Bihar
مولانا امین احمد خان چترویدی اپنی ذات میں ایک انجمن تھے، امیرشریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی نے مولانا امین احمد خان کے انتقال پرکیادلی صدمے کا اظہار
(پی این این)
پھلواری شریف:بہار کے مشہور و معروف عالمِ دین اور مایہ ناز شیریں خطیب و مقرر حضرت مولانا امین احمد خان چترویدی طویل علالت کے بعد3/ستمبر 2026ءکو اپنے رفیقِ اعلیٰ سے جا ملے، إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَيْہِ رَاجِعُونَ۔
ان کے وصال پر امارتِ شرعیہ ،بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ کے امیرِ شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی مد ظلہ نے دلی صدمے کا اظہار کرتے ہوئے اپنے تعزیتی پیغام میں فرمایا کہ مولانا اپنی ذات میں ایک انجمن تھے، ان کا دینی اداروں، ملی جماعتوں اور خانقاہوں سے بڑا گہرا قلبی تعلق تھا، وہ ایک بلند پایہ خطیب بھی تھے، ان کی تقریریں شگفتگی اور چاشنی سے لبریز ہوتیں، اس کے ذریعے وہ اصلاحِ باطن بھی فرمایا کرتے تھے، آپ کا امارتِ شرعیہ اور خانقاہ رحمانی مونگیر سے عقیدت مندانہ تعلق بھی تھا، جس کو انہوں نے زندگی بھر سنبھال کر رکھا،ان کی وفات سے ایک بڑا خلا پیدا ہوا ہے، اللہ تعالیٰ مولانا کی نیکیوں کو قبول فرمائے اور جنت الفردوس میں جگہ عنایت فرمائے۔
مولانا کے سانحۂ ارتحال پر نائب امیرشریعت امارتِ شرعیہ ،بہار، اڈیشہ وجھارکھنڈ مولانا محمدشمشاد رحمانی قاسمی نے کہا کہ مولانا کی زندگی تکلف و تصنع اور ظاہرداری سے پاک تھی، سادگی، زہدداری اور قناعت ان کی زندگی کا امتیازی وصف تھا، ان سے میری متعدد ملاقاتیں رہی ہیں، ان کے لہجے میں شائستگی اور مسکراہٹ میں دلکشی اور معنویت تھی، جس سے اپنائیت کا احساس ابھرتا تھا، اللہ انہیں اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عنایت فرمائے۔
ناظم اعلی امارتِ شرعیہ ،بہار، اڈیشہ وجھارکھنڈ مفتی محمد سعید الرحمٰن قاسمی نے کہا کہ مولانا کا امارتِ شرعیہ اور یہاں کے اکابر سے بڑا گہرا تعلق تھا،یہی وجہ ہے کہ دورۂ وفد امارتِ شرعیہ میںآپ شریک ہوکر امارت شرعیہ کےپیغام کو لوگوں تک پہونچاتے ،یہ ان کے اخلاص و للہیت کا ثمرہ تھا، امارتِ شرعیہ کے سبھی اصحاب اس سانحے پر سوگوار ہیں اور اس غمناک حادثے پر اہلِ خانہ سے اظہارِ تعزیت کرتے ہیں،حضرت مولانا کی پیدائش 1938ءمیں بیگوسرائے میں ہوئی، ابتدائی تعلیم مدرسہ بدر الاسلام میں پائی اور مظاہر العلوم سہارنپور سے فضیلت حاصل کی، پھر اصلاحی تحریکات سے وابستہ ہو گئے، عرصہ تک حاجی پور میں دعوتی کام انجام دیتے رہے اور اصلاح وتنظیم سے جڑے رہے، ایسی شخصیت کا اٹھ جاناایک علمی خسارہ ہے۔
قاضی شریعت مرکزی دارالقضاء امارت شرعیہ جناب مولانا محمدانظار عالم قاسمی نےکہاکہ مولانا مرحوم علاقہ اور بہار کے اکثر اصلاحِ معاشرہ کے جلسوں میں شرکت فرماتے، مدرسوں کی تعلیمی کانفرنسوں کو زینت بخشتے اور اردو میں تقریریں کرتے، سنسکرت زبان میں بھی اللہ کی وحدانیت اور رسول کی رسالت کے دلائل پیش کرتے، جس سے لوگ بے حد متاثر ہوتے،ایسی جامع شخصیت کا اٹھ جانا ایک علمی خسارہ ہے،اللہ تعالیٰ ان کی نیکیوں کو شرفِ قبولیت بخشے۔
، قارئینِ کرام سے دعائے مغفرت کی درخواست ہے۔