بہار
ورکر درشن اور عوامی رابطہ سے بہار کی ترقی کا بلیو پرنٹ ہوگا تیار، تیجسوی یادوکا دعویٰ

(اشتیاق عالم تسلیمی)
سیتامڑھی: ہر ضلع بلاک اور پنچایت کے مختلف مسائل ہیں۔ مسائل جاننے کے بعد ترقی کے لیے بلیو پرنٹ تیار کیا جا سکتا ہے۔ ورکر درشن اور جن سمواد پروگرام کے تحت پانچویں مرحلے میں میں زمینی سطح کے کارکنوں سے مسائل جاننے کے لیے سیتامڑھی پہنچا ہوں۔ اپوزیشن لیڈر تیجسوی پرساد یادو نے راجو پٹی کے سرکٹ ہاو ¿س میں پریس کانفرنس کے دوران یہ باتیں کہیں۔
تیجسوی یادو نے کہا کہ بہار کے تمام اضلاع کا دورہ کرنے کا مقصد ریاست کی ترقی کے لیے بلیو پرنٹ تیار کرنا ہے۔ ہماری حکومت بنی تو درج بالا وڑن کو عملی جامہ پہنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ غربت، بے روزگاری اور نقل مکانی بنیادی مسائل ہیں۔ صحت کی خدمات اچھی نہیں ہیں۔ مہنگائی اور جرائم اپنے عروج پر ہیں۔ کرپشن کا کھیل جاری ہے۔ خواتین مہنگائی کا شکار ہیں۔ جب خاندان کا کوئی فرد بیمار ہوتا ہے تو بجٹ خراب ہو جاتا ہے۔ اس کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر ہماری حکومت بنتی ہے تو مائی بہن مان یوجنا لاگو کیا جائے گا۔ اس اسکیم کے تحت خواتین کو ماہانہ 2500 روپے دیے جائیں گے۔ جس کی بدولت وہ خود مختار اور خود انحصار بن سکے گی۔ لوگ اسمارٹ میٹرز سے پریشان ہیں۔ ہماری حکومت میں 200 یونٹ بجلی مفت دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی اولڈ پنشن اور سوشل سیکورٹی پنشن اسکیم کی رقم 400 روپے سے بڑھا کر 1500 روپے ماہانہ کر دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ آر جے ڈی نے بیروزگاری ہٹاو ¿ یاترا شروع کی تھی۔ ہمارے لوگوں کو بھی لاٹھیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ہم نے اپنے 17 ماہ کے دور حکومت میں 5 لاکھ نوکریاں دیں۔ گاندھی میدان میں تقرر نامہ تقسیم کیا گیا، تقرری نامہ ملنے پر بے روزگار نوجوان اور خواتین خوشی سے نہال ہو گئے۔ اس دوران تین لاکھ ملازمتیں زیر عمل تھیں۔ ہمارے جانے کے بعد ایک نوکری بھی نہیں دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کا بہار پر کنٹرول نہیں ہے۔ کہاں ہیں سمراٹ چودھری، مانجھی جی، اوپیندر کشواہا جی اور چراغ پاسوا. جنہوں نے وزیر اعلیٰ کے ذہنی توازن کی بات کی؟ وزیر اعلیٰ کو ہوش میں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلباء پریشان ہیں اور ان پر لاٹھی چارج کیا جا رہا ہے۔ مقدمے بھی دائر ہو رہے ہیں، طلباءکو بھی جیل جانا پڑے گا۔ موجودہ حکومت کو کوئی درد نہیں۔ طلباء کے مستقبل سے کھیلا جا رہا ہے۔ 28 نومبر کو ہم نے نارملائزیشن کے حوالے سے سوالات اٹھائے تھے۔ میں نے وزیر اعلیٰ کو دو خط لکھے ہیں۔ ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ پیپر لیک ہونے کی صورت میں ایک سنٹر کا امتحان منسوخ کر دیا گیا جبکہ تمام سنٹر کا امتحان منسوخ کر دیا جائے۔ امیدواروں سے کہنا چاہوں گا کہ وہ کسی کے سامنے نہ جھکیں۔ اپوزیشن کے طور پر ہم نے آواز اٹھائی۔ حکومت جھک رہی تھی، بی پی ایس سی دباو ¿ میں تھی۔ اگر نوجوانوں کو ذات پات کی بنیاد پر تقسیم کیا جائے گا تو وہ کامیاب نہیں ہوں گے۔ اتحاد سے ہی آپ کامیاب ہوں گے۔ ہم نے امیدواروں کی اخلاقی حمایت کی ہے۔ اب تک جتنے پیپرز لیک ہوئے ہیں ان کا ذمہ دار اور قصوروار کون ہے؟ حکومت نے ابھی تک ایکشن کیوں نہیں لیا؟ وزیر اعلیٰ کچھ نہیں کہہ رہے، یہ عوام کی حکومت نہیں ہے۔ آنے والے وقت میں عوام انہیں منہ توڑ جواب دیں گے۔ پریس کانفرنس میں سابق وزیر ڈاکٹر رام چندر پوروے، سابق ایم پی ارجن رائے، ایم ایل اے مکیش یادو، مہیلا آر جے ڈی کی ریاستی صدر ریتو جیسوال اور ضلع پرنسپل جنرل سکریٹری محمد جلال الدین خان موجود تھے۔
بہار
بیہٹا ہوائی اڈے کا نام ویر کنور سنگھ کے نام پر کرنے کی کارروائی شروع

(پی این این)
چھپرہ :ایم پی جناردن سنگھ سگریوال کی کوششوں پر بیہٹا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا نام بابو ویر کنور سنگھ کے نام پر رکھنے کی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔اس سلسلے میں شہری ہوابازی کے وزیر رام موہن نائیڈو کنجراپو نے ایک خط لکھ کر رکن پارلیمنٹ کو مطلع کیا ہے۔
واضح ہو کہ اس سلسلے میں مہاراج گنج کے ایم پی جناردن سنگھ سگریوال نے حکومت ہند کے شہری ہوابازی کے وزیر رام موہن نائیڈو کنجراپو سے ملاقات کی تھی اور ایک خط پیش کیا تھا۔جس میں بیہٹا بین الاقوامی ہوائی اڈے کا نام ویر بابو ویر کنور سنگھ کے نام پر رکھنے کی درخواست کی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ بابو ویر کنور سنگھ بہار اور بہاری کے فخر اور عزت نفس کی علامت ہیں۔
وزیر نے ایم پی سگریوال کو یقین دلایا کہ وہ ان کی مانگ پر ضرور توجہ دیں گے۔وزیر نے اپنے خط کے ذریعے مطلع کیا ہے کہ محکمہ نے بابو ویر کنور سنگھ کے نام پر بیہٹا بین الاقوامی ہوائی اڈے کا نام دینے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔اس کے لیے ایم پی سگریوال نے وزیر ہوا بازی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ بابو ویر کنور سنگھ کو حقیقی خراج عقیدت ہوگی۔
بہار
وزیرِاعظم مودی کو گالی دینے کے معاملے میں محمد رضوی گرفتار، دیگر کی تلاش جاری

(پی این این)
جالے:ووٹر ادھیکار یاترا کے دوران سِمری تھانہ حلقہ کے بٹھولی چوک پر کانگریس رہنما محمد نوشاد کے اسٹیج سے وزیرِاعظم نریندر مودی اور ان کی آنجہانی والدہ کے خلاف نازیبا زبان کے استعمال کا معاملہ اب سنگین رخ اختیار کر گیا ہے۔ اس واقعے کا ویڈیو انٹرنیٹ میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوا اور ایف آئی آر 25/243 درج ہوئی جس کے بعد سمری پولیس نے سنگھواڑہ کے بھپورہ گاؤں کے رہائشی محمد رضوی کو گرفتار کیا، جبکہ دیگر کی گرفتاری کے لیے چھاپہ ماری جاری ہے۔
