرری

Published

on

 نئی دہلی: مسلمانوں کو سپریم کورٹ کی جانب سے ایک بڑی راحت ملی ہے۔ سپریم کورٹ نے نئے وقف قانون پر عارضی روک لگا دی ہے۔جس سے مسلمانوں میںانصاف کی کرن پیدا ہوئی ہے۔ مولانا ارشد مدنی نے آج کے فیصلے پر اطمنان کا اظہار کیا ہے۔ غور طلب ہے کہ عدالت عظمیٰ نے آج ایک اہم فیصلے میں نئے وقف قانون کی اہم شقوں پر عارضی روک لگائی ہے اور حکومت کو ہدایت دی ہے کہ اگلی سماعت تک حکم امتناعی برقراررکھے ۔یہ روک سات دن کے لیے لگائی گئی ہے ۔
چیف جسٹس سنجیوکھنہ کی قیادت والی تین رکنی بینچ نے کہاکہ سنٹر ل وقف کونسل اور اوقاف بورڈ میں تا حال کوئی تقری نہ کرے ۔اور وقف بائی یوزر جو جائیداد 1997 کے قانون کے تحت درج کی گئی ہے اسے چھیڑا نہ جائے ۔عدالت عظمی نے اس کیس کی اگلی سماعت مئی کے پہلے ہفتہ میں طے کی ہے ۔مرکزی حکومت کو جواب داخل کرنے کے لیے ایک ہفتہ کی مہلت دی ہے اور کیس کی اگلی سماعت 5مئی کو ہوگی ۔
سپریم کورٹ نے کل نئے وقف ترمیمی قانون کے خلاف تقریبا 73 عرضداشتوں پر سماعت کرتے ہوئے کئی نکات پر مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا تھا اور ساتھ ہی کہاتھا کہ وہ اس قانون کی کچھ شقوں پر روک لگاسکتی ہے ۔یہ امکان ظاہرکیاجارہاتھاکہ عدالت عظمی ،اس سلسلے میں اس قانون کی جوکچھ دفعات ہیں جن میں غیرمسلموں کی سنٹرل وقف کونسل اور وقف بورڈ میں نامزدگی اور وقف جائیدادوں کے تعلق سے کلکٹر ز کے رول کے بارے میں جو تنازعات ہیں ،اس پر روک لگاسکتی ہے ۔عدالت عظمی کی تین رکنی بنچ نے اس سلسلے میں کل کوئی حکم امتناعی جاری نہیں کیا تھا اور سماعت آج کے لیے ملتوی کردی تھی ۔دوران سماعت عدالت نے کہا تھاکہ وہ وقف قانون کے بارے میں آرڈر پاس کرسکتی ہے تاکہ اس میں متاثرہ پارٹی کے جوخدشات ہیں انھیں دورکیاجاسکے ۔
All Indiaعدالت نے سماعت کے دوران یہ بھی کہا تھاکہ یہ کیسے ممکن ہے کہ صدیوں پرانی وقف جائیدادوں کا رجسٹریشن ہو جن میں بہت ساری مساجد اور دوسری تاریخی عبادت گاہیں شامل ہیں ۔سماعت کے دوران عدالت نے مرکزی حکومت کے وکیل سے یہ سوال بھی پوچھا تھا کہ کیاوہ ہندوؤں کی عبادت گاہوں اور ٹرسٹوں میں غیر ہندوؤں کو نمائندگی دیں گے ۔چیف جسٹس نے تشار مہتہ سے پوچھا تھا کہ کیا مسلمان ہندوٹرسٹ کے ممبر بن سکتے ہیں ۔
اس سے قبل عرضی گزاروں کی پیروی کرنے والے سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل نے عدالت کوبتایاکہ‘‘ وقف ایک مذہبی معاملہ ہے اور یہ اسلام کی روح سے وابستہ ہے ۔انھوں نے کہاکہ وقف ترمیمی قانون غیر آئینی اور مسلمانوں کے مذہبی امو رمیں سراسر مداخلت ہے ۔انھوں نے عدالت میں دلیل دی کہ دیگر طبقات کے مذہبی اداروں میں مسلمانوں کی شرکت نہیں توپھر مسلمانوں اوقاف میں غیرمسلم ممبران کی موجودگی ضروری کیوں قراردی گئی ۔کلکٹر کوجج کا اختیار کیوں دیاگیا اور وہ اپنے ہی مقدمہ کا فیصلہ کیسے کریگا۔’’
سپریم کورٹ میں مسلم پرسنل لا بورڈ ، جمعیتہ علماہند(مولانا ارشد مدنی )،کانگریس ممبر پارلیمنٹ محمد جاوید،ڈی ایم کے ، مجلس اتحادالمسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی ، جمعیتہ علماہند کے صدر مولانا محمودمدنی ،سمستھ کیرالہ جمعیتہ علما،ممبران پارلیمنٹ منوج کمار جھا ،مہوا موئترا ،انڈین یونین مسلم لیگ ،عام آدمی پارٹی کے امانت اللہ خان ،تمل اداکار وجے ،ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس اور دیگر درجنوں اہم شخصیات اور تنظیموں نے عرضیاں داخل کی ہیں ۔

