Connect with us

اتر پردیش

محکمہ اقلیتی امور نے بلاک وار تیار کی مدارس کی فہرست، 30 اپریل تک مکمل کرنے کا مشن

Published

on

(پی این این)
دیوبند: ضلع میں رجسٹرڈ مدارس کی جانچ شروع ہو گئی۔ افسران مقررہ آٹھ نکات پر مدارس کی جانچ کریں گے۔ جو مدارس معیار پر پورے نہیں اتریں گے، ان کی رپورٹ حکومت کو بھیجی جائے گی۔

اس پوری کارروائی کو 30 اپریل سے پہلے مکمل کر لیا جائے گا۔ حکومت کے پورٹل پر ضلع کے 687 مدارس رجسٹرڈ ہیں۔ اقلیتی امور کے محکمہ نے بلاک وار مدارس کی فہرست تیار کی ہے۔ ان مدارس کی جانچ کی ذمہ داری ضلع سطح کے 69 افسران کو سونپی گئی ہے۔ جن مدارس کی جانچ ہوگی، ان میں میونسپل کارپوریشن سہارنپور کے 128، دیوبند علاقہ کے 128 مدارس شامل ہیں۔ اسی طرح، بلیا کھیڑی بلاک کے 46، گنگوہ کے 47، مظفرآباد بلاک کے8 مدارس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ نانوتہ، رام پور منیہاران، نکوڑ، بہٹ وغیرہ علاقوں میں موجود مدارس کی بھی جانچ ہوگی۔ آٹھ نکاتی جانچ میں مدرسہ کی منظوری کی حیثیت، سوسائٹی کی رجسٹریشن یا تجدید کی حیثیت کو جانچا جائے گا۔ طلبہ کی

رجسٹرڈ تعداد، معائنے کے وقت موجودگی، یو-ڈائس نمبر، پین نمبر، اپار آئی ڈی اپڈیٹ وغیرہ نکات شامل کیے گئے ہیں۔ ضلع اقلیتی فلاح و بہبود افسر سمن گوتم نے بتایا کہ مدارس کی جانچ آج منگل کے دن سے شروع ہو گئی۔ 69 افسران کی ٹیم بنائی گئی ہے، ایک افسر کو 10 مدرسوں کی جانچ کی ذمہ داری دی گئی ہے سبھی نے آج سے اپنی کارروائی شروع کر دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ۱۵ دنوں میں مکمل کر کے رپورٹ تیار کرکے حکومت کو بھیج دی جائے گی۔

اتر پردیش

اسمارٹ میٹر صارفین کیلئے بن گئے درد سر ،عوام کاایس ڈی او آفس میں ہنگامہ

Published

on

(پی این این)
دیوبند:محکمہ بجلی لوگوں کے گھروں میں اسمارٹ میٹر لگانے کی مہم شروع کر رہا ہے۔ تاہم ا سمارٹ میٹرز کی تنصیب کے بعد صارفین کو صرف مشکلات کا سامنا ہے۔ جیسے ہی بیلنس نیگیٹیو ہوتاہے،ا سمارٹ میٹر ان کے گھروں میںا ندھیرا کر دیتے ہیں، جس سے بہت زیادہ تکلیف ہوتی ہے۔ اس مسئلے سے دوچار درجنوں مرد و خواتین ایس ڈی او آفس پہنچ گئے اور ہنگامہ کیا۔
دیوبند میں جن صارفین نے اسمارٹ میٹر لگائے ہیں ان کا کہنا ہے کہ یہ اسمارٹ میٹر ان کے لیے درد سر بن گئے ہیں۔ ان کے مسائل حل کرنا بھول جائیں، ان کی بات سننے والا بھی کوئی نہیں۔ جیسے ہی بل منفی نشان پر پہنچتا ہے، بجلی خود بجو کٹ ہوجاتی ہے، انہیں لکھنؤ فون کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ بل ادا کرنے کے بعد بھی دو دن تک ان کے گھروں میں اندھیرا رہتا ہے۔ ان خدشات کو اجاگر کرنے کے لیے مرد و خواتین کی بڑی تعداد ریلوے روڈ پر واقع ایس ڈی او آفس پہنچ گئی اور زبردست ہنگامہ کیا۔
احتجاج کرنے والی کئی خواتین نے الزام لگایا کہ انہیں بل ادا کیے آٹھ دن بھی نہیں ہوئے تھے کہ بجلی کی سپلائی دوبارہ منقطع کر دی گئی۔ کچھ خواتین نے بتایا کہ ان کے گھر کی بجلی ان کے موبائل فون سے منسلک ہو گئی ہے۔ ان کے پاس اسمارٹ فون بھی نہیں تھے تو ان کا مسئلہ کیسے حل ہوتا؟ ایس ڈی او سنتوش کمار نے ناراض صارفین کو پرسکون کیا اور انہیں یقین دلایا کہ ان کے مسائل کو جلد حل کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ اسمارٹ میٹرز کی تنصیب کے بعد کم پڑھے لکھے اور معاشی طور پر کمزور صارفین کو زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ واضح رہے کہ اگر وہ اسمارٹ میٹرز کی تنصیب کے بعد بلاتعطل بجلی کی فراہمی چاہتے ہیں تو انہیں یو پی سی ایل اسمارٹ میٹر ایپ پر بیلنس ان پلس رکھنا ہوگا۔ جیسے ہی بیلنس منفی میں جاتا ہے، بجلی کی سپلائی خود بخود بند ہو جاتی ہے جس سے صارفین کے گھر اندھیرے میں ڈوب جاتے ہیں۔

