Connect with us

دلی این سی آر

جسم فروشی کا پردہ فاش ،7ملزم گرفتار ،9خواتین بازیاب

Published

on

(پی این این)
غازی آباد :شامبی تھانہ علاقے میں دو مقامات پر سپا اور تھراپی سنٹر کی آڑ میں چلائے جارہے جسم فروشی کے ریکٹ کا پردہ فاش کرتے ہوئے پولس نے سات ملزمین کو گرفتار کیا ہے۔ اتوار کی شام کیے گئے آپریشن میں 9 خواتین کو بازیاب کرایا گیا۔ویشالی سیکٹر-4 کے شری رام پلازہ میں سپا سنٹر اور تھراپی سنٹر چلائے جا رہے تھے۔ پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ یہاں جسم فروشی کی جارہی ہے۔ اے سی پی اندرا پورم سواتنتر کمار سنگھ نے پولس ٹیم کے ساتھ اتوار کی شام ماو ¿نٹین اسپا اینڈ تھیراپی سنٹر اور گولڈن تھیراپی سنٹر پر چھاپہ مارا۔پولیس نے خاتون آپریٹر اور اس کے شوہر کلدیپ ساکنہ وویک وہار، دہلی اور وکی سواتی، ساکنہ ایسٹ روہتاس نگر، شاہدرہ کے علاوہ چار گاہکوں کو گرفتار کیا۔
اس کے علاوہ 9 خواتین کو بچا لیا گیا جنہیں غلط کام کے لیے دونوں سنٹرز میں زبردستی بلایا گیا تھا۔بازیاب کرائی گئی خواتین سے پوچھ گچھ کی گئی تو معلوم ہوا کہ وہ کسی کام کے لیے آئی تھیں۔ اسے ریسپشنسٹ کی نوکری دلانے کے نام پر اس کی فحش تصاویر اور ویڈیوز بنائی گئیں اور پھر اسے بلیک میل کرکے جسم فروشی پر مجبور کیا گیا۔پولیس کی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جسم فروشی کے آپریٹرز اور منیجر خواتین اور لڑکیوں کی تصاویر صارفین کو بھیجتے تھے اور پھر ڈیل طے ہونے کے بعد گاہک کو ان کی جگہ بلایا جاتا تھا اور پھر جسم فروشی کروائی جاتی تھی۔
پولیس نے ملزمان کے خلاف تفتیش کے دوران ان خواتین کے بیانات بھی قلمبند کر لیے ہیں۔ ان کے خلاف پولیس گینگسٹر ایکٹ کے تحت بھی کارروائی کی جائے گی۔ٹرانس ہندن ایریا میں، جسم فروشی کے مقامات پر روزانہ چھاپے مارے جا رہے ہیں اور ان کو بے نقاب کیا جا رہا ہے۔ اس کے باوجود ان پر قابو نہیں پایا جا رہا۔ کچھ دن پہلے بھی پولیس نے اندرا پورم علاقے میں جسم فروشی کے ریکیٹ کا پردہ فاش کیا تھا۔ اس کے علاوہ شالیمار گارڈن، صاحب آباد، کھوڈا اور دیگر مقامات پر بھی کئی بار جسم فروشی پکڑی جا چکی ہے۔ پولس کی جانچ میں پتہ چلا ہے کہ ماو ¿نٹین اسپا اینڈ تھیراپی سینٹر کا آپریٹر کلدیپ ناخواندہ ہے۔ وہ کئی ماہ سے اپنی دسویں پاس بیوی کے ساتھ جسم فروشی کا غلط کام کر رہا تھا۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

دلی این سی آر

گرمی نے دہلی کی سیاحت کوکیا متاثر ، لال قلعہ اور قطب مینار پر سیاحوں کی آمد میں کمی

