دلی این سی آر
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قوالی مقابلوں کا انعقاد
قوالی تزکیہ نفس ، اصلاح باطن اور شخصیت سازی میںاداکرتی ہے اہم رول : ارشد اکرام احمد
(پی این این)
نئی دہلی: جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ڈپارٹمنٹ آف ٹیچر ٹریننگ اینڈ نان فارمل ایجوکیشن میں ان دنوں NSSکیمپ کے تحت کلچرل پروام منعقد کیے جارہے ہیں۔22دسمبر کو قوالی کا شاندار پروگرام منعقد ہوا۔جامعہ کی روایت کے مطابق پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔CCA کے تحت سبھی طلبا کو 8 ہاو ¿سیز میں تقسیم کیا گیا ہے اور یہ ہاو ¿سیز بانیان جامعہ کے نام سے موسوم کیے گئے ہیں۔
سبھی آٹھوں ہاو ¿سیز نے قوالی مقابلوں میں شرکت کی۔اس میں دو ہاو ¿سیز حکیم اجمل ہاو ¿س اور پروفیسر محمد مجیب ہاو ¿س کی بہترین کارکردگی کی وجہ سے دونوں کے درمیان ٹائی ہوگیا اور دو ٹیمیں اول قرار دی گئیں۔دوسرا انعام نہروہاو ¿س اور تیسرا انعام خواجہ غلام السیدین ہاو ¿س کو ملا۔حکم کے فرائض ڈپارٹمنٹ آف ایجوکیشنل اسٹڈیز کے سابق صدر شعبہ اور مشہورماہر تعلیم پروفیسر ارشد اکرام احمد نے انجام دیئے۔موصوف نے قوالی کی تاریخی اہمیت اور اس کے آداب نیز مقاصد پر تفصیلی روشنی ڈالی اور نہایت ہی فاضلانہ اور عالمانہ انداز میں تزکیہ ¿ نفس اور اصلاح باطن کے لیے قوالی کے پس منظر اور خانقاہوں میں سماع کے ساتھ زبان وادب کی اہمیت پر توجہ مرکوز کی اور سامعین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔دوسری جج فیکلٹی اسنان سے ڈاکٹر اکانشا جنیجاتھیں جنہوں نے قوالی میں موسیقی کی اہمیت اور اس کے ذریعے دلوں کو جوڑنے اورامن کو عام کرنے پر زوردیا۔
پروگرام کی صدارت صدرشعبہ پروفیسر جیسی ابراہم نے کی۔ اس موقع پر NSS کوآرڈینیٹر زاور CCA کوآرڈینیٹرزکے علاوہ سبھی اساتذہ اور طلبا شریک تھے۔پروفیسر تبسم نقی کے اظہار تشکر پر پروگرام اختتام پذیر ہوگیا۔
دلی این سی آر
اردو اکادمی کے زیراہتمام’سرسنگم‘ پروگرام میں شعرا اور فنکاروں نے سامعین کو کیامسحور
(پی این این)
نئی دہلی:دلی کا دل کہے جانے والے کناٹ پلیس میں واقع سینٹرل پارک میں اردو اکادمی، دہلی کے زیرِ اہتمام مشاعروں، غزل گائیکی اور قوالی پر مشتمل تین روزہ ادبی و ثقافتی پروگرام ’’سر سنگم‘‘ کے دوسرے دن شعرا اور فنکاروں نے سامعین کو جھومنے پر مجبور کر دیا۔ جشن کے دوسرے دن کا آغاز شعری نشست سے ہوا، جس کی صدارت معروف شاعر و ادیب شعیب رضا فاطمی نے کی اور نظامت کے فرائض نوجوان ناظمِ مشاعرہ ہلال بدایونی نے انجام دیے۔ مشاعرے کے آغاز سے قبل محکمۂ فن، ثقافت و السنہ، حکومتِ دہلی کے ایڈیشنل سکریٹری اور اردو اکادمی، دہلی کے سکریٹری لیکھ راج نے اسٹیج پر موجود شعرا کے ساتھ شمعِ مشاعرہ روشن کی۔ بعد ازاں لیکھ راج نے تمام شعرا کا استقبال کرتے ہوئے ان کی خدمت میں خوبصورت پودے بطور یادگاری تحفہ پیش کیے۔
صدرِ مشاعرہ شعیب رضا فاطمی نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے اردو اکادمی، دہلی کی خدمات کا اعتراف کیا اور کہا کہ ملک بھر میں کوئی بھی ادارہ اردو اکادمی، دہلی سے زیادہ فعال نظر نہیں آتا۔ انھوں نے کہا کہ زبان و ادب، تہذیب و ثقافت اور فنونِ لطیفہ کی تمام اقسام، بشمول شاعری و موسیقی کو فروغ دینے کے لیے اکادمی کی کوششیں نہ صرف لائقِ تحسین بلکہ قابلِ تقلید بھی ہیں۔انھوں نے اس سلسلے میں دہلی حکومت اور محکمۂ فن، ثقافت و السنہ کے تعاون کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج کے ماحول میں ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب، زبان و ادب اور فنونِ لطیفہ کو فروغ دینے کے لیے حکومت کی کوششیں بھرپور داد کی مستحق ہیں۔