Continue Reading

اتر پردیش

سابق ایم ایل سی حاجی اقبال مفرور اقتصادی مجرم قرار، 5ہزار کروڑ کی جائیدادیں ضبط

Published

on

(پی این این)
دیوبند:بہوجن سماج پارٹی کے سابق ایم ایل سی حاجی محمد اقبال کو مفرور اقتصادی مجرم قرار دے دیا گیا ہے۔ لکھنؤ کی ایم پی، ایم ایل اے خصوصی عدالت نے اس سلسلے میں اہم حکم جاری کیا، جس کے بعد ان کے خلاف قانونی کارروائی مزید تیز ہو گئی ہے۔ حاجی اقبال کے خلاف سہارنپور میں پہلے ہی پولیس اور ضلع انتظامیہ کی جانب سے مختلف مقدمات میں سخت کارروائیاں جاری ہیں۔
اطلاعات کے مطابق فروری 2026 میں تقریباً 275 کروڑ روپے مالیت کی 50 جائیدادیں قرق کی جا چکی ہیں، جبکہ اس سے قبل 203 کروڑ روپے کی 184 جائیدادوں کی نشاندہی کر کے ان پر بھی کارروائی عمل میں لائی گئی تھی۔ ذرائع کے مطابق گینگ سے وابستہ کئی بے نامی جائیدادوں کی بھی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے بھی حاجی اقبال کی ملک اور بیرون ملک جائیدادوں کے خلاف سخت قدم اٹھاتے ہوئے اب تک پانچ ہزار کروڑ روپے سے زائد مالیت کی املاک ضبط کر لی ہیں، جبکہ مزید تقریباً ایک ہزار کروڑ روپے کی جائیدادوں پر بھی کارروائی کی تیاری کی جا رہی ہے۔
حاجی اقبال اور ان کے قریبی افراد کے خلاف گینگسٹر ایکٹ، غیر قانونی کان کنی، زمینوں پر قبضہ، دھوکہ دہی اور دیگر سنگین الزامات کے تحت مختلف تھانوں میں مقدمات درج ہیں۔ فروری میں تحصیل انتظامیہ نے مرزا پور اور بہٹ پولیس کے ساتھ مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے تقریباً 275 کروڑ روپے مالیت کی زمینوں کو قرق کیا تھا، جن میں شیرپور پیلو، شاہ پور گاڑہ، مرزا پور، علی اکبر پور اور روشن پور پیلو کے علاقے شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق حاجی اقبال ان کے بیٹوں اور قریبی ساتھیوں کے خلاف سال 2022 میں گینگسٹر ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس کی بنیاد پر ان کی منقولہ و غیر منقولہ جائیدادوں کی مسلسل نشاندہی اور ضبطی کی کارروائی جاری ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی ضلع انتظامیہ اور پولیس حاجی اقبال گینگ کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں انجام دے چکی ہے، جن میں سینکڑوں کروڑ روپے مالیت کی جائیدادیں اور سینکڑوں بیگھہ اراضی پہلے ہی ضبط کی جا چکی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ غیر قانونی ذرائع سے حاصل کی گئی دولت کے خلاف کارروائی آئندہ بھی جاری رہے گی۔