صدر سرکل 2 کمتول کے ڈی ایس پی ایس کے سمن نے سِمری تھانہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ واقعے کی ویڈیو کا سائبر تھانہ نے باریک بینی سے تجزیہ کیا، جس میں کئی افراد کی شناخت کی گئی۔ اسی بنیاد پر سنگھواڑہ تھانہ حلقہ کے بھوانی پور پنچایت کے بھپورہ گاؤں کے رہائشی انیس قریشی کے بیٹے محمد رضوی عرف راجہ (22) کو گرفتار کیا گیا ہے۔ گرفتار نوجوان پیشے سے پنکچر کی دکان چلاتا ہے اور گاڑی بھی چلاتا ہے۔
ڈی ایس پی کے مطابق یہ واقعہ کانگریس رہنما محمد نوشاد کے ذریعے تیار کیے گئے اسٹیج پر اس وقت پیش آیا جب بدھ کے روز راہل گاندھی، پرینکا گاندھی اور تیجسوی یادو کے استقبال میں مقامی ہوٹل پر بنے پلیٹ فارم سے وزیرِاعظم اور ان کی والدہ کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی گئی۔ جمعرات کو ویڈیو تیزی سے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد جانچ شروع کی گئی اور رضوی کو گرفتار کر لیا گیا، جس نے دورانِ تفتیش اعتراف بھی کر لیا ہے۔ دیگر ملوث افراد کی شناخت اور گرفتاری کی کارروائی جاری ہے۔
اس معاملے کو بھارتیہ جنتا پارٹی نے سنجیدگی سے لیا اور ضلع صدر آدتیہ نارائن منا کی تحریری شکایت پر سِمری تھانہ میں ایف آئی آر 25/243 درج کی گئی ہے، جس میں کانگریس رہنما جالے تھانہ کے دیورا بندھولی باشندہ محمد نوشاد سمیت دیگر کو بھی ملزم بنایا گیا ہے۔ اگرچہ محمد نوشاد نے سوشل میڈیا پر ویڈیو جاری کر معذرت پیش کی اور کہا کہ یہ حرکت ایک کم عمر لڑکے نے کی ہے جو انتہائی قابلِ مذمت ہے، لیکن اس کے باوجود معاملہ طول پکڑ گیا ہے۔
ادھر اس واقعے پر سیاست بھی شدید ہو گئی ہے۔ مرکزی وزیرِ داخلہ امیت شاہ نے اسے ’’جمہوریت پر داغ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ راہل گاندھی کی قیادت میں کانگریس کی سیاست اپنی نچلی ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اُنہوں نے الزام لگایا کہ گاندھی خاندان برسوں سے مودی جی کے خلاف نفرت کی سیاست کرتا آیا ہے اور اس بار تو انہوں نے تمام حدیں پار کر دی ہیں۔ امیت شاہ نے کہا: ’’یہ حرکت صرف مودی جی اور ان کی والدہ کی نہیں بلکہ ہر ماں اور بیٹے کی توہین ہے، جسے 140 کروڑ عوام کبھی معاف نہیں کریں گے۔ اگر راہل گاندھی میں شرم باقی ہے تو وہ وزیرِاعظم مودی اور پوری قوم سے معافی مانگیں۔
وہیں بہار کے وزیرِاعلیٰ نتیش کمار نے بھی سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِاعظم اور ان کی والدہ کے خلاف نازیبا زبان کا استعمال ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حرکت جمہوری اقدار کے سراسر منافی ہے اور ہر حال میں اس کی مذمت کی جانی چاہیے۔واضح رہے کہ دربھنگہ کا یہ واقعہ اب صرف مقامی سطح پر محدود نہیں رہا بلکہ قومی سیاست میں بھی گرما گرم بحث کا موضوع بن گیا ہے۔
بہار
شفیع مسلم ہائی اسکول میں مسلم اساتذہ بحال نہ کرنے اور بی ایڈ کی سیٹیوں میں بدعنوانی سے عوام میں ناراضگی

(پی این این)
