Connect with us

دلی این سی آر

کانگریس کا منشورجاری، ذات پات کی مردم شماری کرانے کا اعلان

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی :دہلی انتخابات سے چند دن قبل کانگریس نے اپنا انتخابی منشور جاری کیا۔ اس منشور میں کانگریس نے کئی وعدے کیے ہیں جن میں ذات پات کی مردم شماری کرائی جائے گی اور دہلی میں اقتدار میں آنے پر پوروانچلیوں کے لیے ایک وزارت قائم کی جائے گی۔ اپنے منشور میں، اس نے دہلی کی خواتین کو ماہانہ 2500 روپے کی مالی امداد، 300 یونٹ تک مفت بجلی اور 500 روپے میں ایل پی جی سلنڈر دینے کا بھی وعدہ کیا ہے۔کانگریس نے دہلی میں 25 لاکھ روپے تک کا مفت ہیلتھ انشورنس اور مفت راشن کٹ کی بھی ضمانت دی ہے۔ انتخابی منشور کانگریس جنرل سکریٹری جے رام رمیش، ریاستی کانگریس کمیٹی کے صدر دیویندر یادو اور پارٹی کے کچھ دیگر سینئر لیڈروں کی موجودگی میں جاری کیا گیا۔جے رام رمیش نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ آج تمام پارٹیاں ‘گارنٹی’ کا لفظ استعمال کر رہی ہیں، لیکن یہ لفظ سب سے پہلے کانگریس پارٹی نے کرناٹک انتخابات میں استعمال کیا تھا۔
ہم عوام کو یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ کانگریس پارٹی جو کہتی ہے وہی کرتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب منموہن سنگھ وزیر اعظم تھے تو کانگریس پارٹی گارنٹی کی شکل میں ایک قانون لائی تھی، جسے پاس کیا گیا اور اس کا نام ‘نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ’ تھا۔ گارنٹی کا مطلب عوام کا حق ہے۔ اگر ان سے کیے گئے وعدے پورے نہ ہوئے تو وہ قانونی چارہ جوئی بھی کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں کانگریس پارٹی نے دہلی کے لیے 5 ضمانتیں دی ہیں۔ دیویندر یادو نے کہا کہ ہم دہلی کے لوگوں تک پہنچے، ان کے مسائل سنے اور پھر ہم نے اپنا منشور تیار کیا۔ ہم نے اپنے منشور میں دہلی کے مسائل اور شہر کی ضروریات کو شامل کیا ہے۔منشور میں تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کو ایک سال کے لیے 8500 روپے ماہانہ کی مالی امداد کا بھی وعدہ کیا گیا ہے۔ پارٹی نے دہلی میں 100 اندرا کینٹین شروع کرنے کی بھی تجویز پیش کی ہے جہاں پانچ روپے میں کھانا دستیاب ہوگا۔
دہلی کی تمام 70 اسمبلی سیٹوں کے لیے 5 فروری کو ووٹنگ ہوگی۔ ووٹوں کی گنتی 8 فروری کو ہوگی۔دہلی میں 5 فروری کو اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ اس سے پہلے سیاسی جماعتیں انتخابی وعدے کرنے میں مصروف ہیں۔ اب کانگریس پارٹی کا منشور سامنے آ گیا ہے۔ اس میں کانگریس نے ایک بڑا وعدہ کیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ اگر وہ الیکشن جیتتی ہے تو وہ دہلی کی بیوہ خواتین کی بیٹیوں کی شادی کے لیے 1.1 لاکھ روپے دے گی۔ کانگریس نے پیاری دیدی اسکیم کے تحت اس اسکیم کا اعلان کیا ہے۔
کانگریس نے اپنے انتخابی منشور میں وعدہ کیا ہے کہ ہم محروم بیواو ¿ں، ان کی بیٹیوں اور یتیم لڑکیوں کی شادی کے لیے شگن دیں گے۔ کانگریس نے اس شگن کی رقم 1.1 لاکھ روپے مقرر کی ہے۔ اس وعدے کو مزید وسعت دیتے ہوئے کانگریس نے کہا کہ ہم اس اسکیم کو معاشی طور پر پسماندہ خاندانوں کی گریجویٹ خواتین تک بھی پہنچائیں گے۔
کانگریس نے پیاری دیدی اسکیم کے تحت اور بھی کئی وعدے کیے ہیں۔ ان وعدوں میں کہا گیا ہے کہ غریب خاندان کی خاتون کو ماہانہ 2500 روپے دیے جائیں گے۔ مہنگائی ریلیف سکیم کے تحت کہا گیا ہے کہ 500 روپے میں کھانا پکانے والا گیس سلنڈر فراہم کیا جائے گا۔ ہم خاندان کو مفت راشن کٹ بھی فراہم کریں گے۔ اس میں 5 کلو چاول، 2 کلو چینی، 1 کلو کوکنگ آئل، 6 کلو دالیں اور 250 گرام چائے دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ریاستی حکومت میں نئی ??ملازمتوں میں 33 فیصد اسامیاں خواتین کے لیے مختص ہوں گی۔ کانگریس نے 100 اندرا کینٹین بنانے کی بات کی ہے۔ یہ بنیادی طور پر خواتین چلائیں گی۔
یہاں مناسب نرخوں پر کھانا فراہم کیا جائے گا۔

