دلی این سی آر

معیاری تعلیم کو کفایتی بنانا حکومت کا عزم: سود

Published

on

(پی این این )
نئی دہلی: دہلی کے وزیر تعلیم آشیش سود نے کہا کہ دہلی حکومت معیاری تعلیم کو کفایتی اور سب کے لیے قابل رسائی بنانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
سود نے دہلی حکومت کی جانب سے تمام پرائیویٹ غیر امداد یافتہ اسکولوں کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ 15 جولائی 2026 تک اپنی اسکول کی سطح کی فیس ریگولیشن کمیٹی لازمی طور پر تشکیل دیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ دہلی اسکول ایجوکیشن (فیس کے تعین اور ریگولیشن میں شفافیت) ایکٹ 2025 کے نفاذ کے بعد کیا گیا ہے۔ اس تاریخی قانون کا مقصد قومی راجدھانی خطہ (این سی ٹی) دہلی میں اسکول کی فیس کے تعین کے عمل کو مکمل طور پر شفاف، جوابدہ اور منصفانہ بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم سماجی خدمت کا ذریعہ ہے، کاروبار کا نہیں۔ والدین پر من مانے طریقے سے فیس میں اضافے یا پوشیدہ چارجز کے ذریعے غیر ضروری مالی بوجھ ڈالنے کی اجازت کسی بھی صورت میں نہیں دی جائے گی۔ نیا قانون اس بات کو یقینی بنائے گا کہ اسکولوں کی طرف سے لیا جانے والا ایک ایک روپیہ مکمل طور پر شفاف، منصفانہ اور جوابدہ ہو۔ مکمل شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے کمیٹی میں شامل کیے جانے والے پانچ والدین کے نمائندوں اور تین اساتذہ کے نمائندوں کا انتخاب عوامی طور پر اور ویڈیو ریکارڈنگ کے ساتھ لاٹری (ڈرا آف لاٹس) کے ذریعے کیا جائے گا۔ اسکولوں کو لاٹری کے انعقاد سے کم از کم سات دن قبل عوامی نوٹس جاری کرنا ہوگا اور پورے عمل کی نگرانی حکومت کے مقرر کردہ مبصرین کریں گے۔حکومت نے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی اسکول انتظامیہ اس جمہوری عمل کو متاثر کرنے، اس میں مداخلت کرنے یا قوانین کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کرے گی تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
اس کے تحت مالی جرمانہ، اسکول کی منظوری کی معطلی یا منسوخی اور ضرورت پڑنے پر اسکول کی انتظامیہ کا سرکاری کنٹرول حاصل کرنا بھی شامل ہے۔ اسکول انتظامیہ کو 31 جولائی تک آئندہ تین سال کے لیے فیس کی تجاویز کمیٹی کے سامنے پیش کرنی ہوں گی۔
ان تجاویز کے ساتھ گزشتہ تین سال کے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ سے تصدیق شدہ آڈیٹڈ مالیاتی گوشوارے منسلک کرنا لازمی ہوگا۔ بغیر آڈٹ یا خود تصدیق شدہ دستاویزات کو فوری طور پر مسترد کر دیا جائے گا۔ ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن نے تمام علاقائی ڈائریکٹروں اور ضلعی افسران کو ان ہدایات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network