دلی این سی آر

مودی کے ہر فیصلے میں ٹرمپ کا ہوتا ہے دخل: کجریوال

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی :عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نےایک بار پھر وزیر اعظم نریندر مودی کو نشانہ بنایا۔ کیجریوال نے الزام لگایا کہ حکومت کے ہر فیصلے میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی مداخلت نظر آتی ہے۔ کیجریوال کا یہ بیان امریکی سینیٹ کی جانب سے ایک بل کی منظوری کے بعد آیا ہے جس کے تحت روسی تیل کی خریداری پر ہندوستان سمیت پانچ ممالک پر 100 فیصد تک ٹیرف (امپورٹ ڈیوٹی) عائد کیا جائے گا۔
امریکہ کا خیال ہے کہ اس طرح کی تجارت یوکرین کی جنگ کو ہوا دیتی ہے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر امریکی بل سے متعلق ایک خبر کو شیئر کرتے ہوئے AAP سربراہ نے لکھا کہ مودی نے ملک کو امریکہ کے پاس گروی رکھنے، ٹرمپ کی غلامی قبول کرنے اور ہندوستان کو نیچا دکھانے کے بعد ملک کو اس حال پر پہنچا دیا ہے۔ آج ٹرمپ ملک کے چھوٹے یا بڑے ہر فیصلے میں مداخلت کرتے ہیں۔ ہندی میں ایک پوسٹ میں، انہوں نے الزام لگایا کہ مودی ٹرمپ کی ہر بات کو قبول کرتے ہیں۔
چاہے وہ صحیح ہو یا غلط، اور ٹرمپ ہر شعبے میں ہندوستان کے خلاف فیصلے لیتے ہیں۔امریکی سینیٹ نے بھاری اکثریت سے بل کی منظوری دے دی ہے۔ بل میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ روس کے ساتھ تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی تجارت یوکرین کی جنگ کو دوام بخشنے میں مدد دے رہی ہے۔ ۔ یہ بل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو روس سے تیل اور گیس کے پانچ بڑے درآمد کنندگان کی طرف سے آنے والی اشیاء پر 100 فیصد محصولات عائد کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ چین، بھارت، آذربائیجان، ہنگری اور سلواکیہ روس سے تیل اور گیس کے پانچ بڑے درآمد کنندگان ہیں۔ روس پر پابندیوں کے علاوہ اس بل میں 1996 کے ایران پابندیوں کے ایکٹ کو 2031 تک بڑھانے کا بھی بندوبست کیا گیا ہے۔ اس بل کی منظوری سے بھارت میں سیاست گرم ہو گئی ہے، اپوزیشن نے مرکز میں مودی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔حال ہی میں اروند کیجریوال نے بھی ایتھنول کے معاملے پر حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ E20 پالیسی کا مقصد امریکہ میں اضافی ایتھنول کی مارکیٹ بنانا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے انفراسٹرکچر کو اپ گریڈ کیے بغیر ای 20 پالیسی کو زبردستی لاگو کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network