دلی این سی آر

امیر جماعتِ اسلامی ہند کی کابل اسپتال پر حملے کی شدید مذمت، شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی: جماعتِ اسلامی ہند کے امیر، سید سعادت اللہ حسینی نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں اسپتال پر مبینہ پاکستانی فضائی حملے کی سخت مذمت کی ہے۔
میڈیا کو جاری اپنے بیان میں سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ ’’ ہم کابل میں اسپتال پر پاکستان کی جانب سے مبینہ فضائی حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں، جس میں 400 سے زائد افراد جاں بحق اور 250 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ ہم متاثرین کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں اور اس المناک وقت میں افغانستان کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ حملہ رات کے وقت ہوا اور اس نے اس طبی مرکز کو بری طرح تباہ کر دیا جہاں بڑی تعداد میں کمزور اور زیرِ علاج مریض موجود تھے۔ اسپتال دیکھ بھال اور تحفظ کی جگہ ہوتے ہیں، اور ایسے اداروں پر کسی بھی قسم کا حملہ بین الاقوامی انسانی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ایسے حملوں میں قیمتی جانوں کا ضیاع، خصوصاً اُن افراد کا جو پہلے ہی تکلیف میں تھے اور علاج کے مراحل سے گزر رہے تھے، یہ جنگ کے نتیجے میں ہونے والے شدید انسانی بحران کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘
امیر جماعت نے مزید کہا کہ ’’ یہ افسوسناک واقعہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تیزی سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران پیش آیا ہے، دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان جاری تنازعہ، جو ایک طویل اور حساس سرحد کے حامل ہیں، پورے خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ شہری ڈھانچے کی تباہی اور ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اس بات کو واضح کرتی ہے کہ دونوں فریقین کی جانب سے تحمل کے مظاہرے اور کشیدگی کو کم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ “دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان جنگ کو ہر حال میں ٹالا جانا چاہیے اور کسی بھی صورت اسے بھڑکنے نہیں دینا چاہیے۔ خطے کا امن اور استحکام انتہائی اہم ہے، اور کشیدگی میں اضافہ پورے علاقے کے لیے سنگین نتائج لا سکتا ہے۔ مسائل اور اختلافات کو طاقت یا جنگ کے بجائے بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ ہم پاکستان اور افغانستان دونوں سے اپیل کرتے ہیں کہ انتہائی تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو مزید بے گناہ جانوں کے ضیاع کا سبب بنیں۔”
انہوں نے کہا کہ ہم عالمی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ ” واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنائیں۔ خطے میں کشیدگی کو کم کرنے اور امن بحال کرنے کے لیے نئی اور سنجیدہ سفارتی کوششوں کی فوری ضرورت ہے۔ پائیدار امن، جنگ اور تصادم سے نہیں ، انصاف، انسانی وقار کے احترام اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری سے ہی قائم ہو سکتا ہے، ۔‘‘

 