دلی این سی آر

وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے یوم جمہوریہ کی تقریبات کے دوران چھترسال اسٹیڈیم میں لہرایاقومی پرچم

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی :دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے یوم جمہوریہ کی تقریبات کے دوران چھترسال اسٹیڈیم میں قومی پرچم لہرایا۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی حکومت کے گزشتہ 11 مہینوں میں عوامی بہبود کے لئے بہت سے فیصلے لئے گئے ہیں۔ سی ایم نے کہا کہ جب ہماری حکومت نے 11 ماہ قبل دہلی کی باگ ڈور سنبھالی تھی تو ہمیں بہت سے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے کہا کہ آیوشمان بھارت اسکیم کو بی جے پی حکومت کے قیام کے پہلے دن سے ہی قومی دارالحکومت میں لاگو کیا گیا تھا۔ اس اسکیم کے تحت اب تک 65 لاکھ افراد رجسٹرڈ ہوچکے ہیں۔ یوم جمہوریہ کی تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آیوشمان بھارت ملک اور دنیا کی سب سے بڑی صحت اسکیم ہے، جسے حکومت کے قیام کے پہلے ہی دن دہلی میں لاگو کیا گیا تھا۔ اس کے مستفید ہونے والوں کو10 لاکھ کا انشورنس کور ملتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی حکومت کے گزشتہ 11 مہینوں میں کئی عوامی فلاحی فیصلے لئے گئے ہیں، جن کا مقصد شہریوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانا ہے۔ ریکھا گپتا نے کہا کہ جب ہماری حکومت نے 11 ماہ قبل دہلی کا چارج سنبھالا تو ہمیں بہت سے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا۔ سب سے بڑا چیلنج اس نظام میں برسوں سے جمع ہونے والی دھول اور رکاوٹیں تھیں۔ ہم نے اس صورتحال کو بدلنے اور دہلی کو ایک نئی سمت دینے کے لیے بہت سے معنی خیز اقدامات کیے ہیں۔ وزیر اعظم کے سب کا ساتھ، سب کا وکاس” کے اصول پر عمل کرتے ہوئے ہم نے گزشتہ 11 مہینوں میں عوامی بہبود کے لیے کئی فیصلے لیے ہیں۔وزیراعلیٰ نے قومی پرچم کی عزت کے لیے جانیں قربان کرنے والے آزادی پسندوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا، “میں ان شہیدوں کو سلام کرتی ہوں جنہوں نے ترنگے کی عزت کے لیے اپنی جانوں سے بڑھ کر قوم کو ترجیح دی اور ہمیں یہ جمہوریہ، عزت نفس اور آزادی دلائی۔ آئین ہندوستان کی روح ہے۔”وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پچھلے 77 سالوں سے، ہندوستان کے آئین نے انصاف، مساوات اور وقار کی روشنی کے طور پر ہماری رہنمائی کی ہے۔ ہندوستان آئین کی تشکیل سے لے کر قوم کی تعمیر تک تمام کوششوں کو یاد رکھتا ہے۔ یوم جمہوریہ کی تقریبات کے دوران وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے بھی چھترسال اسٹیڈیم میں پریڈ کا معائنہ کیا۔ انہوں نے ترقی یافتہ دہلی کے لیے روڈ میپ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ آئین ہندوستان کا ضمیر ہے اور پچھلے 77 سالوں سے ہندوستان کا آئین انصاف، مساوات اور وقار کی روشنی کے طور پر ہماری رہنمائی کر رہا ہے۔ ہماری دہلی حکومت ترقی یافتہ ہندوستان کے حصول کے عزم کے ساتھ وزیر اعظم نریندر مودی کے ویژن 2047 کے ساتھ ہم آہنگ ایک ترقی یافتہ دہلی کی تعمیر کے لیے مستقل اور تیزی سے کام کر رہی ہے۔گزشتہ 11 مہینوں میں دہلی حکومت کے کام کا ذکر کرتے ہوئے، انہوں نے کہا، “جب ہماری حکومت نے تقریباً 11 مہینے پہلے دہلی کا چارج سنبھالا تھا، تو ہمیں بہت سے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ لیکن سب سے بڑا چیلنج سسٹم میں برسوں سے جمع دھول اور رکاوٹیں تھیں۔ ان مختصر 11 مہینوں میں، ہم نے اس صورتحال کو بدلنے اور دہلی کو ایک نئی سمت دینے کے لیے بہت سے معنی خیز اقدامات کیے ہیں۔”
انہوں نے کہا، “آج 50,000 سے زیادہ لوگ اٹل کینٹین میں روزانہ کھانا کھا رہے ہیں۔ ہم اس ہدف کو روزانہ 100,000 کھانے تک بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ دہلی میں کوئی بھی بھوکا نہ سوئے۔ دہلی حکومت کی جانب سے، ہم مودی جی کے ڈیجیٹل انڈیا پہل کے مطابق دہلی کے تمام اسپتالوں کو ڈیجیٹل کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔”دہلی میں 300 سے زیادہ آیوشمان آروگیہ مندر، جو بنیادی صحت کی دیکھ بھال کے مراکز ہیں، کھولے گئے ہیں۔ ہمارا مقصد دہلی میں بہترین صحت کے بنیادی ڈھانچے کو یقینی بنانا اور صحت کی دیکھ بھال کے بہترین آلات کے ذریعے دہلی کو AAA ہیلتھ ماڈل میں آگے بڑھانا ہے، یعنی اعلی درجے کی، سستی، اور قابل رسائی صحت کی دیکھ بھال۔سی ایم نے کہا، “اسے تیار کیا جانا چاہیے۔ دہلی میں کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کو بڑھانے کے لیے، ہم نے منڈکا میں ایک نئی دہلی اسپورٹس یونیورسٹی پر کام شروع کیا ہے۔ جو دہلی کی پہلی بین الاقوامی معیار کے مطابق بنائی گئی ہے، جو دہلی میں کھیلوں کی بہتر سہولیات لائے گی۔ دہلی کی اچھی سڑکوں، بہتر پبلک ٹرانسپورٹ، صاف پانی، اور جدید شہری سہولیات کو ذہن میں رکھتے ہوئے، دہلی حکومت نے اس کی سرمایہ کاری کو دوگنا کر دیا ہے۔” 2025-26 میں 100% پبلک ٹرانسپورٹ بسیں تین سال کے اندر الیکٹرک فلیٹ میں تبدیل ہو جائیں گی۔
سی ایم ریکھا گپتا نے کہا، “ہم نے دہلی میں کام کرنے والے ٹمٹم کارکنوں کو سماجی اور صحت کی حفاظت کے دائرے میں لانے کے لیے گِگ ورکر ویلفیئر بورڈ تشکیل دیا ہے۔ ہم نے کچی بستیوں میں 700 کروڑ روپے فراہم کیے ہیں، جس کے ذریعے نئے بیت الخلا، گلیاں، نالیاں، فٹ پاتھ، پارکس وغیرہ بنائے جا رہے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت کے تعاون سے دوارکا ایکسپریس وے، یو ای آر-2، اور دہلی-دہرا دون ایکسپریس وے جیسی سڑکیں تعمیر کی گئی ہیں، جس سے دہلی کے رابطے میں خاطر خواہ بہتری آئے گی اور دہلی کی بھیڑ میں کمی آئے گی۔ہم نے دہلی میں 10 نئے گائے پناہ گاہیں بنانے کی تیاری کی ہے، جس میں جدید ترین سہولیات کے ساتھ بائیو گیس پلانٹ اور گاؤں کی زندگی کے تجربات شامل ہوں گے۔ ہم نے آوارہ کتوں کے لیے جدید ترین اور محفوظ پناہ گاہیں بنانے پر بھی کام شروع کر دیا ہے۔ دہلی کو سبز توانائی سے جوڑنے کے لیے ہم نے اپنی تمام سرکاری عمارتوں پر سولر پلانٹ بھی لگائے ہیں۔

