uttar pradesh
ہماری پہچان صرف ہندوستانی: پروفیسرصغیر افراہیم،شعبۂ اردو سی سی ایس یونیورسٹی میں آزادی کے موقع پرآن لائن مشاعرہ و قوی سمیلن کا انعقاد
میرٹھ:آج کے پروگرام میں اردو کی نفاست اور ہندی کی لطافت ہے۔ مشاعرہ اور کوی سمیلن میں مسکرا ہٹ بھی ہے اور طنز بھی، خوشی بھی ہے اور سنجیدگی بھی۔ یہاں پر جنگ آزادی نے ہمیں یہی بتایا ہے کہ ہندی اور اردو کو ہم الگ نہیں کرسکتے۔ اومان، لندن،ماریشس وغیرہ دوسرے ممالک میں جہاں ہندوستانی بستے ہیں وہاں ملک کی آزادی کو لوگ بڑی خوشی سے مناتے ہیں۔ایسٹ انڈیا کمپنی نے زبردست دھوکہ دیا اور ہمارے گھر، مذہب، مسلک، تیوہار وغیرہ پر حملہ کیا۔جنگ آزادی ہندو،مسلمان کی جنگ نہیں بلکہ ہند کے ہر باشندے کی جنگ تھی۔یہ ترنگا ہم سے امن اور بھائی چارے کی بات کرتا ہے۔ آج بسمل،حسرت،رواں،جوش،ٹیگور، نذر الاسلام وغیرہ نے آزادی کا جوبیج بویا تھا وہ انسانیت اور بھائی چارے کا بیج تھا۔ اشفاق اللہ خان،بھگت سنگھ،آزاد وغیرہ نے بہت سی قربانیاں پیش کیں۔ میرٹھ تو جنگ آزادی کا مرکز ہے۔ہم کہیں بھی جائیں لیکن ہماری پہچان ہندوستانی ہے۔یہ الفاظ تھے معروف ادیب و ناقد پروفیسر صغیر افراہیم]علی گڑھ[ کے جو شعبہئ اردو اور ایو ساکے زیر اہتمام منعقد ”آزادی کے موقع پر مشاعرہ و کوی سمین“پروگرام میں اپنیصدارتی تقریر کے دوران ادا کررہے تھے۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغازسعید احمد نے تلا وت کلام پاک سے کیا۔ہدیہئ نعت فرحت اختر نے پیش کیا۔پروگرام کی سرپرستی معروف ناقد و افسانہ نگار اور صدر شعبہئ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری نے فرمائی اور صدارت کے فرائض معروف ادیب وناقد پروفیسر صغیر افراہیم نے انجام دیے۔مہمانانِ خصوصی کے بطورپروفیسر فاروق بخشی ] سابق صدر شعبہئ اردو،مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدر آباد[ اور امیر مہدی] انگلینڈ[ نے آن لائن شرکت فرمائی۔مدعو شعرا کے بطور ڈاکٹر ایشور چند گمبھیر، ایڈوکیٹ ارشاد بیتاب]چوہان[،وارث وارثی، سروج دوبے، میشاب الہ آبادی، وندنا کنور رائے زادہ،ڈاکٹر فرقان سردھنوی اور مولانا سید نا یاب الدین نایابؔنے شر کت کی۔استقبالیہ کلمات ڈاکٹر آصف علی،نظامت کے فرا ئض ڈاکٹر الکا وششٹھنے انجام دیے۔
موضوع کا تعارف کراتے ہوئے ڈاکٹر ارشاد سیانوی نے کہا کہ جس طرح ہمارے ادبا و ناقدین ادب نے ناولوں، افسانوں اور تحقیقی و تنقیدی تحریروں میں ملک سے محبت کے جذبات و احساسات کو پیش کیا اسی طرح سے بہت سے شعرا نے بھی اپنے کلام میں ملک سے محبت اور وطن کی آزادی کے تعلق سے اپنے جذبات کو بڑی فن کاری سے قلم بند کیا۔ملک سے محبت اور ملک میں رہنے والوں کے لیے علامہ اقبال، فیض، جوش وغیرہ نے نظمیں اور غزلیں پیش کیں۔معروف ادیب و ناقد پروفیسر اسلم جمشید پوری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب سے پہلے ہندوستانی ہیں۔ ملک کی آزادی میں سبھی کی قربا نیاں شامل ہیں۔ ہم سب گنگا جمنی تہذیب کو سجانے اور سنوارنے کی کوشش میں لگے ہو ئے ہیں۔ ملک کی محبت میں ہم سب کو آگے آ نا چاہئے اور یہ کوشش کرنی چاہئے کہ ملک میں ہمیشہ امن و چین اور سکون بر قرار رہے۔ ملک کی آزادی میں بھی ہندو، مسلمان سبھی شعرا نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
