Connect with us

دلی این سی آر

بھارت رتن ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکرکی 135ویں یوم پیدائش کے موقع پر JMI میں تقریب

Published

on

(پی این این)

نئی دہلی: جامعہ ملیہ اسلامیہ (Jamia Millia Islamia) نے بھارت رتن ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر (Dr BR Ambedkar) کی 135ویں یوم پیدائش (Ambedkar Jayanti) کے موقع پرایف ٹی کے -آئی ٹی آڈیٹوریم میں ایک تقریب کا انعقاد کیا اوران کی وراثت وافکارکوشاندار خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس تقریب کا موضوع “بابا صاحب ڈاکٹربی آرامبیڈکرکا قوم کی تعمیر میں تعاون” تھا۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی آسام کے گورنرلکشمن پرساد آچاریہ تھے ، جبکہ مہمانِ ذی وقارکے طورپرراج بھون سیکریٹریٹ، حکومتِ آسام کے مشیرپروفیسرہربنش دکشت نے شرکت کی۔

 کلیدی خطاب جواہرلال نہرو یونیورسٹی(JNU) کے معروف ماہرِعمرانیات پروفیسرویوک کمارنے دیا، جبکہ پروگرام کی صدارت جامعہ کے وائس چانسلر پروفیسرمظہرآصف نے کی۔ رجسٹرارپروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی بھی اسٹیج پرموجود تھے ۔تقریب کا آغازجامعہ ترانہ اورقومی ترانے سے ہوا۔

اس کے بعد ڈاکٹرامبیڈکر کو گلہائے عقیدت پیش کیے گئے اورتمام معززمہمانوں کا روایتی خیرمقدم کیا گیا۔ اپنے استقبالیہ خطاب میں وائس چانسلر پروفیسرمظہرآصف نے کہا کہ جامعہ صرف ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ ایک نظریہ اورمشن ہے ، جوگہری تہذیب وثقافت سے جڑا ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ، ڈاکٹر امبیڈکرکے اصولوں کواپناتی ہے اورسماج کے پسماندہ طبقوں کے لیے وقف ہے ۔کلیدی مقررپروفیسر ویوک کمارنے دواہم سوالات اٹھائے : (1) یونیورسٹی کے نظام میں ڈاکٹرامبیڈکرکا مطالعہ کس طرح ہواوروہ سیاسی بیانیوں سے کیسے مختلف ہیں؟ (2) انہیں صرف ایک دلت نجات دہندہ یا آئین سازتک محدود کیوں کیا جائے ؟ انہوں نے کہا کہ امبیڈکرکی فکر میں تاریخی، تقابلی اوربین الاقوامی زاویے شامل ہیں، جوآج بھی انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ پروفیسردکشت نے ہندوستانی آئین کی وسعت پرروشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ محض ایک قانونی دستاویزنہیں بلکہ سماجی شعوراورجمہوری تحفظ کی بنیاد ہے ۔

انہوں نے طلبہ سے جمہوریت اور سماجی انصاف کے اقدارکوبرقراررکھنے کی اپیل کی۔مہمانِ خصوصی گورنرلکشمن پرسادآچاریہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ڈاکٹرامبیڈکرکی زندگی اس بات کی علامت ہے کہ کس طرح پختہ خیالات اورعزم وحوصلہ مشکل حالات میں بھی تبدیلی لا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا: “ڈاکٹرامبیڈکرنے اندھیرے میں روشنی پھیلائی اورآج بھی ان کے خیالات ہمیں راستہ دکھاتے ہیں۔

”تقریب کے اختتام پروائس چانسلراوررجسٹرارنے مہمانِ خصوصی، مہمانِ ذی وقاراورکلیدی مقررکوآئینِ ہند کی اصل نقول پیش کیں۔ شکریہ کی تجویزپیش کرتے ہوئے رجسٹرار پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی نے کہا کہ جامعہ کے لیے یہ ایک فخرکا لمحہ ہے کہ وہ ایک تاریخی اوربہت ہی اہم تقریب کا گواہ بنا۔ انہوں نے ڈاکٹرامبیڈکرکے سماجی، سیاسی اوراقتصادی خدمات کواجاگرکرتے ہوئے طلبہ کوان کے خیالات کواپنانے کی تلقین کی۔ پروف مہتاب رضوی نے تنظیمی کمیٹی کے ارکان — ڈاکٹرکپل دیو، ڈاکٹرراج ویر سنگھ، ڈاکٹرارونیش کمارسنگھ، پروفیسر راوِنز، ڈاکٹر امیت کمارورما اورڈاکٹرڈوری لال — کے علاوہ این سی سی، سیکورٹی، صفائی، باغبانی، تکنیکی اورانتظامی ٹیموں کی خدمات کوبھی سراہا۔ تقریب میں جامعہ کے افسران، ڈین، شعبہ جات کے سربراہان، مرکزکے ڈائریکٹرز، اساتذہ، غیرملکی طلبہ کے مشیر، کتب خانہ کے انچارج، سیکورٹی مشیراوربڑی تعداد میں طلبہ نے شرکت کی۔