دربھنگہ: آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے قومی صدرنظرعالم نے ایک پریس بیان میں کہا ہے کہ شفیع مسلم ہائی اسکول کی مینیجنگ کمیٹی کے ذریعہ برسوں سے بڑے پیمانے پر بدعنوانی کی جارہی ہے۔ اسکول ایک اقلیتی ادارہ ہے لیکن کمیٹی کے افراد ہی اقلیتی حقوق کی پامالی کررہے ہیں۔اسکول کا تعلیمی نظام دن بدن بگڑتا جارہا ہے اور حالت بدسے بدتر ہورہی ہے لیکن کمیٹی اس کی اصلاح کی بجائے اقلیتوں کو نظرانداز کرنے اور بدعنوانی کو فروغ دینے میں لگی ہوئی ہے۔ اس کام میں صدر، سکریٹری، پرنسپل اور پوری کمیٹی ملوث ہے۔ اس سلسلہ میں ان سے سوال کیا جاتا ہے تو جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں۔ گزشتہ تین برسوں میں اقلیتی اسکول ہونے کے باوجود بڑی تعداد میں غیرمسلم اساتذہ کو بحال کیا گیا ہے اور اہل مسلم امیدواروں کو محروم رکھا گیا ہے۔
نظرعالم نے کہا کہ ذاکرحسین ٹیچرس ٹریننگ کالج سے حاصل ہونے والی بی ایڈ کی سیکڑوں سیٹیں بیچ دی گئیں اور اس کا فائدہ اسکول کو نہیں ملا۔ کمیٹی کے افراد یا تو ان سیٹوں کو موٹی رقم لے کر بیچ دئیے یا اپنے رشتہ داروں کو اس کا فائدہ پہنچائے۔جہاں دوسرے ادارے ترقی کررہے ہیں وہیں شفیع مسلم اسکول تعلیم سے لے کر عمارت تک میں پیچھے جارہا ہے۔ چند افراد برسوں سے کمیٹی پر قابض ہیں اور اسکول کو ذاتی سرمایہ سمجھ بیٹے ہیں۔
نظرعالم نے کہا کہ سکریٹری جاوید اقبال جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں۔ان پر محکمہ نگرانی کا کیس بھی درج ہے اوراسی وجہ سے انہیں بہت دنوں تک دربھنگہ سے باہر رہنا پڑا تھا۔ لیکن یہ نہ استعفیٰ دے رہے ہیں نہ ادارہ کو چلاپارہے ہیں۔ وہ کسی بات کا جواب دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ صدر اور سکریٹری دونوں غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں کہ ان سے پوچھا نہیں گیا ہے جب کہ کارواں کے پاس خطوط اور آر ٹی آئی کا سارا ریکارڈ موجود ہے۔
نظرعالم نے کہا کہ اگر اسکول میں بدعنوانی ختم نہیں ہوتی ہے اور موجودہ کمیٹی استعفیٰ نہیں دیتی ہے تو اسکول کے احاطہ میں ہی عوامی نشست بلاکر ان کو معزول کیا جائے گا اور اسکول کی بھلائی کے لئے نئی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔
-
دلی این سی آر7 مہینے ago
جامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
دلی این سی آر7 مہینے ago
اقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر8 مہینے ago
دہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر8 مہینے ago
کجریوال کاپجاری اور گرنتھی سمان اسکیم کا اعلان
-
دلی این سی آر7 مہینے ago
اشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
محاسبہ9 مہینے ago
بیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ9 مہینے ago
جالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
-
بہار3 مہینے ago
حافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی