دلی این سی آر
کئی چندہ چور خود ہیںحکومت کا حصہ ، اسی لیے حکومت انہیں بچانے میںہے مصروف:کجریوال
(پی این این)
نئی دہلی:عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کی جانب سے بھگوان شری رام مندر کے چندے کی چوری میں ملوث افراد کے سماجی بائیکاٹ کی اپیل کا اثر اب نظر آنے لگا ہے۔
رام بھکتوں نے چندہ چوروں کا سماجی بائیکاٹ شروع کر دیا ہے اور اس کی شروعات خود ایودھیا سے ہوئی ہے۔ ایودھیا بار ایسوسی ایشن نے نہ صرف چندہ چوروں کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے بلکہ یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ ان افراد کے مقدمات بھی نہیں لڑے گی۔اروند کیجریوال نے ایودھیا بار ایسوسی ایشن کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے ایکس پر لکھا کہ بار ایسوسی ایشن نے چندہ چوروں کا بائیکاٹ کیا ہے۔ میں نے چند دن پہلے ہی کہا تھا کہ حکومت بے شرمی کے ساتھ رام مندر کے چندہ چوروں کے ساتھ کھڑی ہے۔ کئی چندہ چور تو خود حکومت کا حصہ ہیں اور حکومت انہیں بچانے میں مصروف ہے۔ اب پورے ملک کو چاہیے کہ چندہ چوروں اور ان کے معاونین کا سماجی بائیکاٹ کرے۔قابلِ ذکر ہے کہ رام مندر سے چندے کی مبینہ چوری سے دلبرداشتہ اروند کیجریوال گزشتہ جمعہ کو ایودھیا گئے تھے، جہاں انہوں نے بھگوان شری رام کے درشن کیے اور دعا کی کہ چندہ چوری کرنے والے گناہ گاروں کو ان کے کیے کی سزا ملے۔ اس موقع پر انہوں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران ملک کے عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ چندہ چوروں کا سماجی بائیکاٹ کریں۔انہوں نے کہا تھا کہ یہ لوگ چندہ چوروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کریں گے، کیونکہ اوپر سے لے کر نیچے تک سب آپس میں ملے ہوئے ہیں۔ اگر وزیر اعظم نریندر مودی جی چمپت رائے کے سامنے اتنے بے بس ہیں تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کون کس حد تک اس معاملے میں شامل ہے۔ تاہم میری سماج سے گزارش ہے کہ قانون اپنا کام کرے یا نہ کرے، ہم سب مل کر قانون سے اس کا کام کرائیں گے۔
بھگوان رام بھی ان لوگوں کو ان کے اعمال کی سزا دیں گے۔ اب پورے سماج کی ذمہ داری ہے کہ جتنے بھی چندہ چور، ان کے معاون یا حامی ہیں، ان سب کا سماجی بائیکاٹ شروع کیا جائے، ورنہ آپ بھی اس گناہ میں برابر کے شریک سمجھے جائیں گے۔ اروند کیجریوال نے مزید کہا تھا کہ جو لوگ رام کے نہ ہوئے، جنہوں نے بھگوان رام ہی کو لوٹ لیا، وہ آپ کے کیسے ہو سکتے ہیں؟ جنہوں نے رام کو نہیں چھوڑا، وہ ملک کو کیسے چھوڑیں گے؟ میں پورے ملک سے اپیل کرتا ہوں کہ یہ ایک دھرم یدھ ہے، جس کے لیے ہر شخص کو اٹھ کر کھڑا ہونا ہوگا اور اس جدوجہد میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