 

دلی این سی آر

نفرت انگیزی پرسپریم کورٹ کا سما عت سے انکار مایوس کن:ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی :شاہی امام مسجد فتح پوری دہلی مولانا ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد نے جمعہ کی نماز سے قبل خطاب میں مسلمانوں سے اپیل کی کہ ماہ رمضان المبارک میں روزوں اور تراویح کی پورے مہینے میں پابندی کریں نیز روزہ کے دوران کسی بھی قسم کے غیر شرعی اور غیر اخلاقی عمل سے اجتناب کریں رمضان میں ماتحت لوگوں کے ساتھ حسن سلوک اور ہمدردی کا حکم ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس مقدس مہینے میں عبادت کے لیے انتظامیہ کی طرف سے مکمل انتظامات کیے جائیں گے اس کی امید کی جاتی ہے لیکن اگر کہیں کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما ہو تو علاقے کے عوام کا تعاون حاصل کیا جائے اور صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے پولیس میں شکایت درج کرائی جائے علاقے کے لوگوں کے تعاون سے ہی مسائل حل ہو سکتے ہیں ۔ مفتی مکرم نے کہا کہ آسام کے وزیراعلی نے نفرت انگیزی اور اقلیتی فرقہ کے ساتھ بدسلوکی کرنے میں حد سے تجاوز کر رکھا ہے جس کی خبر یں برابر میڈیا میں آرہی ہیں اس کے باوجود سپریم کورٹ کا اشتعال انگیزی کے خلاف مقدمے کی سماعت سے انکار کرنا مایوس کن ہے سپریم کورٹ کے اس رویے سے شر پسند عناصر کے حوصلے بلند ہوں گے ،سپریم کورٹ کا دروازہ تو سب کے لیے ہر وقت کھلا رہنا چاہیے اور یہی آئین کی دفعہ 32 کا مقصد ہے جو آئین کی روح ہے۔
مفتی مکرم نے کہا کہ ضلع بریلی کے محمد گنج علاقہ میں ذاتی مکان میں نماز پڑھنے سے روکنے کے معاملے میں الہ آباد ہائی کورٹ نے ضلع مجسٹریٹ اور پولیس کپتان کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس جاری کر کے انصاف کا بول بالا کیا ہے، اپنی ذاتی جگہ میں مذہبی پر وگرام اور عبادت کرنے میں کہیں کوئی پابندی نہیں ہونی چاہیے۔ 77 سال ہو گئے ہیں آزادی کے بعد سے یہی ماحول تھا تو اب اقلیتی فرقہ کو ذاتی جگہ میں عبادت سے روکنا کیا معنی رکھتا ہے۔ دوسرے مذہب والوں پر کہیں کوئی پابندی نہیں ہے تو مسلمانوں پر بھی نہیں ہونی چاہیے خاص کر رمضان المبارک میں اس کا خاص خیال رکھا جانا چاہیے۔

