دلی این سی آر

مفتی مجیب کی گرفتاری دستور ہند کی روح کے بالکل منافی:زیڈ کے فیضان

Published

on

نئی دلی :پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور ایڈوکیٹ سپریم کورٹ زیڈ کے فیضان نے مفتی مجیب کی گرفتاری کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے غیر قانونی،غیر ضروری اور مسلمانوں کے خلاف ایک انتقامی نیز سیاسی عمل قرار دیا ۔ انھوں نے کہا کہ یہ بات چھپی ہوئی نہیں کہ ان کی گرفتاری براہ راست چیف منسٹر کے دھمکی بھرے ردعمل کے فوراً بعد کی گئی۔ انھوں نے کہا کہ جلوس محمدی کے موقع پر رودر پور کے ترشول چوک میں ان کی تقریر کی وہ کلپس میں نے دیکھی ہیں جس کی بنیاد پر مفتی کو گرفتار کیا گیا ہے اور اس میں کچھ بھی ایسا نہیں ہے جس سے ان کے خلاف کوئی فوجداری مقدمہ قائم کرانھیں گرفتار کیا جاتا ۔ انھوں نے کہا کہ جو کچھ انھوں نے کہا اس طرح کی باتیں تو عام طور پر عوامی خطابات کے دوران کہی جاتی رہی ہیں مگر اس کے لفظی معنی نکال کر غلط مطلب نکالنا اور پولیس کیس بنایا جانا سراسر زیادتی اور دستور ہند کی روح کے بالکل منافی اور بلا وجہ کسی بات کو طول دینا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ یہ صرف بی جے پی کی گندی سیاست کا حصہ ہے جس کے وزیر اعلیٰ دھامی ایک آلہ کار ہیں اور سوال کیا کہ اسی اتراکھنڈ میں فرقہ پرست ہندو تنظیمیں روز مسلمانوں کو کھلم کھلا گالیاں دیتی ہیں، انھیں طرح طرح زدکوب کرتی ہیں، ان کے مذہبی امور میں دخل اندازی کرتی ہیں مگر ان کے خلاف پولیس ایک بھی کیس درج نہیں کرتی، کیوں ۔
زیڈ کے فیضان نے اس طرح کے حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنی لڑائی خود لڑنی ہو گی ۔ انھوں نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے حالات سے سمجھوتہ کر لیا ہے اور اس طرح کے کسی بھی معاملے میں آواز اٹھانے سے احتیاط اور گریز کرنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں ۔ لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ احتیاط اور بزدلی کی سرحدیں بہت پاس سے گزرتی ہیں اور آج ہم احتیاط کرتے کرتے بزدلی کی حدود میں داخل ہو چکے ہیں جہاں سے ہمیں باہر نکلنا ہو گا ۔ انھوں نے کہا کہ کوئی بھی آپ کی لڑائی اس وقت تک نہیں لڑے گا جب تک کہ آپ خود سینہ سپر ہو کر میدان میں نہیں آئیں گے اور یاد دلایا کہ جب سیاسی پارٹیوں کے کسی لیڈر کے خلاف کوئی زیادتی ہوتی ہے تو اس کے لئے تو وہ آواز اٹھاتی ہیں مگر آپ کے لئے نہیں کیونکہ آپ خود اپنے معاملات میں چپی سادھ جاتے ہیں ۔ اسی زمن میں مولانا توقیر رضا کا ذکر کرتے ہوئے زیڈ کے فیضان نے سوال کیا کہ اتنے لمبے عرصے سے وہ بلا وجہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں لیکن کیا کسی ملی تنظیم یا ملی رہنما نے اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائی ۔ ان کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ ملی مسائل کے لئے کھل کر بولتے تھے ۔انھوں نے علماء کرام اور ملی تنظیموں کی خاموشی پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ تنظیمیں احتجاج کا راستہ بھول گئی ہیں اور جیل کے نام پر خوف کھاتی ہیں جو جمہوری نظام میں اپنے حقوق کی لڑائی لڑنے کے لئے انتہائی ضروری ہے ۔ انھوں نے کہا کہ مسلمان انھیں ملی جماعتوں کو ہی اپنا اصل نمایندہ تسلیم کرتا ہے لہذا ان جماعتوں کی ذمہ داری اور فریضہ ہے کہ وہ اس طرح کے حالات سے نمٹنے کے لئے بے خوف و خطر ہو کر میدان عمل میں آئیں اور مشترکہ طور پر قومی سطح پر ایک احتجاجی لائحہ عمل تیار کریں تبھی کچھ حل نکل سکے گا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network