Bihar

مولانا آزاد کی وراثت کو نئی دھار دیں گی حسن آرا یوسف سلیم

Published

on

پٹنہ:مولانا ابوالکلام آزاد کی وراثت محض تاریخ کے صفحات تک محدود نہیں ہے، بلکہ تعلیم، سماجی یکجہتی، جمہوری اقدار اور مشترکہ ثقافت کی وہ فکر ہے، جو آج بھی معاشرے کو سمت دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسی وراثت کو سماجی سروکاروں سے جوڑنے کی سمت میں کولکاتا کی رہنے والی حسنا آرا یوسف سلیم کا سماجی شعبے میں فعال ہونا اہم سمجھا جا رہا ہے۔ انہیں آل انڈیا مسلم مجلسِ مشاورت کی رکنیت فراہم کی گئی ہے۔
مجلس کے صدر ایڈووکیٹ فیروز احمد کی جانب سے جاری استقبالیہ خط میں حسنا آرا یوسف سلیم کی رکنیت قبول کیے جانے پر انہیں مبارکباد دی گئی ہے۔ سماجی شعبے میں فعال حسنا آرا یوسف سلیم مافیسہ کی بانی اور صدر بھی ہیں۔ تنظیم کو امید ہے کہ ان کے تجربے، فعالیت اور سماجی سروکاروں سے مجلس کے مقاصد کو مضبوطی ملے گی۔
حسنا آرا یوسف سلیم کا تعلق اس خاندان سے ہے، جس کی وراثت ملک کی تحریکِ آزادی، تعلیم اور ہندو مسلم اتحاد کے نظریات سے گہرائی سے وابستہ رہی ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد آزاد ہندوستان کے پہلے وزیرِ تعلیم رہے اور انہوں نے تعلیم کو قوم کی تعمیر کا سب سے اہم بنیاد قرار دیا۔ ان کی سوچ مذہبی تنگ نظری سے بالاتر ہو کر قومی یکجہتی، بھائی چارے اور مشترکہ ثقافت کی حامی تھی۔
مولانا آزاد کی اسی وسیع فکر کو خاندان کی اگلی نسل سماجی خدمت کے ذریعے آگے بڑھانے میں مصروف ہے۔ حسنا آرا یوسف سلیم نے بھی تعلیم اور سماجی بااختیاری کو اپنے کاموں کا اہم حصہ بنایا ہے۔ ان کی کوششوں میں تعلیم، خواتین کو بااختیار بنانے اور بچوں کے بہتر مستقبل سے متعلق موضوعات کو خصوصی اہمیت دی جاتی رہی ہے۔ضرورت مند بچوں کو تعلیم کے مواقع فراہم کرنے، خواتین کو معاشی طور پر خود کفیل بنانے اور معاشرے کے کمزور طبقات کو مرکزی دھارے سے جوڑنے جیسی کوششوں کو مولانا آزاد کی سماجی سوچ کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مولانا ابوالکلام آزاد کے لیے تعلیم صرف روزگار حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں تھی۔ ان کا ماننا تھا کہ تعلیم یافتہ معاشرہ ہی اپنے حقوق کو سمجھ سکتا ہے اور جمہوری نظام کو مضبوط بنا سکتا ہے۔ ان کی اسی سوچ میں سماجی مساوات، قومی یکجہتی اور انسانیت کا وسیع پیغام مضمر تھا۔
آج کے دور میں تعلیم، سماجی انصاف، شہری حقوق، خواتین کو بااختیار بنانا اور سماجی ہم آہنگی جیسے مسائل پہلے سے زیادہ اہم ہو گئے ہیں۔
ایسے وقت میں حسنا آرا یوسف سلیم کا سماجی فعالیت کے میدان میں آگے آنا اور مسلم مجلس سے وابستہ ہونا ان مسائل کو وسیع پلیٹ فارم فراہم کرنے کی سمت میں اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔

تنظیم کو ملے گی نئی توانائی

مسلم مجلس سے وابستہ ہونے کے بعد حسنا آرا یوسف سلیم کو اقلیتوں کے آئینی اور شہری حقوق، تعلیم، سماجی انصاف، خواتین کو بااختیار بنانے اور سماجی اتحاد جیسے موضوعات پر کام کرنے کے لیے وسیع پلیٹ فارم ملے گا۔ وہیں ان کے تجربے اور سماجی فعالیت سے تنظیم کو بھی نئی توانائی ملنے کی امید ہے۔

ان کی رکنیت کو تنظیمی توسیع سے آگے بڑھ کر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ مولانا آزاد کی اس وراثت کو موجودہ سماجی چیلنجز سے جوڑنے کی کوشش ہے، جس میں تعلیم، انصاف، برابری اور سماجی اتحاد کو مرکز میں رکھا گیا تھا۔

مولانا آزاد کی وراثت کو صرف یادوں، تقریبات اور تقریروں تک محدود رکھنے کے بجائے اسے معاشرے کے درمیان عملی کام کی صورت میں آگے بڑھانا ہی ان کے نظریات کے تئیں حقیقی احترام ہوگا۔ حسنا آرا یوسف سلیم کی سماجی فعالیت اور مسلم مجلس سے ان کا وابستہ ہونا اسی سمت میں ایک نئی کڑی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network