Continue Reading

دلی این سی آر

گروگرام میں پھر بلڈوزر کارروائی،3غیر قانونی کالونیاں منہدم

Published

on

(پی این این )
گروگرام :گروگرام میں آج پھر بلڈوزر کارروائی ہوئی۔ غیر قانونی کالونیاں اور فارم ہاؤس مسمار کر دیے گئے۔ گروگرام ٹاؤن اینڈ کنٹری پلاننگ ڈیپارٹمنٹ نے 3غیر قانونی کالونیوں کے خلاف بلڈوزرکارروائی کی۔ یہ کالونیاں 10.5 ایکڑ اراضی پر بنائی جا رہی تھیں۔ پولیس کی موجودگی میں مظاہروں کے دوران زیر تعمیر مکانات گرا دیے گئے۔
ڈی ٹی پی ای امیت مادھولیا کی قیادت میں انہدامی دستہ پہلے تاج نگر گاؤں پہنچا۔ تقریباً چار ایکڑ اراضی پر غیر قانونی طور پر کالونی بنائی جا رہی تھی۔ 11 مکانات کے لیے ایک ڈی پی سی اور باؤنڈری وال بنائی گئی تھی۔ پلاٹوں کی فروخت کے لیے سڑک بھی بنائی گئی تھی۔ ایک بلڈوزر نے اس کالونی کو ملبے میں ڈال دیا۔ اس کے بعد ڈیمالیشن اسکواڈ ایک اور کالونی میں چلا گیا، جو اسی گاؤں میں تقریباً چار ایکڑ اراضی پر ترقی کر رہی تھی۔ اس کالونی میں زیر تعمیر آٹھ مکانات کو مسمار کر دیا گیا۔ مزید برآں، 20 مکانات کی تعمیر کے لیے ڈی پی سی رکھی گئی تھی، جسے بھی اکھاڑ پھینکا گیا۔ڈیمالیشن سکواڈ سلطان پور گاؤں پہنچ گیا۔ یہ کالونی تقریباً ڈھائی ایکڑ پر تیار کی جا رہی تھی۔ کالونی میں زیر تعمیر تین مکانات ملبے کا ڈھیر بن گئے۔ ڈی ٹی پی ای امیت مادھولیا نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ان غیر قانونی طور پر ترقی پذیر کالونیوں میں پلاٹ نہ خریدیں۔ یہ کالونیاں کسی بھی وقت گرائی جا سکتی ہیں۔ ان کالونیوں میں خرید و فروخت پر پابندی لگانے کے لیے تحصیلدار کو خط لکھا گیا ہے۔
گروگرام ہی میں، محکمہ جنگلات نے پیر کے روز رائسینا پہاڑیوں پر اراولی ماحولیات کے تحفظ کے لیے اپنی تاریخ کی سب سے بڑی اور موثر کارروائی کی۔ محکمہ کی ٹیم نے تقریباً 28 ایکڑ قیمتی اراضی پر غیر قانونی طور پر بنائے گئے فارم ہاؤسز کو مسمار کر دیا۔ ڈسٹرکٹ فارسٹ آفیسر راج کمار یادو نے بتایا کہ جس زمین پر یہ تعمیر ہو رہی ہے وہ پنجاب لینڈ پریزرویشن ایکٹ کے سیکشن 4 اور 5 کے تحت محفوظ ہے۔ قانونی طور پر، اس علاقے میں کسی بھی قسم کی تعمیر، درختوں کی کٹائی، یا باؤنڈری وال کی تعمیر سختی سے ممنوع ہے۔ اس کے باوجود لینڈ مافیا پہاڑیوں کو کاٹ کر غیر قانونی طور پر فارم ہاؤسز بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔ دریں اثنا، پیر کو کارپوریشن کی اسٹریٹ وینڈنگ مینجمنٹ ٹیم نے شہر کے بڑے تجارتی اور مصروف علاقوں میں ایک بڑا کریک ڈاؤن کیا، غیر قانونی تعمیرات کو مسمار کیا۔ ٹیم نے مرکزی چوراہے سے غیر قانونی طور پر کھڑی گاڑیوں کو بھی ہٹا دیا۔ سیکٹر 17 اور سکھرالی میں فٹ پاتھوں پر رکھے کھوکھے اور دکانداروں کی طرف سے چھوڑے گئے سامان کو ہٹا دیا گیا۔ اس کارروائی کا بنیادی مقصد سڑکوں پر ٹریفک کی روانی کو یقینی بنانا اور پیدل چلنے والوں کے لیے فٹ پاتھ خالی کرنا تھا۔مہم کے دوران عہدیداروں نے سڑکوں پر دکانداروں اور دکانداروں کو سخت وارننگ جاری کی۔
ٹیم نے واضح کیا کہ اگر ہٹانے کے بعد دوبارہ سڑک یا فٹ پاتھ پر تجاوزات پائی گئی تو نہ صرف سامان ضبط کیا جائے گا بلکہ بھاری جرمانے بھی عائد کیے جائیں گے۔ عہدیداروں نے دکانداروں سے اپیل کی کہ وہ اپنا کاروبار اپنی حدود میں کریں۔ میونسپل کمشنر پردیپ دہیا نے مہم پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ شہر کی خوبصورتی اور نظم و نسق میں کسی قسم کی مداخلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ عوامی مقامات پر ناجائز تجاوزات ٹریفک میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ ہم نے حکام کو باقاعدہ نگرانی کرنے کی ہدایت دی ہے۔ عوام الناس سے بھی اپیل ہے کہ وہ شہر کو صاف ستھرا اور منظم رکھنے میں تعاون کریں اور سڑکوں پر تجاوزات نہ کریں۔

Continue Reading

دلی این سی آر

جامعہ ملیہ میں’عہد حاضر میں تدریس و آموزش کے تقاضے‘کے موضوع پرقومی سمینار کا انعقاد

