Bihar
پروفیسر آفتاب اشرف کی سبکدوشی، شعبۂ اردو ایک عہد ساز معلم سے محروم
دربھنگہ:للت نارائن متھلا یونیورسٹی (ایل این ایم یو) دربھنگہ کے شعبۂ اردو کے ریسرچ اسکالر ریاض اختر شفیق نے پروفیسر آفتاب اشرف کی سبکدوشی پر انہیں ایک عہد ساز معلم، ممتاز محقق اور بہترین مربی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی چار دہائیوں پر محیط علمی و تدریسی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
اپنے جاری کردہ بیان میں انہوں نے کہا کہ تعلیم صرف معلومات کی منتقلی کا نام نہیں بلکہ نسلوں کی فکری و اخلاقی تعمیر کا ایک مقدس فریضہ ہے، اور پروفیسر آفتاب اشرف نے اس ذمہ داری کو پوری دیانت داری، اخلاص اور وقار کے ساتھ نبھایا۔ ان کی سبکدوشی محض ملازمت کے اختتام کا مرحلہ نہیں بلکہ یونیورسٹی کی علمی تاریخ کے ایک اہم باب کا اختتام ہے۔
ریاض اختر شفیق نے کہا کہ پروفیسر آفتاب اشرف نے اپنی 42 سالہ تدریسی زندگی علم و ادب کی خدمت کے لیے وقف رکھی۔ انہوں نے ہزاروں طلبہ کی علمی رہنمائی کی اور اپنی تحقیقی بصیرت، ادبی ذوق اور فکری گہرائی سے شعبۂ اردو کو نئی جہتیں عطا کیں۔ شعبے کی تعلیمی اور تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں بھی ان کا کردار ہمیشہ نمایاں رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ پروفیسر آفتاب اشرف اعلیٰ اخلاق، سادگی، انکساری اور خوش مزاجی کا حسین امتزاج تھے۔ وہ طلبہ کے لیے صرف ایک استاد نہیں بلکہ ایک شفیق رہنما اور بہترین مربی ثابت ہوئے، جنہوں نے تعلیمی تربیت کے ساتھ ساتھ کردار سازی پر بھی خصوصی توجہ دی۔
ریاض اختر شفیق نے مزید کہا کہ اردو ادب کے مختلف شعبوں میں پروفیسر آفتاب اشرف کی تحقیقی اور تنقیدی خدمات ہمیشہ علمی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جائیں گی۔ ان کی تحریریں اور علمی سرمایہ آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بنے گا۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ پروفیسر آفتاب اشرف کی سبکدوشی سے شعبۂ اردو میں ایک خلا ضرور پیدا ہوگا، تاہم ان کے شاگرد، ان کی علمی روایت اور ان کی تعلیمات ہمیشہ زندہ رہیں گی اور نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ کا کردار ادا کرتی رہیں گی۔