Continue Reading

دلی این سی آر

شب برات کھیل تماشہ کی رات نہیں ،مساجد یاگھروں میں کریں عبادت : ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی :شاہی امام مسجد فتح پوری دہلی مولانا ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد نے جمعہ کی نماز سے قبل خطاب میں مسلمانوں سے اپیل کی کہ ماہ شعبان المعظم میں فرائض کے ساتھ نفلی عبادتوں کا بھی اہتمام کریں اس مہینے میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم زیادہ عبادت اور تلاوت کیا کرتے تھے نیز مساکین کی مدد کرتے تھے تاکہ وہ بھی رمضان المبارک کی عبادتوں کے لیے تیار ہو جائیں انہوں نے کہا کہ 14 شعبان المعظم بروز منگل مطابق ۳ فروری کو شب براء ت ہوگی اور عرس مظہری بھی منعقد ہوگا ۔
مفتی مکرم نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ شب براء ت کے موقع پر مساجد میں یا گھروں میں عبادت کا اہتمام کریں اور نوجوانوں کو سڑکوں پر کھیل تماشے کرنے سے روکیں کچھ نوجوان اسکوٹر یا بائیک پر کرتب دکھاتے ہیں اسٹنٹ کرتے ہیں جن سے نوجوانوں کے لیے بھی خطرات پیدا ہوتے ہیں نیز عوام کو بھی شدید پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے یہ رات کرتب دکھانے کے لیے نہیں ہوتی۔
مفتی مکرم نے کہا 26 جنوری کو ہر سال جشن جمہوریت بڑی شان و شان شوکت کے ساتھ منایا جاتا ہے یہ بھارت کے 140 کروڑ عوام کا شاندار تہوار ہے جسے پورا ملک بڑے جوش و خروش کے ساتھ مناتا ہے مدارس اور اسکولوں میں یوم جمہوریت کے بارے میں سماجی اور ثقافتی پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں ہر مذہب اور ہر فرقے کے لوگ ایسے پروگراموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں انہوں نے کہا جمہوریت اور سیکولرازم سے ہندوستان کے وقار میں چار چاند لگے ہوئے ہیں کچھ فرقہ پرست ذہن رکھنے والے ہندوستان کے آئین کو ختم کرنے کے در پے ہیں انہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ 75 سال میں ہندوستان نے جتنی ترقی کی ہے وہ اسی آئین کی دین ہے ہمیں سب کو سیکولرازم اور جمہوریت کی حفاظت کرنی چاہیے ۔مفتی مکرم نے بریلی کے محمد گنج کے ایک گھر میں کچھ مسلمانوں کی نماز باجماعت نماز ادا کرنے پر پولیس کاروائی کی شدید مذمت کی انہوں نے کہا کہ بند گھر میں پرسکون طور پر نماز ادا کرنا کس قانون سے جرم ہے ۔گھروں میں عام طور پر متعدد مذاہب کے لوگ اپنے اپنے عقیدے کے مطابق مذہبی پروگرام منعقد کرتے ہیں تو مسلمانوں پر یہ ظلم کیوں؟ انہوں نے یو پی کی ریاستی حکومت اور مرکزی حکومت سے اپیل کی کہ گھروں میں پرامن طور پر نماز ادا کرنے پر کوئی ایکشن نہ لیا جائے جو آزادی دوسرے مذہب والوں کو ہے وہ مسلمانوں کو بھی ملنی چاہیے۔