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی :اکادمی برائے فروغ استعداد اردو میڈیم اساتذہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ’عہد حاضر میں تدریس و آموزش کے تقاضے‘ کے موضوع پر کامیابی کے ساتھ یک روزہ قومی سمینار منعقد کیا۔سمینار کا افتتاح میر انیس ہال، دیار میر تقی میر ،جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ہوا۔پروگرام میں ملک بھر سے شامل ممتاز علمی ہستیوں، محققین ماہرین اور طلبہ کا استقبال کیا گیا جنہوں نے اردو میڈیم کے خصوصی حوالے سے تدریس و آموزش کے عمل میں معاصر چیلنجیز اور ابھرتے رجحانات پر اظہار خیا ل کیا۔
شکیل الرحمان رسرچ اسکالر کی تلاوت کلام پاک سے افتتاحی اجلاس کا آغاز ہوا جس کے بعد جامعہ کا ترانہ پیش کیا گیا۔سمینار کے منتظم سیکریٹری ڈاکٹر عبد الواحد کے خیر مقدمی کلمات سے سمینار کے لیے مناسب فضا تیار ہوئی۔عزت و ستائش کی نشانی کے طورپر مندوبین کی خدمت میں مومینٹو پیش کیے گئے اس کے بعد شال پوشی کی رسم سے معزز مہمانا ن کی والہانہ موجودگی کا اعتراف کیا گیا۔ اس موقع پر معزز مہمانان نے، سال گزشتہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے یوم تاسیس کے موقع پر اکادمی کے زیر اہتمام منعقدہ موضوعی مشاعرے میں پیش کی گئی نظموں کے مجموعہ ’گلدستہ موضوعی مشاعرہ ’جامعہ کی کہانی شاعروں کی زبانی‘ کا اجرا بھی کیا۔
پروفیسر جسیم احمد، اعزازی ڈائریکٹر اے پی ڈی یو ایم ٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ و سمینار کنوینر نے حاضرین کا استقبال کرتے ہوئے سمینار کے ابتدائی مراحل میں پروفیسر مظہر آصف،شیخ الجامعہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ اور پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی، مسجل جامعہ ملیہ اسلامیہ کی جانب سے حاصل رہنمائی کے لیے ان کی خدمت میں ہدیہ تشکر پیش کیا۔ سمینار میں تعاون کے لیے انہوں نے ہولسٹک ٹرسٹ اور ا ردو اکادمی دہلی کابھی شکریہ اد اکیا۔ پروفیسر احمد نے سمینار میں مہمانان اور شرکا کاوالہانہ استقبال کیا۔انہوں نے ’کلاس روم کی قسمت کو اساتذہ سمت دیتے ہیں‘ کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات پر زوردیا کہ اسکولی تعلیم بہترین ملک کی بنیاد ہوتی ہے۔انہوں نے تدریس و آموزش کے معاصر طریقوں پر اظہار خیال کے سلسلے میں سمینار کے موضوع کی معنویت بھی اجاگر کی۔
پروفیسر سارہ بیگم، کارگزار ڈین، فیکلٹی آف ایجوکیشن، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے سامعین سے خطاب کرتے ہوئے بتایاکہ ہردور میں تدریس و آموزش کے تقاضے سماجی تناظر میں کس طرح تبدیل ہوتے ہیں۔ڈاکٹر واحد نظیر نے کلیدی خطبہ کے مہمان خطیب ڈاکٹر ندیم احمد،شعبہ اردو،جامعہ ملیہ اسلامیہ کا استقبال کیا۔ڈاکٹر ندیم احمد نے خطبہ میں موجودہ زمانے میں اساتذہ کے رول پر زور دیا اور طلبہ کی آموزش کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے ان کو میسروسائل پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے اساتذہ کی مسلسل پیشہ ورانہ ترقی کی اہمیت پر گفتگو کے ساتھ ساتھ طلبہ کو ان کی پیشہ ورانہ ملازمت کے لیے تیار کرنے کے سلسلے میں قومی تعلیمی پالیسیوں، ڈیجیٹل ٹیچنگ لرننگ ریسورسیزاینڈ ایمپ پر بھی بات کی۔
افتتاحی اجلاس کی ایک اہم بات پروفیسر ایم۔اختر صدیقی کا خطبہ تھا جنہوں نے زبان کی بنیا دپر طلبہ کے درمیان تنوع اور فرق کے مسئلے سے نمٹنے کی ضرورت کے سلسلے میں اپنے بیش قیمت تجربات و مشاہدات ساجھا کیے۔انہوں نے یہ سوال بھی پوچھا کہ اساتذہ کلاس روم میں ڈیجیٹل آلات کے استعمال میں طلبہ کی مختلف سطحوں سے کس طرح نمٹتے ہیں اور آموزش کی الگ الگ رفتار کے تناظر میں تمام طلبہ پر کس طرح توجہ دیتے ہیں۔ڈاکٹر حنا آفرین کے اظہار تشکر اور سمینار کے تکنیکی اجلاسوں کے متعلق اشارے کے ساتھ افتتاحی اجلاس اختتام پذیر ہوا۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network