Continue Reading

دلی این سی آر

ڈرگس اسمگلروں کو تحفظ فراہم کررہی ہے ریکھا سرکار:سوربھ بھاردواج

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی:ملک کی راجدھانی میں نشہ اسمگلنگ کی حقیقت بے نقاب کرنے والے پولیس افسر کے خلاف ہی محکمانہ کارروائی کیے جانے پر عام آدمی پارٹی نے سخت اعتراض ظاہر کیا ہے۔ آپ کے دہلی پردیش صدر سوربھ بھاردواج کا کہنا ہے کہ پولیس افسر کے انکشاف کے بعد دہلی پولیس اور مرکزی وزارتِ داخلہ کو نشہ اسمگلنگ کی جڑوں تک پہنچنا چاہیے تھا اور اس میں ملوث لوگوں کو گرفتار کرنا چاہیے تھا تاکہ نشے کے کاروبار پر لگام لگائی جا سکے، لیکن یہاں تو اس کے برعکس خود پولیس کے خلاف ہی کارروائی کر کے پورے محکمہ پولیس کا حوصلہ پست کیا جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں حکومت سے یہ امید کیسے کی جا سکتی ہے کہ وہ دہلی کے اندر نشے کے کاروبار کو قابو میں کرے گی؟
سوربھ بھاردواج نے کہا کہ گزشتہ دنوں دہلی پولیس کے ایک افسر نے عوام کے سامنے انکشاف کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ اور بی جے پی کے کچھ اراکینِ اسمبلی پر نشہ اسمگلروں کو تحفظ دینے کا الزام عائد کیا تھا۔اس پولیس افسر کا حوصلہ بڑھانے کے بجائے پولیس کمشنر نے اسی کے خلاف کارروائی کے احکامات جاری کر دیے۔ اس کارروائی سے اب یہ پیغام صاف ہو گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ کے احکامات پر عمل کرتے رہو، چاہے وہ احکامات مجرموں اور نشہ آور اشیاء کے اسمگلروں کو چھوڑنے کے ہوں یا انہیں تحفظ فراہم کرنے کے لیے ہی کیوں نہ ہوں۔ پولیس افسران کو ہر حال میں خاموش رہنا چاہیے۔

