Bihar

مکتب ولی کی نئی شاخ کا منت نگر مونگیر میں باضابطہ افتتاح

Published

on

(پی این این)
مونگیر: مکتب ولی کی ایک نئی شاخ کا منت نگر مونگیر میں باضابطہ افتتاح عمل میں آیا۔ افتتاحی تقریب میں نو داخل شدہ طلبہ و طالبات، ان کے والدین، جامعہ رحمانی کے اساتذہ اور منت نگر سمیت قرب و جوار کے علاقوں سے تشریف لائے معززین و مہمانان کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ رحمانی کے استاذ مولانا سیف الرحمٰن ندوی نے حصولِ علم اور علمِ دین کی فضیلت و اہمیت پر جامع گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمارے معاشرے میں ارتداد کی لہر جس تیزی سے پھیل رہی ہے وہ نہایت تشویشناک ہے، اور ایسی بچیوں کی تعداد حیران کن حد تک بڑھ چکی ہے جنہوں نے غیر مسلموں سے نکاح کی اجازت کے لیے عدالتوں میں درخواستیں دائر کی ہیں۔ انہوں نے اس نازک صورتِ حال میں دینی تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ بچیوں کو علمِ دین کے حصول کی طرف راغب کریں اور انہیں اس نور سے منور کریں جو ہر فتنے کے سامنے ڈھال بن سکے۔
انہوں نے مزید فرمایا کہ حضرت امیرِ شریعت کی یہ کوشش ہے کہ مکتب کو’ جو بچوں کی تعلیم کی بنیادی اور اولین سیڑھی ہے‘ ہر قصبے اور علاقے میں عام کیا جائے اور اس نظام کو مزید مستحکم بنایا جائے۔مکتب ولی مونگیر کی مختلف شاخوں میں خدمات انجام دینے والے استاذ مولانا احمداللہ مظاہری نے نو داخل شدہ طلبہ و طالبات کا خیر مقدم کرتے ہوئے والدین کو اطمینان دلایا کہ بچوں کو مکتب تک پہنچانا والدین کی ذمہ داری ہے، اور انہیں تعلیم یافتہ و باکردار انسان بنا کر واپس کرنا ادارے کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو اعتماد آپ ہم پر کرتے ہوئے اپنے بچوں کو یہاں چھوڑ رہے ہیں، ہم اسی اعتماد کے ساتھ، انہیں اپنی اولاد سمجھ کر پڑھائیں گے۔جامعہ رحمانی کے نائبِ ناظمِ تعلیمات مولانا صالحین ندوی نے حضرت امیر شریعت کی جانب سے فراہم کرائے گئے شناختی کارڈ طلبہ و طالبات میں تقسیم کیے اور داخلہ امتحان میں کامیاب ہونے والے طلبہ و طالبات کو میڈل پہنا کر ان کی حوصلہ افزائی کی۔
جامعہ رحمانی کے شعبۂ صحافت کے ایچ او ڈی جناب فضل رحمٰں رحمانی صاحب نے کہا کہ جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کی تاریخ جہل اور گمراہی کے خلاف جدوجہد سے عبارت رہی ہے اور یہاں کے اکابر کی تعلیمی و سماجی خدمات کا دائرہ انتہائی وسیع ہے۔ یہ سلسلۂ خدمت امیرِ شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم، سجادہ نشینِ خانقاہ رحمانی مونگیر، کی قیادت میں بدستور جاری و ساری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں اپنی قیادت اور اس ادارے پر مکمل اعتماد رکھنا چاہیے، کیونکہ اس کی ذمہ داری ایک ایسی قیادت کے ہاتھوں میں ہے جو مضبوط بھی ہے، قابلِ اعتماد بھی اور نفع بخش علم کی ماہر بھی۔مکتب ولی کے ناظم جناب شہباز رحمانی نے بتایا کہ انہوں نے حضرت کے حکم سے طلبہ و طالبات کے لیے شناختی کارڈ اور میڈل کا انتظام کیا ہے اور یہ یقین دلایا کہ جیسے جیسے مکتب کا دائرہ وسیع ہوتا جائے گا، تمام ضروریات حضرت سے عرض کر کے پوری کروائی جائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت مکتب ولی کی شاخیں مونگیر کے حضرت گنج، مرغیاس چک اور مبارک چک کے علاوہ بہار کے مختلف اضلاع میں بھی قائم ہیں اور یہ تمام شاخیں اپنے اپنے علاقوں میں قابلِ قدر تعلیمی و دینی خدمات انجام دے رہی ہیں۔
مکتب میں بچیوں کی تعلیم کے لیے مامور خاتون استاذ محترمہ سونم پروین نے اس تقریب کے کامیاب انعقاد میں متحرک کردار ادا کیا اور انتظام و انصرام میں بھرپور حصہ لیا۔تقریب کی نظامت مکتب ولی کے استاذ مولانا انور نیازی رحمانی نے نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دی۔
اس کے علاوہ مکتب ولی حضرت گنج کے استاذ مولانا انور مظاہری، منت نگر کے جناب سرفراز صاحب، جناب عین الحق عرف سردار صاحب، حافظ شاہد رحمانی کنٹینٹ ایڈیٹر فکر و نظر ٹی وی اور جناب حافظ اکرام صاحب امام منت نگر کی شرکت نے تقریب کی رونق میں اضافہ کیا۔ تقریب کا اختتام مولانا صالحین ندوی کی دعا پر ہوا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network