Continue Reading

دلی این سی آر

دہلی والوں کو بڑا تحفہ،ہولی اور دیوالی پرملے گا مفت گیس سلنڈر

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی :دہلی حکومت کی کابینہ نے دہلی میں ہولی اور دیوالی پر مفت سلنڈر فراہم کرنے کی اسکیم کو منظوری دے دی۔ پہلے سلنڈر کی قیمت ہولی کے موقع پر مستفیدین کے بینک کھاتوں میں براہ راست منتقل کی جائے گی۔
وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کی زیر صدارت کابینہ کی میٹنگ میں اس اسکیم کے لیے300 کروڑ (تقریباً 1.5 بلین ڈالر)۔ بی جے پی نے اپنے انتخابی منشور میں یہ وعدہ کیا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ دہلی حکومت کی منظوری کے بعد براہ راست متعلقہ محکمہ کو آرڈر بھیجا جائے گا۔ وہاں سے خواتین کے بینک کھاتوں میں رقم منتقل کرنے کی تیاری کی جائے گی۔ ہولی 4 مارچ کو ملک بھر میں منائی جائے گی۔ اس سے پہلے دہلی میں رہنے والی اہل خواتین (راشن کارڈ ہولڈر) کو دہلی حکومت سے پہلے سلنڈر کی ادائیگی ان کے بینک کھاتوں میں ملے گی۔شدوسرے سلنڈر کی ادائیگی دیوالی پر ان کے بینک کھاتوں میں منتقل کر دی جائے گی۔ اس طرح دہلی حکومت ہر سال دو گیس سلنڈروں کی ادائیگی ان کے بینک کھاتوں میں منتقل کرے گی۔پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ جلد ہی مشرقی دہلی کے تین مصروف ترین چوراہوں پر ٹریفک جام کے بڑھتے ہوئے مسئلہ کو دور کرنے کے لیے گول چکر بنائے گا۔ یہ قدم دہلی ٹریفک پولیس کی سفارش پر اٹھایا جا رہا ہے، اور توقع ہے کہ اس سے عوام کو ٹریفک جام سے راحت ملے گی۔پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ کے افسران نے بتایا کہ مدر ڈیری پلانٹ کے قریب گنیش چوک، نوئیڈا لنک روڈ سے جڑنے والے غازی پور روڈ پر ترلوک پوری 18-بلاک کے قریب اور نیو اشوک نگر میں ایسٹ اینڈ اپارٹمنٹ روڈ پر سرپنچ چوک پر گول چکر بنائے جائیں گے۔ گنیش چوک پر گول چکر کی تعمیر سے جنوبی گنیش نگر، شکرپور اور منڈاولی کے لوگوں کو سہولت میسر آئے گی۔
ریکھا گپتا، دہلی کی حکومت نے شہر کے جنوبی حصے میں ٹریفک کی بھیڑ کو دور کرنے کے لیے ساکیت جی بلاک سے پل پرہلاد پور تک ایم بی روڈ پر 6 لین کی مربوط ایلیویٹڈ سڑک اور دو انڈر پاسز کی تعمیر کو منظوری دی ہے۔ اس پروجیکٹ پر تقریباً 1,471.14 کروڑ لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے اور اسے دسمبر 2027 تک مکمل کرنے کا ہدف ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس بنیادی ڈھانچے کے منصوبے کی تکمیل سے نہ صرف ٹریفک کی بھیڑ میں کمی آئے گی بلکہ دہلی کے باشندوں کو ٹریفک جام سے طویل مدتی راحت بھی ملے گی۔