Continue Reading

دلی این سی آر

عام آدمی پارٹی نے’ گیس سلنڈر شوبھا یاترا‘ نکال کر کیا احتجاج

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی:عام آدمی پارٹی نے مودی حکومت کی غلط خارجہ پالیسی کی وجہ سے ملک میں گہرے ہوتے ایل پی جی بحران اور مہنگائی کے خلاف ایک منفرد انداز میں احتجاج کیا۔ آپ دہلی پردیش کے صدر سوربھ بھاردواج کی قیادت میں پارٹی کارکنان نے دہلی کے ہر وارڈ میں گیس سلنڈر شوبھا یاترا نکال کر مرکز کی مودی حکومت کے خلاف زبردست احتجاج کیا۔ گھوڑا گاڑی پر سجے ہوئے سلنڈروں، ہاتھوں میں یہ پمفلٹ لیے کہ جب جب بی جے پی آئی ہے، لوگوں کی لائن لگوائی ہے اور ڈھول نگاڑوں کے ساتھ کارکنان نے شوبھا یاترا نکالی اور دہلی کی عوام کو اب نایاب ہو چکے رسوئی گیس سلنڈروں کے دیدار کرائے۔اتوار کو گیس سلنڈر شوبھا یاترا کے حوالے سے سوربھ بھاردواج نے کہا کہ دہلی میں 250 مقامات پر گیس سلنڈر شوبھا یاترا نکالی جا رہی ہے۔ اب گیس سلنڈر کے نایاب دیدار کے لیے لوگوں میں کافی جوش و خروش ہے۔ مودی جی کی ناکام خارجہ پالیسی نے آج ملک کے یہ حالات پیدا کر دیے ہیں۔
ادھر تریلوک پوری میں شوبھا یاترا نکالتے ہوئے رکن اسمبلی کلدیپ کمار نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے ٹرمپ کے سامنے سر جھکا کر سرینڈر کر دیا ہے۔ انہی غلط خارجہ پالیسیوں کی وجہ سے آج ملک کو گیس کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایک طرف مودی حکومت کہہ رہی ہے کہ ملک میں گیس کی کوئی کمی نہیں ہے اور دوسری طرف سڑکوں پر لمبی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔ غریب آدمی کو 300 روپے فی کلو گیس مل رہی ہے۔ جس دکان پر وزیر اعظم چائے بنایا کرتے تھے، سلنڈر نہ ملنے کی وجہ سے آج وہ دکانیں بھی بند ہو گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے امریکہ کے سامنے سرینڈر کرنے کا بہت بڑا خمیازہ ملک کے عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اسی سرینڈر کی وجہ سے آج گیس کا سلنڈر ختم ہو گیا ہے۔ اگر انہوں نے امریکہ کے آگے سرینڈر نہ کیا ہوتا تو آج ملک میں گیس سلنڈر ختم ہونے کی نوبت نہ آتی۔
کلدیپ کمار نے کہا کہ جب سے بی جے پی اقتدار میں آئی ہے، اس نے صرف لوگوں کو لمبی لمبی قطاروں میں کھڑا کرنے کا کام کیا ہے۔ چاہے آکسیجن کے لیے قطاریں لگوانا ہو یا نوٹ بندی کے دوران نوٹ بدلوانے کے لیے، ہر بار عوام کو لائنوں میں کھڑا کیا گیا۔ اور اب گیس کی قلت سے پریشان لوگوں کو بھی مجبوراً لمبی لمبی قطاروں میں لگنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج گیس 300 روپے فی کلو مل رہی ہے، چاروں طرف ہاہاکار مچا ہوا ہے اور وزیر اعظم مودی اپنے تشہیری کاموں میں مصروف ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسی احتجاج کے طور پر آج تریلوک پوری اسمبلی حلقہ میں وجے کمار کی قیادت میں گیس سلنڈر کی شوبھا یاترا نکالی گئی۔ آج گیس کا سلنڈر اس قدر نایاب ہو چکا ہے کہ عام آدمی پارٹی لوگوں کو اس کے دیدار کرا رہی ہے۔ جو گیس سلنڈر پہلے لوگوں کے گھروں میں آسانی سے مل جاتا تھا، آج اس کی شوبھا یاترا نکالنی پڑ رہی ہے۔ بی جے پی حکومت نے ملک کا یہ حال کر دیا ہے۔ عام آدمی پارٹی اس کی سخت مذمت کرتی ہے۔ مودی جی کی غلط خارجہ پالیسیوں کی سزا آج پورا ملک بھگت رہا ہے۔
کلدیپ کمار نے کہا کہ مرکز میں بیٹھی بی جے پی حکومت چوری بھی اور سینہ زوری بھی کر رہی ہے۔ ایک طرف حکومت گیس فراہم نہیں کر پا رہی اور دوسری طرف عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ آج گیس ایجنسیوں کے باہر لمبی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔ دہلی، نوئیڈا یا غازی آباد ہر جگہ لوگوں کو گیس سلنڈر نہیں مل رہا ہے۔ روز نئے نئے رہنما خطوط جاری کیے جا رہے ہیں کہ جن لوگوں کے پاس پی این جی کنکشن ہے انہیں ایل پی جی گیس نہیں دی جائے گی۔کلدیپ کمار نے کہا کہ آج گیس کی بکنگ نہیں ہو رہی بلکہ کھلے عام اس کی کالا بازاری ہو رہی ہے۔ بازار میں گیس 3000 سے 5000 روپے تک کے کھلے ریٹ پر فروخت ہو رہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس کالا بازاری کو روکنے کے لیے آخر کیا اقدامات کیے ہیں؟ مرکز میں بیٹھی بی جے پی حکومت پوری طرح جھوٹ بول رہی ہے۔ وزیر اعظم کی ایپسٹین فائل کے اندر نہ جانے کیا کیا راز چھپے ہیں، جن کے دباؤ میں وہ ٹرمپ کے سامنے سر جھکا گئے اور آج اسی کا خمیازہ ملک کی عام عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network