Bihar
چونتیس سالہ پرانے معاملے میں 85 سالہ بزرگ کو 3 سال کی قید
(پی این این)
حاجی پور: ضلع عدالت ویشالی میں شدید گہما گہمی کے درمیان 34 سال پرانے ایک نہایت مشہور اور جان لیوا حملے کے مقدمے میں آخری فیصلہ سنا دیا گیا۔ عدالت نے اس مقدمے کے مرکزی اور سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکے 85 سالہ بزرگ ملزم دیپا رائے کو ان کی زیادہ عمر اور صحت کی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے 3 سال قید کی سزا سنائی۔ جبکہ اس سنگین جرم میں ملوث دیگر چار ملزمان کے خلاف سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے انہیں 10، 10 سال قیدِ با مشقت کی سزا سنائی گئی۔
عدالتی فیصلہ آنے کے بعد 85 سالہ بزرگ دیپا رائے کو ایک اہم قانونی راحت بھی حاصل ہوئی۔ سزا سنائے جانے کے فوراً بعد عدالت نے ضابطۂ فوجداری (CrPC) کی متعلقہ دفعات کے تحت انہیں عبوری (پروویژنل) ضمانت دے دی۔ اس کے نتیجے میں انہیں فی الحال جیل نہیں جانا پڑے گا اور وہ اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرنے کے لیے آزاد ہیں۔ اس راحت کے بعد ان کے اہل خانہ نے کسی حد تک اطمینان کا اظہار کیا۔ جہاں ایک طرف بزرگ ملزم کو راحت ملی، وہیں دیگر چار مجرموں پر قانون کا شکنجہ مکمل طور پر کس گیا۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج (اے ڈی جے-1) منوج کمار تیواری کی عدالت نے چاروں مجرموں کو 10، 10 سال قیدِ با مشقت کے ساتھ 25، 25 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں انہیں اضافی سزا بھگتنی ہوگی۔
سزا سنائے جانے کے فوراً بعد پولیس نے چاروں مجرموں کو حراست میں لے کر قانونی کارروائی مکمل کی اور جیل بھیج دیا۔ 1992 میں راگھوپور میں فائرنگ اور جان لیوا حملہ اس تاریخی مقدمے کے پس منظر کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے ایڈیشنل پبلک پراسیکیوٹر نے بتایا کہ یہ تنازعہ سال 1992 کا ہے۔ راگھوپور کے جڑاون پور تھانہ علاقے میں ملزمان نے متاثرہ شخص عدالت رائے اور ان کی اہلیہ پر اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے جان لیوا حملہ کیا تھا۔ اس سلسلے میں عدالت رائے نے مجموعی طور پر 9 افراد کے خلاف نامزد ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ تاہم، انصاف کی اس طویل جدوجہد اور مقدمے کی سماعت کے دوران 4 ملزمان کا انتقال ہو چکا تھا، جس کے بعد باقی 5 ملزمان کے خلاف مقدمہ جاری رہا۔
عدالت نے 26 مئی کو ان پانچوں کو قصوروار قرار دیا تھا۔ معاشرے کے لیے سخت پیغام اس فیصلے کے بعد ویشالی ضلع عدالت کے سرکاری وکیل (لوک ابھیوجک) نے کہا کہ اگرچہ اس مقدمے میں انصاف ملنے میں 34 سال کا طویل عرصہ لگ گیا، لیکن آج کا یہ فیصلہ پورے معاشرے کے لیے ایک مضبوط پیغام ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ قانون کے ہاتھ بہت لمبے ہوتے ہیں اور اگر کوئی شخص غلط کام کرے گا تو آج نہیں تو کل، اسے سزا ضرور بھگتنا پڑے گی۔ اس فیصلے کو عدالتی عمل اور انصاف کی ایک اہم کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