سروج دوبے نے کہا کہ آزادی کے دیوانوں کو شکست کسی طرح بھی قبول نہیں تھی۔ ملک کے باشندگان نے محبت اور اپنی ہمت کی بدولت اپنے ملک کی آزادی کو حاصل کیا۔ ہمارے ملک میں سبھی طرح کے لوگ بستے ہیں،وہ ہندو ہوں یا مسلمان سبھی ملک کی محبت میں سر شار ہیں۔وندنا کنور رائے زادہ نے کہا کہ آج ہم آزادی کے تعلق اس پروگرام میں شامل ہیں اور شاعری کے حوالے سے میں اپنے والد کی وراثت کو آگے بڑھا رہی ہوں۔ شہیدوں کو سلام کرتے ہوئے میں کہتی ہوں؎بارود سے چاقو سے نہ خنجر سے بات کر/ گر کر سکے تو دل کے ہی اندر سے بات کر/ جس میں کھلیں بہار بن کے ایکتا کے پھول/ کچھ اس طرح سے د ل کے تو بنجر سے بات کر/ملتی ہے جس میں جاکے ہر ایک پیار کی ندی/ انسانیت کے ایسے سمندر سے بات کر۔
ڈاکٹر فرقان سردھنوی نے کہا ؎ تم نے میری تنہائی کا منظر نہیں دیکھا/ آنکھوں میں میری اشکوں کا لشکر نہیں دیکھا/ کیا مجھ پہ گزرتی ہے جدائی میں تمہاری/ جس دن سے گئے تم نے پلٹ کر نہیں دیکھا/ ویسے تو تمہیں رہتی ہے میری فکر شب و روز/ کس حال میں ہوں تم نے کبھی آکر نہیں دیکھا۔ وارث وارثی نے کہا؎ ہمارا ہندوستان/ یہ پیارا ہندوستان/ اس میں جنمے ویر بھگت سنگھ،اشفاق اللہ خان/ ہمارا ہندوستان،یہ پیارا ہندوستان/ ہر دن تیو ہاروں کے رنگ برنگے مان/ ہمارا ہندوستان،یہ پیارا ہندوستان/ دیکھو دیکھو وارث اس کی مسکا تی ہے شان/ ہمارا ہندوستان،یہ پیارا ہندوستان۔ ایڈوکیٹ ارشاد بے تاب نے کہا ؎ غم کا احساس بھلایا بھی تو جاسکتا ہے/ ظلم و دہشت کو مٹا یا بھی تو جاسکتا ہے/ سونی آنکھوں کو یہ پاگل کردیتی ہے/انسان کے احساس کو بھی گھا ئل کردیتی ہے/حسرتوں کیوں اداس آج بیٹھی ہو تم /پاس دریا کے رہ کے بھی پیاسی ہو تم۔
مولانا سید نایاب الدین نایابؔ نے اپنی نظم’شکوہئ وطن‘ پیش کرتے ہوئے کہا ؎گاندھی،پٹیل،نہرو مرے غم گسار تھے/ دنیا میں ان کا نام تھا وہ با وقار تھے/مجھ کووہ کرکے کس کے حوالے چلے گئے/ کیوں مسجدوں سے دور شوالے چلے گئے/ گھٹ گھٹ کے رو رہا ہوں مرا کوئی اب نہیں / جمہوریت کہاں ہے پتا کوئی اب نہیں۔میشاب الہ آبادی نے کہا ؎دوستو خوشیاں مناؤ یوم آزادی ہے آج/پورے بھارت کو سجاؤ یومِ آزادی ہے آج۔ڈاکٹر ایشور چند گمبھیر نے کہا ؎شہادت اور قربانی ہمیں یوں ہی نہیں کھلتے/تبھی تو لوگ ڈرتے ہیں وطن کی راہ پر چلتے،/اب تو دامن بھی چاک سر راہ ہوتا ہے/ آج نردوش کا ثابت گناہ ہوتا ہے۔امیر مہدی نے کہا ؎ کسی کو قتل کردیتا کسی کا گھر جلاتا/ شجاعت اس کو کہتے ہیں تو اپنی بزدلی اچھی/ چاک ہے شب کا گریباں مگر کیا کیجئے/ صبح کے رُخ پہ کوئی نور،کوئی آب نہیں / اس سے بہتر تو وہی رات کی تاریکی تھی/ کم سے کم صبح کی امید لیے رہتے تھے/ اس سحر سے تو وہی سحر اچھی تھی۔
پروفیسر فاروق بخشی نے کہا ؎ اے وطن اے وطن میرے پیارے وطن/تیری دھرتی کا منہ چومتا ہے گگن/ تیرے ماتھے کی مالا کا جھو مر سجے/ تیرے دامن میں گنگا کی دھارا بہے/ تیرے کھیتوں میں کیسر مہکتی رہے/ تیری مٹی سے مہکے میرا تب بدن/اے وطن اے وطن میرے پیارے وطن/کچھ الگ اپنی مٹی کی تاثیر ہے/ اس کے پیروں میں کب کوئی زنجیر ہے/ یہ محبت کی اک ایسی جاگیر ہے/اپنا اپنا ہے سب کا یہاں پر چلن/اے وطن اے وطن میرے پیارے وطن۔ اس موقع پر ڈاکٹر سکینہ ماریشس، ڈاکٹر شاداب علیم، سیدہ مریم الٰہی، محمد شمشاد، شاہِ زمن، وغیرہ پروگرام سے جڑے رہے۔