محاسبہ
پتھروں کو دے رہے ہیں آئینے کھل کر جواب
جین زی کے بعد اب جین الفا نے بھی طوفان کھڑا کردیا ہے۔ سرکاری اسکولوں کی خستہ حالی کو ٹھیک کرنے کی صدا بلند کررہا ہے۔ ملک کے تقریبا تمام صوبوں میں یہ چھوٹے بچے سڑکوں پر ہیں تو کالج کے طلبا بھی تعلیمی درسگاہوں کو درست کرنے کیلئے میدان میں اترے ہوئے ہیں، نتیجہ یہ ہے کہ بی جے پی کی ہندوتوا کی ساری ہوا نکلتی جارہی ہے۔ مودی اور شاہ کی تشہیری مقبولیت اب پس پشت ہورہی ہے۔ جنتر منتر کی تحریک اور وزیر تعلیم کا استعفیٰ لینے کے بعد بلاشبہ ملک میں ایک نیا منظرنامہ ابھررہا ہے۔ عوام میں زبردست بیداری آئی ہے۔ چھوٹے چھوٹے بچوں سے لیکر بوڑھوں تک دس سالہ مودی سرکار کی نااہلی کی کارکردگی کو جان چکے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ اب ہندوتوا ، ہندو راشٹر ، لو جہاد ، بیف وغیرہ وغیرہ کی فتنہ سازی سے لوگ بیزار ہوچکے ہیں۔ اور ملک میں تعلیمی ترقی ،اقتصادی خوشحالی کے لئے آواز اٹھنے لگی ہیں۔ اب سی جے پی کی پکار پر ملک کے ہر گوشے میں’ اسکول ٹھیک کرو‘مہم چل رہی ہے۔
مہاراشٹر کے اسکولوں کو سنوارنے کے لئے خود سی جے پی کے قائد ابھیجیت دیپکے کمان سنبھالے ہوئے ہیں۔ تو سوربھ داس راجستھان اور رنکا دہلی کے اسکولوں کو چست درست کرنے کی بات کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ بہار، بنگال سے لیکر ہر ریاست میں ’اسکول ٹھیک کرو‘ کے تحت اندولن چل رہا ہے۔ اور سونے پر سہاگا یہ ہے کہ راہل گاندھی کی قیادت میں چھاتروں کی گونج نے کوٹہ سے لیکر پونے تک نئی نسل میں ایک نیا جوش بھر دیا ہے۔
غورطلب ہے کہ جنتر منتر میں پولیس کی بربریت اور پٹنہ میں طلبا پر پولیس کا لاٹھی چارج ایسا منظرنامہ ہے جس سے نئی نسل سڑکوں پر اتر چکی ہے۔ طلبا میں شدید اشتعال ہے۔ اور اب ایسا لگتا ہے کہ پولیس بھی چاہتی ہے کہ طلبا میں اشتعال برقرار رہے اور مودی حکومت کی ایمیج خراب ہو۔ ویسے بھی ملک میں مودی کی شبیہ آر ایس ایس کے جعلی بھاشنوں کو طلسم ٹوٹ چکا ہے۔ملک سے لیکر بیرون ملک تک ہندوستان کی حالت پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔ امریکہ تک میں موہن بھاگوت کی آمد کو لیکر شدید مخالفت اور مظاہرے کا منظرنامہ ہے۔ بہار میں بی پی ایس سی میں گھوٹالے کولیکر طلبا سڑکوں پر ہیں۔ اور مزے کی بات تو یہ ہے کہ اس مظاہرے میں چھ سال کا بچہ بھی شامل تھا،حالانکہ پولیس اسے پکڑ کرلے گئی، چھ گھنٹے تک تھانے میں بٹھا کر رکھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کے ماں باپ کی پٹائی بھی کی گئی اور انھیں تلقین کی گئی کہ اگر یہ بچہ اندولن میں گیا تو تم لوگوں کی خیر نہیں، جیل میں سڑا دیئے جائوگے۔ ان تمام باتوں کا ویڈیو وائرل ہورہا ہے اور یہ چھوٹا بچہ اب اندولن کا ہیرو بن چکا ہے۔
لیکن تمام تر مظاہروں اور عوامی بیداری کے باوجود حکومت کو اب بھی یقین ہے کہ وہ ہندوتوا کے ہتھیار سے عوامی ذہن کو موڑنے میں کامیاب رہے گی۔ اور شاید یہی حکمت عملی ہے کہ ہندتوا کے پٹارے سے اب وندے ماترم کا شگوفہ نکالا گیا ہے۔ پارلیمنٹ میں اس بل کے پاس ہونے کے بعد راشٹر بھکتی کی بات چل رہی ہے، حالانکہ سونیا گاندھی ، کھڑگے سے لیکر فلم اداکارہ شرمیلا ٹیگور تک نے وندے ماترم کے کچھ حصوں پر اعتراض کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے ایک خاص فرقہ کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ سوال تو یہ ہے کہ وندے ماترم کو اتنی جلد بازی میں کیوں لایا گیا، جبکہ آج ہر طبقہ خیال اس بات پر اعتراض کررہا ہے کہ جب راشٹریہ گان موجود ہے تو پھر وندے ماترم کی کیا ضرورت پڑگئی۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس جو آزادی سے قبل اور آزادی کے 52سال بعد تک اپنے ہیڈ کوارٹر پر ترنگا نہیں لہرایا ، وندے ماترم کی گان نہیں کی آج وہی راشٹر بھکتی کے علمبردار بنے ہوئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ وندے ماترم مودی سرکار کے لئے سنجیونی بوٹی بنی ہوئی ہے۔ جس میں عوام کے ذریعہ پوچھے جانے والے ہر سوال کا جواب پنہاں ہے۔ معروف صحافی دیبانگ کا کہنا ہے کہ آج حکومت کے مودی سرکار میں ہر مسئلے کا حل وندے ماترم بن گیا ہے۔ ملک میں چینی کا بحران ہے ،لیکن زبان پر وندے ماترم ہے۔ مہنگائی کا بم پھوٹ چکا ہے لیکن وندے ماترم کا ورد جاری ہے۔ اتھنول سے انجن تھم گیا ہے مگر جوش کی رفتار میں کمی نہیں ہے۔ مڈڈے میل میں پانی زیادہ سبزی کم ہے مگر بچوں سے وندے ماترم گوایا جارہا ہے۔ طلبا پر پلیٹ گن چل رہا ہے ،مگر ملک میں وندے ماترم کا گردان ہے، بدعنوانی ، تعلیمی خستہ حالی، بے روزگاری کا بول بالا ہے مگر سب پر وندے ماترم کو ترجیح دی جارہی ہے۔
سپریم کورٹ کے سابق جج مارکنڈے کاٹجو نے بھی وندے ماترم پر بڑھتے ہوئے سیاسی فوکس پر کئی سوالات اٹھائے ہیں سوشل میڈیا پر انھوں نے پوچھا ہے کہ کیا راشٹر گیت کو بڑا مدعا بنانے سے بے روزگاری، مہنگائی ، عدم تغذیہ ، خستہ صحت خدمات یا تعلیم جیسے اہم مسائل حل ہوجائیں گے۔ ان کا یہ تلخ تبصرہ اس دور میں آیا ہے جب حکومت نے وندے ماترم کو سخت قانونی پیرہن سے نواز دیا ہے۔نئے قانون کے تحت اسے گانے سے جان بوجھ کر روکنے یا وندے ماترم کے گان میں رخنہ اندازی کرنے پر تین سال تک کی سزا ہوسکتی ہے۔ علاوہ جرمانہ بھی ہوسکتا ہے۔ نوعیت کے حساب سے جرمانہ اور دونوں کی سزا ہوسکتی ہے۔ کاٹجو کی دلیل یہ ہے کہ حب الوطنی اور سیاست کا اصلی اثر لوگوں کی زندگی کی سطح کو سدھارنے میں دکھائی دینا چاہئے۔ انھوں نے سوال کیا ہے کہ کیا قومی علامتوں پر بحث کرنے سے غریبی کم ہوگی، روزگار ملے گا اور ضروری اشیا سستی ہوں گی۔ مگر حکومت کو ان سب باتوں سے کیا لینا دینا اس کے لیے تو وندے ماترم ،راشٹر بھکتی ، قوم پرستی کی ایک ایسی علامت ہے جس کے آگے تمام مظاہرے ، اندولن ، احتجاج دم توڑ دیں گے۔ مگر سوال تو یہ ہے کہ آج سڑکوں پر بچے ہیں۔کیا وہ وندے ماترم سے متاثر ہوجائیں گے؟
سی جے پی کے بانی دیپکے نے اعلان کیا ہے کہ حکومت نے جو وعدہ کیا تھا ، طلبا پر بربریت کرنے والے افسروں پر کارروائی کی بات کہی تھی ، بے قصور طلبا پر مقدمات واپس لینے کا وعدہ کیا تھا مگر مقدمات واپس نہیں ہوئے بلکہ آج ملک کے کئی حصوں میں طلبا پر مقدمہ قائم کیا جارہا ہے اور جن پولیس والوں نے دہلی میں طالبات کے ساتھ بدسلوکی کی تھی ان پر آج تک کارروائی نہیں ہوئی چنانچہ یوم اساتذہ پر یعنی پانچ ستمبر کو دہلی کے پولیس ہیڈکوارٹر کے گھیرائو کا اعلان کیا گیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ طلبا کا یہ گھیرائو کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔بقول شاعر
انقلاب صبح کی کچھ کم نہیں یہ بھی دلیل
پتھروں کو دے رہے ہیں آئینے کھل کر جواب