منگل کو دہلی سکریٹریٹ میں منعقدہ فائنانس اینڈ ایکسپینڈیچر کمیٹی کی میٹنگ میں اس پروجیکٹ کو منظوری دی گئی۔ میٹنگ کی صدارت وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے کی۔ منصوبے کے تکنیکی، مالیاتی اور ساختی فریم ورک پر تفصیلی بات چیت کے بعد منظوری دی گئی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ پروجیکٹ جنوبی دہلی کے ٹریفک نیٹ ورک کو ہموار اور ہموار کرنے کی سمت میں ایک بڑا قدم ہوگا۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تقریباً پانچ کلومیٹر طویل یہ پروجیکٹ دو حصوں میں بنایا جائے گا: ساکیت جی بلاک سے سنگم وہار تک پہلی ایلیویٹڈ سڑک، جس کی لمبائی 2.42 کلومیٹر ہے۔ دوسری ایلیویٹڈ سڑک ما آنند مائی مارگ سے پل پرہلاد پور تک بنائی جائے گی، جس کی لمبائی تقریباً 2.48 کلومیٹر ہوگی۔
وزیر اعلیٰ نے اس پروجیکٹ کے بارے میں تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ دہلی میٹرو ریل کارپوریشن (ڈی ایم آر سی) اس پروجیکٹ کی تعمیر کرے گی۔سڑک اور میٹرو کے درمیان بہتر تال میل کو یقینی بناتے ہوئے اس پروجیکٹ کو ڈی ایم آر سی کوریڈور کی صف بندی کے ساتھ تیار کیا جائے گا۔انہوں نے وضاحت کی کہ یہ مربوط ڈھانچہ چھ لین ایلیویٹڈ فلائی اوور پر مشتمل ہوگا جس میں ڈبل ڈیکر سسٹم ہوگا، جس کے اوپر میٹرو چل رہی ہے اور نیچے ایک ایلیویٹڈ کوریڈور ہوگا۔ اس منصوبے میں دو انڈر پاسز بھی شامل ہوں گے، جو ساکیت-جی بلاک اور بی آر ٹی کوریڈورز پر واقع ہیں۔ یہ ماڈل نہ صرف کم جگہ میں زیادہ صلاحیت فراہم کرے گا بلکہ گنجان آباد علاقوں جیسے ساکیت جی بلاک، امبیڈکر نگر، خانپور اور سنگم وہار میں ٹریفک کی رفتار کو بھی دوگنا کر دے گا۔
وزیر اعلیٰ نے یہ بھی بتایا کہ دہلی حکومت نے سنگم وہار سے ما آنندمائی مارگ تک تقریباً ڈھائی کلومیٹر لمبی چھ لین والی ایلیویٹڈ سڑک کے لیے اصولی منظوری دے دی ہے۔ یہ تجویز وزارت ثقافت، حکومت ہند کو پیش کی جا رہی ہے۔ مجوزہ علاقہ تغلق آباد قلعہ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔چیف منسٹر گپتا نے کہا کہ اس پروجیکٹ میں سرمایہ کاری سے جنوبی دہلی میں ٹریفک نظام میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ایم بی روڈ پر طویل ٹریفک جام سے نجات ملے گی، گاڑیوں کی اوسط رفتار بڑھے گی اور لاکھوں مسافروں کا وقت بچ جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت کی یہ کوششیں دارالحکومت کو جدید، قابل رسائی اور مستقبل کے لیے تیار انفراسٹرکچر فراہم کرنے کی جانب ایک اور اہم قدم ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network