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی :دارالحکومت دہلی میں بڑھتی گرمی کی وجہ سے سیاحتی مقامات میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ نہ صرف ملکی بلکہ غیر ملکی سیاح بھی کم تعداد میں یہاں کا رخ کر رہے ہیں۔ لال قلعہ، قطب مینار، صفدر جنگ کا مقبرہ، اور جنتر منتر سمیت کئی یادگاروں کو سیاحوں کی تعداد میں کمی کا سامنا ہے۔ مزید برآں، چڑیا گھر میں زائرین کی تعداد میں تقریباً 60 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔ قطب مینار ملکی اور غیر ملکی سیاحوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا لیکن بڑھتی ہوئی گرمی نے یہ تعداد آدھی کر دی ہے۔ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کے مطابق جب قطب مینار پر روزانہ سات سے آٹھ ہزار زائرین آتے تھے، اب یہ تعداد کم ہو کر 3500 سے چار ہزار رہ گئی ہے۔صرف 200 کے قریب سیاح صفدر جنگ کے مقبرے کی سیر کر رہے ہیں۔ موسم گرما سے پہلے روزانہ دیکھنے والوں کی تعداد 500 سے 600 تک ہوتی تھی۔روہنی سے یادگار دیکھنے آنے والے آدرش جھا نے بتایا کہ انہوں نے بہت پہلے دوستوں کے ساتھ سیر کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن موقع صرف اتوار کو ہی ملا۔ تاہم شدید گرمی کے باعث وہ جلد گھروں کو لوٹ رہے ہیں۔
یہ مقامات عام طور پر صبح سے شام تک سیاحوں سے کھچا کھچ بھرے رہتے ہیں لیکن ان دنوں دوپہر کے وقت کم ہی لوگ نظر آئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سیاح شام کے وقت تاریخی یادگاروں کی سیر کو ترجیح دیتے ہیں۔چڑیا گھر میں سیاحوں کی تعداد میں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔ ویک اینڈ پر تقریباً 2000 زائرین آ رہے ہیں۔ موسم گرما کے آغاز سے پہلے، اختتام ہفتہ پر یہ تعداد 10,000 سے 12,000 کے درمیان تھی۔ دریں اثنا، ہفتے کے دنوں میں، یہ تعداد 1,000 سے 1,500 کے درمیان گر گئی ہے۔
غور طلب ہے کہ دہلی این سی آر میں ان دنوں گرمی اپنے عروج پر ہے۔ بھاشا کی ایک رپورٹ کے مطابق، منگل کو کچھ علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ طوفان اور بارش کے لیے یلو الرٹ جاری کیا گیا ہے، کیونکہ دارالحکومت میں موسم کی گرم ترین رات ریکارڈ کی گئی۔ محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق کئی مراکز پر کم از کم درجہ حرارت معمول سے 4.6 سے 5.4 ڈگری سیلسیس زیادہ ریکارڈ کیا گیا جو کہ گرم رات کی نشاندہی کرتا ہے۔
محکمہ موسمیات (IMD) کے مطابق گرم رات اس وقت تصور کی جاتی ہے جب زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 40 ڈگری سیلسیس یا اس سے زیادہ ہو اور کم سے کم درجہ حرارت معمول سے 4.5 سے 6.4 ڈگری سیلسیس زیادہ رہے۔ مرکز وار اعداد و شمار کے مطابق، صفدرجنگ میں کم سے کم درجہ حرارت 28.4 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جو معمول سے 4.6 ڈگری زیادہ تھا۔
پالم میں 27.4 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا جو معمول سے 2.5 ڈگری زیادہ تھا۔ لودھی روڈ پر درجہ حرارت 26.6 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جو معمول سے 3.6 ڈگری زیادہ ہے، جبکہ رج میں 26.2 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جو معمول سے 1.3 ڈگری زیادہ ہے۔ آیا نگر میں 29.1 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جو معمول سے 5.4 ڈگری زیادہ ہے۔ماہرین موسمیات کے مطابق منگل کو زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 39 سے 40 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔ طوفانی گردش کی وجہ سے گرج چمک اور بارش کی بھی پیش گوئی کی گئی ہے۔ دریں اثنا، دہلی میں ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 196 پر ریکارڈ کیا گیا، جو اعتدال پسند زمرے میں آتا ہے۔

 

Continue Reading

دلی این سی آر

جامعہ ملیہ میں’کلیم الدیں احمد کی نگارشات: ایک بازدید’کے عنوان سے سمینار کا انعقاد

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی : قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے باہمی اشتراک سے ‘کلیم الدیں احمد کی نگارشات: ایک بازدید’ کے عنوان سے سی آئی ٹی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے کانفرنس ہال میں یک روزہ سمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں کلیم الدین احمد کی شخصیت و افکار پر نہایت مفید و معنی خیز خطبات و مقالات پیش کیے گئے ۔
اس سمینار کے افتتاحی اجلاس کی صدارت بزرگ ناقد و دانشور پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے کی۔ انھوں نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ کلیم الدین احمد کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے اپنے دور کی یک رخی اور ایک ہی ڈگر پر چلنے والی اردو تنقید میں تجزیہ و تفکر کی ایک نئی راہ نکالی۔ انھوں نے اردو شاعری اور تنقید پر جو کچھ لکھا وہ ہمارے ذہنوں کو روشن کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کلیم الدین احمد کے افکار و نظریات پر بعد میں جس طرح غور و فکر ہونا چاہیے تھا، وہ نہیں ہوا۔ میں کونسل اور شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کو اس سمینار کے انعقاد کے لیے خصوصی مبارکباد پیش کرتا ہوں، کہ آج کا یہ سمینار کلیم الدین احمد کے فکر و فن کی ایسی جہتیں سامنے لائے گا جو اب تک اجاگر نہیں کی گئی ہیں۔
اس سے قبل قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے استقبالیہ کلمات ادا کرتے ہوئے تمام مہمانوں کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ کلیم الدین احمد ایک قاموسی شخصیت کے حامل تھے جنھیں اردو کے ساتھ دیگر کئی علوم و فنون اور زبانوں پر دسترس حاصل تھی۔ انھوں نے روایتی تنقیدی نظریات پر دلائل اور تحقیق‌ کی روشنی میں چوٹ کی اور ان کے کچھ تیکھے جملے بہت مشہور ہوئے جن کا ان کے معاصرین نے نوٹس بھی لیا اور ان سے اختلاف بھی کیا گیا مگر اس کے باوجود سبھوں نے ان کی بلند و بالا علمی و ادبی قد و قامت کو تسلیم بھی کیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ضرورت ہے کہ نئی نسل کو ایسے عظیم ادیب و ناقد کی ہمہ جہت خدمات سے روشناس کروایا جائے۔ آج کا سمینار اسی سلسلے کی اہم پیش رفت ہے۔ مجھے توقع ہے کہ اس سمینار کے مقالات و خطبات سے کلیم الدین احمد کی تفہیم کے نئے زاویے روشن ہوں گے۔
شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر کوثر مظہری نے تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے اس سمینار کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی اور کہا کہ کلیم الدین احمد کی شخصیت و نگارشات پر دہلی میں اپنی نوعیت کا یہ منفرد سمینار ہے جس میں ان کی پوری شخصیت ، نگارشات و افکار کا بھرپور جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کلیم الدین احمد کی خدمات ایسی ہمہ گیر ہیں کہ ان کے منظم مطالعے اور جائزے کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے ۔ قومی اردو کونسل اور شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اشتراک سے منعقدہ یہ سمینار اسی سلسلے کی کاوش ہے جسے دراز ہونا چاہیے اور ان پر مزید ڈسکورس ہونا چاہیے ۔

