Bihar

گیاجی: شبھ کامنا اسپتال پر علاج میں غفلت کا الزام

Published

on

(پی این این)
گیا جی: شہر کے شبھ کامنا ہارٹ ہاسپٹل اینڈ میٹرنٹی سینٹر میں مریض کی موت کے بعد مبینہ طبی غفلت کو لے کر اہل خانہ کا غصہ پھوٹ پڑا۔ اہل خانہ نے ہاسپٹل کے ڈاکٹر پر علاج میں لاپروائی، غلط دوا دینے اور مبینہ طور پر اوور ڈوز کے باعث مریض کی حالت بگاڑنے جیسے سنگین الزامات عائد کئے۔ موت کے بعد اہل خانہ نے ہاسپٹل کے باہر زبردست ہنگامہ کیا۔ اطلاع ملنے پر رام پور تھانہ کی پولیس موقع پر پہنچی اور کافی مشقت کے بعد حالات کو قابو میں کیا۔ پولیس پورے معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔
موصولہ اطلاع کے مطابق مانپور بلاک کے نارائن نگر کے رہنے والے سابق پنچایت سکریٹری سدھیشور پرساد کی طبیعت تقریباً 20 روز قبل اچانک خراب ہوئی تھی۔ ان کے بیٹے وپن کمار نے انہیں شبھ کامنا ہارٹ ہاسپٹل اینڈ میٹرنٹی سینٹر میں داخل کرایا۔ اہل خانہ کے مطابق جانچ کے دوران دل میں بلاکیج کی بات سامنے آئی، جس کے بعد ڈاکٹروں نے آپریشن کرکے دو اسٹنٹ لگائے۔اہل خانہ کا الزام ہے کہ اسٹنٹ لگانے کے بعد ڈاکٹر امن سنہا نے اسٹنٹ صحیح طریقے سے لگ جانے کی بات کہتے ہوئے مریض کو گھر لے جانے کا مشورہ دیا اور تقریباً ایک ماہ بعد دوبارہ مشورے کے لئے بلایا۔ اس کے بعد مریض کی طبیعت مسلسل بگڑتی رہی۔ اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ وہ کئی مرتبہ ہاسپٹل پہنچے اور مریض کی حالت کے بارے میں معلومات لینے کے ساتھ بہتر علاج کے لئے دوسرے ہاسپٹل لے جانے کی اجازت بھی مانگی، لیکن انہیں مسلسل یہ کہہ کر مطمئن کیا جاتا رہا کہ اسٹنٹ لگ چکا ہے اور اب کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔
متوفی کے بیٹے وپن کمار نے الزام لگایا کہ ان کے والد کو ضرورت سے زیادہ دوائیں دی گئیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ دل کے مرض کے علاج کے لئے ضروری دواؤں کے بجائے دوسری دوائیں دی گئیں اور مبینہ اوور ڈوز کی وجہ سے مریض کی حالت مسلسل خراب ہوتی چلی گئی۔ اہل خانہ کے مطابق علاج کے نام پر اب تک تقریباً چار لاکھ روپے خرچ ہو چکے تھے، اس کے باوجود مریض کی حالت میں کوئی بہتری نہیں آئی۔
وپن کمار کے مطابق موت سے ایک روز قبل بھی وہ اپنے والد کو لے کر ہاسپٹل پہنچے تھے اور ان کی سنگین حالت کو دیکھتے ہوئے داخل کرنے کی درخواست کی تھی۔ الزام ہے کہ اس وقت بھی مریض کو داخل نہیں کیا گیا۔ اگلے ہی روز مریض کی موت ہوگئی۔ موت کی خبر ملتے ہی اہل خانہ مشتعل ہوگئے اور ہاسپٹل کے باہر ہنگامہ شروع کردیا۔
اہل خانہ نے محکمہ صحت سے پورے معاملے کی غیر جانب دار میڈیکل جانچ کرانے، علاج کے دوران دی گئی دواؤں اور ان کی مقدار کی جانچ کرنے اور اگر طبی غفلت ثابت ہو تو ہاسپٹل اور متعلقہ ڈاکٹروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ادھر ڈاکٹر امن سنہا کا موقف جاننے کے لئے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن ان کا فون نہیں لگا۔ ان کی بہن ڈاکٹر میگھا سنہا نے کہا کہ یہ ایمرجنسی ہاسپٹل ہے اور یہاں مریضوں کی اموات ہوتی رہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاملہ اب پُرسکون ہوچکا ہے اور اہل خانہ لاش لے کر چلے گئے ہیں۔رام پور تھانہ کے تھانیدار دنیش بہادر سنگھ نے بتایا کہ مریض کی موت کے بعد ہاسپٹل کے باہر اہل خانہ کے ہنگامے کی اطلاع ملی تھی۔ پولیس موقع پر پہنچی اور حالات کو پُرسکون کرایا۔ انہوں نے کہا کہ پورے معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network