uttar pradesh
پروجیکٹ منیجر نے مزدوروں کو یرغمال بناکر بے رحمی سے پیٹا
دیوبند:دیوبند میں سڑک کی تعمیر کے پروجیکٹ کے منیجر پر مزدوروں کو یرغمال بناکر مارپیٹ کرنے ،مزدوری کی اجرت کی ادائیگی نہ کرنے اور جان سے مارنے کی دھمکی دینے کا الزام عائد کیا گیا ہے ۔
مرد مزدوروں کے ساتھ تقریباً ایک درجن خواتین مزدوروں نے بھی دیوبند کوتوالی پہنچ کر اس سلسلہ میں شکایت درج کرائی ہے ۔پروجیکٹ منیجر پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ خواتین مزدوروں کی جانب سے اپنی اجرت مانگنے پر ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی اور گالی گلوچ کا بھی سہارا لیاگیا ۔اس پورے واقعہ کا تعلق دیوبند شوگر فیکٹر ی کے علاقہ میں ایک سڑک کی تعمیر سے متعلق ہے ۔رنسورہ گائوں کے باشندہ پنکج نے دیوبند کوتوالی میں تحریر دیتے ہوئے بتایا کہ پروجیکٹ منیجر کی جانب تاج پور کے باشندہ امت اور مظفر نگر کے جاٹان خان پور کے کئی باشندے راجو ،ارجن ،سمندر ،کالا،گوپی اور ننہا کے 1 ؍لاکھ 56؍ ہزار روپے مزدوری کے باقی ہیں ۔تحریر میں بتایا گیا ہے کہ 2؍ اگست کو اپنی مزدوری کی رقم مانگنے پر مذکورہ منیجر نے انہیں تقریباً 24؍ گھنٹے تک یرغمال بنائے رکھا اور اس دوران بڑی بے رحمی کے ساتھ ان کی پٹائی کی گئی ۔
پنکج نے بتایا کہ یرغمال بنائے گئے مزدوروں کو بے رحمی سے پیٹنے کے ساتھ ساتھ گالی گلوچ کی گئی اور آئندہ رقم کا مطالبہ کرنے پر جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی ہے ۔اس کے علاوہ کلسٹھ گائوں کی باشندہ خواتین شملا،اندرا ،سویتا ،جسویری ،موسم ،رینو ،مناکشی ،ریکھا ،پھولو اور نشٹھا سمیت دیگر خواتین مزدوروں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مارچ مہینہ کے تقریباً 42؍ ہزار روپے اور فی الحال کی جانے والی 11؍ دنوں کی مزدوری کے 56؍ ہزار روپے پروجیکٹ منیجر نے ادا نہیں کئے ۔خواتین مزدوروں کا کہنا ہے کہ مزدوری کی رقم مانگنے پر ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی اور گالیاں دی گئیں ۔پولیس نے پروجیکٹ منیجر اور اس کے ساتھیوں کے خلاف ملنے والے تحریر کی بنیاد پر معاملہ درج کرکے جانچ شروع کردی ہے ۔