Continue Reading

دلی این سی آر

شدید گرمی کے باعث نوئیڈا میں اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی

Published

on

(پی این این)
بدھ نگر:نوئیڈا اور آس پاس کے علاقوں میں بڑھتی ہوئی گرمی نے اسکول کے معمولات کو بدل دیا ہے۔ گوتم بدھ نگر کے ضلع مجسٹریٹ نے صورتحال کو دیکھتے ہوئے تمام اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی کا حکم جاری کیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے اور ہیٹ ویوز کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ چھوٹے بچے ہیٹ اسٹروک کا زیادہ شکار ہوتے ہیں اس لیے انتظامیہ نے یہ احتیاطی تدابیر اختیار کی ہیں۔حکم نامے کے مطابق ضلع کے تمام اسکول اب صبح 7:30 سے دوپہر 12:30 تک چلیں گے۔ یہ نیا شیڈول 27 اپریل 2026 سے نافذ العمل ہو گیا ہے اور اگلے اطلاع تک جاری رہے گا۔ اس کا واضح مقصد بچوں کو دوپہر کی سخت دھوپ اور خطرناک گرمی سے بچانا ہے۔ صبح کا درجہ حرارت نسبتاً کم ہوتا ہے، جس کی وجہ سے بچوں کا سکول جانا محفوظ ہوتا ہے۔
یہ حکم صرف سرکاری اسکولوں تک محدود نہیں ہے۔ یہ اصول ضلع کے تمام اسکولوں پر لاگو ہوگا، خواہ وہ پرائیویٹ ہوں یا کسی بھی بورڈ سے منسلک ہوں۔ اس میں سی بی ایس ای، آئی سی ایس ای، آئی بی، اور یو پی بورڈ سے وابستہ تمام ادارے شامل ہیں۔ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ اس حکم کی تعمیل ہر اسکول کے لیے لازمی ہے۔اگرچہ شمالی ہندوستان میں موسم گرما کے دوران لو (گرم اور خشک ہوائیں) عام ہیں، لیکن اس بار صورتحال زیادہ سنگین دکھائی دے رہی ہے۔ محکمہ موسمیات مسلسل خبردار کر رہا ہے کہ دوپہر کے وقت باہر نکلنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت حال میں اسکولوں جیسی جگہیں، جہاں بچوں کی ایک بڑی تعداد ایک ساتھ موجود ہوتی ہے، خاص طور پر غیر محفوظ سمجھی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے انتظامیہ نے اوقات میں تبدیلی کرکے خطرے کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔
دہلی کے اسکولوں میں گرمی سے نمٹنے کے لیے کئی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ایک ‘واٹر بیل’ سسٹم نافذ کیا گیا ہے، جو بچوں کو ہر 45 سے 60 منٹ میں پانی پینے کی یاد دلاتا ہے۔ مزید برآں، کھلی فضا میں اسمبلیوں اور بیرونی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اسکولوں کو یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ان قوانین کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے ایک نوڈل افسر مقرر کریں۔اس شدید گرمی میں، صرف اسکول کے اوقات تبدیل کرنا کافی نہیں ہے۔ بچوں کو خود بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں، جیسے زیادہ پانی پینا، ہلکے کپڑے پہننا، اور سورج کی طویل نمائش سے گریز کرنا۔ اسکول اس بات پر بھی زور دے رہے ہیں کہ بچے پانی کی کمی سے بچیں اور فوری طور پر کسی بیماری کی اطلاع دیں۔انتظامیہ نے موسم کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔ گرمی مزید بڑھی تو مزید سخت اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم، اگر موسم میں نرمی آتی ہے، تو اسکول کے اوقات معمول پر آ سکتے ہیں۔ ابھی کے لیے، بچوں کی صحت اور حفاظت کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network