Bihar

نتیش کمار کی پارٹی جے ڈی یو کا نام بدلنے کی تیاری،سنجے جھا نے رہنماؤں سے کی بڑی اپیل،پارٹی کا نام ’جنتا دل نتیش‘ رکھنے کی پیش کی تجویز

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کے قومی کارگزار صدر اور راجیہ سبھا کے رکن سنجے جھا نے پارٹی کے رہنماؤں سے پارٹی کا نام تبدیل کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے جے ڈی یو کا نام تبدیل کرکے جنتا دل نتیش رکھنے کی تجویز پیش کی ہے۔کھگڑیا میں منعقدہ نتیش سنواد پروگرام کے دوران اپنی تقریر میں انہوں نے یہ بات کہی۔
انہوں نے کہا کہ بہار کی ترقی اور پارٹی کے فروغ کے لیے انہوں نے پوری طاقت اور خلوص کے ساتھ کام کیا ہے۔ ان کے کام اور خدمات کے اعتراف اور احترام میں پارٹی کا نام ان کے نام پر رکھا جانا چاہیے۔کھگڑیا میں پارٹی کے ریاستی صدر امیش کشواہا سے خطاب کرتے ہوئے سنجے جھا نے کہا کہ اب جے ڈی یو کو جنتا دل نتیش کے نام سے جانا جانا چاہیے۔دراصل سنجے جھا ان دنوں بنگلہ دیش کے ساتھ فرکا پانی معاہدے کو لے کر مختلف اضلاع کا دورہ کرتے ہوئے نتیش سنواد پروگرام منعقد کر رہے ہیں۔ وہ گنگا ندی کے کنارے واقع 12 اضلاع کا دورہ کر رہے ہیں، جس کا آغاز بکسر سے کیا گیا ہے اور اختتام کٹیہار میں ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ بہار کے ساتھ ناانصافی ہے، کیونکہ ہمیں اپنے حصے کا پانی دوسرے ملک کو دینا پڑتا ہے۔ وہ فرکا پانی معاہدے کی تجدید کے حق میں نہیں ہیں۔اسی سلسلے میں بدھ کے روز سنجے جھا کھگڑیا میں موجود تھے۔
پروگرام کے دوران انہوں نے نتیش کمار کے کاموں کا ذکر کیا۔ سنجے جھا نے یہ اپیل ایسے وقت میں کی ہے جب نتیش کمار کی جائے پیدائش بختیارپور کا نام بدل کر نتیش پور رکھنے کا مطالبہ بھی زور پکڑ رہا ہے۔ بدھ کے روز ہندوستانی عوام مورچہ کے صدر سنتوش کمار سمن نے کہا کہ بختیارپور کا نام تبدیل کرکے نتیش پورم کیا جانا چاہیے۔
سنجے جھا نے کہا کہ جب بھی بہار کی ترقی کی بات ہوتی ہے تو نتیش کمار کا نام سامنے آتا ہے۔ فرکا پانی معاہدے کو آگے نہ بڑھانے کی آواز بھی نتیش کمار نے ہی اٹھائی تھی۔ جمعرات کو جے ڈی یو کے ریاستی دفتر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کے ساتھ پانی کے معاہدے میں بہار کے مفادات کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔جھا نے کہا کہ فرکا بیراج کی وجہ سے بہار میں سیلاب کی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔ گنگا میں گاد جمع ہونے کے سبب پانی کے بہاؤ اور ذخیرہ کرنے کی صلاحیت مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں پانی پھیل رہا ہے اور سیلاب کی صورتحال سنگین ہوتی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بہار کے حصے کا تعین کرنے کے بعد ہی بنگلہ دیش کے ساتھ گنگا کے پانی کی تقسیم کا معاہدہ کیا جائے۔ بہار کو سال 2050 تک پانی کی کتنی ضرورت ہوگی، اس کا اندازہ لگاتے ہوئے پانی میں ریاست کی حصہ داری طے کی جانی چاہیے۔
سنجے جھا نے کہا کہ گزشتہ 30 برسوں سے بہار کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ بہار گزشتہ 30 برس سے جاری اس ناانصافی کو اب مزید برداشت نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی بھی اس ناانصافی کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔انہوں نے اس معاملے کو لے کر عوام کے درمیان جانے کا بھی اعلان کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network