uttar pradesh

پیپر لیک جیسے سنگین مسائل پر بحث سے گھبرا رہی بی جے پی،راہل گاندھی کے پریاگ راج میں طلبہ کے ساتھ بات چیت پروگرام کے لیے منتخب گراؤنڈ کی بکنگ منسوخ، کانگریس نے لگایا سازش کا الزام

Published

on

(پی این این)
پریاگ راج:اتر پردیش کے پریاگ راج میں کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کے مجوزہ طالب علم مکالمہ پروگرام سے پہلے ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے 8 اگست کو منعقد ہونے والے پروگرام کے لیے بک کیا گیا کے پی گراؤنڈ (کایستھ پاٹھ شالہ ٹرسٹ) کی اجازت ٹرسٹ نے اچانک منسوخ کر دی ہے اس کے بعد کانگریس لیڈران میں ہلچل تیز ہو گئی ہے اور پارٹی کی قانونی ٹیم اس معاملے میں متحرک ہو گئی ہے۔
کایستھ پاٹھ شالہ (کے پی) ٹرسٹ کے قائم مقام صدر چودھری جتیندر ناتھ سنگھ نے بدھ کی دیر رات شہر کانگریس کمیٹی کو خط جاری کر کے پہلے دی گئی اجازت واپس لینے کی اطلاع دی۔ خط میں کہا گیا ہے کہ مجوزہ پروگرام سے ٹرسٹ سے وابستہ دو اسکولوں کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوں گی اور طلبہ کی پڑھائی میں خلل پڑ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مسلسل بارش کے باعث میدان کی حالت خراب ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ٹرسٹ کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ کی ہدایات کے مطابق تعلیمی سرگرمیوں میں کسی قسم کا خلل نہیں پڑنا چاہیے۔ کالج انتظامیہ کی جانب سے بھی اس سلسلے میں اعتراض درج کرایا گیا تھا۔ ٹرسٹ نے تجویز دی ہے کہ پروگرام کو بارش کے بعد یا اسکولوں کی تعطیلات کے دوران منعقد کیا جائے۔ خط میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ میدان کی صفائی اور لیولنگ کے لیے کانگریس کی جانب سے جمع کرائی گئی رقم چیک کے ذریعے واپس کر دی جائے گی۔ خط کی کاپی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ، کایستھ پاٹھ شالہ کے جنرل سکریٹری، چودھری نونیہال سنگھ اکیڈمی اور ٹرسٹ کے اکاؤنٹنٹ کو بھی بھیجی گئی ہے۔
دوسری طرف، پروگرام کی تیاریاں آخری مرحلے میں تھیں اور پنڈال کی تعمیر کا کام بھی شروع ہو چکا تھا۔ بکنگ منسوخ ہونے کے بعد کانگریس کی مرکزی لیگل ٹیم پریاگ راج پہنچ گئی ہے اور ٹرسٹ کے عہدیداروں اور انتظامی حکام سے بات چیت کر رہی ہے۔کانگریس کے مطابق راہل گاندھی 8 اگست کو شام پانچ بجے پریاگ راج میں تقریباً تین لاکھ طلبہ کے ساتھ گفتگو کرنے والے ہیں۔ یہ پروگرام’چھاتروں کی گونج‘ مہم کا حصہ ہے، جس کے تحت پیپر لیک، مہنگی تعلیم، بھرتی کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں اور بے روزگاری جیسے مسائل پر نوجوانوں سے براہ راست گفتگو کی جا رہی ہے۔ اس سے پہلے ایسے پروگرام 17 جون کو راجستھان کے کوٹا اور 17 جولائی کو اتراکھنڈ کے دہرا دون میں منعقد کیے جا چکے ہیں۔
اس دوران اتر پردیش کانگریس کے صدر اجے رائے نے اجازت منسوخ کیے جانے پر بھارتیہ جنتا پارٹی پر شدید حملہ بولا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی سیاسی سازش کے تحت راہل گاندھی کے پروگراموں میں مسلسل رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے۔ اجے رائے نے کہا کہ پہلے بھی راہل گاندھی کے طالب علم مکالمہ پروگراموں میں خلل ڈالنے کی کوشش کی گئی اور اب پریاگ راج میں بھی وہی کوشش کی جا رہی ہے۔مسٹر رائے نے بتایا کہ پریاگ راج کے کے پی گراؤنڈ میں 8 اگست کو شام 5 بجے ہونے والے مجوزہ پروگرام کے لیے پہلے ہی اجازت مل چکی تھی، لیکن اب پروگرام کے مقام کا انتظام کرنے والے ٹرسٹ پر اجازت منسوخ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی طلبہ کے مستقبل اور پیپر لیک جیسے سنگین مسائل پر بحث سے گھبرا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی کا دورہ پریاگ راج ہر حال میں ہوگا۔ اگر انتظامیہ یا متعلقہ ادارے اجازت نہیں دیتے ہیں تب بھی کانگریس متبادل مقام یا ضرورت پڑنے پر سڑک پر پروگرام منعقد کرے گی، لیکن راہل گاندھی 8 اگست کو پریاگ راج ضرور آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی کا ’طلبہ کی گونج‘ پروگرام ملک بھر میں منعقد کیا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے کوٹا میں بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے پروگرام میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تھی۔انہوں نے کہا کہ پریاگ راج میں راہل گاندھی طلبہ، خاص طور پر اپنے مستقبل کو لے کر فکر مند نوجوان طلبہ و طالبات سے بات چیت کریں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network