uttar pradesh
مدارس و مساجد کے خلاف کارروائی تشویشناک
دیوبند:جمعیۃ علماء راجستھان کے ناظم مولانا مفتی حبیب اللہ قاسمی اور راجستھان لیبر بورڈ کے سابق چیئرمین غفور احمد نے راجستھان کے سرحدی علاقہ میں حالیہ میں دنوں میں مساجد،مدارس اور درگاہوں کے خلاف جاری انہدامی کارروائی اور نوٹسوں پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے یکطرفہ اور منظم کارروائی قرار دیا اور ہائی کورٹ سے معاملہ خارج ہونے پر سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کی بات کہی ہے۔
آج یہاں دارالعلوم چوک پرواقع میڈیا سینٹر میں اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے مفتی حبیب اللہ قاسمی اور غفور احمد نے کہاکہ راجستھان کے جیسلمیر، باڑمیر، بیکانیر اور دیگر سرحدی اضلاع میں سرحد سے پچاس کلو میٹر تک کے دائرہ میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران متعدد مساجد، مدارس اور درگاہوں کے خلاف کارروائیاں کی گئی ہیں، درجن بھر سے زائد مساجد و مدارس اور مذہبی مقامات کو منہدم کیا جا چکا ہے جبکہ سیکڑوں عبادت گاہوں کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں، جس سے متاثرہ علاقوں کے مسلمانوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔یہ کارروائی نیشنل سکیوریٹی کا حوالہ دے کر صرف مساجد، مدارس اور درگاہوں کے خلاف کی جارہی ہے۔
غفور احمد نے بتایا کہ اس معاملے پر جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی سے تفصیلی ملاقات ہوئی ہے اور ہم نے قانونی محاذ پر پوری قوت کے ساتھ جدوجہد جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ غفور احمد نے الزام عائد کیا کہ مرکزی وزارت داخلہ کے2021 کے نوٹیفکیشن کا سہارا لے کر سرحدی علاقوں میں صرف مسلم مذہبی اداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ اسی دائرے میں واقع دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں کے خلاف ایسی کارروائیاں نہیں کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر واقعی قومی سلامتی کا کوئی مسئلہ ہے تو قانون کا اطلاق بلا امتیاز تمام متعلقہ مقامات پر ہونا چاہیے، صرف ایک طبقے کو نشانہ بنانا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ مفتی حبیب اللہ نعمانی نے کہا کہ مدارس اور مساجد کی صدیوں پر محیط روشن تاریخ ہے اور آج تک ان اداروں سے قومی سلامتی کو کسی قسم کا خطرہ ثابت نہیں ہوا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت قومی سلامتی کا حوالہ دے رہی ہے تو اسے واضح کرنا چاہیے کہ ان مذہبی اداروں سے کس نوعیت کا خطرہ لاحق ہے۔ غفور احمد نے تجویز پیش کی کہ اگر اراضی یا تعمیر سے متعلق کسی قانونی ضابطے کی خلاف ورزی پائی جاتی ہے تو متاثرین کو جرمانہ یا دیگر قانونی تقاضے پورے کرنے کا موقع دیا جائے، نہ کہ براہ راست انہدامی کارروائی کی جائے۔ ان کے مطابق یہ کارروائیاں نہ صرف مذہبی جذبات کو مجروح کرنے والی ہیں بلکہ اس سے مسلمانوں میں عدم تحفظ کا احساس بھی پیدا ہو رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کی یہ یک طرفہ کارروائی مسلمانوں کو معاشی، سماجی اور مذہبی طور پر کمزور کرنے کی منظم کوشش معلوم ہوتی ہے اور اس کے خلاف اب سپریم کورٹ سے رجوع کرینگے۔