مشاعرے میں جاوید قمر، سلمیٰ شاہین، احمد علوی، شعیب رضا فاطمی،مجاہد فراز، وارث وارثی، جاوید نیازی، سالم سلیم ، سریتا جین اور ہلال بدایونی نے اپنے کلام سے سامعین کے ذوق کو تسکین بخشی۔مشاعرے کے بعد غزل گلوکار سیف نعیم علی نے ’’غزل کی سرگوشی‘‘ کے تحت شاندار غزل گائیکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سامعین کو مسحور کر دیا۔ سیف نعیم علی کی پرسوز آواز اور بہترین فنکاری سامعین کے دلوں کو چھو گئی۔ اس کے بعد دوسرے دن کے آخری پروگرام میں غفران نظامی اور ان کی ٹیم نے ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کی نمائندگی کرنے والی قوالیوں کی شاندار پیش کش سے سامعین کو جھومنے پر مجبور کر دیا۔
اس موقع پر سینٹرل پارک میں سامعین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ اکادمی کے اس پروگرام کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پروگرام کے آخر تک تمام نشستیں بھری ہوئی تھیں اور لوگ دور تک کھڑے ہو کر شاعری اور موسیقی کے اس حسین سنگم سے محظوظ ہو رہے تھے۔ اردو اکادمی، دہلی کی کوشش یہی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک زبان و ادب اور تہذیب و ثقافت کی خوبصورتی کو پہنچائے، خاص طور پر نئی نسل کو ہندوستانی ثقافت کی شاندار روایت سے روشناس کرائے۔ اس سلسلے میں اکادمی کے دیگر پروگراموں کی طرح ’’سْر سنگم‘‘ بھی نہایت شاندار ثابت ہو رہا ہے اور سامعین کی روز بروز بڑھتی ہوئی تعداد اس کا واضح ثبوت ہے۔
’’سْر سنگم‘‘ کے دوسرے دن منعقد ہونے والے تمام پروگراموں کی نظامت کے فرائض ریشماں فاروقی نے بحسن و خوبی انجام دیے اور اپنے دلکش و دلنشیں اندازِ گفتگو اور خوب صورت نظامت سے سامعین کو باندھے رکھا۔
دلی این سی آر
جماعت اسلامی ہند کا عید ملن تقریب میں ہم آہنگی اور اتحاد کو فروغ دینے کا پیغام
(پی این این)
نئی دہلی: گزشتہ دنوں جماعتِ اسلامی ہند نے انڈیا ہیبیٹیٹ سینٹر کے مارگوسا و سلک کاٹن لان میں عید گیٹ ٹو گیدر 2026 کا شاندار انعقاد کیا۔ اس پر وقار تقریب میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے معزز مہمانوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی، جن میں سفارتکار، مذہبی رہنما، عوامی نمائندگان، میڈیا شخصیات اور سول سوسائٹی کے قابل احترام اراکین شامل تھے۔
یہ اجتماع نہ صرف عید کی خوشیوں کو بانٹنے کا ایک خوشگوار موقع تھا بلکہ امن، انصاف اور معاشرتی ہم آہنگی جیسے اعلیٰ اقدار کو اجاگر کرنے کا بھی سنہری لمحہ ثابت ہوا۔ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے شرکاء نے دل کھول کر بات چیت کی اور معاشرے میں باہمی احترام اور ایک ساتھ رہنے کی اہمیت کو محسوس کیا۔ مختلف ممالک، مذاہب اور اداروں سے آئے ہوئے افراد کی موجودگی نے اس تقریب میں اتحاد، بھائی چارے اور اجتماعی ذمہ داری کے روحانی پیغام کو اور بھی جلا بخشی۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جماعتِ اسلامی ہند کے امیر، سید سادات اللہ حسینی نے فرمایا کہ ’’ تقاریب اور تہوار لوگوں کو قریب لانے اور معاشرتی رشتوں کو مضبوط کرنے کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ ایسے مواقع گفتگو، تفہیم اور تعاون کے پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتے ہیں، نہ کہ تقسیم کے لیے۔ ہمیں امید ہے کہ یہ عید ملن کا اجتماع شرکاء کے درمیان بامعنی رابطے قائم کرے گا اور ہمیں ایک شمولیتی اور ہم آہنگ معاشرہ بنانے کے لیے اجتماعی کوشش کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔‘‘
دلی این سی آر
گجرات یکساں سول کوڈ کے خلاف جمعیۃ عدالت سےکرے گی رجوع : مولانا محمود اسعد مدنی