Continue Reading

اتر پردیش

اے ایم یو میں حج تربیتی ورکشاپ کا اہتمام

Published

on

(پی این این)
علی گڑھ :علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کلچرل ایجوکیشن سینٹر اور حج ویلفیئر سوسائٹی آف انڈیا کے زیر اہتمام اے ایم یو کے کینیڈی ہال میں ایک روزہ حج ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔مہمانِ خصوصی اے ایم یو کے پرو وائس چانسلر پروفیسر ایم محسن خان نے اپنے حج کے تجربات بیان کرتے ہوئے عازمین حج کو تلقین کی کہ جو افراد بزرگ حجاج کے ساتھ جا رہے ہیں وہ ان کا خاص خیال رکھیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عازمین اپنے ملک اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے لیے دعائیں کریں۔ ساتھ ہی انہوں نے تمام عازمین کا شکریہ بھی ادا کیا۔
ورکشاپ میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں تعینات رہنے والے ہندوستانی کوآرڈینیٹر الحاج مونس خان نے حج کے دوران پیش آنے والی مشکلات اور احتیاطی تدابیر کو پروجیکٹر کے ذریعے بڑی اسکرین پر علی گڑھ، ہاتھرس، ایٹہ اور کاس گنج کے عازمین حج کو تفصیل سے سمجھایا۔ انہوں نے بتایا کہ کسی بھی پریشانی کی صورت میں ہندوستانی حکومت کی جانب سے قائم کیے گئے کیمپوں سے رابطہ کریں، جہاں 24 گھنٹے عملہ، خدمت کے لیے موجود رہتا ہے۔ ان کیمپوں پر ہندوستانی پرچم لگا ہوتا ہے اور عملہ بھی پرچم والی شرٹ پہنے ہوتا ہے، جس سے انہیں آسانی سے پہچانا جا سکتا ہے۔
مونس خان نے تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے راستوں کی معلومات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ 40 سے 50 لاکھ سے زائد حجاج میں اکثر لوگ سعودی قوانین سے ناواقفیت کے باعث مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں، جبکہ وہاں کے قوانین بہت سخت ہیں۔ انہوں نے منیٰ، عرفات، مزدلفہ اور جمرات جیسے مقامات کو بھی بڑی اسکرین پر دکھا کر وضاحت کی۔ انہوں نے تاکید کی کہ حجاج اپنی اسمارٹ واچ ہر وقت ہاتھ میں باندھے رکھیں اور شناختی کارڈ گلے میں ضرور پہنیں۔
حج ویلفیئر سوسائٹی کے صدر حاجی توفیق احمد خان نے پروجیکٹر کے ذریعے حج کے پانچ اہم دنوں کے تمام ارکان اور دینی معلومات سے حجاج کو آگاہ کیا۔ اس کے ساتھ علی گڑھ کے حج ٹرینر عبدالشاکر نے فضائی سفر اور دورانِ حج پیش آنے والی چھوٹی بڑی مشکلات کے بارے میں بتایا، نیز بیرونِ ملک سفر کے دوران پیش آنے والی دشواریوں پر بھی روشنی ڈالی۔
ڈاکٹر ذوالفقار، سابق حج آفیسر نے کہا کہ عازمینِ حج کو چاہیے کہ وہ نُسُک (Nusuk) ایپ کے ذریعے ریاض الجنہ کی بکنگ پہلے سے کر لیں، اور ہر حاجی کے اسمارٹ فون میں حج سہولت ایپ کا ہونا لازمی ہے۔اس موقع پر حاجی شبیر، محمد عدنان، حاجی املاک، حاجی اخلاق سمیت دیگر افراد بھی موجود تھے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network