(پی این این)
نئی دہلی:جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے گجرات اسمبلی کی جانب سے منظور کردہ یکساں سول کوڈ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ قانون مسلمانوں کے اُن عائلی و شخصی قوانین بالخصوص حق وراثت کی واضح شکلوں کو عملاً ختم کرنے کی کوشش ہے جو آئینِ ہند کے تحت تسلیم شدہ ہیں اور قرآن و سنت سے ماخوذ ہونے کی بنا پر محض سماجی ضابطے نہیں بلکہ لازمی دینی احکام کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ کسی بھی حکومت کو مذہبی عقائد اور شرعی احکام میں مداخلت کا کوئی آئینی اختیار حاصل نہیں۔ مزید برآں یکساں سول کوڈ کے نام پر مذہبی شخصی قوانین کا خاتمہ legislative overreach ہے جو ملک کی بڑی عدالت میں سخت آئینی جانچ پر پورا نہیں اترتا۔ جمعیۃ علماء ہند کے صدرمحترم نے یہ بیان جمعیۃ کے وکلاء پینل کے ذریعہ اس قانون کے مطالعے کے بعد دیا ہے۔
جمعیۃ کے وکلاء پینل کی جانب سے بل کے جامع مطالعے کے بعد یہ بات واضح طور پر سامنے آئی ہے کہ اس قانون میں خاص طور پر تین ایسے بنیادی پہلو شامل ہیں جو صریح طور پر اسلامی احکام کی واضح ہدایات سے متصادم ہیں۔ ان میں سرفہرست اسلامی نظامِ وراثت ہے، جس کے حصے قرآنِ کریم میں نہایت صراحت کے ساتھ متعین اور ناقابلِ ترمیم قرار دیے گئے ہیں۔ہر ایک وارث کا حصہ علیحدہ طور پر بیان کیا گیا ہے اور اسے حدود اللہ قرار دے کر تجاوز کرنے والوں کو ظالم کہا گیا ہے۔ اس اعتبار سے یہ محض مسلم پرسنل لا کا حصہ نہیں بلکہ صریح احکامِ الٰہی ہیں، جن پر عمل ہر مسلمان پر فرض ہے۔ لہٰذا اس قانون کے ذریعے ان احکام کو ختم یا غیر مؤثر بنانے کی کوشش نہ صرف قابلِ مذمت ہے بلکہ عدل کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی اور مسلمانوں کے ساتھ آئین سازوں کے کیے گئے عہد کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
اسی طرح تعددِ ازدواج پر کلی پابندی عائد کر کے ایک مسلمہ شرعی اجازت کو غیر قانونی قرار دینا بھی مذہبی آزادی میں مداخلت ہے۔ مزید برآں، عدالت سے ماورا طلاق کی تمام صورتوں پر مکمل پابندی عائد کرنا اور اس پر تین سال تک کی سزا مقرر کرنا، نیز ساٹھ دن کے اندر نکاح کی رجسٹریشن نہ کرنے پر ساٹھ ہزار روپے جرمانہ عائد کرنے سے متعلق دفعات نہ تو آئینی اصولوں سے ہم آہنگ ہیں اور نہ ہی اخلاقی و قانونی معیارات پر پورا اترتی ہیں۔ یہ اقدامات غیر متناسب ہیں بلکہ شہری (سول) معاملات کو بلا جواز فوجداری دائرے میں لے آنے کی ایک سنگین مثال بھی ہیں۔
مولانا مدنی نے گجرات کے وزیر اعلیٰ کے اس بیان کو بھی مضحکہ خیز قرار دیا کہ’’ ایک ملک ہے تو ایک قانون ہونا چاہیے‘‘، اور کہا کہ اگر ایسا ہے تو پھر شیڈولڈ ٹرائبس کو اس قانون سے مستثنیٰ کیوں رکھا گیا؟ کیا وہ ملک کا حصہ نہیں ہیں؟ انہوں نے کہا کہ اس طرح کا عملی امتیاز آئین کے آرٹیکل 14 (حقِ مساوات) کی سنگین خلاف ورزی ہے۔مولانا مدنی نے اعلان کیا کہ جمعیۃ علماء ہند اس قانون کو عدالت میں چیلنج کرے گی اور اس مقصد کے لیے تمام آئینی و قانونی ذرائع اختیار کیے جائیں گے تاکہ مسلمانوں کے مذہبی و آئینی حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور شریعتِ اسلامی کے لازمی احکام کو کسی بھی صورت میں متاثر نہ ہونے دیا جائے۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
بہار4 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
بہار10 months agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ1 year agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ1 year agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
